Al-Risala · July 1995

The Story of America, by John A. Garraty.

Al-Risala, July 1995, pp. 23–28

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو پڑھتے ہوئے ایک مقام پر نظر سے گزرا کہ ۵ اکتوبر ۱۹۷۳ء کو جب کہ یہودیوں کا مقدس دن تھا، مصر اور شام نے دوبارہ اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ اسی دوران اوپیک نے جو عربوں کے کنٹرول میں تھی، امریکہ، جاپان، مغربی یورپ کو اس انتقام میں تیل کی سپلائی بند کر دی کہ انہوں نے اسرائیل کی مدد کی تھی۔ اس کا اثر امریکی صارفین پر نہایت گہرا پڑا۔ گیسولین پر راشن لگ گیا۔ سارے امریکہ میں گیس پمپ پر کار کی لمبی لائن لگنے لگی۔ عربوں کے پیدا کردہ تیل کے اس بحران نے امریکیوں کو بتایا کہ یہ پابندی جاری رہی تو بیشتر عوام کی اقتصادیات اور طرز زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی: This Arab oil crisis caused Americans to realize that an extended ban would threaten the economy and life style of most people. (p. 863)

قدیم زمانہ میں افسانوی شہزادہ کی جان کسی طوطے میں ہوتی تھی جو کسی دور کے مقام پر رکھا ہوا تھا۔ ترقی یافتہ امریکہ کی جان دوبارہ عربوں کی سرزمین میں ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ قدیم شہزادہ کے طوطے کا پنجرہ اس کے اپنے قبضہ میں نہیں ہوتا تھا۔ مگر آج کے امریکہ نے عرب ورلد کو پوری طرح اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے۔

میں ایک مسلم لائبریری کے ریڈنگ روم میں بیٹھا ہوں۔ سامنے کی میز پر مختلف قسم کے پرچے رکھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کو یہاں کے مسلمان نکالتے ہیں۔ کچھ ٹائٹل یہ ہیں: Muslim World Monitor Bosnia News Letter The Pakistan Link اس قسم کے بہت سے پرچے تھے۔ مگر ان کے مندرجات میں احتجاجی پہلو نمایاں تھا۔ مثلا یہ کہ کلنٹن نے واشنگٹن میں سلمان رشدی سے ملاقات کر کے اسلام اور مسلمانوں کی انسلت مغرب کی تخریبی پالیسیوں کا نشانہ یہ ہے کہ اسلامی احیاء کی تحریکوں کو کچل دیا جائے، وغیرہ: Clinton's insult to Islam. West's disruptive policies aimed at undermining the revival of Islam میز پر جتنے بھی مسلم پرچے تھے سب میں احتجاجی پہلو غالب تھا۔ اگر ان سب کا مشترک نام پروٹسٹ رکھ دیا جائے تو وہ غلط نہ ہوگا۔ انھیں کے درمیان ایک اور ہفت روزہ تھا۔ اس کا نام تھا۔ (L.A. India Journal) یہ ہفت روزہ ایک ہندو تنظیم نکالتی ہے۔ اس کا انداز بڑی حد تک معلوم ہوا کہ امریکہ میں ہندوؤں کے پرچے زیادہ معیاری اور زیادہ کامیاب ہیں۔ عجیب بات ہے کہ امریکہ میں بھی ہندو اور مسلمان کا فرق باقی ہے۔ حالاں کہ تعداد کے اعتبار سے دونوں تقریباً یکساں ہیں۔ یعنی ہر ایک چھ ملین۔

۲۹ دسمبر کی شام کو جناب عبداللطیف صاحب کے مکان پر کھانا تھا۔ یہاں کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ جناب عبدالوہاب صاحب نے انڈسٹری کے بارہ میں کئی باتیں بتائیں۔

بات انھوں نے یہ بتائی کہ جاپان امریکہ سے بہت بڑی مقدار میں لوہے کے ٹکڑے (scraps) یہ ٹکڑے بڑے بڑے جہازوں میں لاد کر یہاں سے جاپان جاتے ہیں۔ ان جہازوں میں کارخانے بھی لگے ہوتے ہیں۔ چنانچہ سمندر کے اندر دورانِ سفر ہی میں ان ٹکڑوں کو چادر میں تبدیل کر لیا جاتا ہے۔ اس سے انھیں ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سفر کا وقت مزید استعمال ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس قسم کی چادروں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہے۔ سمندر میں مفت کا پانی وافر مقدار میں مل جاتا ہے جس سے وہ بنی ہوئی انتہائی گرم چادروں کو ٹھنڈا کر سکیں۔ یہ ہے ایک کام کے دوران دوسرا کام کرنا۔

یہاں جو لوگ تھے ان میں سے ایک مسٹر شیپر د دادا بھائی تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آج کل مسلمانوں کے خلاف ہر جگہ سازشیں ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کو فنا کرنے کی تدبیر کی جا رہی ہے۔ مسٹر ادا بھائی نے کہا: پھر ہم نے کیا گھاس کھا رکھی ہے۔ آخر ہماری سمجھ کہاں چلی گئی ہے۔ کرنا چاہتے ہیں تو ہم ایکسپلائٹ کیوں ہو جاتے ہیں۔ وہ سازش کرتے ہیں تو ہم ان کی سازش کا شکار کیوں

مسٹر اعظم سجاد قریشی سے ملاقات ہوئی۔ وہ مینجمنٹ کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جدید مینجمنٹ میں لگاتار ترقی (continuous improvement) کا اصول ہے۔ جاپان کی ترقی اسی اصول کو اختیار کر کے ہو رہی ہے۔ وہ لوگ مسلسل سوچتے رہتے ہیں کہ مزید ہم کیا نئی بات نکالیں۔ ہم اور کون سی بہتری پیدا کریں۔ اس طرح ان کا نظام برابر آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ لگاتار ترقی کا یہی اصول دین میں بھی ہے۔ مومن کا ایمان ایک اضافہ پذیر چیز ہے۔ اللہ کے ذکر، قرآن وحدیث کے مطالعہ، کائناتِ خداوندی میں غور و فکر سے ربانی غذائیں لے کر برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اضافہ کا یہ عمل مومن کی شخصیت میں موت کے آخری لمحہ تک جاری رہتا ہے۔ ایک موقع پر میں نے بخاری کی یہ حدیث سنائی کہ ایک دیہاتی شخص مدینہ آیا۔ اس نے مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا۔ صحابہ اس کو مارنے کے لئے دوڑے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو۔ پیشاب کی جگہ پر پانی لے کر بہا دو۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لئے اٹھائے گئے ہو، مشکل پیدا کرنے کے لئے نہیں اٹھائے گئے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں اگر کوئی شخص پیشاب کر دے یا اور کوئی گندگی ڈال مثلاً وہ خنزیر کو مسجد میں ڈال دے۔ یا ہولی کا رنگ پھینک دے تو ایسی حالت میں مسلمان کو کیا کرنا چاہئے۔ مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس کو مسجد کی بے حرمتی کا مسئلہ نہ بنائیں بلکہ وہ اس کو مسجد کی صفائی کا مسئلہ بنائیں۔ اس طرح کے کسی واقعہ کو اگر مسجد کی بے حرمتی کا سوال بنا دیا ئے تو اس سے فساد برپا ہوتا ہے اور اگر اس کو مسجد کی صفائی کا سوال بنایا جا جائے تو ایک ڈول پانی پر معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ ایک صورت میں خون بہائے جاتے ہیں اور دوسری صورت میں پانی کو بہانا کافی ہو جاتا ہے۔

آسانی پیدا کرنے والے اور مشکل پیدا کرنے والے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہئے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہو تو وہ اس کو گھٹانے والے بنیں، وہ اس کو بڑھانے والے نہ بنیں ۔ یہ بھی ایک سنت رسول ہے۔ آجکل اگر کسی سے پوچھیں کہ سنت کیا ہے تو وہ کہے گا کہ داڑھی میں خضاب لگانا، سر پر عمامہ باندھنا، مسواک کرنا وغیرہ۔ لوگوں کو معلوم نہیں کہ یہ بھی ایک عظیم سنت ہے کہ کوئی شخص اگر مسجد جیسی مقدس جگہ پر گندگی ڈال دے تو آپ مشتعل نہ ہوں۔ معاملہ کو مزید نہ بڑھائیں۔ بلکہ جس مقام پر مسئلہ پیدا ہوا ہے وہیں دھو کر اسے ختم کر دیں۔ امریکی مسلمانوں کی ایک تنظیم کے ایک عہدیدار نے اپنے یہاں کا چھپا ہوا پمفلٹ مجھے دیا۔ یہ جو دھیا کی بابری مسجد کے بارہ میں تھا۔ اس میں بابری مسجد کی تصویر کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

The Babari Masjid at Ayodhya was demolished on December 6, 1992 by a frenzied mob of thousands of militant Hindus., یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے مختلف الفاظ میں یہی بات لکھ رکھی ہے۔ مگر اس کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ ۶ دسمبر کے واقعہ کو جس طرح انھوں نے لکھا ہے اسی طرح خدا کے فرشتوں نے بھی اس کو یقینی طور پر لکھ رکھا ہے۔ اور مسلم دانشوروں کی اس تحریر کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ وہ فرشتوں کے اندراج کے مطابق ہو۔ مجھے سخت شبہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ فرشتوں کے رجسٹر میں غالباً اس واقعہ کی بابت برعکس طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہوں گے:

Incompetent Muslim leaders of India turned Hindus into a frenzied mob and they demolished the Babari Masjid at Ayodhya on December سان فرانسسکو سے ڈاکٹر منظور غوری نے ٹیلی فون کیا اور اپنے یہاں آنے کی دعوت دی۔ کے مطابق ۳۱ دسمبر کو ایک ملکی سفر ہوا۔ صبح کو جناب یونس سمجی کے ساتھ گارڈن گروو سے ایئر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ یونس سمجی صاحب گجراتی ہیں۔ حسب عادت راستہ میں ان سے سوال کر کے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ ہر آدمی سے اس کے میدان کی بات اور اس طرح معلومات میں اضافہ کرتا ہوں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ گجرات میں دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ دینداری انھوں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے اس کی وجہ یہ بتائی کہ گجراتی لوگ علماء کرام سے بہت زیادہ عقیدت اور تعلق رکھتے ہیں۔ ہم لوگوں کو بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ علماء کرام وارث انبیاء ہیں۔ نے پوچھا کہ گجراتیوں کے جو ادارے ہیں، ان میں آپس میں جھگڑا بہت کم ہوتا ہے۔ مقابلۂ ان میں زیادہ اتحاد پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں بھی گجراتیوں کا مزاج ہی اس کا سبب ہے۔ گجراتیوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ ادارہ میں ۵۰۰ روپیہ دے کر الگ ہو جائے گا۔ وہ پانچ پیسہ خود اس سے لینے کی کوشش نہیں کرے گا۔

اس طرح بات کرتے ہوئے مقامی ایئر پورٹ پہنچا۔ یہ ایئر پورٹ چھوٹا مگر نہایت منظم تھا۔ امریکن ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۱۲ کے ذریعہ سین جوزے کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ ایک گھنٹہ کی پرواز تھی۔ جہاز کے اندر امریکن ایئر لائنز کا میگزین (American Way) دیکھا۔ اس میں ایک امریکی سائنس داں (Hans Christian Von Baeyer) کی کتاب (The Fermi Solution) کا ایک باب نقل کیا گیا تھا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کا تقریباً ۹۰ فیصد حصہ ناقابل مشاہدہ مادہ (invisible material) پر مشتمل ہے۔ اس کو عام طور پر تاریک مادہ (dark matter) کہا جاتا ہے۔ اس کو براہ راست دیکھا نہیں جاسکتا۔ البتہ اس کو بالواسطہ دیکھنے کا ایک طریقہ موجود ہے : but there is an indirect way of detecting it. یہ بالواسطہ طریقہ یہ ہے کہ ان ناقابل مشاہدہ اجرام سماوی کا رنگ اسپکٹرم پر بدلتا ہوا دکھائی

دیتا ہے :

their colors shift toward the red end of the spectrum. (p. 44)

سائنس چار سو سال سے پر اسراریت کی لہیر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ تاریک ادوار میں دنیا کو گھیرے ہوئی تھی۔ اس کوشش میں سائنس نے نہ صرف علم کے کچھ جزیروں کو دریافت کیا ہے بلکہ بلی کے وسیع سمندر سے بھی آدمی کو واقف کرایا ہے :

Science, in clearing away the fog of myth and mysticism that shrouded the world in the Dark Ages, has exposed not only sharply delineated islands of knowledge but also boundless seas of ignorance. (p. 47)

۲۹ دسمبر کی سہ پہر کو جہاز سین جوزے ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ یہاں ڈاکٹر جہاں گیر عالم موجود تھے۔ ان کے ساتھ آگے کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ پورا علاقہ نہایت صاف ستھرا ہے، اس کو عام طور پر (Bay Area) کہا جاتا ہے۔ پہلے ہم لوگ پالو آلٹو (Palo Alto) گئے۔ یہاں جناب منظور غوری صاحب کے مکان پر کچھ دیر قیام رہا۔ پالو آلٹو عالمی تجارت کا مرکز ہے اور بہت زیادہ مہنگا علاقہ ہے۔ منظور غوری صاحب علی گڑھ سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ نے ہجرت سے اپنا مسئلہ حل کیا ہے۔ ہمیں بھی ہجرت ہی سے اپنا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ اگر چہ دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ آپ لوگوں نے ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف ہجرت کی ہے۔ ہم کو ایک طریق کار سے دوسرے طریق کار کی طرف ہجرت کرنا ہوگا۔ تک ہندوستانی مسلمان احتجاجی طریق کار پر چل رہے تھے، اب انھیں صابرانہ طریق کار اختیار کرنا ہوگا۔ ۲۹ دسمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ منظور غوری صاحب کے ساتھ فری مانٹ (Fremont) گیا۔ زیر تعمیر مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ یہ مسجد ایک مکان خرید کر بنائی جا رہی ہے۔ یہاں مختلف لوگوں سے انفرادی انداز میں گفتگو ہوئی۔ منظور غوری صاحب ہندوستان کے مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک کالج چلانے کے لئے دس ہائی اسکول چاہئے۔ اسکول کے لئے پانچ ایلیمنٹری ایجوکیشن کا ادارہ چاہئے۔ نیچے کی تعلیم جب تک مضبوط نہیں ہوگی اوپر کی تعلیم مضبوط نہیں ہو سکتی۔ پہلے تو ہم نے یونیورسٹی بنائی تھی۔ اب ہمارا فوکس یہ ہونا چاہئے کہ ایلیمنٹری وہ ہندوستان کے دیہات میں تعلیم کو پھیلانا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں قسم کا

Printed page