Al-Risala · June 1995

تاریخی موڑ پر

Al-Risala, June 1995

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ میں اٹھارویں صدی میں ایک جنگ پیش آئی جس کو وار آف انڈیپنڈنس (۱۷۸۳-۱۷۷۵) کہا جاتا ہے۔ اس کی بعد امریکہ میں ایسے لیڈر ابھرے جنھوں نے جنگ کے بجائے امن کی انھیں میں سے دوسرا امریکی صدر جان ایڈمس ہے جس کو غیر سیاسی سیاست داں (nonpolitical politician) کہا جاتا ہے۔ ۱۷۸۳ء میں پیرس معاہدہ کے تحت جب برطانیہ نے اس کو آزادی دے دی تو اس کے بعد امریکہ نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اب سارا زور تعلیم، سائنسی ریسرچ، انڈسٹری، انڈسٹری،سٹی پلاننگ اور نئی نسل کے کردار سازی پر دیا جانے لگا۔ یہی واقعہ جاپان میں بھی پیش آیا جس کو وہ لوگ عمل معکوس (reverse course) کا نام دوسری عالمی جنگ تک جاپان عسکریت کے راستہ پر چل رہا تھا۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے تجربات کے بعد اس نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اب اس نے جنگ کے طریقہ کو مکمل طور پر چھوڑ دیا۔ اس کے بجائے اس نے تعلیم کے میدان میں اپنی تمام توجہ موڑ دی۔ سائنس اور ٹکنالوجی میں ترقی کو اپنا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس سال میں تاریخ بدل گئی۔

عمل معکوس کا یہ مرحلہ ہر قوم کے لیے پیش آتا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ کامیاب رہتے ہیں۔ اور جو لوگ ایسا نہ کر سکیں وہ ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔ امریکہ اور جاپان دونوں اس عمل معکوس کو اختیار کرنے کی مثال ہیں۔ دوسری طرف انڈیا ہے۔ آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے انڈیا کو اسی راستہ پر چلانا چاہاتھا مگرانڈیا عمل معکوس کے اس رخ پر نہ چل سکا، اسی لیے اس کو ترقی بھی حاصل نہ ہوسکی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے بھی اب یہی وقت آ گیا ہے۔ وہ لمبی مدت سے اغیار سے شاکی ہو کر ان کے ساتھ بے فائدہ مقابلہ آرائی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے تھے۔ ضرورت ہے کہ اس خارجی پالیسی کو ترک کر دیا جائے اور اس کے بجائے داخلی پالیسی اختیار کی جائے۔ یعنی اپنی کوتاہیوں کا اقرار کرتے ہوئے خود اپنی تعمیر میں ساری توجہ لگادی جائے۔ مسلمانوں کے مسائل کا یہی واحد حل ہے، اور اسی کو انھیں ہر رتن اختیار کر لینا ہے۔

Printed page