Al-Risala · August 1995

Three Religions: A commitment for peace

Al-Risala, August 1995, pp. 1–6

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دعوت نامہ میں مجھے خصوصی مہمان (special guest) کے طور پر مذکورہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کے مطابق اسپین کا سفر ہوا۔

اس سفر کا پہلا سبق آموز تجربہ اس وقت ہوا جب کہ مجھے اس کا ” کوپن “ ملا۔ ہوائی سفر کا روایتی طریقہ یہ ہے کہ آدمی متعلقہ ائیر کمپنی سے ٹکٹ حاصل کرتا ہے ۔ اس کے بعد ائیر پورٹ پر اسے بورڈنگ کارڈ دیا اس بار پی ٹی اے کی بنیاد پر ائیر فرانس سے، ہمیں جو چیز دی گئی وہ معروف ٹکٹ نہ تھا۔ کوپن جو گویا ٹکٹ بھی تھا اور بورڈنگ کارڈ بھی۔ مغربی ممالک اسی طرح اپنی ترقی کا سفر مسلسل جاری رکھتے مگر ہندوستان جیسے ملکوں میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔

۲۷ نومبر کی صبح کو گھر سے ائیر پورٹ جانے کے لیے نکلا تو سورج کی روشنی پھیل چکی تھی۔ حسب معمول گاڑیاں دوڑتی ہوئی نظر آئیں ۔ قدیم زمانے کے ایک شاعر نے کہا تھا : ہوئی صبح اور ادھر ہم کان پر رکھ کر مسلم نکلے موجودہ زمانہ کا آدمی شاید کہے گا کہ صبح ہوئی اور ہم اپنی گاڑی لے کر روانہ ہوئے۔ مشینی انقلاب نے قدیم و جدید میں جو فرق کیا ہے اس کی یہ ایک غلامی مثال ہے۔

دہلی کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر داخل ہوا تو اندر کا وسیع ہال پلاسٹک کے بڑے بڑے بنڈلوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر ایک پر لکھا ہوا تھا، باکو (Baku) یہ سب ائیر ٹرانسپورٹ کے ذریعہ روس بھیجے جارہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ تمام بنڈل بسے ہوئے لباس اور گرم کپڑے سے بھرے

روس سے ہندوستان جنگی ہتھیار خرید رہا ہے۔ مگر ضرورت کی چیزوں کے لیے خود روس مجبور ہے کہ وہ ان کو ہندوستان اور دوسرے ملکوں سے خریدے۔ اشتراکی نظام کی یہ غیر متوازن ترقی بھی کیسی عجیب ہے۔

انتظار گاہ کے اندر دیوار پر دو تیروں کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ یہ شیر لکڑی کاٹ کر اور اس پر قدرتی رنگ دے کر بنائے گئے تھے۔ دور سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے سچ مچ دو شیر کھڑے ہوئے شیر فطرت کا ایک عجیب منظر ہے۔ شیر تمام جانوروں میں سب سے زیادہ طاقت ور جانور ہوتا ہے۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ شیر سب سے زیادہ غیر جنگجو جانور ہے۔ شیر جنگل کا بادشاہ ہونے کے ساتھ اعراض کا بادشاہ بھی ہے۔

ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں تھا کہ قریب کی خالی کرسیوں پر کچھ نوجوان مرد اور عورت آکر بیٹھ گئے۔ یہ سب مغربی سیاح تھے اور انگریزی میں بات کر رہے تھے۔ میرا رخ الٹی طرف تھا مگر قریب ہونے کی وجہ سے ان کی آواز کانوں میں آ رہی تھی۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہ تم نے دہلی میں کیا کیا دیکھا۔ بتانے والے نے جن چیزوں کے نام بتائے ان میں سے ایک "جامع مسجد" بھی تھی۔ میں نے سوچا کہ دہلی کی تاریخی جامع مسجد کو دیکھنے کے لیے ہر روز ملکی اور غیر ملکی لوگ کثرت سے آتے ہیں، گویا دعوۃ خود داعی کے پاس آرہا ہے۔ دور جدید میں سیاحت کے فروغ کی بنا پر یہ ممکن ہوا ہے۔ جامع مسجد کے ساتھ اگر ایک دعوتی شعبہ ہوتا تو اس کے ذریعہ ملک میں اور ملک کے باہر زبردست دعوتی کام ہو سکتا مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے بے فائدہ سیاسی شغف نے تمام دعوتی امکانات کو برباد کر رکھا ہے۔

دہلی سے ایئر فرانس کی فلائٹ نمبر،، کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایئر فرانس کی فلائٹ میگزین اٹلس (atlas) دیکھا۔ مگر اس میں یا فیشن والی چیزوں کے اشتہار تھے یا سیاحوں کی دل چسپی کی باتیں تھیں ۔ کوئی خاص مضمون قابل ذکر نہیں تھا۔

ڈیڑھ سو صفحہ کے اس خوب صورت میگزین میں ایک سادہ شیٹ لگی ہوئی تھی۔ یہ برائے تجاویز اس میں آٹھ زبانوں میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ پرواز کے دوران یا گراؤنڈ پر ہماری سروس کے بارہ میں آپ جو بھی تبصرے (comments) لکھنا چاہیں بلا ترد د لکھ کر ہمیں یا دستی

طور پر دے دیں یا بذریعہ ڈاک بھیج دیں۔ آٹھویں نمبر پر عربی عبارت تھی۔ اس کے الفاظ یہ تھے : الرجاء تزويدنا بملاحظاتكم على خدمتنا على الأرض واثناء السفر وان تدونوا كذلك مقترحاتكم على هذه البطاقة ثم ارسالها بالبريد أو تسليمها الى طاقم الطائرة. الخطوط الجوية الفرنسية. ہوائی کمپنی ایک تجارتی ادارہ ہے۔ تاجر اپنے بارہ میں لوگوں کا تبصرہ جاننے کا حریص ہوتا ہے۔ تاکہ وہ لوگوں کے مزاج کی رعایت کر کے اپنی تجارت کو زیادہ سے زیادہ مقبول بنائے ۔ اسی طرح داعی بھی مدعو کی ہر بات کو نہایت دھیان کے ساتھ سنتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح اس کے لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ مدعو کے مزاج کو سمجھ کر اپنی دعوت کو اس کے لیے زیادہ موثر اور قابل قبول بنا سکے ۔ ہوائی جہاز کی سواری مجھ کو ایک خدائی نشانی نظر آتی ہے۔ ہوائی جہاز کی ایک عجیب صفت یہ ہے کہ وہ انسان کی اُس کمزوری (vulnerability) کو ممثل کرتا ہے جو زمین کے اوپر اسے حاصل ہے۔ فٹ بال کی مانند ایک بڑا سا گولا ہے جو خلا میں تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہا ہے۔ خلا میں گردش کرتے ہوئے اس کرہ پر انسان آباد ہے۔ زمین کی اس مسلسل خلائی پرواز میں اگر ذرا سا بھی خلل پڑ جائے تو ایک لمحہ میں پوری انسانی نسل کا خاتمہ ہو جائے۔

کرہ زمین پر اپنی اس غیر محفوظیت کو انسان اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتا ، اس لیے وہ اس کو محسوس بھی نہیں کر پاتا۔ ہوائی جہاز آدمی کی اسی غیر محفوظ حالت کا محدود سطح پر ایک وقتی مظاہرہ ہے۔ جہاز انسان کی حیثیت عجز کی گویا ایک مشینی یاد دہانی ہے۔

اس دنیا کی ہر چیز اس لیے ہے کہ آدمی اس سے روحانی تجربہ حاصل کرے۔ مگر یہ روحانی تجربہ صرف اس کے حصہ میں آتا ہے جو میٹر میں نان میٹر کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ رسستہ میں وال اسٹریٹ جرنل (دروسیلز) کا شمارہ ۲۵ - ۲۶ نومبر ۱۹۹۹ دیکھا۔ اس میں سب کی سب تجارتی نوعیت کی خبریں تھیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ترکی کے کپڑے کے ایکسپورٹ میں فرانس اور اٹلی کے بعد یورپ میں تیسرے نمبر پرکھتا۔ پچھلے سال اس نے چار بلین ڈالر سے زیادہ کے کپڑے ایکسپورٹ کیے ۔ مگر اب مقابلہ کی وجہ سے ترکی کی یہ صنعت زوال کی طرف جا رہی ہے۔ Ours could soon be a dying industry. (p. 4) : ایکسپورٹر نے کہا

ایئر ہوسٹس مشروبات کی گاڑی لے آئی۔ میرے قریب کی سیٹ پر جو صاحب بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے وہسکی مانگی۔ میں نے آرینج جوس کے لیے کہا۔ میز پر جب دونوں گلاس رکھے گئے تو میں نے دیکھا کہ دونوں مشروب کا رنگ بالکل یکساں ہے۔ اگرچہ ایک شراب تھی اور دوسرا خالص آرینج کا رس۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ دنیا میں چیزیں مشابه انداز میں پیدا کی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ حق جس طرح عمدہ الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے، اسی طرح باطل بھی خوب صورت الفاظ میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ مشابہت برائے امتحان ہے، اس لیے آدمی کو موجودہ دنیا میں بے حد چوکس ہو کر رہنا ہے۔ ورنہ وہ ایک مشروب کو فروخت جوس سمجھ کر پینے لگے گا۔ حالاں کہ بعد کا انجام بتائے گا کہ وہ پھل کے رس کے رنگ میں شراب تھی جس کو وہ نادانی اور بے شعوری کے تحت پی گیا۔

جس ہم سفر نے شراب لی تھی، ان سے بات کرتے ہوئے میں نے پوچھا کہ شراب پینے سے آپ کو کیا فائدہ ملتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر آپ کیوں شراب پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تناؤ دور کرنے (relaxation) کے لیے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی عمر ۳۰ سال ہو چکی ہے۔ مگر وہ کئی گھریلو مسائل سے دوچار ہیں، اب تک انھوں نے شادی بھی نہیں کی۔ اس لیے ذہن پر مستقل بوجھ رہتا ہے اس بوجھ کو اتارنے کے لیے وہ شراب پیتے ہیں۔ اکثر شراب نوشوں کا یہی حال ہے۔

اس جہاز میں مدراس کے ایک ہندوستانی سے ملاقات ہوئی۔ وہ میکانیکل انجینئر ہیں اور ان کا نام آر ویسے کما رہے ہیں۔ وہ ایک شپنگ کمپنی (آنگلو ایسٹرن شپ مینجمنٹ لمیٹڈ) میں ملازم ہیں۔ وہ پانچ سال سے سمندری جہاز میں کام کرتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ سمندر میں جب طوفان آتا ہے تو اس وقت آپ لوگ کیا کرتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس وقت ہم انتظار کرتے ہیں۔ کیوں کہ ہم نیچر کے خلاف نہیں جاسکتے :

We are supposed to wait. Because we cannot go against the nature. انتظار بے عملی نہیں، اس دنیا میں انتظار بھی ایک عملی پالیسی ہے۔ مذکورہ مسافر کو میں نے ایک حدیث اس حدیث کو سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں : (افضل العبادة انتظار الفرج (کشادگی کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے)

ساڑھے نو گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد ہمارا جہاز فرانس کی راجدھانی پیرس میں اتر گیا۔

ہوائی اڈہ غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ وہ خود ایک شہر ہے۔ میں یہاں کئی بار آ چکا ہوں۔ مگر اب تک اس کا جغرافیہ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ کاؤنٹر پر ایک خاتون ساڑی پہنے ہوئے تھیں۔ انھوں نے میرے حلیہ سے سمجھا کہ میں بھی ایک ہندوستانی ہوں۔ انھوں نے میرا ٹکٹ کمپیوٹر پر چیک کرنے کے بعد کہا: پتا جی، آپ کی فلائٹ ”ٹرمنل ون“ سے ہے ۔ وہاں تک آپ کو بس سے جانا ہوگا۔ آپ اس کری پر بیٹھ جائیں۔ ابھی آپ کو لے جا کر بس پر سوار کرا دیتی ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد میں ہوائی کمپنی کی بس میں تھا۔ پیرس کے مختلف حصوں سے گزرتی رہی یہاں تک کہ اس نے مجھے ٹرمنل ون پر پہنچا دیا۔ یہاں ائیر پورٹ پر مجھے باتھ روم جانا تھا۔ میں اتفاق سے معذوروں کے باتھ روم میں چلا گیا۔ وہ غیر معمولی طور پر بڑا تھا۔ اس کے اندر ہر قسم کی سہولتیں موجود تھیں۔ حتیٰ کہ اس کے اندر انٹراکام بھی لگا تا کہ معذور شخص کو کوئی مشکل پیش آ جائے تو فوراً وہ انٹراکام پر بتا کر اپنی مدد کے لیے ائیر پورٹ کے آدمی کو بلا سکے ۔ میں نے کہا کہ خدایا، میں بھی ایک معذور ہوں ۔ دنیا میں معذور شخص کو خصوصی رعایت کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ کاش آخرت میں بھی مجھ کو معذور قرار دے کر میرے ساتھ خصوصی رعایت کا معاملہ کیا جائے ۔

فرانس میں تقریباً ۱۵۰ چھوٹی بڑی مسجدیں ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں قطعی اعداد و شمار حاصل نہیں ۔ تاہم عام اندازہ یہ ہے کہ یہاں پانچ ملین مسلمان آباد ہیں۔ فرانسیسی مسلمانوں میں زیادہ تر مراکو، الجزائر اور تونس وغیرہ سے آئے ہوئے لوگ ہیں۔ فرانس میں مسلمانوں کی تقریبًا نو سے تنظیمیں پائی جاتی حال میں ان کا ایک وفاق قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ۱۹۹۰ میں پیرس میں ایک اسلامی کانفرنس ہوئی جس میں پانچ ہزار سے زیادہ مسلمان شریک ہوئے ۔ اس کا موضوع تھا : الحرینات وحقوق الانسان في الاسلام ۔

فرانس کی آبادی میں تقریباً ۸۰ فی صد کیتھولک عیسائی ہیں ۔ پندرہ فی صد مسلمان ہیں ۔ فی صد میں پر وٹسٹنٹ اور یہودی ہیں ۔ آپ فرانس کے کسی بھی حصہ میں جائیں، آپ کی ملاقات کسی نہ کسی مسلمان سے ہو جائے گی ۔ خواہ وہ ائیر پورٹ ہو یا کوئی کھیت ۔

پیرس کے ائیر پورٹ پر ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ انگریزی جانتے تھے اس لیے مشکل پیش نہیں آئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ فرانس ہمیشہ ”اسلام دشمنی “ میں امریکہ اور مغربی ملکوں کے

ساتھ رہا ہے۔ لیکن آج اسی ملک میں زبردست اسلامی لہر آئی ہوئی ہے :

But now a severe Islamic wave is sweeping the same nation. مگر سوالات کے دوران اندازہ ہوا کہ " اسلامی لہر" کا یہ نظریہ زیادہ تر خوش فہمی پر مبنی ہے۔ نے بتایا کہ فرانس کے چالیس ہزار مسلم نوجوان مکمل طور پر اسلام کے زیر اثر ہیں۔ مگر جب میں نے مزید سوالات کیے تو معلوم ہوا کہ یہ وہی نوجوان ہیں جو بے روزگاری کا شکار ہیں یا اس احساس میں مبتلا ہیں کہ فرانس کی سوسائٹی میں انھیں با عزت مقام نہیں ملا۔ دوسرے لفظوں میں اس اسلامی لہر کے پیچھے اصل محرک مادی محرومی کا احساس ہے نہ کہ آخرت کی جواب دہی کا احساس ۔ یہ اسلام کا ایکسپلائٹیشن ہے۔ اور اسلام کے اس قومی ایکسپلائٹیشن کا یہ الٹا نتیجہ نکلا ہے کہ ، مذکورہ فرانسیسی مسلمان کے اعتراف کے مطابق ، یہاں کی رائے عامہ شدت سے مسلمانوں کے خلاف ہو گئی ہے :

Printed page