Drunk driving : a license to kill
Al-Risala, July 1995, pp. 44–46
By Maulana Wahiduddin Khan
مضمون میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ کی سڑکوں پر ہر ۳۰ منٹ میں ایک مرنے والا ہو ہوتا ہے جس کا تعلق شراب نوشی سے متعلق ایکسیڈنٹ سے ہوتا ہے، اس میں بہت سے واقعات درج کئے گئے تھے اور بتایا گیا تھا کہ شراب پی کر گاڑی چلانے والا جب کسی کی موت کا سبب بنتا ہے اور اس پر کیس چلایا جاتا ہے تو یا تو وہ بچ جاتا ہے یا معمولی سزا پر چھوٹ جاتا ہے : How long must it be — and how many must die — before we make the punishment fit the crime? (p. موجودہ زمانہ میں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نام نہاد جدید تعزیرات (modern penology) کا حوالہ دے کر یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کا قانون سزا وحشیانہ ہے۔ دوسری طرف انسانی فطرت جدید نظریہ پر سزا کے خلاف احتجاج کر رہی ہے کہ اس نے مجرموں کے حق میں نرم رویہ اختیار کر کے جرائم کو اتنا زیادہ بڑھا دیا ہے کہ اب پورا انسانی سماج اس کی زد میں ہے۔ جنوری کو نیویارک سے دہلی کے لئے سوئس ایئر کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں مختلف اخبار اور رسالے کا مطالعہ جاری رہا۔ سوئس ایئر کی فلائٹ میگزین میں ایک مضمون خلا کے بارہ میں اس میں بہت سی سائنسی معلومات درج تھیں۔
اس میں بتایا گیا تھا کہ زمین سے جب ہم آسمان کو دیکھتے ہیں تو ہمارا یہ مشاہدہ براہ راست نہیں ہوتا بلکہ ۵۰ کلومیٹر موٹی چادر درمیان میں حائل ہوتی ہے جو مختلف قسم کی گیسوں سے بھری ہوئی ہے۔ آسمان کا نیلارنگ جو ہم زمین سے دیکھتے ہیں وہ اسی درمیانی چادر میں ہونے والے طبیعیاتی رد عمل (physical reaction) کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آسمان کا نیلا پن ہر ایک گرام ہوا میں اربوں ایٹم کی موجودگی کا نتیجہ ہے:
The blueness of the sky implies many billion atoms in every gram of air. رنگ کی مختلف قسموں میں سے آسمان کے لئے نیلے رنگ کا انتخاب ایک اعلیٰ ذہانت کا ثبوت کیوں کہ اس سے بہتر کوئی رنگ تصور میں نہیں آتا۔ اسی طرح زمین پر سبزہ کے لئے ہرے رنگ کا انتخاب آخری اعلیٰ انتخاب ہے۔ اگر آدمی صرف ان دو رنگوں پر غور کرے تو وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کے پیچھے ایک خدائی ذہن کارفرما ہے۔ کیوں کہ ایک برتر خدائی ذہن کے بغیر اس قسم کا آخری بہتر انتخاب ممکن ہی نہیں۔
۷ جنوری ۱۹۸۴ کی دوپہر کو سوئس ائیر کی فلائٹ ۱۴۲ کے ذریعہ میں نیو یارک سے دہلی کی طرف جا رہا تھا۔ جہاز روانہ ہوا تو کیپٹن کی طرف سے اعلان ہوا کہ آپ جس جہاز پر سوار ہیں وہ انتہائی ترقی یافتہ مواصلاتی نظام سے لیس ہے۔ آپ جہاز کے اندر سے کسی بھی وقت کسی بھی مقام کے لئے ٹیلی فون کر سکتے ہیں۔
راستہ میں انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون (۷ جنوری ۱۹۹۳) پڑھا۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ امریکی صدر بل کلنٹن کی والدہ کیلی (Virginia Kelley) کا ۷۰ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ انھوں نے تین نکاح کئے ۔ پہلے شوہر کا انتقال کار ایکسیڈنٹ میں ہوگیا۔ یہ حادثہ مستقبل کے صدر آمریکہ کی پیدائش سے چار ماہ پہلے پیش آیا :
He died in a car accident about four months before the future president was born جہاز دلی کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ہندوستانی وقت کے لحاظ سے رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا۔
اس وقت ایک تجربہ گزرا ۔ اس کے بعد میں نے کہا ۔ اس دنیا میں انسان کے لئے قابلِ حصول لذیذ صرف ایک ہے۔ وہ ہے اللہ کی یاد میں رونا۔ اللہ کی یاد میں رونا انسانی روح کے لئے لذت اس لئے ہے کہ وہ خدائے کامل سے قربت کا لمحہ ہوتا ہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو انسان لذت سمجھے ہوئے ہے وہ فریبِ لذت ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں لذت۔ رات کو ۱۲ بجکر دس منٹ پر جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ شمسی کیلنڈر کے اعتبار سے ہم جنوری کی آٹھویں تاریخ میں داخل ہو چکے تھے۔ اسی طرح ایک دن ختم ہو کر دوسرا دن آتارہے یہاں تک کہ وہ آخری دن آ جائے گا جب کہ انسان محدود دنیا سے نکل کر ابدی دنیا میں داخل ہو جائے گا۔
WOMAN BETWEEN ISLAM AND By Maulana Wahiduddin Khan The status of woman in Islam is the same as that of man. Injunctions about honour and respect enjoined for one sex are enjoined equally for the other sex. So far as rights in this world and rewards in the Hereafter are concerned, there is no difference between the sexes. In the organization of daily living, both are equal participants and partners. Yet Islam sees man as man and woman as woman and, considering the natural differences, it advocates the principle of the division of labour between the two sexes rather than the equality of labour. 22 x 14.5 cm. 256 pages. ISBN 81-85063-75-3, Rs. 95 By Maulana Wahiduddin Khan This book, the result of 30 years spent by the author in exhaustive research, attempts to present the basic teachings of religion in the light of modern knowledge and in a manner consistent with modern scientific method. After a thorough investigation of the subject, the writer has reached the conclusion that religious teachings are, academically, valid and as understandable and intellectually acceptable as any of the theories propounded by men of science. "... in the fourteen hundred years of Islamic history, innumerable books on Islam have appeared. There are just a few books calling mankind to God which are clearly distinguishable from the rest because of the clarity and force with which they make their appeal. Without doubt, this book is one of that kind." - Al-Ahram (Cairo) 22 x 14.5 cm, 271 pages. ISBN 81-85-063, Rs. 85