Al-Risala · July 1995

The Relationship between Faith and Reason

Al-Risala, July 1995, pp. 7–15

By Maulana Wahiduddin Khan

پروفیسر بیڈھم نے اپنا یہ مقالہ نومبر ۱۹۹۱ میں ماسکو کی ایک فلسفیانہ کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ ان کی بابت مذکورہ جرنل میں یہ الفاظ درج ہیں :

Paul Badham is Professor of Theology and Religious Studies at St. David's College, Lampeter, in the University of Wales. His paper in this issue was presented to a Conference of the Institute of Philosophy of the Russian Academy of Sciences in Moscow in November, 1991. اس مقالہ کا مکمل اردو ترجمہ اسلام اور عصر جدید (نئی دہلی) کے شمارہ اپریل ۱۹۹۲ میں چھپ چکا ہے۔ یہ ترجمہ ڈاکٹر سید جمال الدین صاحب کے قلم سے ہے۔ میرے سامنے اصل انگریزی جرنل کا مذکورہ شمارہ ہے۔

پروفیسر بیڈھم کا یہ مقالہ اپنے موضوع پر ایک فکر انگیز مقالہ کہا جا سکتا ہے۔ وہ اس قابل ہے کہ اس کا مطالعہ کیا جائے ۔ تاہم پروفیسر موصوف نے بعض باتیں ایسی کہی ہیں جن سے راقم الحروف کو انھوں نے اپنے مقالہ میں یہ لکھا ہے کہ فلسفیانہ قطعیت (philosophical certainty) کو مذہبی ایقان (religious certitude) کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مذہبی فلاسفر کی حیثیت سے میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ ایمان کو کبھی بھی سائنسی علم والی قطعیت کے درجہ پر نہیں رکھا جا سکتا :

As a philosopher of religion I feel compelled to acknowledge that faith could never be placed on the same level of certainty as scientific knowledge. (p. 6)

مگر اس کے برعکس میرا احساس یہ ہے کہ ایمان وعقیدہ کو اسی قطعیت کے درجہ میں مانا جا سکتا ہے جس درجہ میں سائنسی نظریات کو مانا جاتا ہے۔ کم ازکم بیسویں صدی میں اب دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔

اصل یہ ہے کہ علم حقائق دو قسم کی چیزوں پر مشتمل ہے۔ ایک وہ جس کو برٹرینڈ رسل نے چیزوں کا علم (knowledge of things) کہا ہے اور دوسرا وہ جس کو وہ حقیقتوں کا علم (knowledge of truths) کہتا ہے۔ یہ دوگانہ تقسیم مذہب میں بھی ہے اور سائنس میں بھی۔ جو علماء سائنس حیاتیاتی ارتقاء کو سائنسی حقیقت کہتے ہیں ان کے نزدیک اس کے دو پہلو ہیں: ایک ہے مختلف انواع (species) کے جسمانی مظاہر کا معاملہ۔ اور دوسرا ہے وہ قانون ارتقاء جو انواع کی تبدیلیوں کے درمیان مخفی طور پر جاری رہتا ہے۔

ایک ارتقائی عالم جب انواع حیات کے جسمانی مظاہر کا مطالعہ کرتا ہے تو گویا کہ وہ اشیاء کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب وہ ارتقائی قانون کا مطالعہ کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنے موضوع کے اس پہلو کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے جس کو اوپر کی تقسیم میں حقیقت کہا گیا ہے۔ ہر ارتقائی عالم جانتا ہے کہ دونوں پہلوؤں کے درمیان نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں جہاں تک اشیاء یا شواہد ارتقاء کے مطالعہ کا تعلق ہے، اس کے سلسلہ میں براہ راست دلائل قابل حصول مثال کے طور پر متحجرات (fossils) جو کھدائی کے ذریعہ زمین کی تہوں سے کثرت سے برآمد کئے گئے ہیں، ان کا مطالعہ مشاہداتی سطح پر ممکن ہے۔

اس کے برعکس حقائق یا قانون ارتقاء کے معاملہ میں موضوعی شواہد نہ ہونے کی وجہ سے اس پر براہ راست استدلال ممکن نہیں۔ مثلاً ارتقائی عمل کے دوران اشکال میں اچانک تبدیلیوں (mutations) کا نظریہ، جو تمام تر قیاسات پر مبنی ہے نہ کہ براہ راست مشاہدات پر۔ معاملہ میں خارجی تغیر تو دکھائی دیتا ہے، مگر قانون تغیر بالکل نظر نہیں آتا۔ اسی لئے ہر عالم ارتقاء موضوع کے اس دوسرے پہلو میں بالواسطہ استدلال سے کام لیتا ہے جس کو علم منطق میں استنباطی استدلال (inferential argument) کہا جاتا ہے۔

تبدیلی کا یہ نظریہ ارتقاء کی بنیاد ہے۔ تاہم اس معاملہ کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک جز مشاہدہ

میں آتا ہے۔ مگر اس کا دوسرا جز، مکمل طور پر ناقابل مشاہدہ ہے۔ وہ صرف استنباط کے اصول سے کام لے کر فلسفہ ارتقاءءء میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ ایک عام واقعہ ہے کہ انسان یا جانور سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ سب ایک ہی قسم کے نہیں ان میں مختلف اعتبار سے کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس حیاتیاتی مظہر کا سائنسی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ رحم مادر میں بچہ کے جینز کے اندر اچانک طور پر خود بخود تبدیلیاں (spontaneous changes) پیدا ہوتی ہیں۔ یہی تبدیلیاں ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والے بچوں میں فرق کا سبب ہیں۔

اولاد میں ایک دوسرے کے درمیان یہ فرق ایک مشاہداتی واقعہ ہے۔ مگر اس کے بعد اس مشاہدہ کی بنیاد پر جو ارتقائی فلسفہ بنایا گیا ہے وہ خود مکمل طور پر ناقابل مشاہدہ ہے اور صرف قیاسی استنباط کے ذریعہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ گویا اشیاء ارتقا قابل مشاہدہ ہیں اور حقائق ارتقا ناقابل مشاہدہ۔ یہاں ارتقائی عالم یہ کرتا ہے کہ ایک سرے پر وہ ایک بکری کو رکھتا ہے اور دوسرے سرے پر ایک اس کے بعد وہ فاصل کے کچھ درمیانی نمونوں کو لے کر یہ نظریہ بناتا ہے کہ ابتدائی بکری کے کئی بچوں میں سے ایک بچہ کی گردن اتفاقاً کچھ لمبی تھی۔ اس کے بعد اس لمبی گردن والی بکری کی اولاد ہوئی تو اس میں گردن کی یہ لمبائی کچھ اور بڑھ گئی۔ اسی طرح کروڑوں سال کے دوران گردن کی یہ لمبائی نسل در نسل جمع ہوتی رہی یہاں تک کہ ابتدائی بکری کی اگلی اولاد آخر کار زرافہ جیسا جانور بن گئی۔ اسی نظریہ کے تحت چارلس ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع میں لکھا ہے کہ مجھ کو یہ بات تقریباً یقینی معلوم ہوتی ہے کہ ایک معمولی کھردار چوپایہ زرافہ جیسے جانور میں تبدیل ہو سکتا ہے:

...it seems to me almost certain that an ordinary hoofed quadruped might be converted into a giraffe. (p. 169)

اس معاملہ میں بکری کی اولاد میں فرق ہونا بذات خود ایک معلوم واقعہ ہے۔ مگر اس فرق کا کروڑوں سال تک نسل در نسل جمع ہوتے ہوئے اس کا زرافہ بن جانا، مکمل طور پر ناقابل مشاہدہ اور ناقابل تجربہ ہے۔ مشاہدہ کی بنیاد پر استنباط کے ذریعہ اخذ کیا گیا ہے، نہ کہ براہ راست طور پر خود مشاہدہ کے ذریعہ۔ ٹھیک یہی معاملہ مذہب کے موضوع کا بھی ہے۔ مذہب کے مطالعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ

آپ اس کی تاریخ، اس کی شخصیات، اس کے احکام اور اس کے رسوم و رواج کا مطالعہ کریں۔ تقسیم کے مطابق گویا اشیاء مذہب کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس پہلو سے مذہب میں بھی موضوعی معلومات اس لئے یہاں مذہب کا مطالعہ بھی ٹھیک اسی طرح براہ راست شواہد کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے جس طرح حیاتیاتی ارتقاء کے حصہ اول میں کیا جاتا ہے۔

مذہب کے مطالعہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو عام طور پر غیبیات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عقائد ہیں جو ہماری محسوس دنیا سے ماورا ہیں۔ یعنی خدا اور فرشتوں کا وجود، وحی کی حقیقت، جنت اور دوزخ کا عقیدہ وغیرہ۔ مذہب کے اس دوسرے پہلو میں براہ راست شواہد موجود اس لئے اس اعتبار سے مذہب کا مطالعہ اس منطقی اصول کی روشنی میں کیا جائے گا جس کو شواہد کی بنیاد پر استنباط کہا جاتا ہے۔ یعنی وہی منطقی اصول جس کو علماء ارتقاء اپنے نظریہ کے دوسرے پہلو کے مطالعہ میں استعمال کرتے ہیں۔

اس تجزیہ کی روشنی میں دیکھیے تو مذہب اور سائنس دونوں کا معاملہ بالکل یکساں ہے۔ ہی میں دو الگ حصے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہے جو علمی قطعیت (scientific certainty) پر قائم ہے اور جس میں براہ راست استدلال ممکن ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جو علمی استنباط (scientific inference) پر مبنی ہے اور جس کو ثابت کرنے کے لئے صرف بالواسطہ استدلال کا اصول استعمال کیا جاتا ہے۔ اس علمی تقسیم کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔ پروفیسر بیڈھم کا غیر ضروری احساس کمتری اس لئے ہے کہ وہ مذکورہ فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے کو گڈ مڈ کر رہے ہیں۔ اور غیر صحیح تقابل کی غلطی میں مبتلا ہیں۔ کے پہلے جز کا مقابلہ مذہب کے دوسرے جز سے کر رہے ہیں اور نہ مذہب کے دوسرے جز کو سائنس کے پہلے جز کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں۔ اس غیر صحیح تقابل نے وہ صورت پیدا کی ہے جو ان کے مقالہ میں نظر آتی ہے۔

اگر پروفیسر موصوف سائنس کے پہلے جز کا مقابلہ مذہب کے پہلے جز سے کریں اور اسی طرح سائنس کے دوسرے جز کو مذہب کے دوسرے جز کی روشنی میں دیکھیں تو ان کا احساس کمتری ختم وہ یہ محسوس کرنے لگیں کہ خالص اصولی اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں، کیونکہ

سائنس کے دونوں اجزاء میں دو الگ الگ طرز استدلال استعمال کیا جاتا ہے۔ سائنس کے پہلے جزء میں جو استدلال مستعمل ہے وہ مذہب کے بھی پہلے جزء میں قابل حصول ہے۔ اسی طرح سائنس کے دوسرے جزء میں جو استدلال استعمال ہوتا ہے وہی مذہب کے دوسرے جزء میں بھی عین ممکن ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف برٹرینڈ رسل جیسے شخص نے کیا ہے جو فلسفہ الحاد کا امام سمجھا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے میں عیسائی کیوں نہیں: Why I am not a Christian اس کتاب کے آغاز میں برٹرینڈ رسل نے اس پر بحث کی ہے کہ معقول استدلال کیا ہے۔ ہے کہ میرا ذاتی عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب بدھ ازم، ہندو ازم، مسیحیت اور اسلام غلط اور بے حقیقت ہیں۔ منطقی طور پر ان کی معقولیت کو ثابت کرنا ممکن نہیں۔ جو لوگ مذہب کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ اس کو اپنی قومی روایات کے زور پر اختیار کئے ہوئے ہیں نہ کہ دلائل کے زور پر۔ تاہم برٹرینڈ رسل نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اہل مذہب کے دلائل میں سے ایک دلیل ایسی ہے جو خالص منطقی یا غیر علمی نہیں۔ میری مراد اس چیز سے ہے جس کو نظم سے استدلال کہا جاتا ہے۔ تاہم اس دلیل کو ڈارون نے رد کر دیا ہے:

There is one of these arguments which is not purely logical. I mean the argument from design. This argument, however, was destroyed برٹرینڈ رسل کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے وجود پر اس طرح استدلال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں جب نظم ہے تو ضروری ہے کہ اس کا ایک ناظم ہو۔ یعنی جب ڈیزائن ہے تو ڈیزائنر کا ہونا بھی لازمی برٹرینڈ رسل اعتراف کرتا ہے کہ یہ طریق استدلال اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی طریق استدلال ہے جس کو سائنسی نظریات کو ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس اعتراف کے باوجود برٹرینڈ رسل یہ کہہ کر اس کو قبول نہیں کرتا کہ ڈارون نے اس کو رد کر دیا ہے۔ مگر یہ سراسر ایک بے بنیاد بات ہے۔ کیوں کہ ڈارون کے نظریہ کا تعلق خالق (creator) کے وجود سے نہیں ہے بلکہ خالق کی تخلیق (creation) کے عمل سے ہے۔ ڈارونزم کا خلاصہ یہ ہے کہ مختلف انواع جو دنیا میں دکھائی دیتی ہیں وہ الگ الگ تخلیق نہیں کی گئی ہیں بلکہ ایک ہی نوع لمبے ارتقائی عمل

کے درمیان مختلف انواع میں تبدیل ہوگئی۔

ظاہر ہے کہ اس نظریہ کا کوئی تعلق خدا کے وجود یا عدم وجود سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق عمل تخلیق سے ہے نہ کہ کارساز تخلیق سے۔ یعنی پہلے اگر یہ عقیدہ تھا کہ خدا نے ہر ہر نوع کو الگ الگ پیدا کیا ہے تو اس کو ماننے کی صورت میں اب یہ عقیدہ ہو جائے گا کہ خدا نے ایک ابتدائی نوع ایسی پیدا کی جس کے اندر امکانی طور پر بے شمار انواع میں تقسیم ہونے کی صلاحیت تھی۔ اور پھر اس نے اس کے موافق کائنات میں ایک نہایت محکم فطری پراسس جاری کر دیا۔ اس طرح بے پراس کے دوران ابتدائی نوع اپنے امکانات (potential) کو ظاہر کرتی ہوئی بے شمار انواع میں تبدیل ہوگئی۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ نظریہ ارتقاء ذات خداوندی کا مطالعہ نہیں ہے بلکہ وہ صرف اس بات کا مطالعہ ہے کہ خدا نے اپنی قدرت کو کس طرح عالم کائنات میں ظاہر کیا ہے۔ چنانچہ خود ڈارون نے اپنی مشہور کتاب اصل الانواع (Origin of Species) کے آخر میں یہ الفاظ درج کئے ہیں: زندگی کے اس نقطہ نظر میں بڑی عظمت ہے کہ اپنی مختلف طاقتوں کے ساتھ ابتد آخالق نے زندگی کو ایک یا کئی شکلوں میں وجود دیا۔ اور اس اثناء میں جب کہ یہ سیارہ کشش ثقل کے مقرر قانون کے تحت گردش کر رہا تھا ، اتنے زیادہ سادہ آغاز سے لا تعداد انتہائی خوبصورت اور عجیب صورتیں بن کر تیار ہو گئیں:

There is grandeur in this view of life, with its several powers, having been originally breathed by the Creator into a few forms or into one; and that, whilst this planet has gone cycling on according to the fixed law of gravity, from so simple a beginning endless forms most beautiful and most wonderful have been, and are being evolved. (p. 408)

حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی میں جو نئے عالمی حقائق دریافت ہوئے ہیں انھوں نے منطق کی دنیا میں ایک انقلاب عظیم بر پا کر دیا ہے۔ اب مذہبی استدلال اور علمی استدلال (scientific argument) کا وہ فرق ختم ہو چکا ہے جو بیسویں صدی سے پہلے خلاف واقعہ پر فرض کر لیا گیا تھا۔ اب استدلال کے اعتبار سے سائنس کا معاملہ بھی ٹھیک اسی مقام پر پہنچ چکا ہے جو پہلے صرف مذہب کے لئے سمجھا جاتا تھا۔

۱۷۲۷) نے خصوصی طور پر نظام شمسی کا مطالعہ کیا۔ اس نے سورج کے گر دیاروں

کی گردش کے قوانین معلوم کئے ۔ اس کا یہ مطالعہ زیادہ تر آسمانی اجرام (astronomical bodies) تک اس کو دوسرے لفظوں میں عالم کبیر (macro-world) کا مطالعہ کہہ سکتے ہیں۔ عالم کبیر میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ چیزوں کو دیکھا اور ناپا اور تولا جاسکے۔ اس بنا پر فوری تاثر کے تحت بہت سے لوگوں کا یہ ذہن بن گیا کہ حقیقت قابل مشاہدہ ہے اور صحیح اور جائز استدلال وہی ہے جو مشاہداتی دلائل پر مبنی ہو۔ اسی تصور کے تحت وہ فلسفہ بنا جس کو عام طور پر پازیٹیوزم (positivism) کہا

مگر بیسویں صدی کے رُبع اول میں وہ حقائق دریافت ہوئے جنہوں نے مذکورہ ابتدائی نظریات کا جڑ سے خاتمہ کر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عالم ظاہر کے اندر زیادہ بڑے پیمانے پر ایک عالم غیر ظاہر موجود اس عالم غیر ظاہر کو سمجھنا یا اس پر دلیل قائم کرنا صرف بالواسطہ انداز میں ممکن ہے۔ یعنی کسی چیز کے اثرات (effects) کو دیکھ کر اس چیز کی موجودگی کا علم حاصل کرنا۔

اس انکشاف نے سارے معاملے کو بدل دیا۔ انسانی علم کی رسائی جب تک عالم کبیر تک محدود تھی وہ مذکورہ غلط فہمی میں مبتلا رہا۔ مگر جب انسانی علم کی رسائی عالم صغیر (micro-world) تک پہنچ گئی تو علمی صورتحال اپنے آپ بدل گئی۔

اب معلوم ہوا کہ براہ راست استدلال کا میدان بہت محدود ہے۔ نئے حقائق جو انسان کے علم میں آ رہے تھے وہ اتنے لطیف تھے کہ صرف استنباط یا بالواسطہ استدلال ہی وہاں قابل عمل نظر آتا تھا۔ مثال کے طور پر جرمن سائنس داں رانٹجن (Whilhelm Conrad Rontgen) نے ۱۸۹۵ میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ اس کے سامنے کے شیشہ پر کچھ اثر (effect) ظاہر ہو رہا ہے جب کہ اس کے تجربہ اور اس شیشہ کے درمیان کوئی معلوم رشتہ موجود نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک ناقابل مشاہدہ شعاع (invisible radiation) ہے جو ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ کی نامعلوم نوعیت (unknown nature) کی بنا پر رانٹجن نے اس کا نام اکسرے (X-rays) رکھ دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (19/1058)

بیسویں صدی میں اکسرے جیسی بہت سی چیزیں دریافت ہوئیں جو براہ راست انسانی مشاہدہ میں نہیں آرہی تھیں۔ تاہم ان کے اثرات جو علم میں آئے ان کی بنا پر ان کے وجود سے انکار کرنا بھی ممکن

ان جدید تحقیقات کے نتیجہ میں، جس طرح علم کے دوسرے شعبوں میں تبدیلیاں ہوئیں، اسی طرح اس نے علم منطق میں بھی تبدیلیاں کیں۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ استنباطی استدلال کو بھی ایک معقول استدلالی معیار کے طور پر تسلیم کر لیا کیوں کہ اس کے بغیر اکسریز کی تشریح نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس کے بغیر ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کو ماننا ممکن نہ تھا۔ اس کے بغیر ڈارک میٹر کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں معیار استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول (valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید دریافت شدہ نظریات ثابت کئے جا رہے تھے، عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقائد بھی پوری طرح ثابت ہو رہے تھے۔ اس کے بعد وہ استدلالی فرق ختم ہو گیا جو پہلے دونوں کے درمیان پایا جاتا تھا۔ ایک سوال کا جواب مقالہ نگار نے آخر میں لکھا ہے کہ میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کہ بہت سے ممتاز اور فکرمند ارباب علم ہیں جو اس کو ناممکن پاتے ہیں کہ وہ میرے مذہبی عقائد سے اتفاق کریں، اگر چہ وہ اس موضوع کو انتہائی سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ لے رہے ہوتے ہیں۔ اور میں اس بات کا اقرار کروں گا کہ دنیا میں اتنی زیادہ برائیاں اور اتنی زیادہ مصیبتیں اس عقیدہ کے خلاف شہادت دیتی ہیں کہ یہاں کوئی ذات مطلق خدا ہے جو اپنی مخلوقات سے محبت کرتا ہے:

And I have to acknowledge that the existence of so much evil and suffering in the world counts against any vision of an all-powerful and loving God. (p. 7)

میں کہوں گا کہ برائی ایک اضافی لفظ ہے۔ کوئی بظاہر برائی صرف اس وقت برائی ہے جب کہ اس کی توجیہ نہ کی جاسکتی ہو ۔ ڈاکٹر ایک مریض کے جسم پر نشتر چلاتا ہے۔ جج ایک مجرم کو سولی پر چڑھانے کا حکم نافذ کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک ظلم ہے۔ مگر ہم اس کو بر انہیں کہتے ۔ صرف اس لئے کہ ہمارے پاس ڈاکٹر اور جج کے فعل کی معقول توجیہ موجود ہے۔ یہی معاملہ اس برائی کا ہے جس کی طرف مقالہ نگار نے اشارہ کیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہاں جو برائی ہے وہ صرف انسانی معاشرہ میں ہے، ساری کائنات میں نہیں انسان کی محدود دنیا کو چھوڑ کر جو وسیع کائنات ہے، وہ انتہائی معیاری ہے۔ وہ مکمل طور پر نقص اور

خرابی سے پاک ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ انسانی دنیا میں کیوں برائی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کو جاننا ہوگا۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ ہی وہ واحد کسوٹی ہے جس پر جانچ کر اس کی نوعیت کو متعین کیا جاسکتا ہے۔

خدا کا تخلیقی منصوبہ جو اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بتایا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کو آزمائش (ٹسٹ) کے لئے رکھا گیا ہے۔ اسی آزمائش کے ریکارڈ کے مطابق ہر آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آزمائش کی اس مصلحت ہی کی بنا پر آدمی کو یہاں آزادی دی گئی ہے۔ اگر آدمی کو آزادی نہ دی جائے تو آزمائش کی بات بالکل بے معنی ہو جائے گی۔ مذکورہ برائی دراصل اسی آزادی کی قیمت ہے۔ خدا ان انسانوں کا انتخاب کرنا چاہتا ہے جو آزادی پانے کے باوجود با اصول اور پابند زندگی (disciplined life) گزاریں۔ کے انتخاب کے لئے بہر حال آزادی کا ماحول بنانا ہوگا۔ اگرچہ آزادی کے اس ماحول کی بنا پر کچھ لوگ ظلم بھی کریں گے۔ مگر یہ ایک ناگزیر قیمت ہے جس کو دئے بغیر وہ تخلیقی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا جس سے بہتر تخلیقی منصوبہ اس دنیا کے لئے قابل تصور نہیں۔

موجودہ دنیا صرف اس وقت بے معنی دکھائی دیتی ہے جب کہ اس کو آخرت کے بغیر ایک مستقل دنیا کے طور پر دیکھا جائے ۔ مگر جب ہم موجودہ دنیا کو آخرت کی دنیا سے ملا کر دیکھتے ہیں تو سارا معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔ اب وہ انتہائی بامعنی بھی ہو جاتی ہے اور انتہائی قابل قدر بھی۔ ۱- اگست ۱۹۹۵ کا الرسالہ " سفر نامہ اسپین " پر مشتمل ہوگا۔ یہ سو صفحہ کا ہو گا اور اس کی قیمت فی شمارہ دس روپے ہوگی۔

۲- ستمبر ۱۹۹۵ کے شمارہ میں ان شاء اللہ ایک مفصل مضمون یکساں سول کوڈ کے بارہ میں شامل ہوگا۔

Printed page