Al-Risala · July 1995

روحانیت کا مسئلہ

Al-Risala, July 1995, pp. 16–20

By Maulana Wahiduddin Khan

روحانیت (اسپر یجوولزم یا مسٹزم) کا تصور ہزاروں سال سے دنیا میں موجود رہا ہے۔ اس کے تحت مختلف مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ ان مکاتب فکر کا تفصیلی جائزہ یہاں نہیں لیا تاہم اختصار کے ساتھ ان کا تذکرہ ضروری ہے تاکہ اسلام کا تصور روحانیت اس کے بالمقابل واضح ہو کر سامنے آسکے۔

اس سلسلہ میں تین بنیادی تصورات یہاں قابل ذکر ہیں۔ پہلا تصور وہ ہے جس کے مطابق روحانیت نام ہے خود اپنی اندرونی شخصیت سے ربط قائم کرنے کا۔ اس نظریہ کا کہنا ہے کہ انسان کا اندرونی وجود ایک پراسرار سمندر کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم عام حالات میں وہ انسان کے لئے غیر دریافت شدہ ہوتا ہے۔ سمندر کے آئس برگ کی طرح، اس وجود کا تھوڑا سا حصہ شعور کے دائرہ میں ہوتا ہے اور اس کا زیادہ حصہ لاشعور کے دائرہ میں۔ روحانیت کا مدعا یہ ہے کہ اپنے شعور کو خود اپنے لاشعور سے مربوط کیا جائے۔ ایسا کرنے سے آدمی کو ذہنی یا روحانی ارتقاء کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ وہ اپنے ذہنی وجود کو شعوری طور پر مکمل کرتا ہے۔ اس نظریہ میں ایک جزئی صداقت ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان کے اپنے وجود کے امکانات اس سے زیادہ ہیں جتنا کہ عام حالت میں شعور کے ادراک میں ہوتے ہیں۔ تاہم یہ انسان کی اصل تلاش (quest) کا جواب نہیں۔ انسان اپنے شعور اور لاشعور سمیت بہر حال ایک محدود مخلوق اور محدود کو پانا انسان کی تلاش کا مطلوبہ جواب نہیں ہو سکتا۔

انسان کی تلاش، اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، اپنی تکمیل کی تلاش ہے نہ کہ محض اپنی دریافت کی تلاش۔ انسان اپنی فطرت کی بنا پر محدودیت پر قانع نہیں ہو سکتا۔ انسان ہر اعتبار سے ایک محدود ہستی ہے۔ اب وہ لا محدود کو پانا چاہتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنی محدودیت کی تلافی کر سکے۔

مذکورہ نظریہ کے تحت ساری کوشش کے بعد بھی آخر کار جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہ کہ محدود دوبارہ محدود کو پالے۔ محدود کا محدود کو پانا انسان کی تلاش کا حقیقی جواب نہیں۔

اس لئے وہ اس کو مطمئن کرنے والا بھی نہیں۔

یہ مسئلہ اصولی طور پر ادراک حقیقت کا مسئلہ ہے نہ کہ سادہ طور پر صرف ادراک ذات کا مسئلہ۔ انسان اگر خود کامل حقیقت ہوتا تو وہ کبھی تلاش کی نفسیات کا حامل نہ ہوتا۔ تلاش کی نفسیات خود انسان کے لاشعور کا حصہ ہے۔ پھر اگر لاشعور کوئی کامل وجود ہے تو وہ ہمیشہ تلاش کی نفسیات میں کیوں مبتلا رہتا ہے۔ جب کہ تلاش کی نفسیات متلاشی کے ناقص ہونے کی علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر خود کامل وجود ہوتا تو وہ کبھی تلاش کی فطرت لے کر پیدا نہ ہوتا۔ تمام انسان کا تلاش کی فطرت کے ساتھ پیدا ہونا اس بات کا ایک داخلی ثبوت ہے کہ انسان اپنی ذات میں کوئی کامل وجود نہیں۔ وہ یقینی طور پر ایک غیر کامل وجود ہے۔ اور یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ انسان کی روحانی تلاش کا نشانہ اس کی اپنی ذات نہیں ہو سکتا۔ روحانیت کا دوسرا نظریہ، بنیادی طور پر، وہ ہے جو فلسفہ وحدت الوجود (monism) کے تحت پیدا ہوا ۔ وحدت الوجود کا نظریہ، تفصیلات سے قطع نظر، یہ ہے کہ تمام موجودات ایک ہی اصل کے مختلف مظاہر ہیں۔ انسان اور جو کچھ انسان کے ماورا ہے، سب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ عالم موجودات وحدت کا ظہور ہے نہ کہ تعدد کا ظہور۔ نے ہمہ اوست کے اس نظریہ کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے:

The knower and the known are one. God and I, we are one in knowledge, and there is no distinction between us. (12/787)

اس نظریہ کے مطابق روحانیت کا مطلب، سادہ طور پر، یہ ہے کہ جزو اپنے کل کو جاننا چاہے تاکہ آخر کار وہ اس کو دریافت کر کے اس میں شامل ہو جائے۔

روحانیت کا یہ دوسرا نظریہ علمی طور پر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اگرچہ فلسفہ اور مذہب دونوں حلقوں میں یہ نظریہ بہت زیادہ مقبول رہا ہے۔ مگر کوئی بھی شخص یا کوئی بھی کتب و فکرا ایسا نہیں جس نے اس نظریہ کے حق میں کوئی واقعی دلیل دی ہو۔

روحانیت کی تلاش کو جزو کی طرف سے کل کی تلاش بتانا موجودہ صورت میں قابل غور اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ انسان کی نوعیت فی الواقع یہی ہے

کہ وہ ایک حقیقتِ کلیی کا جزو یا دانش ہے، جب خود یہ ابتدائی بات ثابت نہ ئی ہو تو اس کی بنیاد پر رہ وحانیت کی فلسفیانہ تعبیر کیوں کر صحیح ہو سکتی ہے۔

ہمہ اوست کے حق میں اب تک جتنی بھی باتیں کہی گئی ہیں وہ یا تو صرف لفظی بیان کی حیثیت یا اگر کسی نے کوئی دلیل دینے کی کوشش کی ہے تو وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صرف تمثیل "دنیا کی تمام چیزیں ایک حقیقتِ کل کا مختلف ظہور ہیں" محض ایک لفظی بیان ہے، اور کسی کا لفظی بیان کبھی دلیل کا بدل نہیں ہو سکتا۔

تمثیلی دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ سمندر سے ایک قطرہ اگر نکال لیا جائے تو وہ قطرہ بھی اپنی نوعیت میں چھوٹا سمندر ہو گا۔ اسی طرح انسان حقیقت کے وسیع سمندر کا ایک چھوٹا سا قطرہ ہے۔ یہ محض ایک مثال ہے اور کوئی مثال کبھی کسی حقیقت کو ثابت نہیں کرتی۔ کسی ثابت شدہ حقیقت کی مزید تفہیم کے لئے ایک مثال دی جا سکتی ہے۔ مگر خود حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے مثال دینا سراسر غیر علمی اور غیر منطقی ہے۔

"ہمہ اوست" کے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے دو میں سے ایک دلیل لازمی طور پر ضروری ہے۔ یا تو سائنسی تحقیق سے اس کا ثبوت فراہم ہوا ہو۔ یا یہ کہ الہامی مذہب میں حقیقی طور پر اس کے حق میں کوئی دلیل موجود ہو۔ مگر یہ نظریہ نہ تو سائنس سے ثابت ہوتا ہو اور نہ الہامی مذہب میں اس کے حق میں کوئی واقعی دلیل پائی جاتی ہے۔

ایسی حالت میں جو مدرسہ فکر روحانی تلاش کو ہمہ اوست کی اصطلاحوں میں بیان کرتا ہے وہ بلاشبہ ایک بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اس نظریہ کی پشت پر نہ علم انسانی کی تصدیق موجود ہے اور نہ وحی الہی کی تصدیق۔

روحانی تلاش کا مطلب، اسلامی نقطہ نظر سے، یہ ہے کہ بندہ اپنے خدا سے مربوط ہونا وہ صلة العبد برتبہ کے مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ در اصل خدا کی معرفت ہے۔ خدا کی معرفت سے کسی انسان کو قلب و دماغ کی سطح پر جو چیز حاصل ہوتی ہے اسی کو اسلامی روحانیت کہا جاتا ہے۔

یہاں دوبارہ اسلامی روحانیت کے دو مدرسہ فکر بن گئے ہیں۔ ایک کو قرآنی مدرسہ فکر کہا

جانتا ہے اور دوسرا وہ جو عام طور پر تصوف کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تصوف کی بہت سی شاخیں اور بہت سی شکلیں ہیں۔ اس اختلاف و تنوع کو کسی واحد اصول کی صورت میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تا ہم تصوف اپنے آخری تجزیہ میں جس چیز کا نام ہے وہ بنیادی طور پر دو ہیں ــــ ایک ، شیخ طریقت ، دوسرے اور ادو وظائف یہ دونوں چیزیں مکمل طور پر بدعت ہیں۔ کیوں کہ ان میں سے کوئی چیز بھی رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں پائی نہیں

روحانی ترقی کے لئے شیخ کو ذریعہ بنانا یقینی طور پر کہنوت (گرو ڈوم) کو اسلام میں داخل کرنا جب کہ کہنوت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام تو اس لئے آیا ہے کہ وہ کہنوٹ کی نفی کرے ۔ زمانہ میں تمام مذاہب نے خدا اور بندے کے درمیان مذہبی پیشواؤں کو بطور واسطہ بٹھا رکھا تھا ۔ اسلام نے اس درمیانی واسطہ کو ختم کیا اور اعلان کیا کہ انسان اور خدا کے درمیان براہ راست تعلق قائم اس کے لئے کسی واسطہ کی ضرورت نہیں۔ مگر اسلام کے ظہور کے تین سو سال بعد سابقہ جاہلی تصور کو مقدس بنا کر اسلام میں داخل کر دیا گیا ۔ اس قسم کا کوئی تصور روحانی ترقی میں رکاوٹ ہے نہ کہ مددگار ۔

اسی طرح اور ادو وظائف کا وہ سارا سلسلہ بدعت ہے جس کو صوفیاء نے بعد کے زمانہ میں اختیار کیا۔ جو طریقہ پیغمبر خدا نے نہ سکھایا ہو وہ کبھی معرفت الہی کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہر نیا طریقہ معرفت الہی میں رکاوٹ تو بن سکتا ہے مگر وہ اس کے لئے زینہ کا کام نہیں دے سکتا۔ حقیقت ہے کہ اور ادو وظائف کے مروجہ طریقے سنت رسول سے ثابت نہیں۔

مزید یہ کہ یہ تمام اور ادو وظائف جسمانی عمل ہیں اور جسمانی ورزش کبھی روحانی ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ جسمانی عمل جسم کے اندر کوئی صفت پیدا کر سکتا ہے۔ مگر جسمانی عمل سے روحانی صفت پیدا ہونا کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔

اسلامی نقطہ نظر سے انسان کے وجود کی دو حیثیتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ انسان کا ایک ظاہری جسم ہے جو مختلف قسم کی مادی ضرورتیں رکھتا ہے ۔ ان مادی چیزوں کی فراہمی کے بغیر مادی جسم کا بقاء مثلاً کھانا، پانی، کپڑا، مکان وغیرہ۔ انسانی شخصیت کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ اس کے

اندر ایک غیر مرئی ہستی موجود ہے جس کو روح کہا جاتا ہے۔ اس روح کی بھی کچھ ضرورتیں ہیں۔ ضرورتیں مادی نوعیت کی نہیں ہیں۔ وہ تمام تر غیر مادی نوعیت کی ہیں۔ روح اپنی ذات میں ایک معنوی وجود ہے، اس لئے اس کی ضرورتیں بھی معنوی نوعیت کی چیزوں ہی سے پوری ہو سکتی ہیں۔ اس تقسیم کے مطابق، انسان چوں کہ دوہرا شخصیت کا مالک ہے، اس لئے انسان کو زندہ رہنے کے لئے دو قسم کے رزق کی مسلسل فراہمی درکار ہے۔ ایک وہ جس کو رزق جسمانی کہا جاسکتا ہے۔ دوسرا وہ جس کو رزق روحانی کہہ سکتے ہیں۔ رزق جسمانی کے حصول کا مرکز، قرآن کے مطابق، موجودہ زمین ہے (ابراہیم ۳۲) اور رزق روحانی کے حصول کا مرکز ذات خداوندی ہے۔ اسی لئے قرآن میں اس دوسرے رزق کو رزق رب (طه ۱۲۱)، یا رزق حسن (هود ۲۸) کہا گیا ہے۔

رزق روحانی در اصل خارجی سر چشمہ رزق سے اتصال کا نتیجہ ہے۔ یہ مقصد تمام تر ذہنی عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اس ذہنی عمل کو قرآن میں تذکر اور تفکر کہا گیا ہے۔ آدمی جب اپنے ذہن کو عالم خارجی سے ہٹ کر عالم باطنی کی طرف لے جاتا ہے، جب وہ اشیاء کے مادی پہلو سے اوپر اٹھ کر ان کے معنوی پہلو پر اپنی سوچ کو مرتکز کرتا ہے تو اس وقت انسان ایک نئی دنیا سے متعارف ہوتا ہے۔ وہ نئی لطیف حقیقتوں کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی معرفت کو بڑھاتا ہے اور اس طرح اس کو وہ رزق عطا کرتا ہے جس کے اوپر وہ جی سکے۔

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو کسی حد پر ٹھہرنا نہیں جانتا۔ حد پر ٹھہرنا آدمی کے لئے ذہنی موت کے ہم معنی ہے۔ کسی آدمی کا حد پر ٹھہر جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ رزق روحانی سے محروم ہو گیا۔ کیوں کہ جس آدمی کو رزق روحانی سے حصہ مل رہا ہو، اس کا فکری ارتقاء مسلسل جاری رہے گا۔

ISLAM: THE VOICE OF HUMAN NATURE By Maulana Wahiduddin Khan Only God-centred religion is real and in harmony with man's nature. But this truth does not occur to him until the hour of crisis and peril is upon him. A man may have any religion, or any material props he chooses, but, in moments of real crisis, it is to God that he calls out for help. Such an experience, which we all go through at one time or another in our lives, is a clear indication that the God-centred religion is the only true one. As such, it should pervade man's entire existence. Any religion other than this will fail him in his hour of need, in the Hereafter, just as ordinary, everyday means of support so often do in moments of crisis in this world. 22 14.5 cm, 64 pages. ISBN 81-85063-74-5, Rs. 30

Printed page