Al-Risala · August 1995

Granada, paradise regained

Al-Risala, August 1995, pp. 11–19

By Maulana Wahiduddin Khan

مضمون یہاں سے شروع کیا گیا تھا کہ یہ عمارتیں اور یہ باغات اس لیے بنائے گئے تھے کہ ہم اپنے تصور کی جنت کا ایک پیشگی نظارہ کر سکیں ۔ یہاں زمینی ماحول کو ہماری تصوراتی جنت میں ڈھالا اندلس کا مسلم غرناطہ زمین پر جنت بنانے کی ایسی ہی ایک مثال ہے ۔ مضمون کی اگلی سطروں میں بتایا گیا تھا کہ ان مسلم بادشاہوں کو ان کے علامتی شہر غرناطہ سے اور ان کی بنائی ہوئی جنت عدن سے نکالے جانے کے پانچ سو سال بعد اب کچھ لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی کھوئی ہوئی جنت کو دوبارہ حاصل کر سکیں :

Now, five hundred years after they were expelled from Granada, their private Eden and their most emblematic city, there are some who are trying to regain that lost paradise of theirs. (p. 62)

اسپین میں داخل ہونے کے بعد جب میں نے دیکھا کہ یہاں مسلمان آزاد ہیں ، اور یہاں اسلام کی سرگرمیاں جاری ہیں تو میں نے کہا : ہندوستان میں کچھ نادان لوگ یہ کہتے رہتے ہیں کہ انتہا پسند ہندو انڈیا کو دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں ۔ مگر ان کو زمانہ کے فرق کا علم نہیں ۔ ان کو معلوم نہیں کہ پہلا اسپین بنانے کی کوشش ابھی کامیاب بھی نہیں ہوئی تھی کہ زمانہ نے عالمی حالات کو بدل کر "اسپین سازی" جیسے منصوبہ کا امکان ہی ختم کر دیا۔

اسپینی ایرلائنز کی اس فلائٹ میگزین (Ronda Iberia) میں اسپین کے مسلم عہد کا نہایت شاندار با تصویر تعارف کرایا گیا تھا۔ اس کو سیاحوں کے لیے اسپین کے سب سے زیادہ پرکشش مقام کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس ذیل میں اعتراف کیا گیا تھا کہ مسلم دور کے اسپین میں موجودہ اسپین سے بہتر حالات تھے۔ مزید یہ کہ الاندلس (مسلم اسپین) کی وراثت کبھی اسپین سے ختم نہیں ہوئی

اور نہ وہ کبھی ملک بدر کی گئی۔ وہ مختلف صورتوں میں یہاں باقی رہی (اصل عبارت ذیل میں ملاحظہ فرمائیں) میڈرڈ ایئرپورٹ پر زیادہ وقت نہیں لگا۔ کانفرنس کی طرف سے دو خواتین موجود تھیں۔ ایک گاڑی میرے حوالے کی جس نے مجھے ہوٹل ایورو بلڈنگ (Hotel Eurobuilding) پہنچا دیا ۔ میرا قیام کمرہ نمبر ۶۶ ۶ میں تھا۔

ہماری گاڑی جب میڈرڈ کی سڑکوں سے گزر رہی تھی تو اس کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ میڈرڈ مغربی یورپ کے بڑے شہروں کے مقابلے میں دوسرے درجے کا شہر ہے۔ ابتدائی مرحلہ میں اسپین نے مغربی یورپ کو سائنسی ترقی کا راستہ دکھایا تھا۔ مگر آخری مرحلہ میں اسپین پیچھے اور مغربی یورپ آگے ہو گیا ۔ اس کی وجہ یہاں کے مذہبی طبقہ کا غلط کردار ہے۔ انھوں نے اسپین کے مسلمانوں کے ترقیاتی پہلو کو نہیں دیکھا۔ انھوں نے صرف یہ دیکھا کہ وہ غیر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ۔ اس پہلو کو لے کر انھوں نے مسلمانوں کے خلاف خوب نفرت پھیلائی اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے علم کے خلاف بھی۔ اس منفی روش نے اسپین میں علمی ترقی کے عمل کو کئی سو سال پیچھے کر دیا۔

انگریز مورخ لین پول (Lane-Pool) نے موجودہ صدی کے آغاز میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام اسپین کے مسلمان (Moors in Spain) تھا۔ اس کتاب میں مصنف نے اسپینی مسلمانوں کے علمی اور تمدنی کارناموں کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ پھر اس نے لکھا ہے کہ اسپین کی مسلم حکومت کا خاتمہ اور وہاں سے جبراً مسلمانوں کو نکالنے کا یہ نتیجہ ہو ا کہ اسپین دوبارہ اسی غیر ترقی یافتہ حالت کی طرف لوٹ گیا جہاں وہ پہلے تھا۔ اس نے لکھا ہے کہ مسلمان اسپین سے نکال دیے گئے۔ کچھ دیر کے لیے مسیحی اسپین چمکا تھا

جس طرح چاند غیر کی روشنی سے چمک اٹھتا ہے۔ پھر گرہن لگ گیا۔ اور اسی تاریکی میں اسپین اب تک پڑا ہوا ہے :

The Moors were banished, for a while Christian Spain shone, like the moon, with a borrowed light, then came the eclipse, and in that darkness Spain has grovelled ever since. (p. مسلم اسپین کا تعارف سب سے پہلے مجھے مسدس حالی کے ذریعہ ہوا۔ اس میں اسپین کے مسلم عہد کا ذکر بڑے جذباتی انداز میں کیا گیا ہے۔ مگر وہ سلبی نوعیت کا تھا۔ مثلاً مسدس کے ایک بند کا دوسرا مصرعہ اس طرح تھا :

کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے وہ اجڑا ہوا کتر و منہ جا کے دیکھے اس کے بعد میں نے عربی یا اردو میں جتنے تذکرے پڑھے وہ تقریباً سب کے سب مرثیہ خوانی کے انداز میں تھے۔ مثلاً اقبال نے مسلم نوجوان کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا “ اقبال احمد سہیل کی ایک نظم میں میں نے اس قسم کے اشعار پڑھے : ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تا مغرب دنیا میں موافق جن دنوں تھی گردش دور زماں ہم سے مسلم دانشور اور مسلم ادیب اس قسم کی مرثیہ خوانی میں کیوں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ بہت بعد کو مجھے اس وقت معلوم ہوئی جب کہ اسلام کے وسیع مطالعہ کے بعد میں نے دوبارہ اسلام کو دریافت کیا۔ اب معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اسلام کی عظمت کو الحمراء اور لال قلعہ کی سطح پر دیکھنا سیاسی عظمت کے سوا کسی اور عظمت کی انھیں خبر نہیں۔ اگر وہ صاحب بصیرت ہوتے تو وہ جانتے کہ اسلام کی نظریاتی عظمت تمام عظمتوں سے زیادہ بڑی ہے۔ مزید یہ کہ یہ نظریاتی عظمت اس وقت بھی پوری طرح باقی رہتی ہے جب کہ در و دیوار کی عظمتیں کھنڈر ہو کر گزری ہوئی تاریخ کا حصہ بن چکی ہوں ۔

۲۸ نومبر کی صبح کو اٹھا تو یہ سوچ کر عجیب احساس ہوا کہ کل میں ہندوستان میں سوکر اٹھا تھا۔ میں سوکر اٹھا ہوں تو میں ہزاروں میل دور اسپین میں ہوں۔ وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی۔ نماز میں جب میں قرآن کے ایک حصہ کی تلاوت کر رہا تھا تو غیر معمولی طور پر میری آواز اونچی ہوگئی۔ یہ احساس کہ آپ ایک نئی جگہ اللہ کا نام بلند کر رہے ہیں، آپ کے جذبات میں ایک ہیجان پیدا کر دیتا ہے۔

زیادہ بڑھی ہوئی کیفیت کے ساتھ ذکر اور عبادت کا فعل انجام دینے لگتے ہیں۔

اسپین کے وقت میں اور انڈیا کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس وقت جب کہ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں بیٹھ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ یہاں رات کے ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔ اس وقت انڈیا کی گھڑیوں کی سوئی صبح چار بجے کا وقت بتا رہی ہے۔ وقت کے اسی فرق کی وجہ سے ایسا ہوا کہ میں، ۲۷۷ نومبر کی صبح کو دہلی سے روانہ ہوا، اور اسی دن شام کو میڈرڈ پہنچ گیا۔ اگر مشارق و مغارب میں فرق نہ ہوتا اور دونوں ملکوں کی گھڑی ایک ہی ہوتی تو، ۲۷ نومبر کوروانہ ہونے کے بعد جب میں یہاں پہنچتا اس وقت کلنڈر میں ۲۸ نومبر کی تاریخ شروع ہو چکی ہوتی۔

۲ نومبر کی شام کو جب میں کمپیوٹر کارڈ کے ذریعہ تالا کھول کر اپنے کمرہ میں داخل ہوا تو پہلی نظر میں کمرہ بہت شاندار نظر آیا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ میڈرڈ کا ایک ممتاز ہوٹل ہے۔ لیکن اگلے ہی دن میری نظر میں اس کی جاذبیت ختم ہو چکی تھی۔ حتی کہ یہاں ٹھہرنے کا شوق کرنے کے بجائے اب میں واپسی کے دن گننے لگا۔ یہی دنیا کی تمام بظاہر عمدہ چیزوں کا حال ہے۔ دنیا کی ہر چیز ملنے کے پہلے دن اچھی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگلے ہی دن وہ ایک معمولی چیز دکھائی دینے لگتی ہے۔ دور سے دیکھنے والے جس زندگی کو عیش کی زندگی سمجھتے ہیں وہ خود صاحب عیش کے لیے صرف بورڈم کے ہم معنیٰ ہوتی ہے۔ یہ صرف جنت کی خصوصیت ہے کہ اس کی جاذبیت کبھی ختم نہ ہوگی۔ بلکہ ہر دن اس کی لذت بڑھتی ہی چلی دنیا میں اللہ تعالی نے عمل میں لذت رکھ دی ہے اور آخرت میں عمل کے انجام میں۔ شیخ اسحاق ادریس سکوتہ کا تعلق سوڈان سے ہے۔ صبح کے ناشتہ پر ملاقات ہوئی تو ان سے میں نے مہدی سوڈانی (1885-1844ء) کے بارہ میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ وہ مجھے کچھ زیادہ سمجھ دار آدمی معلوم نہیں ہوتے خود یہ بھی ایک کم عقلی کی بات ہے کہ کوئی آدمی مہدی ہونے کا دعویٰ کرے ۔ کی ایک بھیڑ ان کے گرد اکٹھا ہو گئی۔ انھوں نے ایسے اقدام کیے جن کو صرف نا پختہ اقدام ہی کہا جا سکتا ہے شیخ سکوتہ نے جواب دیا : كان يرى رسول الله كثيراً۔ ولكن مشيئة الله فوق ذلك ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں بہت زیادہ دیکھتے تھے۔ مگر اللہ کی مشیئت اس سے اوپر ہے۔ خواب میں کسی کو دیکھنا یہ ایک شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس کی بنا پر مہدویت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ اس طرح کے خواب کی بنیاد پر کوئی قومی یا اجتماعی پالیسی بنائی جا سکتی۔ قومی یا ملی پالیسی

کی بنیاد شوریٰ پر ہے۔ اس طرح کے نازک معاملات میں اہلِ علم کے مشورے سے جو بات طے ہوگی وہ قابل عمل ہوگی نہ کسی کا یہ کہنا کہ میں نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا ہے۔ یہ بھی کس قدر عجیب بات ہے کہ مہدی سوڈانی پر انسائیکلو پیڈیا برطانیہ میں تقریباً ۲۲۰ سطر کا مضمون ہے اور خلیفہ دوم عمر بن خطاب پر صرف ۹ سطر کا مضمون۔

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے کہ مہدویت دعویٰ کرنے کی چیز نہیں، وہ کرنے کے دکھا جانے کی چیز ہے۔ مگر یہ بات بھی صحیح نہیں۔ مہدی کے معنی ہیں ہدایت یاب۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ کوئی بڑا سیاسی یا قومی کارنامہ کرے جس کو لوگ اپنی آنکھوں مہدی کی اصل صرف یہ ہے کہ ایک ایسے زمانے میں جب کہ اسلام کی حقیقت گم ہو چکی ہوگی، وہ اسلام کی معرفت حاصل کرے گا۔ گویا مہدی اصلا ہدایت کو پانے والا ہوگا نہ کہ ہدایت کا خارجی نظام قائم کرنے والا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی شخص کا مہدی ہونا یہ اللہ کے علم کی بات ہے، اس کا یقینی علم نہ خود مہدی کو ہوگا اور نہ اس کے معاصر لوگوں کو۔ کیوں کہ ہدایت یاب کون ہے، اس کا تعلق تمام تر علم الٰہی سے ہے۔

۲۹ نومبر کو دوپہر کے کھانے کی میز پر قاہرہ کے ڈاکٹر جمعہ (مصری بولی میں جمعہ) بھی موجود تھے۔ گفتگو کے دوران گائے (بقرہ) کا ذکر آگیا۔ انھوں نے فوراً سورۃ البقرہ کی آیتوں کی تلاوت شروع سب لوگ خاموش ہو کر سننے لگے۔

مصری قاریوں کی قرأت تو مجھ کو پسند نہیں لیکن مصری علماءء کی قرأت مجھ کو بہت پسند ہے۔ نہایت شوق کے ساتھ اس کو سنتا رہا۔ عام قاری جس طرح اشباع کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ تو مجھے بالکل غیر فطری معلوم ہوتا ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ صحابہ اس طرح قرآن کو پڑھتے ہوں گے۔ لیکن عرب علماء، خاص طور پر حجاز کے علما کی قرأت مجھے وجدانی طور پر صحابہ کے انداز قرأت کا تسلسل معلوم ہوتی اس کو سن کر تھوڑی دیر کے لیے ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے زمانے کا فاصلہ ختم ہو گیا ہے اور ہم ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ صحابہ کی تلاوت قرآن کو دوبارہ سن رہے ہیں۔ ایک مجلس میں کچھ عرب حضرات تھے۔ ایک صاحب نے اسپین میں مسلم سلطنت کے آخری زمانہ کا انھوں نے کہا کہ اندلس کے آخری مسلم سلطان ابو عبد اللہ نے جب الحمراء کی کنجیاں عیسائی حکمرآں

کے حوالے کردیں اور وہ روتا ہوا غرناطہ سے نکلا تو اس کی ماں نے اس کی توبیخ کی اور کہا: (ابک كمثل النساء ملكا ضاع لم تحافظ عليه كمثل الرجال اس کھوئے ہوئے ملک پر عورتوں کی طرح روؤ جس کو تم مردوں کی طرح نہ بچاسکے)

میں نے کہا کہ ابو عبد اللہ کی ماں کا یہ جملہ بہت زیادہ رائج ہے مگر وہ حقیقت حال کی صحیح کیوں کہ ابو عبد اللہ اور اس کی فوجیں آخری دور میں بھی نہایت بہادری کے ساتھ لڑی مگر کوئی سلطان ایک فوج سے لڑ سکتا ہے وہ حقائق سے نہیں لڑ سکتا۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ خود مسلمان ایک دوسرے کے جانی دشمن بنے ہوئے تھے ، پھر وہ کیسے کامیاب ہوتے۔ بتاتی ہے کہ ابو عبد اللہ نے نہایت بہادرانہ مقابلہ کر کے عیسائی فوج کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔ مگر اس کے بعد ابو عبد اللہ کا چچا الزغل عیسائیوں کے ساتھ مل کر اس کا داخلی دشمن بن گیا۔ اس طرح فتح دوبارہ شکست میں تبدیل ہو گئی۔

تا ہم الزغل کو اس بے وفائی کا کوئی معاوضہ مسیحی حکمرانوں کی طرف سے نہیں ملا۔ سلطنت غرناطہ پر اپنے قبضہ کی تکمیل کے فوراً بعد انھوں نے الزغل کو اسپین سے نکال دیا۔ وہ الجزائر میں تلمسان کے مقام پر چلا گیا اور وہاں گم نامی کی حالت میں مر گیا۔ جو آدمی اپنوں سے بے وفائی کرے اس کو یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ غیروں کی طرف سے اس کو وفاداری کا انعام دیا جائے گا۔

اسپین کی مسلم سلطنت اپنے آخری مرحلہ میں غرناطہ کے قصر الحمراء تک محدود ہو کر رہ گئی تھی، اسی طرح جیسے کہ ہندوستان کی مغل سلطنت اپنے آخری مرحلہ میں دہلی کے لال قلعہ تک محدود ہو گئی تھی۔ مسلم حکمراں ابو عبد اللہ کے فوجی سردار موسی بن ابی الغازان نہایت بہادر تھا۔ اس نے ہتھیار نہیں وہ اپنی موت تک بہادری کے ساتھ لڑتا رہا۔

تاہم حقیقت سے لڑنا زیادہ دیر تک ممکن نہیں ہوتا۔ چنانچہ ابو عبد اللہ نے ۲ جنوری ۱۴۹۲ء کو عیسائی حکمران کے ساتھ صلح کرلی اور غرناطہ کو اس کے لیے خالی کر دیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کی عمومی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی ۔ اس پکڑ دھکڑ میں شدت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ خلیفہ کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود مسلمانوں نے ابھی اس کو قبول نہیں کیا تھا۔ پہاڑی علاقوں میں بار بار انھوں نے بغاوت کا جھنڈا اٹھایا۔ بری طرح شکست ہوئی اور آخر کار انھوں نے اس شرط پر جنگ بندی قبول کرلی کہ وہ اسپین کو

چھوڑ کر مراکو، ترکی اور مصر چلے جائیں گے۔

تاتاری سردار ہلاکو خاں نے ۱۲۵۸ء میں بغداد کی مسلم سلطنت کا خاتمہ کیا تھا۔ فرڈیننڈ دوم نے ۱۴۹۲ء میں غرناطہ کی مسلم سلطنت کو آخری طور پر ختم کر دیا۔ ایک صاحب نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا : یہ اسلام دشمنوں کی سازش کا نتیجہ تھا۔

میں نے کہا کہ اگر بغداد کی عباسی سلطنت کا خاتمہ اسلام دشمنوں کی سازش کی بنا پر ہوا تو اس کے صرف پچاس سال بعد انھیں دشمنوں کا خادمانِ اسلام بن جانا کس سازش کا نتیجہ تھا۔ میں نے کہا کہ سازش کے تصور کے تحت مسلم تاریخ کی توجیہ کرنا مسلم قوم کو مقہور اور غیر مسلم قوم کو قاہر کے مقام پر بٹھانا ہے۔ اس طرح کا تصور تاریخ سراسر قرآن کے خلاف ہے۔

میں نے کہا کہ امتِ محمدی کا مستقبل تمام تر دعوت کے اوپر منحصر ہے۔ مسلمانوں کے لیے مقدر ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کو ادا کر کے اٹھیں گے اور دعوت الی اللہ سے کوتاہی کر کے گریں گے۔ بغداد اور غرناطہ کی سلطنت کے زمانہ میں مسلمانوں نے علمی اور مادی اعتبار سے غیر معمولی ترقی کی۔ ترقیاں ان کے لیے حفاظت کا ذریعہ نہ بن سکیں۔

تا ہم خود اسی المیہ میں یہ سبق بھی موجود ہے کہ عباسی خلافت کے خاتمہ کے بعد جب مسلمانوں کے پاس سیاسی اور فوجی طاقت نہ رہی تو انھوں نے اسلام کی دعوتی طاقت کو استعمال کیا۔ اور اس کے بعد تاریخ نے دیکھا کہ جہاں بظاہر کھنڈر تھا وہاں ایک شاندار قلعہ بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ تاریخ کا یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے ایک ابدی نشان راہ ہے۔

ایک عرب دوست نے مجھے ایک کتاب ہدیہ میں پیش کی ۔ ۱۶۰ صفحہ کی یہ کتاب ۱۹۹۳ء میں مکتبہ اشبیلیہ (الریاض) سے چھپی ہے۔ اس کتاب کے مصنف عبد الرحمن عبد الوہاب ہیں اور اس کا نام ہے : تصفية الوجود الاسلامی - یعنی اسلامی وجود کا خاتمہ - کتاب کے ایک حصے میں بڑے جذباتی انداز میں سقوطِ غرناطہ کا ذکر ہے اور اس کے بعد کہا گیا ہے :

هاهي الاندلس ضاعت واصبحت ذکری یہ ہے وہ اندلس جو کھو گیا اور محض ایک ایسی یاد بن کر رہ گیا نبکی علی اطلالها و نبکی تخاذل المسلمین جس کے کھنڈروں پر ہم روتے ہیں۔ اور جس کی حفاظت کے سلسلہمیں مسلمانوں کی کوتاہی اور دستبرداری پر آنسو بہاتے ہیں۔

میں نے کہا کہ اس قسم کی مرثیہ خوانی اسلامی روح کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام امید اور اعتماد کا اسلام عصرِ میں یسر کا راز بتاتا ہے۔ اسلام کے لیے خدا نے حفاظت و نصرت کا ابدی وعدہ ایسی حالت میں ہمیں چاہیے کہ ہم منفی پہلو میں بھی مثبت پہلو دریافت کریں۔ خود میڈرڈ کی موجودہ کانفرنس اس بات کی ایک علامت ہے کہ اسپین کے تاریخی کھنڈروں سے دوبارہ اسلام کا ایک نیا مستقبل پیدا ہو رہا ہے۔

کانفرنس کے شرکاء کو میڈرڈ شہر کے ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ لیکن کانفرنس کے اجلاس الکلیونیورٹی میں ہوئے جو شہر سے ۳۰ کلومیٹر دور ہے۔ لوگ روزانہ صبح کو سواریوں کے ذریعہ یونیورسٹی لے دن کے کھانے کا انتظام وہیں یونیورسٹی کے اندر ہوتا۔ شام کا کھانا اکثر کسی اور مقام پر کسی بڑے آدمی کی طرف سے ہوتا تھا۔ اس طرح صبح کو نکلنے کے بعد دوبارہ رات کو ہوٹل میں واپسی ہوتی۔ ۲۸ نومبر کو صبح نو بجے ہم سب لوگ قافلہ کی صورت میں الکلیونیورسٹی لے جائے گئے۔ شہر سے دور ایک تاریخی ٹاؤن میں ہے۔ شہر اور اس کے بیرونی علاقہ کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے ہم لوگ پتھر کی بنی ہوئی ایک بہت بڑی عمارت کے سامنے اترے۔ اسی قدیم محل نما عمارت میں الکلیونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔ اسی یونیورسٹی کے زیر اہتمام یہ کانفرنس ہو رہی ہے۔ اجلاس روزانہ اسی یونیورسٹی کے مختلف ہال میں ہوں گے۔

میڈرڈ اسپین کی راجدھانی ہے۔ جب میں میڈرڈ کے مختلف حصوں سے گزرتا تھا تو بار بار مجھے یہ خیال آتا تھا کہ یہاں کی تمام چیزیں بظاہر یورپ کے انداز پر بنائی گئی ہیں۔ مگر وہ یورپ کے زیادہ ترقی یافتہ شہروں کے معیار سے کم ہیں۔

یونی ورسٹی کے بڑے ہال میں افتتاحی اجلاس ہوا۔ بتایا گیا کہ اس کانفرنس کا مقصد تینوں مذہبوں (یہودیت، عیسائیت، اسلام) میں تعلقات کو بہتر بناتا ہے۔ اظہارِ خیال کی زبان اسپینی، انگریزی، فرانسیسی اور عربی تھی۔ ہیڈ فون کے ذریعہ ہر آدمی اپنی مطلوب زبان میں مقرر کی بات کو سن سکتا تھا۔ میڈرڈ کے میئر نے تقریر کی تو پہلے کہا سلام، شولوم۔ پھر انھوں نے اپنی تقریر شروع انھوں نے کہا کہ قدیم اسپین میں تینوں مذہب کے لوگوں نے مل کر ایک تاریخ بنائی تھی۔ اب پھر ضرورت ہے کہ تینوں مذہب کے لوگ مل کر یہاں نئی دنیا کی تعمیر کریں۔

ایک اسرائیلی مقرر نے کہا کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان اقتصادی تعاون (economic cooperation) ہونا چاہیے ۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خدا کے نام کو ہائی جیک کرے :

Printed page