Al-Risala · June 1995

Blasts mark demolition anniversary

Al-Risala, June 1995, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

بم دھماکہ کا یہ واقعہ بیک وقت بزدلی بھی ہے اور فعل حرام بھی ۔ جن نے ایسا کیا ہے ، اس کو اگر کچھ کرنا ہے تو وہ مجرموں کے ساتھ کرے۔ ٹرینوں میں سفر کرنے والے بے قصور مسافروں کو بم کا شکار بنانا تو انسانیت کے خلاف بھی ہے اور مذہب کے خلاف بھی ۔

رڑکی میں ہمارے ساتھی رستوراں میں چائے پینے کے لیے ٹھہرے ۔ میں نے چائے وغیرہ نہیں لی۔ باہر ٹہلتا رہا۔ رڑکی میں مسلمان بھی کافی آباد ہیں۔ اتفاق سے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوگئی گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ میں آپ کا الرسالہ پہلے پڑھا کرتا تھا۔ مگر اب میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ سبب پوچھا تو انھوں نے کہا آپ آج کل جن باتوں کی تبلیغ کر رہے ہیں ان سے مجھے اتفاق نہیں۔ میں نے مزید تفصیل پوچھی تو انھوں نے اخبارات میں چھپنے والے بعض انٹرویو کا حوالہ دیا۔ میں نے کہا کہ رائے قائم کرنے کا یہ طریقہ اسلام کے خلاف ہے۔ اخباری انٹرویو کے متعلق معلوم ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ بات

کو بدل کر اپنے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ اس لیے میرے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لیے آپ کو الرسالہ کے مضامین کو بنیاد بنانا چاہیے۔ یا خود میرے لکھے ہوئے مضامین (signed articles) جو کسی اخبار یا میگزین میں چھپیں ۔ وہ ایسا کوئی حوالہ نہ بنا سکے ۔

میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تازہ آرگنائزر(۵دسمبر ۱۹۹۳) میں میرا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ کی سرخی انھوں نے یہ قائم کی ہے کہ ہندوازم ہی واحد روادار مذہب ہے :

Printed page