پیغمبرانہ اسلوب
Al-Risala, June 1995
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبروں کی جو سیرت ہمارے علم میں آتی ہے اس کا ایک پہلو بڑا عجیب ہے۔ ہر پیغمبر اپنی ابتدائی زندگی میں لوگوں کا محبوب بنا ہوا تھا۔ مگر جب اس نے پیغمبری کا کام شروع کیا تو انہیں لوگوں کے درمیان وہ انتہائی مبغوض شخص بن گیا۔ لوگ اس کے دشمن ہوگئے ۔ خود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ پہلے آپ کی قوم آپ کو الامین کہتی تھی، مگر جب آپ نے ان کو حق کا پیغام دینا شروع کیا تو وہ لوگ آپ کی ہلاکت کے درپے ہوگئے ۔
یہ ایک مسلم بات ہے کہ ہر پیغمبر اپنی سیرت و کردار کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مقام پر ہوتا وہ لوگوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان بے ضرر بن کر رہتا ہے۔ وہ لوگوں سے کسی چیز کی مانگ نہیں کرتا۔ اس کا اخلاق اتنا اونچا ہوتا ہے کہ لوگوں کی برائی کا جواب بھی وہ بھلائی کے ساتھ دیتا ہے۔ اس کا وجود سراپا نورانیت میں ڈھلا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود جب وہ پیغام رسانی کا کام شروع کرتا ہے تو لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ معروف طور پر صرف "کافروں" کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ ٹھیک یہی معاملہ خود "مسلمانوں" کے درمیان بھی پیش آتا ہے۔ حضرت مسیح جن لوگوں کے درمیان مبعوث ہوئے وہ قدیم زمانہ کے مسلمان تھے۔ مگر انھوں نے حضرت مسیح کے ساتھ بد ترین سلوک کیا۔ کو ذلیل کیا۔ آپ پر تھوکا۔ آپ پر مشرکوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا، حتیٰ کہ آپ کو قتل کر دینا چاہا۔ پیغمبروں کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خلاف لوگوں کے غصہ اور دشمنی کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانہ میں تنقید کہا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی قوم شروع شروع میں دور نہیں ہوئی تھی۔ مگر جب آپ نے ان کے معبودوں کا تذکرہ کیا اور ان پر عیب لگایا تو اس کو انھوں نے بہت برا مانا۔ اسکے بعد وہ آپ کے دشمن ہوگئے ۔ ابن اسحاق نے جس چیز کو عیب لگانا کہا ہے اور جس کو مکہ کے مشرکین سب وشتم کہتے تھے، وہ آجکل کی زبان میں تنقید تھی۔ ہر نبی کا یہ طریقہ تھا کہ وہ مطلوب کی طرف بلاتے ہوئے غیر مطلوب پر تنقید کرتا تھا۔ تنقیدی اسلوب تھا جس نے لوگوں کو پیغمبروں کا دشمن بنا دیا (۲۷۶/۱)