Al-Risala · June 1995

Dhikr is the Muslim form of meditation or Dhyan.

Al-Risala, June 1995

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ ذکر اور معروف دھیان میں ایک بنیادی فرق ہے۔ ذکر یاد ہے اور دھیان ذکر میں بندہ اپنے خدا کو یاد کرتا ہے۔ جب کہ دھیان میں خدا جیسی کوئی شخصیت سامنے دھیان یہ ہے کہ آدمی خود اپنے اندر چھپی ہوئی حقیقت سے اپنے آپ کو مربوط کرے۔ ہے کہ اسلامی ذکر سے آدمی کے اوپر خدا کی عظمت کا تصور قائم ہوتا ہے۔ جب کہ دھیان یا میڈیٹیشن کا آخری نتیجہ ایک موہوم قسم کا روحانی سکون ہے اور بس۔

یورپ سے آنے والے ایک صاحب نے میڈیٹیشن کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ میڈیٹیشن وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں بحث اور استدلال ختم ہو جاتا ہے :

Meditation begins where discussion and ratiocination stop. میں نے کہا کہ آپ کے اس جملہ کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ جب بحث اور استدلال کام نہ کرے تو مراقبہ شروع کر دو۔ مگر خود اس بات کو ماننے کے لیے بھی بحث و استدلال کی ضرورت ہوگی کہ مراقبہ بھی دریافت حق کا کوئی مؤثر ذریعہ ہے۔ بحث و استدلال میں ہم معلوم حقائق کی مدد لے کر ایک فکری نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ معلوم حقیقتوں میں غور و فکر کے علاوہ آدمی کے پاس کون سا مزید ذریعہ ہے جو اس کو حقیقت تک رسائی میں مدد کرتا ہے۔ جب تک آپ یہ ثابت نہ کریں کہ یہاں اس قسم کا ایک اور چھپا ہوا ذریعہ موجود ہے اس وقت تک مراقبہ کی معنویت مشتبہ رہے گی۔ یہ اثبات حقیقی دلیل سے ہونا چاہیے نہ کہ مثالوں سے۔

۶ دسمبر کو صبح ۱۰ بجے یہاں کے پرشورام ہال میں کانگریس کا افتتاح ہوا۔ افتتاح کی تقریب میں سب سے پہلے مختلف مذہب کے لوگوں نے اپنے اپنے مذہب کی مقدس کتابوں سے کچھ اجزاء پڑھ کر سنائے ۔ ابتدائی تمہید کے بعد سب سے پہلے سوامی چید آنند ناک پر آئے جو ہندو دھرم کے نمائندہ انھوں نے سنسکرت میں کچھ اشلوک ترنم کے ساتھ پڑھ کر سنائے۔ یہاں ترجمہ کا قاعدہ نہیں تھا،

اس لیے انھوں نے ترجمہ نہیں کیا۔

مقرر پروگرام کے مطابق، سوامی چند اند کے بعد مجھ کو قرآن کا ایک حصہ تلاوت کرنا تھا۔ کا اعلان ہوا تو میں مائک پر آیا۔ اس وقت حاضرین میں زیادہ تر بیرونی ملکوں کے لوگ تھے، اس لیے ساری کارروائی انگریزی زبان میں ہو رہی تھی۔ چنانچہ میں نے مائک پر آکر پہلے حسب ذیل الفاظ کہے : The recitation of the Qur'an is a highly professional job. Those people who recite the Qur'an are called Qaris. I am not a Qari in that sense of the word. I am simply a student of the Qur'an. So I will recite some verses from the Qur'an in a very simple and non-professional manner. اس کے بعد میں نے سادہ انداز میں قرآن کی کچھ آیتیں پڑھیں۔ حاضرین کے چہرہ سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس کو بہت دھیان کے ساتھ سن رہے ہیں۔ اور نہایت ادب اور تعظیم کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کا کلام خود اپنے صوتی آہنگ میں بھی ایک تاثیر رکھتا ہے، خواہ سننے والا اس کو سمجھ رہا ہو یا نہ سمجھ رہا ہو۔ اس کے بعد اچاریہ منی سوشیل کمارنے جین مذہب کی کتاب سے ایک مختصر حصہ پڑھا۔ اس کے بعد سکھ دھرم کی طرف سے ایک مرد اور ایک عورت اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے باجے کی دھن پر گربانی کا ایک حصہ ترنم کے ساتھ سنا یا۔ اس کے بعد مقامی ویدک ادارہ کے طلبہ کی ایک ٹیم گیروے لباس میں آئی۔ مل کر اپنا مذہبی گانا گایا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک مختلف شخصیتیں اور جماعتیں اسٹیج پر آتی رہیں اور اپنے مذہب کا تعارف پیش کرتی رہیں۔

آخر میں بشپ گریگوریوز نے ایک تقریر کی۔ اس میں انھوں نے کہا کہ حقیقت ایک ہے مگر اس کا اظہار (manifestation) متعدد ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے موجودہ کانگریس کا تعارف پیش کیا، اور بتایا کہ ہم رشی کیش میں کیوں جمع ہوئے ہیں اور ہمیں کیا کرنا ہے۔ تنظیم کے صدر نے روسی زبان میں تقریر کی جس کا ترجمہ ان کے روسی سکریٹری نے انگریزی میں کیا۔

کانگریس کی کارروائی ۶ دسمبر سے ۱۲ دسمبر ۱۹۹۳ تک جاری رہی۔ پہلے دن شرکاء کاتعارف اور ابتدائی کارروائیوں کے علاوہ ہر مذہب کی مقدس کتابوں کی تلاوت کی گئی۔ ۷دسمبر کو ہر مذہب کے لوگوں نے اپنے اپنے طریقہ کے مطابق میڈیٹیشن کا مظاہرہ کیا۔ اس میں گیت اور ڈانس بھی شامل تھا۔ ۸ دسمبر کو بھی اسی قسم کے پروگرام جاری رہے۔ ۹ دسمبر کو میڈیٹیشن اور یوگا کے علاوہ لوگوں کو گنگا کے کنارے لے جایا گیا ۔ ۱۰ دسمبر کو

مذکورہ پروگراموں کے علاوہ روحانی پینٹنگ کے نمونے دکھائے گئے ۔ 11 دسمبر کو یوگا وغیرہ کے پروگرام۔ ساتھ شرکار نے اپنے اپنے تاثرات مختصر طور پر بیان کیے۔ ۱۲ دسمبر کو مختلف مندر دکھائے گئے اور الوداعی

یہ مختصر طور پر اس کانگریس کی روداد تھی۔ تاہم یہ ایک عملی نوعیت کی کانگریس تھی۔ اس کا اندازہ صرف اس کو دیکھ کر ہو سکتا ہے، کاغذی رپورٹ سے اس کا صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس اسپرچول کانگرس میں تقریباً ۲۰۰ آدمی مختلف ملکوں سے آئے ہوئے تھے۔ روس ، جرمنی ،سوئزرلینڈ، امریکہ، وغیرہ ۔ تقریباً نصف تعداد ہندوستانی تھی اور نصف تعداد بیرونی۔ سب کے سب پڑھے لکھے لوگ تھے۔ ان میں سکھ ازم، ہندوازم، جین ازم، بدھرم، مسیحیت وغیرہ ہر مذہب کے لوگ شامل تھے۔ کئی لوگوں سے مذہبی عقائد کے موضوع پر گفت گو ہوئی۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ جو لوگ کسی مذہب میں پیدا ہوئے ہوں ان کو ایک دو ملاقاتوں میں کوئی نئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی۔

حدیث میں ہے کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچپن سے ایک خاص ماحول میں رہے رہتے آدمی کی سوچ کنڈیشنڈ ہو جاتی ہے۔ کسی اور نقطہ نظر کو وہ بچرا نہیں پاتا۔ اس لیے ضرورت ہے کہ لوگوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ملنا جلنا ہو۔ مختلف مواقع پر تبادلۂ خیال ہوتا رہے۔ اسی کے ساتھ مطالعہ کا سلسلہ بھی جاری ہو۔ اس طرح لوگوں کے ذہن کھل سکتے ہیں۔ کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ایک گفتگو یا ایک ملاقات نے پوری بات سمجھ جائیں۔ اور اس کا اعتراف بھی کر لیں۔ مگر ایسے لوگ تاریخ میں بہت کم پائے زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو کسی نئی بات کو دیر سے ہی سمجھتے ہیں۔

سوامی چید انند رشی کیش کے پرمار تھ نکیتن آشرم کے چیر مین ہیں۔ یہ انڈیا کا سب سے بڑا آشرم ہے۔ اس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سوامی جی کا آفس جو کئی کشادہ کمروں پر مشتمل ہے، بالکل جدید طرز پر بنا ہوا ہے۔ وہ جہاں بیٹھتے ہیں، وہاں تین ٹیلی فون رکھے ہوئے ہیں جس کی گھنٹی ہر وقت بجتی رہتی ہے۔ ہندوستان کے مختلف مضافات سے، اس کے علاوہ یورپ، آسٹریلیا، امریکہ سے ٹیلیفون آتے رہتے ہیں۔ سوامی جی اس بات کی ایک زندہ مثال ہیں کہ موجودہ زمانہ کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ نیز یہ کہ کس طرح ایک آدمی ایک کمرہ میں بیٹھ کر ساری دنیا سے مربوط رہ سکتا ہے۔ وہ ایک مقام پر بیٹھ کر جدید مواصلاتی ذرائع سے

ساری دنیا میں اپنی تحریک کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

آشرم میں سوامی جی کے دفتر کے سامنے ایک خوب صورت بورڈ لگا ہوا ہے۔ اس پر ایک عالمی نقشہ ہے جس میں ہر ملک میں ہندوؤں کی تعداد بتائی گئی ہے۔ اس کے اوپر لکھا ہوا ہے ــــــــ تقریبا ایک بلین ہندو کہاں کہاں رہتے ہیں :

Printed page