Al-Risala · June 1995

Where nearly a billion Hindus live?

Al-Risala, June 1995, pp. 24–39

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ خوب صورت بورڈ ”ہندو ازم ٹوڈے“ کی طرف سے سوامی چید آنند کو ۱۹۹۱ء میں اس موقع پر دیا گیا جب کہ سناتن دھرم کے لیے ان کی خدمات کی بنا پر ان کو سال کا ہندو (Hindu of the year) ڈیکلیئر کیا گیا۔ اس بورڈ میں بتایا گیا تھا کہ ہندو عالمی انسانی خاندان کاچھٹا حصہ ہیں۔ انڈیا میں ۹۳ فی صد ہندو ہیں۔ مجموعی عالمی تعداد ۸۱۶ ملین ہے۔ تقریباً ۶۰ ملین ہند و مختلف ملکوں میں آباد ہیں۔ ہندو ازم ٹوڈے ایک ہفت روزہ ہے۔ اس کو ایک امریکی ہندو نکالتے ہیں۔ وہ کئی زبانوں میں چھپتا اس کی اشاعت کئی ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے دفاتر دنیا کے اکثر حصوں میں موجود ہیں۔ کا صدر دفتر امریکہ (هوائی) میں ہے۔

۶ دسمبر ۱۹۹۳ء کو صبح سویرے رشی کیش سے دہلی کے لیے واپسی تھی۔ صبح پانچ بجے میں بستر سے اٹھ گیا۔ فجر کی نماز آشرم میں اپنے کمرہ میں پڑھی۔ خیال آیا کہ شاید میں پہلا شخص ہوں جس نے گنگا کے کنارے آباد اس بستی میں خدا کے آگے سجدہ کیا ہو۔ اور یہاں لوگوں کی رحمت اور ہدایت کے لیے دعائیں کی ہوں۔ نماز سے فارغ ہو کر اٹھا تو ست سنگ سے لاؤڈ اسپیکر پر ہونے والے پروچن کی آوازیں آرہی بولنے والا ” صحبت “ کا فلسفہ بتا رہا تھا کہ آپ کو ملنے جلنے میں انتخابی طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ کہ آپ جس کے ساتھ چاہیں بیٹھیں جس کے ساتھ چاہیں ملنے جلنے لگیں ۔ اس نے کہا : جیسا بنو گا ویسے بچار بنیں گے ، جیسا بچار ہو گا ویسا آپ کا جیون بنے گا۔ اپنے من کو ٹھیک کیجیے تاکہ بچار ٹھیک ہوں اور بچار کو ٹھیک کیجیے تاکہ آپ کا جیون سدھرتا چلا جائے ۔ آخر میں ہری اوم ، ہری اوم کی جاپ پرست سنگ ختم ہوا ۔ ست سنگ یہاں روزانہ کئی بار ہوتا ہے۔ اس کا سلسلہ صبح ۵ بجے شروع ہوتا ہے اور رات کو دیر تک جاری

ہندوؤں نے اس طرح کے آشرم اور ادارے سارے ہندستان میں بے شمار تعداد میں قائم

چونکہ یہ لوگ نیچر کو مقدس سمجھتے ہیں اس لیے ان کے مذہبی ادارے اکثر کسی پہاڑ یا کسی دریا کے کنارے ہوتے ہیں۔ اپنے عقیدہ کے مطابق، وہ اس کو نیچر کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ بنا پر موجودہ زمانہ میں ہندوؤں کے مذہبی اداروں میں فطرت کا حسن شامل ہو گیا ہے۔ بہت سے غیر مذہبی لوگ بھی یہاں فطرت کے ماحول میں کچھ دن گزارنے کے لیے آنا پسند کرتے ہیں۔

، ۷دسمبر کی صحیح کو فجر کی نماز اول وقت پڑھی۔ اس کے بعد سوامی چیدانند سے رخصتی ملاقات کرنے کے لیے ان کے دفتر میں گیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ کانفرنس کے بہت سے مرد اور عورت وہاں چلے آ رہے سوامی جی نے بتایا کہ ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ آج آپ جارہے ہیں تو وہ آپ کے درشن کے لیے اور آپ کا آشیرواد لینے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ یہ زیادہ تر یورپ کے ملکوں سے تعلق رکھتے تھے۔ سے اس کی بابت معلوم نہ تھا اس لیے کچھ سوچا نہ تھا۔ مگر اس وقت فوری طور پر مجھے بہر حال کچھ بولنا تھا چنانچہ انگریزی میں تقریباً 10 منٹ تک ان کے سامنے خطاب کیا۔

میں نے کہا کہ آپ لوگ یہاں روحانی اتحاد کے عنوان پر جمع ہوئے ہیں۔ اس نسبت سے چند باتیں میں قرآن کے حوالے سے کہوں گا۔ قرآن میں یہ تصور دیا گیا ہے کہ تمام انسان ایک ہی صبح فطرت پر پیدا کیے جاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف، جھگڑے، غلط فہمیاں یہ سب چیزیں انسانی شخصیت کا اصل حصہ نہیں ہیں ، یہ سب اوپری چیزیں ہیں۔ جہالت، حرص، تعصب ، اکینہ وغیرہ ان کے اسباب ہیں۔ یہ سب چیزیں وقتی طور پر آدمی کی فطرت کوڈھک لیتی ہیں۔ اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اندر کی یکساں فطرت بے نقاب ہو کر سامنے آجائے گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی اتحاد تو اپنے آپ سارے انسانوں کے درمیان موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اوپر کے پردوں کو ہٹا دیا جائے۔ پردہ ہٹنے کے بعد جو چیز حاصل ہوگی وہ وہی ہوگا جس کو ہم روحانی اتحاد کہتے ہیں۔

رشی کیش سے دہلی کا سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ راستہ میں ہمارے ساتھی چائے پینے کے لیے رڑکی میں ٹھہرے ۔ ہوٹل کا نام گھنین رستوراں تھا۔ میں گاڑی سے باہر آیا۔ میں نے چائے نہیں لی۔ امر اجالا کا شمارہ ، دسمبر ۱۹۹۳ دیکھا۔ اس کی پہلی سرخی یہ تھی : پانچ ٹرینوں میں بم پھٹے ۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ۶ دسمبر کو اجودھیامیں بابری مسجد ڈھائے جانے کی پہلی برسی پر دیش کے

مختلف حصوں میں پانچ اہم اکسپریس ٹرینوں میں رکھے ہوئے بم پھٹے ۔ ان سے کئی افراد گئے اور بہت سے لوگ زخمی ہوگئے ۔ پیٹریاٹ ( ۶ دسمبر ) کی سرخی یہ تھی :

Printed page