Why have I lost my teeth?
Al-Risala, January 1995, pp. 27–30
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی یہ سادہ طور پر عمر کا معاملہ ہے۔ ایک فرد بوڑھا ہونے پر اپنے دانت کھو دیتا ہے، اسی طرح قومیں لمبی مدت گزرنے کے بعد عروج کا مقام کھودیتی ہیں۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے، اور برطانیہ اس وقت اسی قانون فطرت کی زد میں ہے۔
لندن میں پروفیسر انیس قاری نے بتایا کہ ایک انگریز ان کا ملاقاتی ہے۔ اس کا نام ڈاکٹر مارٹن (Dr Martin) ہے۔ وہ اچھی اردو جانتا ہے۔ حتیٰ کہ اس نے ایم اے اور ڈاکٹریٹ اردو میں قاری صاحب نے اس سے پوچھا کہ تم نے اردو کیسے پڑھی۔ اس نے بتایا کہ نوجوانی کی عمر میں جاب کی تلاش میں بریڈ فورڈ گیا۔ وہاں میں نے ایک مسلمان کا مکان کرایہ پر لیا۔ (میر پور) سے آیا ہوا ایک مسلمان تھا۔ معمولی پڑھا لکھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ابھی میرے پاس جاب نہیں ہے تو اس نے مجھ سے کرایہ بھی نہیں مانگا۔ اس نے کہا کہ جب جاب مل جائے تو کرایہ دے دینا۔ مہینہ مجھے جاب مل گیا تب بھی اس نے مجھ سے کرایہ نہیں لیا۔ اس نے کہا کہ ابھی تم کو پہلی تنخواہ تم کو کام ہوگا، تم اپنا کام چلاؤ۔ آئندہ مجھے دیدینا۔
مسلمان کے اس غیر معمولی سلوک کا ڈاکٹر مارٹن پر بہت اثر پڑا۔ انھوں نے سوچا کہ مجھے اس زبان کو پڑھنا چاہئے جو اس عجیب آدمی کی زبان ہے۔ تاکہ اس کے کلچر سے مجھے واقفیت ہو۔
وہ پاکستان اور انڈیا گئے۔ انھوں نے باقاعدہ داخلہ لے کر اردو پڑھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ڈاکٹریٹ تک اردو پڑھ ڈالی۔ اب وہ برطانیہ کے کسی تعلیمی ادارہ میں اردو کے استاد ہیں۔ ہندو اور مسلمان اور سکھ بڑی تعداد میں برطانیہ میں آباد ہیں۔ یہاں کے مادی فائدے ان کو یہاں لائے اور انھوں نے یہاں کی شہریت اختیار کرلی۔ مگر ہر ایک کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اگلی نسل اپنے آبائی مذہب اور کلچر سے دور ہوتی جارہی ہے۔ یہ صورتِ حال ہر ایک کو پریشان کئے ہوئے یہاں کی مادی کشش انھیں برطانیہ چھوڑنے میں مانع بن رہی ہے۔ اسی کے ساتھ اپنے بچوں کے تہذیبی مستقبل کے بارہ میں وہ مستقل طور پر تردّد میں رہتے ہیں۔
اس کا حل تینوں فرقوں نے یہ نکالا ہے کہ وہ اپنے اپنے اسکول کھول رہے ہیں۔ اپنے بچوں کو اپنے قدیم کلچر پر باقی رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر مجھے اس کوشش کا کوئی واقعی مستقبل نظر نہیں آتا۔ میں نے ایک صاحب سے کہا، کلچرل سیلاب کا مفت بلمہ آپ لوگ کلچرل تحفظ سے کرنا چاہتے ہیں۔ مگر تحفظ کی تدبیر کبھی اقدامی یلغار کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ سوویت یونین کی طرح یہاں جبر ہو رہا ہوتا تو آپ کامیاب ہو سکتے تھے۔ مگر یہاں تو آپ کی نسلیں خود اپنی رغبت سے مغربی کلچر کی طرف دوڑ رہی ہیں۔ ایسی حالت میں آپ کی روایتی قسم کی تحفظاتی کوشش کس طرح مؤثر ہو سکتی ہے۔
۲۷ ستمبر کو لندن سے واپسی تھی۔ پروفیسر انیس قاری کے ساتھ ائیر پورٹ کے لئے روانہ انھوں نے سیدھے ائیر پورٹ جانے کے بجائے مختلف راستے اختیار کئے تاکہ لندن کے اہم مقامات ہماری گاڑی مختلف راستوں سے گزر رہی تھی اور پروفیسر انیس قاری سڑک کے دونوں طرف کھڑی ہوئی بلڈنگوں کا تعارف کراتے جارہے تھے۔ یہ ٹاور برج ہے، یہ ۱۰ ڈاؤننگ اسٹریٹ ہے، یہ پارلی منٹ ہاؤس ہے، یہ بگ بینگ ہے، یہ بکنگھم پیلس ہے، یہ ہائڈ پارک ہے، یہ ہیرڈس (Harrods) ہے، یہ البرٹ وکٹوریہ میوزیم ہے، یہ اسماعیلی سنٹر ہے، یہ امپیریل سائنس کالج ہے، یہ آکسفورڈ اسٹریٹ ہے، یہ برٹش میوزیم ہے، یہ لندن یونیورسٹی ہے، یہ سائنس میوزیم ہے، یہ اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز ہے، یہ لندن پلے نیٹیر یم ہے یہ گاندھی گارڈن ہے، یہ ریجنٹ پارک ہے، یہ چڑیا گھر ہے۔ اس طرح وہ ایک ایک چیز بتا رہے تھے اور
میرا ذہن مسلسل ان کے الفاظ کو اپنی یادداشت سے وابستہ کرتے ہوئے انھیں سمجھتا جارہا تھا۔ میں نے سوچا کہ دین فطرت کی دعوت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہر آدمی کے لاشعور میں خدا کے دین کا تصور پیشگی طور پر موجود ہے۔ جب ایک داعی خدا کے دین کو بے آمیز روپ میں پیش کرتا ہے تو انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ عین وہی چیز ہے جس کا تصور پہلے سے میرے ذہن میں موجود تھا۔ اپنے تصور اور خارجی واقعہ کی یہ مطابقت اس کے لاشعور کو شعور بنادیتی ہے، وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کا اعتراف کر کے خدا کے بندوں میں شامل ہوجائے۔ راستہ میں ایسٹ لندن کی مسجد تھی۔ عین سڑک کے کنارے کا فی بڑی اور شاندار مسجد اس کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔ پارک روڈ پر پہنچے تو وہاں لندن کی مرکزی مسجد تھی ۔ یہ مسجد اور مرکز عربوں نے تعمیر کرایا ہے۔ یہاں ٹھہر کر اندر داخل ہوئے۔ یہ بہت بڑے رقبہ میں واقع ہے۔ مسجد کا اندرونی حصہ جو ایک بڑے گنبد کے نیچے ہال کی مانند ہے، اس کو میں نے ناپا تو ایک طرف ۳۶ قدم اور دوسری طرف ۴۰ قدم تھا۔
یہاں دو رکعت تحمیتہ المسجد پڑھی۔ نماز پڑھتے ہوئے ایک عجیب احساس ہوا۔ دل نے کہا کہ تحیتہ المسجد دراصل تحیۃ الخالق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا کے مناظر سے گزر رہا ہے۔ اس کے بعد اس کے سامنے مسجد آتی ہے جو خدا کا عبادت خانہ ہے۔ اس وقت مسجد گویا خاموش زبان میں کہتی ہے کہ خدا کے عظمت و جلال کا اعتراف کرو۔ اس احساس اعتراف کو لئے ہوئے آدمی مسجد کے اندر داخل ہوتا ہے اور بے تابانہ طور پر خدا کے سامنے گر جاتا ہے۔ مسجد کے صحن میں دو ترک کھڑے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس پر عطیہ کے کپڑے اور کمبل لدے ہوئے ہیں اور وہ بوسنیا کے ستم رسیدہ مسلمانوں کے لئے بھیجے جارہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ بوسنیا کے حادثہ کے بعد ساری دنیا کے مسلمانوں نے جتنے بڑے پیمانے پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، اگر یہی ہمدردی وہ اس سے پہلے بوسنیا میں تبلیغ کے لئے کرتے تو وہاں کے مسلمانوں کی تعداد ۴۴ فیصد سے بڑھ کر شاید ۸۳ فیصد ہو جاتی اور پھر اس قسم کے حادثہ کی جڑ کٹ جاتی۔ مگر مسلمان قومی جذبہ کے تحت خرچ کرنا جانتے ہیں، وہ دعوتی جذبہ کے تحت خرچ کرنا نہیں جانتے۔ ۲۷ ستمبر کو برٹش ایرویز کی فلائٹ ۱۵۵ کے ذریعہ لندن سے قاہرہ روانہ ہونا تھا۔
کارروائی معمول کے مطابق ہوئی۔ لندن سے اس جہاز کی روانگی کا وقت شام کو ساڑھے چار مگر آخر وقت میں اعلان کیا گیا کہ تکنیکی خرابی کے سبب سے یہ جہاز نہیں جاسکتا۔ بجائے دوسرا جہاز مسافروں کو لے کر یہاں سے جائے گا۔
دوسرے جہاز کی روانگی میں چھ گھنٹہ سے زیادہ تاخیر ہوگئی۔ یہ چھ گھنٹے شدید کیفیات کے عالم میں گزرے۔ یہ گویا الانتظار اشد من الموت کا منظر تھا۔ آخر کار تمام مسافر دوسرے جہاز میں بٹھائے گئے اور ساڑھے چار گھنٹہ کا سفر طے کر کے ہم لوگ قاہرہ کے ہوائی اڈہ پر اتر گئے۔ جہاز زمین سے بلند ہوا تو اسکائی وزن (جہاز کے اندر لگے ہوئے ویڈیو) پر ضروری ہدایات تصویر اور آواز کی صورت میں بتائی جانے لگیں۔ اناؤنسر نے کہا کہ آپ ان ہدایات کو غور سے سنیں، خواہ آپ ہوائی جہاز کے مستقل مسافر کیوں نہ ہوں: