Everyone of us is a part of the great whole.
Al-Risala, June 1995
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ یہ حقیقت کا وہ بیان ہے جو آریائی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ مگر سامی مذاہب کا بیان اس سے مختلف ہے ۔ سامی مذاہب کے نزدیک ہم اور کائنات کی دوسری تمام چیزیں خالق کی مخلوق ہیں نہ کہ خالق کا جزو۔ پہلی تشریح میں خالق ہم سے الگ نہیں ہے ، جب کہ دوسری تشریح میں خالق مکمل طور پر ہم سے الگ اپنا مستقل وجود رکھتا ہے۔
ایک صاحب سے بات ہوئی ۔ وہ مجھ کو جانتے نہیں تھے۔ انھوں نے مذاق کے اننداز میں کہا کہ ہندو ازم زیادہ پرانا مذہب ہے اور اسلام کی تمام باتیں ہندو ازم میں موجود ہیں۔ پھر آپ لوگ ہندو ازم کو کیوں نہیں لے لیتے۔ اس طرح آسانی سے ریلیجس ہارمنی پیدا کی جاسکتی ہے۔
میں نے کہا کہ اگر میں اس کو الٹ کر یہ کہوں کہ اسلام زیادہ لیٹسٹ ہے اور مذہب کا ریوانزڈ ایڈیشن ہے ، اس لیے دوسرے قدیم مذہب والوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کو اختیار کر لیں۔ اس طرح وہ ناقص کو چھوڑ کر کامل کو پالیں گے ، تو آپ میری اس بات کے جواب میں کیا کہیں گے۔ وہ مسکرا کر خاموش ہوگئے ۔ اس طرح کی باتیں مختلف لوگوں سے ہوتی رہیں۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کو ایسی آواز تو بہت اپیل کرتی ہے جس میں اپنی موجودہ جگہ چھوڑے بغیر کوئی کریڈٹ مل رہا ہو۔ مثلاً موجودہ کانگریس میں ہر آدمی اپنے مذہب کے ساتھ شریک ہو رہا ہے۔ اپنے مذہب سے ہٹے بغیر اس کو ایک نیا اطمینان حاصل ہو رہا ہے کہ اس نے عالمی روحانی اتحاد کے لیے کام کیا۔ مگر ایک ایسی آواز کو اپیل نہیں کرتی جس میں اس کو اپنی موجودہ پوزیشن چھوڑنی پڑے۔
مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے آخر کار رات کو ۹ بجے میں پر مارتھ نکیتن آشرم میں پہنچا جہاں مجھ کو یہ انڈیا کا سب سے بڑا آشرم ہے اور سوامی چید اند اس کے چیر مین ہیں۔ یہاں شام کا کھانا کھایا۔
سوامی جی شریک نہ ہو سکے۔ کیونکہ رات کا کھانا وہ سورج ڈوبنے سے پہلے کھا لیتے ہیں۔ اسی آ شرم میں رات کی نماز پڑھی اور پھر اپنے کمرہ میں سونے کے لیے چلا گیا ۔
میں جب سوامی جی کے کمرہ میں داخل ہوا تو میرے ہاتھ میں صرف کپڑے کا ایک بیگ تھا۔ صاحب نے پوچھا : آپ کا اور سامان ۔ میں ابھی خاموش تھا کہ سوامی جی جو میرے مزاج کو جانتے تھے ، بولے؛ مولانا جی تو سچے فقیر ہیں۔ ان کو زیادہ سامان سے کیا کام۔ بس یہی کپڑے کا بیگ ان کا سامان ہے۔ سوامی جی سے میں نے پوچھا کہ ہندو روایات میں " فقیر " کا کیا مطلب بتایا گیا ہے۔ اپنے مخصوص انداز میں کہا : جو فکر کا فاقہ کرے اس کا نام فقیر ۔
۵ دسمبر کی شام کو منزل تک پہنچنے میں کافی دیر ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ مغرب کا وقت نکل گیا۔ سوامی چیدانند کے دفتر میں پہنچا تو رات ہو چکی تھی۔ میں نے سوامی جی سے کہا کہ مجھ کو نماز پڑھنا ہے۔ انھوں نے فوراً اپنے خاص کمرہ میں ایک نیا کپڑا مصلی کے طور پر بچھایا۔ وہیں میں نے وضو کیا اور ان کے کمرہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی۔
میں نے دعا کی کہ خدا یا ، تو اس ملک پر اور اس ملک کے بسنے والوں پر رحم فرما۔ اس ملک کے باشندوں کے ساتھ یہ نادانی کی کہ انھوں نے ان کو رقیب سمجھا، انھوں نے ان کو مدعو خدایا تو اس ملک کے دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول ختم کر دے تاکہ کھلے ماحول میں تیرا پیغام ایک سے دوسرے کو پہنچنے لگے۔
۶ دسمبر کی صبح ۵ بجے آنکھ کھلی تو آ شرم کے معمول کے مطابق ، لاوڈ اسپیکر پر گیتا کے اشلوک پڑھے جا رہے تھے۔ آدھ گھنٹہ تک ترنم کے ساتھ ایک پنڈت جی اس کو سناتے رہے۔ اس کے بعد ایک اور پنڈت جی نے کٹھن ہندی میں اس کی تشریح پر آدھ گھنٹہ تک تقریر کی۔ تشریح میں انھوں نے خاص طور پر چنتن پر انھوں نے کہا کہ پر ماتما کا کوئی روپ نہیں۔ آخر میں پرارتھنا ہوئی ' سازپر ' دیا کرو بھگوان " دہرایا گیا اور اس طرح کے دوسرے دعائیہ کلمات ۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، ہندو عقیدہ کے مطابق ، دیوی دیوتا پر ماتما کی صفات کا مظہر ہیں۔ انھیں صفات کے ذریعہ پر ماتما سے ربط قائم کرتا ہے۔ اسی لیے ہندو سماج میں دیوی دیوتاؤں کے مندر مگر ان کے یہاں پر ماتما کا کوئی مندر نہیں۔
یہ مجموعی طور پر صبح ایک گھنٹہ کا پروگرام تھا۔ ایک صاحب (معراجی) ٹارچ لے کر صبح کو کمرہ میں چیک کرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں ٹھہرنے والے ہر شخص کے لیے ست سنگ کے اس پروگرام میں شرکت کرنا ایک صاحب کے الفاظ میں ، یہ یہاں کے باسیوں کے لیے اسپر یچول فیکس ہے۔ سورج طلوع ہونے کے قریب تھا کہ مندروں سے گھنٹہ کی آوازیں آنے لگیں۔ گنگا کا پانی یہاں تیزی سے بہتا ہے۔ اس بنا پر اس کی آواز بھی مسلسل رات اور دن سنائی دیتی ہے۔ صبح کو میں اپنے کمرہ سے باہر نکلا تو تیز اور ٹھنڈی ہوا نے استقبال کیا۔ یوروپین لوگوں کے لیے اس قسم کی ہوا بہت خوش گوار تھی۔ مگر میرے لیے وہ زیادہ خوش کن ثابت نہ ہوسکی۔ خواہش کے باوجود میں باہر زیادہ دیر تک ٹہل نہ سکا۔
میرے کمرہ کے قریب بلڈنگ کے ایک حصہ میں جلی حرفوں میں بورڈ لگا ہوا تھا : انسائیکلوپیڈیا آف ہندو ازم (آفس) یہ گویا اس بات کی علامت تھی کہ یہ ایک جدید طرز کا آشرم ہے۔ آشرم کے چیرمین سوامی چیدانند کا یہ ایک بڑا حوصلہ مندانہ منصوبہ ہے۔ وہ نہ صرف ہندو ازم کی انسا ئیکلوپیڈیا کئی ضخیم جلدوں میں تیار کر رہے ہیں بلکہ اعلی تعلیم یافتہ ہندوؤں کو جوڑ کر ایک تھنک ٹینک (Think Tank) بھی انھوں نے تشکیل دیا ہے۔
۶ دسمبر کو صبح کا وقت ہے۔ میں آشرم کی ایک چھت پر کھڑا ہوں۔ چاروں طرف اجالا پھیلا ہوا ہے۔ ہمالیہ پہاڑ کی بلندیاں آشرم کو گھیرے ہوئے ہیں۔ سامنے گنگا پر شور آواز کے ساتھ بہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں اس کا پاٹ ایک چھوٹی پہاڑی ندی جیسا ہے۔ یہاں وہ اتنی چوڑی نہیں جتنا وہ آگے جا کر ہو جاتی ہے۔ دریا کے کنارے قطار سے کئی مندر بنے ہوئے ہیں۔ پجاری (زیادہ تر عورتیں) آتی ہیں۔ وہ ایک بار گھنٹہ بجا کر اندر جاتی ہیں اور پوجا کی رسم ادا کرتی ہیں۔ یہاں کی ہواکثافت سے بڑی حد تک خالی ہے۔ آشرم کا نام پر مارتھ نکیتن ہے۔ اس میں بیک وقت پانچ ہزار آدمی ٹھہر سکتے ہیں۔ مختلف معیار کے کمرے بڑی تعداد میں بنے ہوئے ہیں۔ گنگا کے عین کنارے یہ آشرم عملاً ایک صحت گاہ بن گیا ہے۔ یہاں ہندو لوگ اس احساس کے ساتھ آتے ہیں کہ برکت بھی حاصل کریں گے اور صحت بھی۔
رشی کیش کے مختلف حصوں میں گھوم کر دیکھا۔ ہر طرف مندر اور اس سے متعلق چیزوں کے مناظر تھے۔ جگہ جگہ کسی دیوی یادیوتا کامجسمہ کھڑا ہوا ہے۔ لوگ پرار تھنا اور پوجا میں مصروف نظر آئے۔
آس پاس دکانوں میں پوجا اور نذرونیاز کے سامان بِک رہے ہیں۔ مثلاً پھول، صندل، موم بتی، جپ مالا، تصویریں، دھارمک کتا بیں، وغیرہ وغیرہ۔
ایک ہندو نے مجھ کو مسلمان سمجھ کر کہا۔ ہم میں اور آپ میں کیا فرق ہے۔ ہم لوگ مندروں میں کھڑا کر کے پوجتے ہیں اور آپ لوگ (قبروں میں) میں)لٹا کر پوجتے ہیں۔ مندروں کے آس پاس آپ جو چیزیں یہاں دیکھ رہے ہیں وہی سب میں نے آپ کی درگاہوں میں بھی دیکھا ہے۔
رشی کیش کے مناظر کو دیکھنے کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ ہندو لوگ اتنی زیادہ تعداد میں کیوں درگاہوں میں جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ درگاہوں کے ماحول میں ان کو اسلام کا ہندواڈیشن(Hinduised (Hinduised version) مل جاتا ہے۔ یہاں اسلام ان کو اپنے مذہب جیسا ہی ایک مذہب دکھائی دیتا ہے۔
رشی کیش گنگا کے کنارے بسا ہوا ہے۔ پہاڑ کے اوپر جہاں سے گنگا شروع ہوتی ہے اس گنگوتری کہا جاتا ہے۔ آگے بڑھ کر گنگا کو سب سے پہلے جہاں ہموار میدان ملتا ہے وہ یہی رشی کیش ہے۔ کے بعد سب سے زیادہ اہمیت رشی کیش کی ہے۔ گنگا کو ہندو روایات میں "ماں" کہا گیا ہے سوامی چید انند نے اس کی تشریح کی کہ ماں ہمیشہ دیتی ہے، وہ کبھی لیتی نہیں۔ اسی طرح گنگا ایک طرفہ طور پر دیتی رہتی ہے۔ وہ ہم سے کچھ نہیں لیتی۔ اسی لیے ہندو روایات میں گنگا کو ماں کے روپ میں دیکھا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک خوب صورت توجیہہ ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اس دنیا کی ساری ہی چیزیں گنگا کی مانند گھاس اور مولی سے لے کر سورج اور چاند تک اس کائنات کی ہر چیز کا معاملہ یہی ہے کہ وہ ایک طرفہ نفع رسانی کے اصول پر کاربند ہے۔ ایسی حالت میں جو درجہ گنگا کو دیا گیا ہے وہی درجہ عالم طبیعی کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو دیا جانا چاہیے۔
اس قسم کی غیر منطقی توجیہہ کارواج موجودہ مسلمانوں میں اور دوسرے مذہبی فرقوں میں بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ ہندوؤں میں۔
گنگا ہندوستان کا ایک بہت بڑا دریا ہے۔ وہ شمالی ہند سے شروع ہو کر بنگال کے آخرتک بہتا چلا اس کی مجموعی لمبائی ۲۵۰۰ کلومیٹر ہے۔ ہندو عقیدہ میں اس کو ایک مقدس دریا مانا گیا ہے۔ گنگا کے کنارے آباد شہروں کو ہندو روایات میں خصوصی مذہبی اہمیت حاصل ہے۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ مختلف قوموں میں روحوں
کی پرستش کا رواج رہا ہے۔ سورج، چاند، پہاڑ، درخت، دریا، ہر چیز میں ایک ایسی روح کو مانا جاتا ہے جس کے اندر پُر اسرار صفات اور طاقتیں موجود ہیں۔ اسی لیے ان چیزوں کو پوجا جاتا ہے تاکہ ان کے اندر جو روح ہے اس کی برکت حاصل کی جائے۔ اسی عقیدہ کے تحت گنگا کو بھی پوجا جاتا ہے کیونکہ اس میں دیوی کی روح سمائی ہوئی ہے۔
اس قسم کی تفصیلات بتاتے ہوئے برطانیہ کا مقالہ نگار کہتا ہے کہ مسلمانوں میں بھی کچھ غیر خدائی چیزوں کی پرستش کا رواج ہے۔ مثلاً ساؤتھ ایشیا کے مسلمان اپنے پیروں کو پوجتے ہیں۔ مگر یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے قرآن میں کوئی سند موجود نہیں :
...a practice for which there is no authority in the Qur'an (17/129)
رشی کیش کی یہ سات روزہ کانگریس ایک روسی تنظیم کے تحت ہوئی۔ اس کا نام ہے ــــــــــــ امن بذریعہ کلچر کی بین اقوامی جماعت :
The International Association Peace Through Culture. یہ تنظیم ماسکو میں قائم ہوئی۔ اس کے بانی نکولائی رورش (Nikolai K. Roerich) تھے۔ وہ ۱۸۷۴ء میں ماسکو میں پیدا ہوئے اور ۱۹۴۷ء میں بنگلور میں ان کا انتقال ہوا۔ اس کے موجودہ روسی صدر والنتن سدوروف (Valentin M Sidorov) ہیں۔ اس تنظیم کی پہلی عالمی کانگریس الماتا (قزاقستان) میں ۱۹۹۲ء میں ہوئی تھی۔ دوسری عالمی کانگریس دسمبر ۱۹۹۳ء میں رشی کیش میں ہوئی۔ شاخیں اکثر مغربی ملکوں میں قائم ہیں۔ ان کاخاص پیغام یہ ہے کہ دنیا کا بڑھتا ہوا تشددروحانی بیماری (spiritual illness) کی بنا پر ہے۔ دنیا کے مسائل کو روحانی طاقت (spiritual energy) کے ذریعہ سے دور کرو۔ اندھیرے کو کوسنے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ایک شمع روشن کردی جائے : It is far better to light a lamp than to curse the darkness. رشی کیش کی یہ کانگریس اصلاً میڈیٹیشن (مراقبہ) کے لیے ہوئی تھی۔ یہاں مختلف مذاہب کے لوگوں نے جمع ہو کر اپنے اپنے مذہبی طریقہ کے مطابق میڈیٹیشن کا مظاہرہ کیا۔ روس سے آئے ہوئے ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام میں عبادت کا تصور ہے، میڈیٹیشن کا تصور اسلام میں نہیں
صوفیا نے مراقبہ کا طریقہ نکالا۔ مگر وہ ان کی اپنی ایجاد ہے، اسلام میں اس کا ماخذ موجود نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں جب کہ اسلام میں ذکر کی تعلیم ہے۔ اور ذکر میڈیٹیشن یا دھیان ہی کا مسلم طریقہ ہے :