The World Congress of spiritual concord
Al-Risala, June 1995
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کانگریس کی دعوت پر رشی کیش کا سفر ہوا۔ اور وہاں مختلف پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ ۵ دسمبر ۱۹۹۳ کو صبح ۹ بجے مسٹر ورگھیز (S. Raphael Verghese) کے ساتھ گھر سے روانگی نئی دہلی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایک مقام پر صفائی محکمہ کی طرف سے ایک بڑا سا بورڈ لگا ہوا نظر آیا۔ اس پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا ــــــــ آپ کا کوڑا آپ کی ذمہ داری : Your dirt, your responsibility میں نے سوچا کہ یہی زندگی کا عام اصول ہے۔ ہر آدمی اپنی سرگرمیوں کے درمیان کچھ "کوڑا" پیدا قدرت کا قانون ہے کہ وہ اس کی صفائی کو خود اپنی ذمہ داری سمجھے۔ صاف ستھری دنیا بنانے کے لیے اس کے سوا دوسری کوئی بھی ممکن تدبیر نہیں۔
گھر سے بذریعہ کار چل کر پہلے رشین سنٹر آف سائنس اینڈ کلچر پہنچے۔ یہاں دوسرے ساتھیوں کی آمد کے انتظار میں ٹھہرنا تھا۔ اس سنٹر میں ایک بار میں اس وقت آیا تھا جب کہ سوویت یونین ابھی قائم تھا۔ اب آج دوسری بار آنا ہوا جب کہ سوویت یونین ٹوٹ چکا ہے۔ پہلے یہاں زبردست سرگرمی اور چہل پہل نظر آتی تھی۔ سنٹر کی عظیم بلڈنگ اور اس کا وسیع لان بدستور اسی طرح موجود تھا۔ مگر اب یہاں سناٹے کا منظر دکھائی دیا۔ ریسپشن میں ایک مرد اور ایک عورت بالکل خالی اور غیر مصروف حالت میں اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے لیے یہاں کوئی کام نہیں۔
بلڈنگ تو پیسہ کے ذریعہ کھڑی ہو جاتی ہے۔ مگر زندگی کی سرگرمیوں کے لیے تخلیقی انسان درکار اگر تخلیقی انسان نہ ہوں تو بڑی بڑی بلڈنگیں ہوں گی مگر وہاں موت جیسا سناٹا چھایا ہوا ہوگا۔ یہی آج مسلم دنیا میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ پٹرول کے ظہور کے بعد مسلم دنیا میں پیسہ کی افراط ہو گئی
اس بنا پر آج ہر جگہ اسلام کے نام پر عالی شان بلڈنگیں کھڑی ہوگئی ہیں۔ مگر اندر جا کر دیکھئے تو بڑی بڑی بلڈنگوں میں کوئی بڑا کام نظر نہیں آئے گا۔ کیوں کہ کام کرنے کے لیے قابل کار انسانوں کی ضرورت اور موجودہ زمانہ میں یہ حال ہے کہ تمام قابل کار مسلمان یورپ اور امریکہ کے غیر مسلم اداروں میں جا جا کر بیٹھ گئے ہیں۔ اسلامی اداروں کو صرف کم تر صلاحیت کے افراد ہاتھ آتے ہیں اور کمتر صلاحیت کے لوگ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔
دہلی سے تین بس کی صورت میں ہمارا قافلہ روانہ ہوا۔ بس میں ہر آدمی کچھ نہ کچھ بول رہا تھا۔ خاتون نے دوسری خاتون سے کہا "سب لوگ کہہ رہے ہیں وہاں تو بہت اچھا مارکیٹ ہے" ایک صاحب اس قانونی سوال پر بات کر رہے تھے کہ انڈیا کے نظام میں پریذیڈنٹ کا اختیار کیا ہے اور پرائم منسٹر کا اختیار کیا۔ تیسرے صاحب اپنے ساتھی سے ویجیٹیرین اور نان ویجیٹیرین کے فائدہ اور نقصان پر بحث چھیڑے ہوئے تھے۔ ایک خاتون نے کہا: مجھ کو یہ ناول راستہ میں ختم کر لینا ہے۔
میں نے سوچا کہ یہ سارے لوگ رشی کیش جا رہے ہیں تاکہ وہاں "روحانی اتحاد" کی کانگریس میں وہاں ہر عورت اور مرد کسی نہ کسی طور پر اپنا حصہ ادا کرے گا۔ مگر یہ سب کچھ غالباً پروفیشنل انداز میں ہوگا۔ لوگ عملاً مادیات میں جی رہے ہیں، مگر رسمی طور پر چند دن کے لیے جمع ہوکر وہ روحانی عمل انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کسی انسانی مجموعہ میں حقیقی روحانی انقلاب نہیں آسکتا۔ اجتماعی کانگریس میں شرکت سے پہلے ہمیں انفرادی سطح پر روحانیت میں جینا ہوگا، اس کے بعد ہی روحانیت کا ماحول دنیا میں آسکتا ہے۔
اس قافلہ میں میرے سوا تقریبا سب کے سب غیر مسلم تھے۔ بیشتر لوگ بیرونی ملکوں کے تھے اور انگریزی بولنے والے تھے۔ ان کا ذوق، ان کا طرزِ فکر، ان کا ذہنی سانچہ سب کچھ مسلمانوں سے بالکل میں نے سوچا کہ اس کی وجہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے علماء، اور دانشور صرف مسلمانوں کے درمیان سرگرم رہتے ہیں۔ ان کا تعلق غیر مسلموں سے تقریباً نہیں کے برابر ہے۔ یہی صورت حال ساری دنیا میں اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ مسلم عالم یا مسلم دانشور اپنی موجودہ لیاقت کے ساتھ اس قابل ہی نہیں کہ وہ غیر مسلموں میں ان کے ذہنی درجہ کے مطابق ان سے بات کر سکے۔ یہ حضرات اگر غیر مسلموں میں آئیں تو وہ اپنے آپ کو تقریبًا "گونگا" محسوس کریں گے۔
آج (۵ دسمبر) کے ہندوستان ٹائمس میں میرا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا تھا۔ سفر کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے اس کو پڑھا تھا۔ چنانچہ اپنے آپ وہ زیر بحث آگیا۔
اس سلسلہ میں ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اسلام کا اصل کنسرن (concern) پاور نہیں ہے بلکہ فریڈم ہے۔ پولیٹکل ہیڈخواہ مسٹر اے ہوں یا مسٹر بی، اگر مسلمان کو قول وعمل کی آزادی حاصل ہے تو بس یہ اہل اسلام کے اطمینان کے لیے کافی ہے۔ پولیٹکل ہیڈ کا تعلق حقیقتہ انتظام یا بندوبست سے ہے۔ گھر کے اندر اور گھر کے باہر اور اسی طرح ہر شعبۂ حیا ت میں انتظامی بندوبست کے لیے کسی ایک کو ہیڈ بنانا پڑتا ہے۔ یہ ہیڈ ہر شخص نہیں اگر ہر آدمی ہیڈ بننا چاہے تو لامتنا ہی جھگڑا اور ٹکراؤ شروع ہو جائے گا۔ اس لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ حالات جس کو پولیٹکل ہیڈ کا درجہ دے دیں بقیہ لوگ اس کو مان کر اپنے اپنے دائرہ میں اپنی زندگی کی تعمیر میں لگ جائیں۔
میں نے کہا کہ تمام مسلم فقہاء اور مسلم علماء اس پر متفق ہیں کہ کسی مسلم حکمراں کا اقتدار جب عملاً قائم ہو جائے تو اس کے خلاف بغاوت کرنا حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ حکمراں کو ہٹانے کی کوشش میں مزید خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔ اس کی توسیع کرتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ اسی طرح جب ایک غیر مسلم حکمراں کی حکومت قائم ہو جائے تو اس وقت تک اس کے خلاف بغاوت نہیں کی جائے گی جب تک وہ لوگوں کو قول اور عمل کی آزادی دے رہا ہو۔
دہلی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے ہم یوپی کے علاقہ میں داخل ہو گئے۔ سڑک کے دونوں طرف مختلف مناظر ایک کے بعد ایک گزر رہے تھے۔ دکانیں، مکانات، کارخانے، کھیت، باغات، یہ سب گویا انسانی سرگرمیاں تھیں جو مختلف صورتوں میں دکھائی دے رہی تھیں۔ میں نے سوچا تو بظاہر مختلف سرگرمیوں کے درمیان ایک ہی داعیہ کام کر رہا تھا ، اور وہ اقتصادی انٹرسٹ کا داعیہ تھا۔ ہر آدمی اپنے اقتصادی مفاد میں لگا ہوا تھا، ہر آدمی براہ راست یا بالواسطہ طور پر اپنی معاشی ضروریات کے لیے دوڑ رہا تھا۔
آج کی دنیا میں لوگ اپنے معاملات میں اتنے زیادہ مصروف ہیں کہ ان کو دنیا کے بارہ میں خود سے معلوم کرنے کا کوئی وقت نہیں۔ لوگ دنیا کے بارہ میں صرف اخباروں کے ذریعہ معلومات
حاصل کرتے ہیں ۔ اور اخبارات کا یہ حال ہے کہ ان کوصرف ہاٹ نیوز" سے دلچسپی ہے۔ میں پیش آنے والے ہزاروں مثبت واقعات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ البتہ کوئی ایک منفی واقعہ پیش آ جائے تو اس کو وہ مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرتے ہیں۔ اس طرح آج کا آدمی خود اپنے سماج کے بارے میں بہت ناقص واقفیت حاصل کر پاتا ہے۔
ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ کا بڑا سبب یہی ہے۔ ہندوؤں کو اپنے اخباروں میں اکثر وہی مسلم خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں جو ہاٹ نیوز کے قبیل کی ہوتی ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے اخبارات بھی ان کو ہندوؤں کے بارے میں صرف وہی خبریں بتاتے ہیں جن کو لال رنگ کی خون آلود سرخیوں میں چھاپا جا سکتا ہو۔ ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا میں زرد صحافت پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ زرد صحافت نہیں بلکہ یہ مجرمانہ صحافت ہے اور اسی صحافت نے دونوں فرقوں کے درمیان تعلقات کو غیر معتدل بنا رکھا ہے۔ راستہ میں چار ندیاں تھیں جن کے اوپر سے پل کے ذریعہ ہماری بس گزری۔ ندی گویا قدرتی واٹر سپلائی کا نظام ہے جو نامعلوم مدت سے جاری ہے۔ یہ واٹر سپلائی ایک آفاقی نظام کے تحت ممکن بارش کے موسم میں جب بارش ہوتی ہے تو وہ وقتی طور پر ندیوں کو بھر دیتی ہے۔ پورے سال کی واٹر سپلائی کے لیے کافی نہیں۔ چنانچہ قدرت کے نظام کے تحت پانی کا ایک حصہ پہاڑوں کے اوپر برف کی صورت میں جم کر ٹھہر جاتا ہے۔ ٹھنڈے موسم میں دریا کے اندر پانی اپنے آپ گرم موسم میں دریا کا پانی بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس وقت پہاڑ کی برف پگھل کر چشموں کی صورت میں بہنا شروع ہوتی ہے۔ اس طرح ان پہاڑی چشموں کے ذریعہ دوبارہ ہماری دریاؤں میں پانی کی روانی جاری رہتی ہے ۔
راستہ میں سڑک کے کنارے چند مسجدیں بھی نظر آئیں ۔ مگر یہ مسجدیں زیادہ شاندار نہ تھیں۔ البتہ لاؤڈ اسپیکر ضرور ہر ایک کے اوپر لگا ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں لاؤڈ اسپیکر مسجدوں کے لیے ایک ضروری جز سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ ۱۹۴۷ء سے پہلے جب پہلی بار لاؤڈ اسپیکر مارکیٹ میں آیا تو مسلم علماء کو اسے مسجد میں استعمال کرنے میں سخت تردد تھا۔ حتیٰ کہ بعض علماء نے کہا کہ اس کی آواز مشین کی آواز ہے۔ اس لیے اس کا استعمال مسجد کے اعمال کے لیے جائز نہیں۔
ایک حدیث میں آنے والے فتنوں میں سے ایک فتنہ یہ بتایا گیا ہے کہ مسجدوں میں آوازیں
بلند ہوں گی رفعت الا صوات فی المساجد) اگر اس حدیث سے لاؤڈ اسپیکر مراد ہو تو لاؤڈ اسپیکر ایک فقرہ ہے نہ کہ کوئی بہت پسندیدہ چیز۔
ہم یوپی کی پرشور اور گرد آلود سڑکوں سے گزر رہے تھے۔ یہاں تک کہ اعلان ہوا کہ یہ کتھولی ہے۔ یہاں ہم لنچ کے لیے ایک گھنٹہ رکیں گے۔ اس کے بعد ہماری بس سڑک سے مڑکر ایک بہت بڑے احاطہ میں داخل ہوئی۔ یہاں کثیر تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں ۔
باہر نکل کر دیکھا تو صحرا میں گویا ایک نخلستان کا منظر تھا۔ وسیع وعریض گارڈن کے درمیان ایک خوب صورت اور نئی بلڈنگ کھڑی ہوئی تھی۔ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا چیتل گرینڈ : Cheetal Grand Motels Pvt. Ltd. یہ ایک جدید طرز کا ریسٹوراں تھا۔ عمارت نشست گاہیں، باتھ روم، ہر چیز بالکل نئے انداز پر بنی چاروں طرف دور تک سر سبز و شاداب مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ صفائی بھی کامل درجے میں یہاں قافلہ کے تمام لوگوں نے کھانا کھایا۔ کھانا بھی نہایت صاف ستھرا تھا۔ میں نے وضو کیا اور لان کی گھاس پر ظہر کی نماز ادا کی۔ میں نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ایک اور صاحب آکر شریک ہو گئے! انھوں نے بتایا کہ میں سوئزر لینڈ سے آیا ہوں۔ میرا موجودہ نام عبد الصمد ہے، میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا۔ پھر ایک مسلم صوفی سے متاثر ہو کر میں نے اسلام قبول کر لیا۔ بعد کو ان سے مزید گفتگو نہ ہو سکی۔
میں سمجھا تھا کہ یہ کسی بڑے ہندو کا ریسٹوراں ہوگا۔ مگر کھانے سے فارغ ہو کر میں کرسی پر بیٹھا تھا کہ ایک تندرست اور خوش پوش نوجوان میرے پاس آئے۔ انھوں نے میرا نام پوچھا۔ پھر انھوں نے کہا کہ میرا نام شارق رانا ہے۔ میں اور میرے بھائی واثق نثار اس ریسٹوراں کے مالک ہیں۔ دہلی مسوری روڈ پر واقع ہے اور نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔
اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ ریسٹوراں ہندوستانی مسلمانوں کے نئے فیصلے کی علامت ہے۔ ایک عرصہ تک انڈیا کو مسائل کا ملک سمجھنے کے بعد اب یہاں کے مسلمانوں نے جان لیا ہے کہ انڈیا بہترین مواقع کا ملک ہے۔ انھوں نے طے کر لیا ہے کہ وہ اس ملک کے امکانات کو استعمال کر کے آگے بڑھیں گے، یہاں تک کہ ترقی کی آخری منزل تک پہنچ جائیں گے ۔
دہلی میں سڑکیں اچھی تھیں۔ مگر یوپی کے علاقہ کی سڑکیں نا ہموار معلوم ہوئیں۔ مسلسل گاڑی میں جھٹکے لگتے رہے ۔ مجھے سر میں درد اور چکر پیدا ہو گیا جو آخر وقت تک باقی رہا۔ اس کی وجہ سے مجھے سخت پریشانی میں سوچتا رہا کہ یہ سر کا چکر جو بظاہر دکھائی بھی نہیں دیتا، وہ مجھ کو اتنا پریشان کیے ہوئے ہے کہ اس کے ساتھ اگر دنیا کا سب سے اچھا محل مجھے رہنے کے لیے دے دیا جائے تو اس کے اندر مجھے ایک سیکنڈ کے لیے بھی خوشی اور سکون نہیں ملے گا۔ صحت و عافیت کی زندگی بھی اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے۔ دہلی سے ہمارا قافلہ تین اسپشل بسوں کے ذریعہ رشی کیش کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس میں زیادہ تر بیرونی ملکوں کے لوگ تھے ۔ روس، جرمنی، سوئزرلینڈ، امریکہ وغیرہ سے مختلف مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ دہلی میں جمع ہوئے اور پھر یہاں سے ایک قافلہ کی صورت میں رشی کیش کے لیے روانہ ہوئے۔ رڑکی تک کا سفر اچھا گزرا۔ اس کے بعد سڑک زیادہ اچھی نہ تھی۔ ایک جگہ پل ٹوٹنے کی وجہ سے سواریوں کو سڑک کے نیچے اتار کر کچے راستہ سے گزارا جا رہا تھا۔ ایک جگہ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے کافی دیر تک رکنا پڑا۔ اس طرح سفر متعَب بھی ہو گیا اور طویل بھی۔ زندگی کا آغاز خواہ کتنے ہی ہموار حالات میں شروع کیا جائے، درمیان میں ناموافق حالات کا پیش آنا ضروری ہے۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو وہ اس کو پست ہمتی سے بچانے کا ذریعہ بن جائے۔
ہم لوگ رڑکی میں داخل ہوئے تو گرجا سے ٹن ٹن کی آواز آ رہی تھی۔ پہلے میں نے سمجھا کہ یہ ہاتھی کی آواز ہے۔ قریب ہوا تو ایک قدیم چرچ سڑک کے کنارے دکھائی دیا۔ اب میں نے جانا کہ یہ چرچ کے گھنٹے کی آواز ہے۔
دوسرے مذاہب میں عبادت کے وقت کے اعلان کے لیے گھنٹے یا اسی قسم کی کسی اور چیز کا غالباً اسلام واحد مذہب ہے جس میں با معنیٰ منادی کلمات کو دہراکر عبادت کے وقت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ دوسرے مذاہب کا اعلان صرف اعلان ہے۔ جب کہ اسلام نے اعلان کے ساتھ دعوت کا پہلو بھی شامل کر دیا ہے۔
راستہ میں کئی جگہ شوگر مل دکھائی دی۔ اونچی چمنیاں دھواں اڑاتے ہوئے اپنے وجود کا اعلان کر رہی تھیں۔ اس کے قریب دور تک گنے سے لدی ہوئی گاڑیاں اپنی باری کے انتظار میں کھڑی
گنا قدرت کی ایک پیداوار ہے۔ اس کے اندر رس بھرا ہوا ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ چھلکے کی بڑی مقدار بھی اس میں شامل رہتی ہے۔ گنے کو مشین میں ڈال کر دباتے ہیں۔ اس طرح اس کا رس نکل کر باہر آ جاتا اور سوکھا چھلکا الگ ہو جاتا ہے۔ گنے سے رس لینے کے لیے اس کے اوپر شدید دباؤ کا عمل ضروری اس کے بغیر اس کا میٹھارس حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان بظاہر ایک جسمانی وجود ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر غیر معمولی اخلاقی، روحانی اور فکری قوتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ان قوتوں کو ظہور میں لانے کا واحد فطری طریقہ یہ ہے کہ انسان کو دباؤ کے عمل سے گزارا جائے۔ یہ خدا کا مقرر کیا ہوا طریقہ ہے۔ اس دنیا میں کسی فرد یا کسی قوم کو اگر دباؤ کے حالات پیش آئیں تو یہ اس کے اوپر خدا کی عنایت کا نشان ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا اس کو چھلکے کے درجہ سے اٹھا کر رس کے درجہ میں پہنچانا چاہتا ہے۔
رشی کیش کے علاقہ میں داخل ہوئے تورات ہو چکی تھی۔ معلوم ہوا کہ حسب قاعدہ گنگا کا پل بند ہو چکا ہے۔ اب ہم کو دریا کے اس پار ایک ہوٹل میں رات گزارنا ہوگا۔ کل صبح کو پل کھلنے پر گنگا پار کر کے آشرم میں پہنچیں گے جہاں کانگریس کی کارروائیاں ہونے والی ہیں، مگر کچھ لوگ ہمت نہیں ہارے۔ کر پل کی اتھارٹی سے ملے۔ اس کو بتایا کہ یہ ایک انٹرنیشنل قافلہ ہے جو روحانی اجتماع کے لیے یہاں آیا ہے۔ وہ لوگ مطمئن ہو گئے اور انھوں نے پل کا گیٹ خصوصی طور پر کھول دیا۔
رشی کیش پہنچنے کے بعد پہلے ہم لوگ ایک بڑے شامیانہ میں لے جائے گئے۔ یہاں فادر گریگوریوز نے وہیل چیر پر بیٹھ کر تمام مہمانوں کا سواگت کیا۔ یہاں تمام لوگ تقریباً ایک گھنٹہ تک ٹھہرے۔ میں ملاقاتیں کیں۔
ہمارے قافلہ کے ایک صاحب جرمنی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا نام ولی (Willy Augustat) وہ انگریزی روانی کے ساتھ بول رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کا نفرنس میں جرمنی سے کئی لوگ چار تو خود ان کے اپنے گھر کے ہیں (وہ اور ان کی بیوی اور ان کی لڑکی اور ان کا لڑکا) یہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ انڈیا پر ایک جرمن حملہ (German invasion) ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں، مگر یہ ایک روحانی حملہ (spiritual invasion) ہے اور سچا روحانی حملہ ایسا ہی ہے جیسے کسی باغ میں باہر سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا داخل ہونا۔
ولی اگسٹ (8106-33903 (0) .Tel) یورپ میں پیس تھر و کلچر کے پریذیڈنٹ اور نہایت زندہ دل آدمی ہیں۔ وہ اگرچہ روانی کے ساتھ انگریزی بول رہے تھے ۔ مگر انھوں نے کہا: مجھے انگریزی نہیں آتی۔ بس کام چلانے کے لیے بول لیتا ہوں۔
ایک سوامی جی نے ”حقیقت“ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے ہر شخص ایک عظیم کل کا ایک جزو ہے: