A journey to hell and back again
Al-Risala, January 1995, pp. 22–36
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اس کو پڑھ کر کہا کہ یہ نام نہاد اسلام پسند اگر اس قسم کے مسلمان ہوتے جیسا کہ دور نبوت میں مدینہ کے مسلمان تھے تو قیدیوں کا بیان اس کے برعکس ہوتا۔ ایسی حالت میں یہ قیدی وہاں سے واپس آنے کے بعد کہتے کہ ہم تو ان کے یہاں گویا جنت میں تھے، اب ہم اپنے ملک میں واپس آئے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی جہنم میں پہنچ گئے ہیں۔ ۲۸ ستمبر کو ظہر کی نماز قاہرہ کی مسجد ابی بکر الصدیق (شارع عبد العزیز فہمی) میں پڑھی۔
اس پر تعمیر کا سن ۱۹۵۷ لکھا ہوا تھا۔ مسجد کشادہ تھی۔ مسجد سے متصل ایک کمرہ تھا جس میں امام کا دفتر اس میں میز کرسیاں بھی ہوئی تھیں۔ میز کے اوپر ٹیلی فون رکھا ہوا تھا۔ نمازیوں کی اکثریت کے سر پر ٹوپی نہ تھی۔ امام نے نماز ختم کی تو اجتماعی دعا کے بغیر اٹھ کر اپنے کمرہ میں چلے گئے۔ کی چیزیں ہندوستان میں اجنبی سمجھی جائیں گی۔ مگر عرب دنیا میں اس قسم کی چیزیں عام ہیں۔ وجہ ہے کہ فقہی جھگڑے صرف برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ عالم عرب میں اس قسم کے جھگڑوں کا کوئی
اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کچھ عرب حضرات سے میں نے کہا کہ عبادت میں کچھ ارکان ہیں اور کچھ آداب۔ ارکان میں کوئی اختلاف نہیں۔ مگر آداب کے بارہ میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جب احادیث جمع کی گئیں اور یہ اختلافات سامنے آئے تو محدثین نے ان کو توسع پر محمول کیا اور کہا کہ اس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے، اور اُس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے۔ مگر فقہاء نے کہا کہ الحق لا یتعدد حق کئی نہیں ہو سکتا، اس وقت عالم اسلام، بڑی تقسیم میں دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ عرب ملکوں میں محدثین کا نقطہ نظر مقبول ہوا۔ برصغیر ہند میں فقہاء کا نقطۂ نظر پھیلا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں محدثین کا نقطۂ نظر ہی درست اور اگر عرب دنیا کی طرح، برصغیر میں بھی محدثین کا نقطہ نظر آ جائے تو تمام غیر ضروری جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔
قاہرہ میں عربوں کی ایک مجلس تھی۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن لغت عرب میں اور حدیث کی زبان عربی ہے۔ میں نے کہا کہ اکثر علماء اس قسم کی باتیں کہتے ہیں۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن لغت انسان میں اترا۔ لغت انسان میں لغتِ عرب شامل مگر لغت عرب میں لغت انسان شامل نہیں۔
پھر میں نے کہا کہ لغت عرب لغت الفاظ ہے اور لغت انسان لغت معانی۔ حدیث میں پڑھتے ہیں: من قال لا اله الا الله دخل الجنة۔ لغت عرب کا تصور ذہن میں ہو تو یہاں آپ قول کو تلفظ کے معنی میں لے لیں گے، کیوں کہ قال کا مطلب یہی ہے۔ لغت انسان کا تصور ذہن میں ہو تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ آدمی جب اللہ کے الہ واحد
ہونے کی حقیقت دریافت کر لے اور اس کا اظہار اپنی زبان سے کرے تو وہ ایک زلزلہ خیز تجربہ کا لسانی اظہار ہوتا ہے نہ کہ محض کچھ حروف کا تلفظ۔
اسی طرح بخاری کے آخر میں جب آپ پڑھیں گے کہ کلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان تو اس کو لغت عرب میں سمجھنے کی صورت میں آپ اس کو لفظی ورد کے طور پر لے لیں گے۔ مگر جب آپ اس کو لغت انسان کے طور پر لیں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ اللہ کی عظمت و قدوسیت کا ادراک ایسی چیز ہے جو روح انسانی میں ہلچل پیدا کر دینے والا ہے۔ میں مذکورہ کلمہ سادہ طور پر صرف تلفظ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہ ایک روحانی انقلاب کا لفظوں میں ڈھل جانا ہے۔
قاہرہ کے قیام میں یہاں کی کوئی چیز دیکھنے کے لئے نہ جاسکا۔ سارا وقت عربوں کے ساتھ گفت گو اور سوال و جواب میں گزرا۔ ایک عرب نوجوان جو الرسالہ مشن سے گہرے طور پر متاثر ہیں انھوں نے کہا کہ الرسالہ مشن سے واقفیت سے پہلے ہمارے ذہنوں پر سازش کے انداز میں سوچنے کا طرز فکر چھایا ہوا تھا ( (کانت تسيطر علينا فكرة المؤامرة) مگر اب ہم خدا کے فضل سے اس فکری مصیبت سے نکل چکے ہیں۔ اب ہم دعوتی انداز میں سوچتے ہیں۔ اب ہم کو دنیا امکانات اور فرص سے بھری ہوئی نظر آتی ہے، جب کہ اس سے پہلے یہ دنیا سازشوں اور مشکلات سے بھری ہوئی دکھائی دیتی تھی۔
عربوں کی ایک مجلس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل کچھ حضرات کی پسندیدہ تعبیر یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اسلام کو مکمل طور پر يجب علينا ان ناخذ الاسلام کل) ، مگر یہ طریقہ سنت رسول سے ثابت نہیں۔ حضرت عائشہ رض کہتی ہیں کہ : ماخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بين امر ين الا اس روایت کے مطابق ، اعسر کو چھوڑنا اور ایسر کو لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ مگر ان لوگوں کا قول اس کے خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو امر میں سے ایک کو لیتے تھے اور یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بیک وقت دونوں کو لینا چاہئے (فكان الرسول ياخذ احد الامرين وهم يقولون علينا ان نأخذ كلا الامرين)
قاہرہ میں عرب نوجوانوں کا ایک بڑا حلقہ بن گیا ہے جو الرسالہ کے مشن سے گہری شیفتگی رکھتا ہے اور اس کے لئے عملاً کوشاں ہے۔ ان کی مختلف سرگرمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ انھوں نے الرسالۃ للاعلام الدولى (مدینة نصر، قاہرہ) کے نام سے ادارہ قائم کیا ہے۔ مستقل طور پر الرسالہ مطبوعات کو عربی میں منتقل کرنے اور اس کو چھاپنے کا انتظام کر رہا ہے۔ (ٹیلی فون : ۲۶۲۳۱۰۵، ۲۶۲۸۳۹۹، ۲۶۲۲۳۰)
انھوں نے دین کامل کو الدین الکامل کے نام سے ۴۰ صفحات پر شائع کیا ہے۔ وہ تقریباً ۲۰ کتابیں چھپوا چکے ہیں اور کئی کتابیں اس وقت زیر تیاری ہیں۔ پمفلٹ کی صورت میں وہ مستقل کتابچے تیار کر کے چھاپ رہے ہیں جن کی تعداد پندرہ تک پہنچ چکی ہے۔ قاہرہ کے ایک ادارہ دار الصحوة للنشر والتوزيع (ٹیلی فون: ۷۴۰۰۳۷، ۹۸۷۹۲۳۰) نے اسلامی مرکز کی مختلف کتابوں کے عربی ترجمے شائع کئے ہیں۔ ۱۹۹۲ میں انھوں نے "خلیج ڈائری" کا عربی ترجمہ (مع اضافہ) شائع کیا ہے جو ۱۲۸ صفحہ پر مشتمل ہے۔ اس کا نام یومیات حرب الخلیج ہے۔ کا سب ٹائٹل ہے: ليس التاريخ مجرد قصة لاحداث مضت بل التاريخ سجل حافل بالعبر والدروس للحاضر والمستقبل۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے اس حدیث کا تذکرہ کیا کہ من حق ازاره خیلاء... میں نے اس کے جواب میں کہا کہ اس حدیث میں کلیدی لفظ خیلاء ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل بری چیز کبر ہے۔ اگر آپ اپنی ازار اوپر باندھیں مگر دوسری چیزوں کی بنیاد پر کبر کی نفسیات آپ کے اندر پائی جائے تو گویا کہ ظاہری صورت نہ ہونے کے باوجود اصل حقیقت آپ کے اندر موجود ہے۔ اس پر حاضرین میں سے ایک عرب نے کہا کہ آج اگر اس بات کو کہنا ہو تو شاید اس طرح کہنا زیادہ با معنی ہوگا کہ : من اشترى سيارة مرسيدس خیلاء فهو... ۲۹ ستمبر کو عصر کی نماز قاہرہ کی مسجد الامین (شارع اسماعیل صبری پاشا) میں پڑھی۔ ایک چھوٹی مگر صاف ستھری مسجد تھی ۔ اس کے ایک گوشہ کو منبر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ مسجد کے اندر دو الماری میں مجلد عربی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ علم العقائد وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔
وقت ہوا تو امام مصلے پر کھڑا ہو گیا۔ اس نے اقامت کہی، اس کے بعد خود ہی نماز پڑھائی۔ نمازیوں کی تعداد ایک صف سے زیادہ نہ تھی۔ نماز پوری کرنے کے بعد امام نے اپنے دائیں طرف چہرہ کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ کہا اور بائیں طرف السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ بعد اجتماعی دعا کے بغیر لوگ اٹھ کر چلے گئے۔
برصغیر ہند میں فقہی اختلاف نے ملت کو مختلف طبقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ عالم عرب میں یہ چیزیں موجود نہیں، البتہ ایک اور چیز مزید شدت کے ساتھ موجود ہے، اور وہ سیاسی اختلاف ہے۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے کچھ مسلم لیڈروں کا ذکر کیا جنھوں اپنے غلط عمل کے ذریعہ ملت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ مگر مسلمانوں کے درمیان اب بھی ان کو بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ بعد انھوں نے کہا کہ مسلمان ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے مفسدین کو عظمت کا درجہ دیتے ہیں (امۃ
میں نے کہا کہ یہ غالباً پریس اور ریڈیو اور ٹیلیویژن کے دور کا مظاہر ہ ہے۔ اس قسم کے رہنما بڑے بڑے الفاظ بولتے ہیں۔ وہ مظاہراتی قسم کے اقدامات کرتے ہیں۔ اس بنا پر وہ نیوز میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں نمایاں کئے جاتے ہیں۔ اس طرح انھیں اپنی غلط فکری یا غلط کاری کے با وجود شہرت حاصل ہو جاتی ہے۔ اور جن لوگوں کو ایک بار شہرت حاصل ہو جائے وہ لوگوں کے درمیان ہمیشہ عظمت کا مقام حاصل کر لیتے ہیں۔
یہاں اخوانی فکر کے ایک عرب عالم سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ اس زمانہ کا سب سے بڑا فتنہ فصل الدین عن الدولۃ کا مغربی نظریہ ہے۔ یہ دشمنان اسلام کی سازش اس طرح وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو بالکل بے جان کر کے چھوڑ دیں۔ اور دین کی پشت پر سیاسی طاقت کا زور باقی نہ رہے۔ میں ان کی تقریر سنتا رہا۔ پھر میں نے کہا: الفصل بین الدین والدولۃ كعقيدة، فلا - اما الفصل بين الدين والدولۃ كمنهج فنعم ۔
میں نے کہا کہ قرآن وسنت میں بلاشبہ زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق احکام ہیں۔ لیکن اگر دعوت اسلامی کا مطلب یہ ہو کہ اول روز سے پورے دین کو ایک مکمل ریاستی نظام کی حیثیت سے قائم کرنے کی جد وجہد کی جائے تو یہ ایک ایسی تکلیف ہے جس کا مکلف انبیاء کو بھی (بشمول پیغمبر
اسلام، نہیں کیا گیا۔ پھر ہم کو اس کا مکلف کیونکر بنایا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ فہرست احکام کے اعتبار سے مکلف نہیں ہوتا بلکہ اپنے وسیع کے اعتبار سے مکلف ہوتا ہے۔ (لا يكلف الله نفساً الاوسعها)
الاہرام قاہرہ کا مشہور اخبار ہے۔ یہ نام ان قدیم عمارتوں کے نام پر ہے جن کو اہرام مصر کہا جاتا ہے اور جو سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ نجیب حداد نے لکھا ہے کہ مصر میں دو اہرام ہیں۔ ایک وہ جس کو دیکھنے کے لئے لوگ چل کر اس کے پاس آتے ہیں۔ دوسرا اہرام وہ چل کر دوسروں کے پاس جاتا ہے۔
الاہرام کا شمارہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۲ دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک خبر کا عنوان تھا: احجار الاهرامات وابي الهول: هل جاءت من الكوكب الاحمر (اہرام اور ابو الہول کے پتھر کیا مریخ سے لائے گئے تھے، امریکہ کے ادارہ ناسا نے مصنوعی سیاروں کے ذریعہ مریخ کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کی ہیں۔ ان کی بنیاد پر قیاس کر کے یہ خبر بنائی گئی تھی۔ قسم کی خبریں محض تفنن کے لئے ہوتی ہیں۔ خالص علمی اعتبار سے ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ روز نامہ الاخبار (۲۸ ستمبر) میں ایران کے بارے میں ایک مضمون تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ایران کا کہنا ہے کہ جزیرہ ابوموسی کے مسئلہ کا حل صرف فوجی طاقت کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ حالت میں اس کو شکایت نہیں ہونا چاہئے اگر عرب بھی تسلیح کا طریقہ اختیار کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مغربی ممالک بیک وقت دونوں کی مدد کریں گے۔ کیوں کہ یہ ثابت ہو چکا ہے شیطان اکبر عراق اور ایران دونوں کو ان کی اس جنگ کے دوران مسلح کر رہا تھا جس کو انور سادات نے احمقانہ جنگ قرار دیا تھا (فقد ثبت ان الشيطان الاكبر كان يسلح العراق وايران معا خلال حربھما الغبية كما وصفها السادات)
ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے گفتگو کے دوران کہا کہ مصر کا شاہی دور ( العصر الملکی) موجودہ دور کے مقابلہ میں بہت اچھا تھا۔ اس زمانہ کے حالات میں مصر میں بڑے بڑے اہل علم اور اہل ادب اٹھے۔ اس زمانہ میں مصر علمی اور مادی ترقی پر تھا۔ حتیٰ کہ اسلامی ترقی بھی اس وقت آج سے زیادہ تھی۔ آج مصر ہر لحاظ سے پہلے کے مقابلہ میں کم نظر آتا ہے۔
مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصر کے شاہی دور کو کس نے ختم کیا۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ شاہی دور اس طرح ختم ہوا کہ حسن البنا نے اپنی پرجوش تقریروں کے ذریعہ لوگوں کو اس کے اس کے بعد اسی بنیاد پر جوشیلے نوجوانوں کی ایک جماعت بنی۔ اس حلقہ نے فوجی افسروں کے ساتھ مل کر مصر کے شاہ فاروق کے خلاف وہ منصوبہ بنایا جس کو آجکل کی زبان میں سازش کہا جاتا ہے۔ اس طرح الاخوان المسلمون اور فوجی افسروں نے مشترکہ کوشش سے شاہ فاروق کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور اس کو اور اس کے خاندان کو مصر سے باہر نکال دیا۔ اس کے بعد مصر میں سخت ناگفتہ بہ حالات پیدا ہو گئے۔ اگر اخوانی لیڈر اس کو جانتے تھے تو ان کی سنجیدگی مشتبہ ہوتی ہے، اور اگر وہ اس کو نہیں جانتے تھے تو ان کی قائدانہ صلاحیت مشتبہ اب یہ اخوان کے معتقدین کے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کس توجیہہ کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔
شیخ محمد عبدہ (۱۹۰۵ - ۱۸۴۹) مصر کے مشہور عالم اور مصلح تھے۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے ان کے تذکرہ کے ذیل میں بتایا کہ محمد عبدہ نے ابتدا میں سید جمال الدین افغانی کے ساتھ سیاسی مگر آخر میں وہ اس سے مایوس ہو گئے۔ اس وقت انھوں نے سیاسی کام سے سخت نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی لعنت ہو سیاست پر اور سیاست دانوں پر اور ہر اس چیز پر جو سیاست کے لفظ سے تعلق رکھتا ہو قال محمد عبدہ بعد ان يئس من العمل السياسي مع جمال الدین الافغاني : لعن الله السياسة والسّاسة وكل ما يتصل بكلمة ساس يَسُوسُ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ مصر کے ایک بڑے عالم نے جس سیاست پر اس طرح لعنت بھیجی تھی ، اسی سیاست کو دوبارہ مصری نوجوانوں نے مزید شدت کے ساتھ اختیار کر لیا اور وہ جماعت وجود میں آئی جس کو الاخوان المسلمون (قائم شده ۱۹۲۸) کہا جاتا آخر اس کا سبب کیا ہے۔ مفتی محمد عبدہ کا اظہار لعنت مصری نوجوانوں کو اس ہلاکت خیز سیاست سے روکنے میں کامیاب کیوں نہ ہوا۔
اس کی کم از کم ایک خاص وجہ یہ ہے کہ مفتی محمد عبدہ نے لعنت کی زبان میں تو اس کے خلاف اظہار خیال کیا، مگر وہ دلیل کی زبان میں اس کو لوگوں کے سامنے ثابت نہ کر سکے۔
ایک عمل دوسرے عمل کی طرف پھیرنے کے لئے ضروری ہے کہ سابقہ عمل کا غلط ہونا اور دوسرے عمل کا صحیح ہونا دلائل سے ثابت شدہ بنا دیا جائے۔ مگر مفتی محمد عبدہ کی بعد کی تحریروں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انھوں نے یہ کام انجام دیا۔ رشید رضا کی کتاب تاریخ الاستاذ الامام الشیخ محمد عبدہ بھی اس سلسلہ میں کوئی واقعی مواد پیش نہیں کرتی۔ ۲۹ ستمبر کو قاہرہ میں ایک عرب نوجوان عبدالسلام احمد حدود (۳۲ سال) سے ملاقات انھوں نے بتایا کہ وہ تقریبا چار سال (۱۹۳۱ - ۱۹۸۸) الجزائر میں رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے وہاں عمل کی پوری آزادی تھی۔ مسجد کے اندر بھی اور مسجد کے باہر بھی۔ "فرصۃ عظیمۃ" تھی جو کسی اور عرب ملک میں موجود نہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے سے الجزائری بھائی ان مواقع کو دعوت اور اشاعت اسلام کے لئے استعمال نہ کرسکے۔ بلکہ اس آزادی کو حکام کے خلاف سیاسی تحریک چلانے میں استعمال کیا۔ اس کی وجہ سے الجزائر میں مشکلات پیدا ہوگئیں۔ میں نے کہا کہ مسلم اخبارات میں کثرت سے میں نے الجزائر کے بارہ میں پڑھا ہے۔ مگر تمام مسلم اخبارات صرف کہانی کا نصف ثانی بتاتے ہیں، وہ کہانی کا نصف اول اپنے قارئین کو نہیں بتاتے۔ یہ قرآن کے الفاظ میں تطفیف ہے۔ ان پر لازم تھا کہ وہ اس طرح لکھیں کہ الجزائر میں دینی عمل کی آزادی تھی۔ مگر ہم نے حکمرانوں سے سیاسی نزاع کی، اس کے بعد آزادی باقی نہ رہی۔ (لقد قرأت كثيرا عن الجزائر في جرائد المسلمين. ولكن كلهم يكتبون عن النصف الثاني. وهم لا يكتبون عن النصف الاول۔ فكان عليهم ان يكتبوا انه كان في الجزائر حرية ولكن عند ما قاموا للسياسة جاءت هذه الصعوبات)
۲۹ ستمبر کی شام کو ڈاکٹر عبد الحلیم عویس سے ملاقات ہوئی۔ وہ ریاض کی جامعۃ الامام میں علوم اجتماعی کے پروفیسر ہیں۔ ان کے ساتھ قاہرہ الجدیدہ سے حلوان کی طرف روانگی ہوئی۔ قاہرہ کا بڑا حصہ سفر کے دوران آنکھوں کے سامنے گزرتا رہا۔ ایک مقام پر نیل کے کنارے ایک بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس پر عصفور الجنة لکھا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس کا تلفظ عصفور الجنہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے سفر ہندوستان کے تحت بنارس کا ذکر کیا تو انھوں نے ایک جملہ میں نھر جمنا کا لفظ استعمال کیا۔
ابتداً یہ لفظ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ غور کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی مراد اس سے دریائے مصر کے لوگ ج کو گ پڑھتے ہیں۔ مگر غیر عربی الفاظ بولنا ہو تو اس وقت وہ گ کو ج کی مانند
مصر میں بڑے شہروں کے تعلیم یافتہ لوگ ج کو گ بولنے لگے ہیں۔ مگر شہروں کے باہر دیہات کے لوگ اب بھی ج کو ج ہی بولتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص ج کو ج کی آواز نے بولے اس کو تعلیم یافتہ لوگ قروی (دیہاتی) کہتے ہیں۔
۲۹ ستمبر کی شام کو میں ڈاکٹر عبد العلیم عویس کے مکان پر تھا۔ میری موجودگی اطلاع پا کر وہاں الاستاذ محمود محمد خلیل آگئے۔ ان کا تعلق ریڈیو قاہرہ سے ہے۔ انہوں نے ریڈیو کے لئے ایک مفصل انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق کچھ الرسالہ مشن سے تھا۔ اور کچھ موجودہ زمانہ میں امت مسلمہ کے مسائل سے۔
ایک سوال ” اولویات العمل الاسلامی “ سے متعلق تھا۔ یعنی اعمال اسلامی کو اختیار کرنے کے سلسلہ میں ہماری ترجیح کیا ہونی چاہئے۔ میں نے کہا کہ اس کا واضح جواب صحیح بخاری کی روایت میں موجود ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ما خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین امرین الاختار الیسرھما۔ ترجیح کے سلسلہ میں ہمارا طریقہ اختیار الیسر کا ہونا چاہئے۔ یہاں ایسر سے مراد وہ چیز ہے جو ممکن ہو۔ مصر میں اسلام پسند حضرات کے لئے عمل کے دو میدان تھے۔ ایک، تعلیم ودعوت۔ دوسرا، انقلاب حکومت۔ پہلا ممکن تھا۔ اور دوسرا غیر ممکن۔ اس لئے سنت رسول کے مطابق، ان کے لئے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ انقلاب حکومت کے میدان میں نہ اتریں۔ اور تعلیم و دعوت کے میدان میں کام کریں۔ شام کی اس مجلس میں حکومت مصر کے ایک قانونی مستشار محروس فودہ موجود تھے۔ نے کہا کہ اخوانی نوجوانوں کے اندر جذبہ تھا مگر ان کے اندر شعور نہ تھا (کانو امتحمسین ولكن غير و (عین)، انھوں نے کہا کہ میں نے اخوانی نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ تمہارے لئے دعوت کا میدان کھلا ہوا ہے، اس میں کام کرو۔ تم پہلے گہرے مطالعہ کے لئے دین اور دنیا کا علم حاصل کرو۔ اور پھر سیاسی مشاكل سے صرف نظر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے غیر
سیاسی میدان کے مواقع کو استعمال کرو۔ مگر اخوانی نوجوانوں نے اس نصیحت کو قبول نہیں کیا۔ یہ سن کر ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے کہا: انهم لا يريدون ان يعملوا في الميدان الصعب وذهبوا الى ميدان سهل وہ مشکل میدان میں عمل کرنا نہیں چاہتے اس لئے انھوں نے آسان میدان کو اختیار کر لیا، یعنی دعوت کے میدان میں عمل کرنے کے لئے صبر کی صبر کی ضرورت ہے اور صبر انسان کے لئے سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔
ایک عرب نوجوان مختار احمد الشیبانی سے ملاقات ہوئی تو وہ دیر تک مجھ سے لپٹ کر روتے انھوں نے کہا کہ میں ایسے مقام پر پہنچ گیا تھا کہ یا تو پاگل ہو جاؤں یا خود کشی کر لوں۔ الرساله مشن نے عین وقت پر مجھ کو بچا لیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مشن سے واقف ہونے سے پہلے میں ایک شعوری قید خانہ میں جی رہا تھا۔ اس مشن سے واقف ہونے کے بعد میں نے محسوس کیا گویا کہ میں کرہ زمین کا بوجھ اپنے اوپر لادے ہوئے تھا۔ اب یہ بوجھ میرے اوپر سے اتر گیا۔ قبل التعرف على الرسالة كنت اعيش في سجن شعوري۔ اما بعد التعرف علی الرسالة فاحسست كأنى كنت احمل الكرة الارضية ثم وقعت من على كاهلي۔
اس کا پس منظر یہ ہے کہ پچھلے تقریبا ۵۰ سال سے عالم عرب کے نوجوان اور سوچنے والے لوگ ایک شدید فتنے میں مبتلا تھے۔ یہ اسلام کی سیاسی اور نظامی تعبیر کا فتنہ تھا۔ یہ فکر حسن البنا اور سید قطب کی تحریروں کے ذریعہ عرب ملکوں میں پھیلا۔ پھر سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کتابوں کے عربی ترجموں سے اس میں مزید اضافہ ہوا۔
اس انقلابی فکر سے متاثرہ افراد کے لئے دو میں سے ایک کا اختیار باقی رہ گیا تھا یا حکومتی تشدد کا نشانہ بننا یا نفاق کا طریقہ اختیار کرنا۔ سنجیدہ افراد اس صورتحال سے مطمئن نہیں ہو سکتے چنانچہ وہ سخت قسم کے ذہنی اضطراب میں مبتلا تھے۔ اب الرسالہ مشن ایسے لوگوں کو حیات نو کا پیغام دکھائی دے رہا ہے۔
عربوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ شرحوں اور تفسیروں کی ایک کمی یہ ہے کہ ان میں آیات و احادیث کو فروع پر منطبق کیا جاتا ہے، مگر اساسات پر منطبق نہیں کیا جاتا۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ لتتبعن سنن من كان قبلكم شبراً بشبر وذراعاً بذراع حتى
لو دخلو اجحر ضب دخلتموہ۔ اس حدیث کی تشریح کو تعویذ اور عملیات جیسے اعمال پر نز چسپاں کیا جاتا ہے۔ مگر ان کو زیا دہ اہم امور پر چسپاں نہیں کیا جاتا۔ مثلاً قدیم زمانہ میں دوسری قوموں نے یہود کے اوپر سخت معاملہ کیا۔ یہود اگر ان سختیوں کو خدائی تنبیہ سمجھتے تو ان کے اندر تضرع اور رجوع کی کیفیت پیدا ہوتی۔ مگر انہوں نے ان تشددانہ واقعات کو دوسری قوموں کی عداوت اور مخالفانہ سازش قرار دیا۔ اس کے نتیجہ میں ان کی قساوت اور تمرد میں اضافہ ہو گیا۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ جو کچھ کر رہا ہے وہ اسی سنت یہود کا اتباع ہے، غیر مسلم قوموں کی طرف سے پیش آنے والے شدائد کو وہ اسلام دشمنوں کی سازش قرار دینے میں مصروف ہیں۔ اگر وہ ان شدائد کو تنبیہ خدا وندی سمجھتے تو ان کے اندر انابت اور رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوتی لیکن جب انھوں نے اس کو مؤامرۃ سازش بتا یا تو اس سے انھیں قساوت اور سرکشی کے سوا کوئی اور غذا حاصل نہ ہو سکی۔
۳۰ ستمبر کی شام کو قاہرہ سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ائیر پورٹ ۔ لئے روانہ ہوا۔ لمبے سفر کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے آج میں آخری منزل طرف جا رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ اسی طرح ہر آدمی اپنے دنیوی مراحل حیات کو طے کرکے آخرت کی طرف روانہ ہوتا ہے جہاں وہ اپنے ابدی مقام کا تجربہ کر سکے۔ یہ احساسات دعا کی صورت میں ڈھلنا چاہتے تھے مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مجھے دعا کے لئے الفاظ نہیں مل رہے ہیں ۔ مجھے اپنے بھائی کا قصہ یاد آیا۔ وہ ایک ہندو کالج میں بی ایس سی کے داخلہ کے لئے گئے ۔ دو مہینہ لیٹ ہو چکے تھے۔ پرنسپل نے کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ داخلہ دو مہینے پہلے بند ہو چکا ہے۔ مگر مزید سوال و جواب کے بعد وہ ان کے لئے ہمدرد بن گیا۔ اس نے فارم منگوایا اور کہا کہ اس کو پھر اس کو محسوس ہوا کہ بیک ڈیٹ میں فارم بھرنا شاید ان کے لئے مشکل ہوگا ، اس لئے فارم ان کے ہاتھ سے لے کر پرنسپل نے خود اس کو پر کیا اور ان کو داخلہ دے دیا۔ میں نے کہا کہ خدا یا ، میں آپ کا وہ عاجز بندہ ہوں جس کے پاس دعا کے الفاظ بھی نہیں ہیں ، آپ خود ہی میری طرف سے دعا کے الفاظ متعین کرکے اس کی قبولیت کا فیصلہ فرما دیجئے۔
قاہرہ ایئرپورٹ میں داخل ہوا تو وہاں ایک نئی چیز نظر آئی۔ ایک شیشے کا کیس تھا۔ بہت سے نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ قریب سے دیکھا تو لکھا ہوا تھا: بعض النقود لحماية البیئة یعنی ماحول (environment) کو بچانے کے لئے یہاں کچھ رقم ڈالیں۔ ہزار سال پہلے اگر اس قسم کا کیس رکھا جاتا تو کوئی شخص اس کا مطلب نہیں سمجھ سکتا تھا۔ کیوں کہ ماحول کی حفاظت کا مسئلہ صنعتی تہذیب نے پیدا کیا ہے۔ اور صنعتی تہذیب کی عمر چند سو سال سے زیادہ اور ماحول کی کثافت کا مسئلہ تو موجودہ شدت کے ساتھ صرف بیسویں صدی کے نصف آخر میں پیدا ہوا ہے۔
قاہرہ سے عرب امارات کی فلائٹ ۴۰۴ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں اس کی فلائٹ میگزین الامارات (Emirates) کا شمارہ ستمبر ۱۹۹۲ دیکھا۔ ایک مضمون میں مارٹن سلمان (Martin Seligman) کی کتاب التفاؤل المكتسب (Learned Optimism)
کا تعارف تھا۔ اس کتاب میں تحقیق کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ مایوس کن حالات میں بھی ہمیشہ روشن امکان کا ایک پہلو موجود ہوتا ہے۔ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو روشن پہلو پر اپنی ساری توجہ لگا دیتے جب آپ کسی چیز کے ممکن ہونے پر یقین کر لیتے ہیں تو آپ کی عقل اس کے حصول کے لئے متحرک ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد آپ کا دماغ اپنے آپ اس کے عملی وسائل دریافت کر لیتا ہے (فالايمان بامكانية عمل شئ ما يحرك العقل للعمل من اجل انجازه وعندما تؤمن بشيئ يستنبط د ماغك وسائل تنفيذه جہاز میں صفائی اور باقاعدگی کا معیار نہایت عمدہ تھا۔ اس میں ایک نئی چیز یہ نظر آئی کہ جہاز کے اندر ویڈیو اسکرین پر قبلہ کا رخ بتانے کا انتظام تھا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ اسکرین پر بار بار ایک جہاز کی تصویر آ جاتی تھی۔ اس تصویر میں جہاز کا رخ عین وہی ہوتا تھا جو ہمارے واقعی جہاز کا تھا۔ اس کے بعد اس تصویر میں جہاز کے کنارے تیر کا ایک نشانہ ظاہر ہو جاتا تھا۔ یہ تیر بتاتا تھا کہ اب قبلہ کا رخ کس طرف ہے۔ جب ہوائی جہاز کی صنعت شروع ہوئی تو کچھ لوگوں نے بطور طنز کہا کہ یہ نمازی لوگ اڑتے ہوئے ہوائی جہاز کے اندر اپنے قبلہ کا رخ کس طرح معلوم کریں گے۔ مگر اللہ کی نشانی نے ظاہر کر بہتایا کہ اللہ اس سے عاجز نہیں کہ وہ آسمانی فضاؤں
میں بھی اپنے بندوں کو اپنی عبادت کی سمت سے آگاہ کر دے۔
ساڑھے چار گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز دبئی میں اترا۔ یہاں چار گھنٹہ کے انتظار کے بعد دبئی کے لئے جہاز لینا تھا۔ دبئی کا ہوائی اڈہ اور یہاں کی ہر چیز انٹرنیشنل معیار کے مطابق نظر آئی۔ البتہ یورپ کے ملکوں کے ہوائی اڈوں پر انسانوں کی بھیڑ بہت کم ہوتی ہے، جب کہ دہلی کے ہوائی اڈہ پر ہر طرف انسانوں کی بھیڑ نظر آئی۔ یہ ایک معروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔ یہاں سے روزانہ تقریباً سو ہوائی جہاز اڑتے ہیں اور وہ دنیا کے تقریباً ایک سو ملکوں میں اترتے ہیں۔ دہلی کے ہوائی اڈہ پر ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ وہاں پہنچ کر نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ مسجد کے باہر عربی میں أماكن الصلاة اور انگریزی میں (Prayer Room) لکھا مسجد اللہ کے بندوں کے لئے امن ہے۔ اس کے اندر داخل ہو کر ایک خاص طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے۔ مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ وہ اہلِ ایمان کے لئے روحانی پناہ گاہ
میں نے سوچا کہ دنیا کے ہر ملک میں اور ہر شہر میں کثرت سے مساجد کی موجودگی مسلمانوں کے لئے ایک غیر معمولی ایڈوانٹیج کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ یہ کہ وہ اسلامی تحریک کو مساجد کی بنیاد پر اٹھائیں، اور پھر دنیا کے ہر گوشہ میں اپنے لئے بنا، یا مرکز پالیں۔
دبئی سے دہلی کے لئے الامارات (Emirates) کی فلائٹ نمبر ۷۲ کے ذریعہ ہم ساڑھے گیارہ بجے رات کو دہلی اترے۔ اس وقت کیلنڈر میں ستمبر کی ۳۰ تاریخ مگر یہاں چار گھنٹہ قیام کے بعد جب اگلے جہاز پر بیٹھے تو اکتوبر ۱۹۹۲ کی پہلی تاریخ آچکی تھی۔ وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے۔ مگر انسان کتنا کم اس کا اندازہ کرتا ہے۔ راستہ میں قاہرہ کا روز نامہ الاخبار (۳۰ اکتوبر (۱۹۹۲) پڑھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا : دعاة | الحرب الصليبية ... ماذا يريدون - اس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا تھا کہ اور باب ، مذہبی جنگ کے مبلغین کا نشانہ کیا ہے، جو کہ نقارہ بجارہے ہیں اور لوگوں کو صلیبی جنگ کے نام پر جمع کر رہے ہیں (والآن - ماہی اهداف دعاة الحرب الدينية والذين يدقون الطبول الآن ويجمعون الناس حول شعار الحرب الصليبية)
دین کے نام پر جنگ کی باتیں کرنے والوں کی اس نے تین قسم بتائی تھی۔ ان میں قسم اول الاخوان المسلمون کی تھی۔
اسی کے ساتھ عرب امارات کا روزنامہ الاتحاد (۳۰ اکتوبر ) پڑھا۔ یہ ۲۸ صفحات پر ان اخبارات کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ مصر اور اس قسم کے دوسرے ملکوں کے عوام کا ایک ایڈوانٹیج یہ ہے کہ ان کی زبان اور قومی صحافت کی زبان ایک ہے۔ اس لئے دونوں کے درمیان براہ راست رشتہ مسلسل قائم رہتا ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کی سرگرمیاں بھی با آسانی لکی صحافت میں جگہ پاتی رہتی ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان میں قومی صحافت کی زبان اور مسلمانوں کی زبان الگ الگ ہیں۔ اس کے نتیجہ میں مسلمان قومی صحافت کی سطح پر ایک غیر متعلق گروہ بن گئے ہیں۔ ملک کو ان کی شخصیتوں اور ان کی سرگرمیوں کی کوئی اطلاع نہیں ہوتی اس کے کہ یہاں کی صحافت کبھی مسلمانوں کی کسی خبر کو خود اپنے مقاصد کے لئے چھاپنا پسند کرے۔
ڈھائی گھنٹہ کی پرواز کے بعد یکم اکتوبر ۱۹۹۲ کو ۹ بجے ہمارا جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ طویل سفر اس طرح ختم ہوا کہ ہم جہاں سے چلے تھے، دوبارہ وہیں پہنچ گئے۔ میں نے سوچا کہ آخرت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ آدمی خدا کے پاس سے آیا ہے۔ اور دوبارہ اس کو خدا کی عدالت میں پہنچا دیا یہ معاملہ واپسی کا معاملہ ہوگا نہ کہ کسی نئے مقام پر جانے کا۔ ٹامس فلر (Thomas Fuller) ایک انگریز مصنف تھا۔ وہ ۱۶۰۸ میں پیدا ہوا۔
اور ۱۶۶۱ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ سفر عقل مند آدمی کو زیادہ بہتر بناتا ہے۔ اور بیوقوف آدمی کو اور زیادہ خراب کر دیتا ہے:
Travel makes a wise man better, but a fool worse. اس کی وجہ یہ ہے کہ واقعات خارج میں خواہ کچھ ہوں ، آدمی ان کو اپنی نظر سے دیکھتا ہے۔ جتنی آدمی کی نظر ہوگی اتنا ہی وہ واقعات کو دیکھ اور سمجھ پائے گا۔
سفر نامہ لکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ اگر میں ایسا کروں کہ صرف ایک سطر کا سفر نامہ شائع کر دوں جس میں بس یہ لکھا ہوا ہو کہ ” میں دہلی سے فلاں فلاں مقام پر گیا اور پھر دوبارہ دہلی واپس آگیا“ تو پڑھنے والے کہیں گے کہ یہ تو صرف ایک خبر ہے۔ اس سے ہم سفر کی بابت کیا
جان سکتے ہیں۔ مگر کئی قسط میں چھپنے والا سفر نامہ بھی اتنا ہی نامکمل ہوتا ہے جتنا مذکورہ قسم کا ایک
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر بات غیر بند کورہے۔ بولے ہوئے تمام الفاظ اور لکھے ہوئے تمام مضامین اصل واقعہ کو بیان کرنے کے لئے اتنا ہی نامکمل ہیں جتنا ٹیلی فون کے پورے نظام کو بتانے کے لئے لفظ ”ٹیلی فون“ حقائق کی دنیا اس سے زیادہ ہے کہ الفاظ کا کوئی بھی ذخیرہ اس کو بیان کر سکے۔ اس دنیا میں آدمی صرف اپنے سوچنے کی صلاحیت سے باتوں کو جانتا ہے نہ کہ دوسروں کے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ سے۔
مجھے ہر سفر میں کچھ ایسے تجربات ہوتے ہیں جن کو لفظوں میں لکھا جائے تو وہ لفظوں میں نہیں اور اگر ان تجربات کو نہ لکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا سفر نامہ لکھا ہی نہیں گیا۔ یہ ایک اعتبار سے گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل جیسا معاملہ ہے۔ تاہم یہ ایک انسان کے احساسات ہیں ، اور اصل حقیقت کا علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں۔
اظہار حقیقت کا اصل مقام آخرت ہے۔ عین ممکن ہے کہ جب آخرت آئے تو کہا ہوا بے کہا بن جائے، اور جو بے کہا ہے، وہی کہا ہوا قرار پائے۔ انسان کے لئے صرف یہی سزا وار ہے کہ وہ اپنے عجز کا اقرار کرے اور مالک حقیقی سے رحمت ومغفرت کی دعا کرتا رہے۔ ISLAM: CREATOR OF THE MODERN AGE By Maulana Wahiduddin Khan Antiquity was an age of superstition: the present age is of science. Before reaching its present-day zenith, the modern, scientific age had to pass through three stages. The first was marked by the eradication of the superstitious mentality, the second saw the practical beginnings of scientific research; the third is the spectacular culmination of the scientific process in the second half of the twentieth century. The present volume examines the Islamic contribution to the completion of the first two stages during the millenium immediately following upon the emergence of Islam.