Al-Risala · June 1995

Hinduism is the only tolerant faith.

Al-Risala, June 1995, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

حالانکہ میں نے یہ بات نہیں کہی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ ہندوازم اور اسلام دونوں میں یکساں طور پر مذہبی رواداری کی تعلیم دی گئی ہے۔ جو فرق ہے وہ صرف ریشنل میں ہے نہ کہ خود رواداری میں۔ تعدد حقیقت کی بنیاد پر رواداری کی تعلیم دیتا ہے، اور اسلام احترام انسانیت کی بنیاد پر۔ لفظوں میں یہ کہ ہندوازم میں رواداری کی بنیاد باہمی اعتراف (mutual recognition) پر قائم ہے اور اسلام میں رواداری کی بنیاد باہمی احترام (mutual respect) پر۔

ان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ میں علماء کے اس مسلک پر ہوں جو انھوں نے ”رجوع“ کے بعد اختیار کیا ، آپ لوگ علماء کے اس مسلک پر چلنا چاہتے ہیں جو انھوں نے رجوع سے پہلے اختیار کر رکھا تھا۔

آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد پہلے ہمارے علماء نے اٹھائی تھی ۔ وہ اس کو تشدد کے اصول پر چلاتے رہے۔ مولانا محمود حسن دیوبندی ساڑھے تین سال کی قید کے بعد ۱۹۲۰ میں مالٹا سے واپس آئے تو اس وقت مہاتما گاندھی عدم تشدد کے اصول پر آزادی کی تحریک شروع کر چکے تھے۔ مولانا محمود حسن، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی اور دوسرے تمام علماء نے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کر لیا۔ تقریباً ایک سو سال کے بعد انھوں نے متفقہ طور پر تشدد کے طریقہ کو چھوڑ کر عدم تشدد کے طریقہ کو اختیار کر لیا۔

۱۹۴۷ کے بعد کے ہندوستان میں بھی یہی معاملہ ایک اور صورت میں پیش آیا۔ نئے جمہوری نظام میں مسلمانوں کو تعصب اور زیادتی کی شکایت ہوئی۔ انھوں نے دوبارہ لفظی جنگ کی صورت میں حقوق طلبی کی جد و جہد شروع کر دی۔ پچاس سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ پر شور جد و جہد بے پناہ قربانیوں کے باوجود نا کام رہی۔

سابقہ علماء کی طرح موجودہ علماء اور رہنماؤں کو بھی ایک رجوع کی ضرورت ہے۔ اب تک وہ اپنی تحریک مطالبہ غیر کی بنیاد پر چلا رہے تھے۔ اب انہیں چاہیے کہ وہ اپنی تحریک کو تعمیرِ خویش کی بنیاد پر چلائیں جلسوں اورمظاہروں کی دھوم مچانے کے بجائے وہ صرف داخلی استحکام پر اپنی ساری توجہ لگا دیں۔ رشی کیش سے دہلی تک دو تعلیم یافتہ ہندو میرے ساتھ تھے۔ سوامی وشومترا (۵۰ سال) اور پنڈت راجیو اگنی ہوتری (۲۵ سال) ان لوگوں سے مذہبی موضوعات پر مسلسل باتیں ہوتی رہیں۔ سوامی وشومترا ساوتھ انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے پوری گفتگو انگریزی میں ہوئی۔ نے بتایا کہ میں نے اسلام پر بہت کم چیزیں پڑھی ہیں۔ بنگلور میں ایک مسلمان نے مجھ کو ایک انگریزی کتاب پڑھنے کے لیے دی تھی۔ اس کو میں نے پورا پڑھا۔ اس کتاب کو پڑھ کر میں متاثر تو نہیں ہوا۔ مجھ کو غصہ بہت آیا۔

یہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب رسالہ دینیات کا انگریزی ترجمہ تھا۔ سوامی جی نے اس کتاب کو پڑھ کر کئی صفحات میں اس پر انگریزی میں اپنا تبصرہ لکھ رکھا تھا۔ اس کو انہوں نے اپنے کپڑے کے بیگ سے اور اس کے مختلف حصے مجھے بتانے شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے مذہب کی بڑائی کو جانتے ہیں مگر وہ دوسروں کے مذہب کی بڑائی کو نہیں جانتے :

People know the greatness of their own religions, they don't know the greatness of other's religions. میرے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ اسلام میں پرافٹ ہوتے ہیں اور ہندوازم میں رشی ہوتے ہیں۔ درجہ پرافٹ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرافٹ کی مثال اس شخص کی ہے جو سمندر کے کنارے کھڑے ہوئے ٹاور پر چڑھ کر سمندر کا مشاہدہ کرتا ہے۔ مگر رشی ٹاور سے سمندر کو دیکھنے کے بعد خود سمندر میں انہوں نے اس کو چکھا اور اس کا تجربہ کیا (they tested and tasted it) میں نے کہا کہ آپ مثال کی زبان استعمال نہ کریں بلکہ حقیقت کی زبان میں تقابل کریں۔ کیوں کہ نہ تو پیغمبر کسی لائٹ ہاوس پر چڑھے اور نہ رشیوں نے کسی سمندر میں غوطہ لگایا۔ اس طرح کی مثالوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ مثال کا طریقہ استدلال کا سب سے کمزور طریقہ ہے :

Printed page