Public opinion is extremely against Muslims.
Al-Risala, August 1995, pp. 6–11
By Maulana Wahiduddin Khan
ان انتہا پسند مسلمانوں نے اسلام کی نمائندگی اس طرح کی ہے کہ فرانسیسیوں کو نظر آتا ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ان کے سسٹم سے ٹکرا تا ہے۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے بہت سی غیر ضروری رکاوٹیں یہاں کے مسلمانوں کو پیش آرہی ہیں۔ فرانس کے وزیر داخلہ چارلس پاسک (Chartes Pasqua) نے شہرلیان (Lyon) کی مسجد کے افتتاح کے وقت اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں فرانس میں صرف اسلام نہیں چاہیے بلکہ ہمیں وہ اسلام چاہیے جو فرانس کا اسلام ہو :
We would not have just an Islam in France. There must be an Islam of France. فرانس کے مسلمانوں میں بہت تھوڑی تعداد کو چھوڑ کر سب کے سب نارتھ افریقہ کے مہاجرین ہیں۔ نو آبادیاتی دور میں فرانس نے ۱۸۳۰ء میں الجیریا کو فتح کیا ، ۱۹۰۹ء میں اس نے افریقی صحارا کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ۔ تیونس کو اس نے ۱۸۸۱ء میں فتح کیا۔ اسی طرح ۱۹۰۵ء میں مراکو کو اپنی سیاسی تحتی میں لے اس وقت اسپین کو بھی مراکو کا ایک حصہ دے دیا گیا تھا۔ نارتھ افریقہ کے علاقہ پر اسی قبضہ کے زمانہ میں دونوں ملکوں میں آمد و رفت بڑھی۔ اور بڑی تعداد میں افریقہ کے مسلمان اپنے ملکوں سے نکل کر فرانس میں روزگار کے لیے آگئے ۔ ان لوگوں نے فرانس کو سستا مزدور فراہم کیا جس کی اس
وقت فرانس کو سخت ضرورت تھی ۔
اب یہی لوگ فرانس کے شہری بن کر یہاں آباد ہوگئے ہیں۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس طرح حالات نے مسلمانوں کو اپنے مدعو کے ملک میں پہنچا دیا تھا۔ اگر وہ معاشی حصول کے بعد صرف دعوت کو اپنا نشانہ بناتے تو یہاں ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ اس کی ایک انفرادی مثال ڈاکٹر حمید اللہ صاحب ہیں۔ انھوں نے صرف علمی اور دعوتی دائرہ تک اپنے کو محدود رکھا۔ چنانچہ وہ فرانس میں ایک مقبول شخصیت بن گئے۔ مگر نام نہاد اسلام پسندوں نے کلچرل تشخص اور قومی حقوق کے نام پر فرانسیسیوں سے زور آزما ئی شروع کر دی ۔
اس غلط پالیسی کا یہ نتیجہ تو نہیں نکلا کہ فرانس میں ان مسلمانوں کے قومی مطالبات پورے ہو جائیں۔ البتہ یہ احتجاجی سیاست فرانس میں ان کے خلاف نفرت اور غصہ کی فصل اگارہی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں دعوت کے مواقع برباد ہو رہے ہیں ۔
پیرس میں ایک لڑکی ملی۔ اس نے اپنا نام شاد یہ بتایا، نام سے اس کی شخصیت واضح نہیں ہو رہی مزید دریافت پر معلوم ہوا کہ اس کا باپ ایک مصری مسلمان ہے۔ اس نے یہاں ایک عیسائی خاتون سے شادی کی۔ اس خاتون نے اپنا مذہب نہیں بدلا، اس کے بعد ان کے یہاں مذکورہ لڑکی (شادیہ) ایک عرصہ بعد مصری مسلمان اور اس کی عیسائی بیوی میں اختلاف ہو گیا۔ بڑھتے بڑھتے دونوں میں طلاق ہو گئی ۔ اب یہ عورت اپنی لڑکی کے ساتھ علیحدہ مکان میں رہتی ہے۔
گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ اصل مسئلہ غالباً یہ تھا کہ شاد یہ کا بوائے فرینڈ گھر میں آتا تھا۔ ڈرنک بھی کرنے لگی ۔ ان باتوں پر اس کی ماں کو اعتراض نہیں تھا۔ مگر مصری مسلمان سخت اعتراض کرتا تھا۔ فرانس چونکہ ایک مسیحی ملک ہے ، بیوی کا پلڑا بھاری ثابت ہوا۔ آخر کار مصری مسلمان کی مرضی کے علی الرغم اس نے طلاق لے لی ۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے مسلمان کس قسم کے نازک مسائل سے دوچار
فرانس کے مسلمانوں میں محدود تعداد نو مسلموں کی ہے۔ تا ہم یہ نو مسلم مسلمانوں کی کسی تبلیغ سے اسلام کی طرف راغب نہیں ہوئے ہیں بلکہ نہ زیادہ تر اپنے ذاتی مطالعہ سے اسلام کی طرف آئے ہیں۔ لوگ ہیں جن کو دور جدید کے " حنفاء " کہا جا سکتا ہے ۔ انسان کے اندر فطری طور پر حق کی طلب موجود
تاہم بعض افراد کے اندر یہ طلب زیادہ طاقت ور صورت میں ہوتی ہے۔ یہ لوگ خود اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر اپنی روحانی طلب کا جواب پا کر اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ ایک نومسلم خاتون (مسز زرینہ) نے ایک بڑا عجیب واقعہ بتایا۔ حال میں ایک فرانسیسی عیسائی نے اسلام قبول کیا ہے۔ قبولِ اسلام سے پہلے وہ صرف اسلامی لٹریچر سے آشنا ہوا تھا۔ قبولِ اسلام کے بعد اس کا ربط مسلمانوں سے ہوا۔ اس نے بعد کو اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ میں اسلام سے اس وقت واقف ہوا جب کہ میری ملاقات ابھی کسی ایک مسلمان سے بھی نہیں ہوئی تھی : Thank God I was introduced to Islam before I was introduced to a single Muslim. فرانس میں بڑی تعداد میں مستشرق پیدا ہوئے ۔ انھوں نے عربی زبان سیکھی اور اسلامی علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ عام طور پر ہمارے یہاں استشراق کو اسلام کے خلاف ایک مغربی سازش سمجھا جاتا ہے مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر ایسا کرتے ہیں کہ کسی کے یہاں اگر کوئی چیز خلافِ مزاج یا خلافِ حق دیکھتے ہیں تو بس اسی کو جز لائز کرنے لگتے ہیں۔ وہ آدمی کی تمام مثبت باتوں کو بھلا کر چند اختلافی باتوں ہی کو اس کی کل بات قرار دے دیتے ہیں۔
مستشرقین میں بہت سے ایسے افراد ہیں جنھوں نے اسلام کے گہرے مطالعہ کے بعد اسلام قبول کر لیا۔ انھیں میں سے ایک فرانس کا مستشرق اتین دینیہ (Etienne Dinet) ہے۔ وہ ۱۸۶۱ء میں پیرس میں پیدا ہوا، اور ۱۹۲۹ء میں پیرس ہی میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے ۱۹۲۷ء میں الجزائر میں اسلام قبول کر لیا۔ اس کے قبولِ اسلام کی تقریب میں عرب علماء کی بڑی تعداد شریک تھی۔ اپنا اسلامی نام ناصر الدین رکھا۔ اس کی اسلام پر کئی اعلیٰ تصنیفات ہیں۔ ان میں سے ایک فرانسیسی زبان میں لکھی ہوئی سیرت (Mohamet) ہے ۔ اس کی مختلف اسلامی کتابوں میں سے ایک کتاب عربی میں اشعة من نور الاسلام کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ وفات کے بعد اس کی وصیت کے مطابق، اس کی تدفین الجزائر کے ایک گاؤں بوسعادہ میں ہوئی۔
ڈاکٹر محمود المقدا د کی کتاب تاريخ الدراسات العربية في فرنسا ۱۹۹۲ء میں کویت سے
۳۰ صفحوں کی یہ کتاب فرانس میں عربی مطالعات کے موضوع پر ایک اچھی کتاب ہے۔ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۸۳۰ء میں جب فرانس نے الجزائر پر قبضہ کیا تو یہ فرانسیسیوں کے لیے عربی زبان اور عربی علوم کے مطالعہ کا نہایت طاقت ور محرک بن گیا۔ اس کے بعد فرانس میں بڑے بڑے مستغرب (مستشرق) پیدا ہوئے۔ انھیں میں سے ایک اہم شخصیت ہنری ماسیہ (H. Masse) کی ہے جس نے خاص اس موضوع پر ایک تفصیلی مقالہ شائع کیا ہے (صفحہ ۲۲۹)
عرب دنیا میں سیاسی نفوذ حاصل کرنے کے بعد فرانس نے عربوں کو فرانسیسی بنانے (فرنسۃ الشعب العربی) کی مہم چلائی تھی، مگر سیاسی اور فوجی بالا دستی کے باوجود فرانس ناکام رہا۔ العربی) کی مہم عملاً (صدمۃ الشعب الفرنسی) کے ہم معنی بن گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نظریہ کی طاقت ہر دوسری طاقت سے زیادہ عظیم ہے۔
بنگلہ دیش کی مصنفہ تسلیمہ نسرین، جو اپنے وطن سے بھاگ کر سویڈن میں مقیم ہے، آجکل فرانس کے دس روزہ دورہ پر ہے۔ اس کو فرانس بلا کر انسانی حقوق کی مجاہدہ کا انعام دیا گیا ہے۔ ۱۹۹۴ کو موصوفہ سے فرانس کے صدر متراں (Francois Mitterrand) نے ریلیزی پیلیس میں ملاقات تسلیمہ نسرین نے صدر فرانس کو بتایا کہ کس طرح وہ اپنی روشن خیالی کی بنا پر انتہا پسند مسلمانوں کے عتاب کا شکار ہورہی ہے۔ ۲۰ منٹ کی یہ ملاقات خود پریسیڈنٹ متراں کی درخواست پر ہوئی ۔ کیونکہ صدر موصوف یہ چاہتے تھے کہ وہ فرانس کی طرف سے موصوفہ کی قدر دانی کا اظہار کریں۔ نام نہاد مسلم دانشور اس واقعہ پر صدر فرانس کو برا کہیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنھوں نے اعتراض کے اشو کو ہنگامہ آرائی کا اشو بنایا۔ اور اس طرح انتہائی غیر ضروری طور پر تسلیمہ نسرین کو ہیرو کا درجہ دے دیا۔
کسی طالب علم سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ غیر کمیونسٹوں کو رائٹسٹ اور کمیونسٹوں کو لیفٹسٹ کہا جاتا ہے۔ اس نے اپنی ذہانت کے زور پر جواب دیا ۔ اس لیے کہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ وہ کبھی رائٹ (درست) نہیں ہوتے :
مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ اصطلاح فرانس میں بنی۔ فرانسیسی ریولیوشن کے زمانہ میں نیشنل اسمبلی میں دو بڑے سیاسی گروپ تھے۔ کنزرویٹو گروپ بادشاہ کی حمایت کرتا تھا۔ اور ریڈیکل گروپ سسٹم میں ڈراسٹک تبدیلیوں کی مانگ کر رہا تھا۔ اسمبلی ہال میں ان کی نشستیں اس طرح تھیں کہ کنزرویٹو (شاه پسند) ممبران اسپیکر کے دائیں طرف بیٹھتے تھے۔ اور انقلاب پسند اسپیکر کے بائیں طرف۔ سے سیاسی اصطلاح میں انقلابی تبدیلی (radical change) چاہنے والوں کو لفٹسٹ کہا جانے لگا۔ پیرس آج کل ایک نئی تحریک کا مرکز بن رہا ہے جس کو اٹلانٹا پلس (Atlanta Plus) کہا جاتا ان کی مانگ ہے کہ ۱۹۹۶ میں اٹلانٹا میں ہونے والے اولمپک گیم میں عورتوں کو بھی برابر کی حیثیت سے شریک کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ۱۹۹۲ میں بارسلونا (اسپین) میں جو اولمپک کھیل ہوئے تھے، اس موقع پر یہ طے کیا گیا تھا کہ کھیلوں میں جنسی امتیاز کا خاتمہ کیا جائے۔ مگر ہم سہ مسلم ملک ابھی تک اس کے لیے راضی نہیں ہوئے ہیں۔ تحریک کی ایک پرجوش حامی خاتون نے کہا کہ جنسی امتیاز بھی نسلی امتیاز ہی کی مانند ہے :
Sex discrimination is analogous to the racial discrimination. میں نے ایک خاتون سے کہا کہ کیا آپ پسند کریں گی کہ اگلے اولمپک میں فرانس کی ایک خاتون افریقہ کے ایک مرد باکسر کا مقابلہ کرے۔ وہ اس پر راضی نہیں ہوئیں۔ میں نے کہا کہ خود آپ کی اسکیم کے مطابق، عورتوں کو عورتوں کے مقابلہ میں کھیلنا ہے نہ کہ مردوں کے مقابلہ میں۔ یہ تو خود ایک جنسی امتیاز ہے ، پھر آپ اس کو جنسی برابری کا نام کیوں دیتی ہیں۔
پیرس میں کچھ وقت گزارنے کے بعد وہاں سے میڈرڈ کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ سفر آئیبرین ایئرلائنز کی فلائٹ نمبر ۵۴۳ کے ذریعے طے ہوا۔ مقامی وقت کے لحاظ سے ۲۷ نومبر کی شام کو ساڑھے سات بجے جہاز روانہ ہوا۔ یہ ڈیڑھ گھنٹہ کا ایک خوش گوار سفر تھا۔ ہوائی جہاز آگے کی طرف جا رہا تھا اور میرا ذہن پیچھے کی طرف مراکش“ فرانس میں اسلام “ اور ” اسپین میں اسلام “ کی تاریخ کے صفحات الٹنے میں مصروف تھا۔
راستہ میں اسپینی ایر لائنز (Iberia) کی فلائٹ میگزین رونڈ الیمبریا کا شمارہ نومبر ۱۹۹۹ دیکھا۔ ۳۰ صفحہ کا یہ میگزین زیادہ تر سیاحوں کے نقطہ نظر سے مرتب کیا گیا تھا۔ اس میں سب سے زیادہ لمبا
مضمون غرناطہ کے بارہ میں تھا۔ رنگین تصویروں کے ساتھ یہ مضمون میگزین کے ۲۰ صفحات پر پھیلا ہوا یہ بیک وقت اسپینی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھا۔ اہل اسپین نے ایک عرصہ تک، مسلم دور کو نظر انداز کیا۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ اسپین کی مسلم یادگاروں کی اہمیت ان کے لیے مزید اضافہ کے ساتھ وہی ہے جو ہندوستان میں تاج محل کی ہے۔ چنانچہ مضمون کا عنوان اس طرح قائم کیا گیا تھا غرناطہ، جنت کی دوبارہ یافت :