Al-Risala · January 1995

Photo: courtesy of British Airways - Image Bank.

Al-Risala, January 1995, pp. 30–22

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی تاج محل کا یہ فوٹو ہائی لائف نے برٹش ایرویز کے امیج بینک (تصویری ذخیرہ) سے حاصل کیا ہے۔ یہ باتوں کو خوبصورت الفاظ میں کہنے کا زمانہ ہے۔ اوپر کا فقرہ اس کی ایک حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایک نئے فتنہ کا اضافہ ہوا ہے، یہ الفاظ کا فتنہ ہے۔ بہت زیادہ باشعور آدمی ہی اس فتنہ سے بچ سکتا ہے۔

قاہرہ ایئر پورٹ پر کچھ عرب حضرات موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر جدید قاہرہ اس وقت ۲۸ ستمبر کا سورج نکل چکا تھا۔ سفر اگر معمول کے مطابق طے ہوتا تو میں ۲۷ ستمبر کو عشاء کی نماز قاہرہ میں پڑھتا مگر جہاز کی خرابی کی وجہ سے ۲۸ ستمبر کی فجر کی نماز کے وقت بھی میں قاہرہ نہ پہنچ سکا۔

کرسٹوفر کولمبس یورپ اور انڈیا کے درمیان بحری راستہ معلوم کرنے کے لئے نکلا۔ اس کا سمندری جہاز بھٹک کر امریکہ کے ساحل پر پہنچ گیا۔ وہ یورپ سے انڈیا آنے کا راستہ تو معلوم نہ کر سکا۔ مگر اس نے نئی دنیا (امریکہ) کو معلوم کر لیا۔ یہ ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ء کا واقعہ ہے۔ آج کولمبس کے نام کے ساتھ یہ لکھا جاتا ہے کہ وہ پہلا شخص ہے جس نے امریکی براعظم کو مگر کولمبس کی اپنی زندگی میں اس کو کوئی عظمت یا قدر دانی حاصل نہ ہوسکی۔ کہ ۲۰ مئی ۱۵۰۶ء کو وہ مایوسی اور گم نامی کی حالت میں اسپین کے ایک مقام پر مر گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پندرہویں صدی کے یورپی تاجروں کی اصل خواہش یہ تھی کہ وہ انڈیا پہنچنے کا آسان راستہ معلوم کریں۔ کیوں کہ انڈیا کو وہ اپنی تجارت کے لئے بہت مفید انڈیا سے وہ تمباکو، سونا اور مسالہ وغیرہ لے کر جاتے تھے اور اس کو فروخت کر کے بڑے بڑے منافع حاصل کرتے تھے۔ اس وقت امریکہ سے تجارتی فائدے قائم نہیں ہوئے تھے۔ یورپی تاجروں کے لئے اس وقت امریکہ کی دریافت صرف ایک بے فائدہ دریافت کے ہم معنی تھی۔

کولمبس کے بعد واسکوڈی گاما بھی انڈیا کا بحری راستہ تلاش کرنے کے لئے نکلا۔ اس کا جہاز ۲۰ مئی ۱۴۹۸ء کو کالی کٹ کے ساحل پر پہنچ گیا۔ اس نے ہندوستان کا سمندری راستہ دریافت کر لیا۔ اس کے بعد یورپ میں واسکوڈی گاما کو تو ہیرو کا مقام حاصل ہو گیا۔ کولمبس کے متعلق یہ تصور ہو گیا کہ وہ ایک بے وقوف آدمی ہے۔ برسوں کی محنت کے بعد بھی وہ حقیقی معنوں میں کوئی نفع بخش چیز حاصل نہ کر سکا۔

ایک اخبار میں کولمبس کے تذکرہ کے تحت لکھا تھا کہ اس کی موت کو کسی نے کوئی اہمیت نہیں سولہویں صدی کے وسط تک بھی اس کی دریافت کی اہمیت سمجھی نہ جاسکی۔ یہاں تک کہ

وہ وقت آیا جب میکسیکو، پیرو اور دوسرے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد جہاز سونا اور چاندی لے کر اسپین آنے لگے :

His death went unnoticed. Not until the middle of the century was the importance of his discoveries realised. With the conquest of Mexico, Peru and other areas, fleets of gold and silver started arriving in Spain. تاریخ کا یہ صفحہ مجھے اس وقت یاد آیا جب میں نے دیکھا کہ آج یورپ میں ساری اہمیت امریکہ کے لئے ہے۔ جدید یورپ میں انڈیا کو کسی بھی اعتبار سے کوئی مقام حاصل نہیں۔ لندن کا روز نامہ دی سنڈے ٹیلی گراف (۲۷ ستمبر ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس کے صفحہ ۱۱ پر ایک اس کا لکھنے والا راجر کوپر (Roger Cooper) تھا۔ جو پانچ سال سے زیادہ مدت تک ایران کی قید میں رہ چکا ہے۔ اس نے برائن کینان کی کتاب کا تعارف کرایا تھا۔ ایک آئرش ہے۔ وہ بھی لبنان کے ایران نواز مسلمانوں کی قید میں رہا ہے۔ اور اس سے رہائی کے بعد اپنی یادداشت لکھ کر شائع کی ہے:

Printed page