۸۲ سال بعد
Al-Risala, June 1995
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس آف لائٹ کے تحت فطرت کا ایک قانون دریافت کیا گیا ہے جس کو قانونِ انعطاف (law of refraction) کہا جاتا ہے۔ یہ قانون آج اسنل کے قانون (Snell's law) کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ ابتداء اس کو ڈنمارک کے ڈبلیو آر اسنل (Willebrord van Roijen Snell) نے دریافت کیا تھا۔ اسنل اس دریافت تک ۱۶۲۱ء میں پہنچ چکا تھا۔ مگر اس کی یہ دریافت غیر مطبوعہ حالت میں باقی رہی۔ یہاں تک کہ ڈچ سائنس داں ہیو جنس (Christian Huygens) کو اس کی خبر ہوئی اور اس نے ۱۷۰۳ میں اپنے ایک مقالہ میں اس کا ذکر کیا۔ اس کے بعد دنیا کو اسنل کی اس دریافت کا علم ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسنل کی سائنسی دریافت ۸۲ سال تک پردہ خفا میں پڑی رہی۔ کے بعد جب ایک جو ہر شناس نے اس کو پہچانا اور اس کو نمایاں کیا، اس کے بعد لوگ اس کی اہمیت سے واقف ہوئے۔
آخرت کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اللہ کے کتنے مخلص بندے ہیں جو لوگوں کی بھیڑ سے دور ایک نیکی کرتے ہیں جس کا علم انسانوں میں سے کسی انسان کو نہیں ہوتا۔ کتنے لوگ ہیں جو خیر کے ایک کام میں حصہ لیتے ہیں مگر کسی اخبار میں وہ نمایاں نہیں کیا جاتا۔ کتنے اللہ سے ڈرنے والے ہیں جن کے سینہ میں صرف خدا کا بھونچال آتا ہے مگر ظاہر ہیں آنکھیں اس کو دیکھ نہیں پاتیں۔ کتنے اللہ کے بندے ہیں جو خوفِ اللہ کے ڈر سے اپنی زبان کو روک لیتے ہیں جب کہ کسی بھی دوسرے انسان کو اس عمل کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ کتنے نیک نفس ہیں جن کو موقع ملا کہ وہ دوسروں کو اپنی انانیت کا شکار بنائیں مگر اللہ کی پکڑ کا اندیشہ ان کے ہاتھ اور پاؤں کی زنجیر بن گیا۔
اس طرح کے بہت سے سچے انسان ہیں جن کا عمل خیر دنیا کے اندھیروں میں گم ہو گیا۔ ان کو نہ ان کے قریب کے لوگوں نے پہچانا اور نہ دور کے لوگوں نے۔ مگر یہ صورتِ حال ہمیشہ باقی رہنے والی قیامت کے دن اللہ عالم الغیب تمام پردے ہٹا دے گا۔ اس کے بعد ہر چھپی ہوئی چیز سامنے یہ فیصلہ کا وہ دن ہو گا جب کہ کسی کا عمل چھپا نہیں رہے گا۔ کسی نے اگر ذرہ برابر بھی کوئی نیکی کی ہوگی تو وہ روشن سورج کی طرح نمایاں ہو جائے گی اور نیکی کرنے والے کو اس کا انعام مل کر رہے گا۔