No one has right to highjack the name of God.
Al-Risala, August 1995, pp. 19–29
By Maulana Wahiduddin Khan
رات کو دوبارہ ہم لوگ اپنے ہوٹل میں واپس پہنچا دیے گئے ۔
۲۸ نومبر کو افتتاحی اجلاس میں میڈرڈ کے میئر کے علاوہ ایک اسپینی یہودی اور ایک اسپینی عیسائی کی تقریر ہوئی ۔ اس کے بعد ایک صاحب کھڑے ہوئے جن کا نام مسٹر تمارال بتایا گیا تھا۔ چہرے پر ہلکی داڑھی تھی ۔ اور بظاہر نہایت سنجیدہ معلوم ہوتے تھے ۔ انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا اور اس کے بعد اسپینی زبان میں اپنی تقریر کی ۔
ان کی شخصیت کے بارہ میں مجھے تجسس تھا ۔ بعد کو ملا تو پتہ چلا کہ وہ ایک اسپینی مسلمان ہیں ۔ تھوڑی عربی اور تھوڑی انگریزی جانتے تھے اس لیے ان سے گفتگوممکن ہو سکی ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا اصل خاندانی نام فضل اللہ ہے موجودہ نام ان کے اصل عربی نام کا اسپینی ترجمہ ہے ۔ انھوں نے اپنا مکمل پتہ دیا جو اس طرح ہے :
Julio Torralbo Tamaral, Psicologia Clinia Escolar Collegiado N. 1911 CPM, Madrid
غرناطہ کی مسلم سلطنت کے خاتمہ کے بعد جب اسپینی مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی اور ان کو یہاں سے نکالا جانے لگا تو بہت سے لوگوں نے اپنے نام بدل لیے۔ تاکہ وہ یہاں رہ سکیں۔ کے بہت سے خاندان ابھی تک اسپین میں پائے جاتے ہیں ۔ البتہ اب حالات بدل چکے ہیں۔ ایسے مسلمان اب چھپ کر نہیں رہتے۔ بلکہ وہ اعلان کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال خود فضل اللہ صاحب ہیں ۔ موجودہ کانفرنس جو ایک حکومتی ادارہ کی طرف سے کی گئی تھی ، اس میں ان کو اسلام کے اسپینی نمائندہ کی حیثیت سے بولنے کا موقع دیا گیا ۔
کانفرنس کے موقع پر میں نے انگریزی میں ایک پیپر پیش کیا۔ اس کا عنوان تھا : امن اسلام (Peace in Islam) اس کو انشاء اللہ الرسالہ انگریزی میں شائع کر دیا جائے گا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام امن کا مذہب
اسلام کی تمام تعلیمات امن کے تصور پر مبنی ہیں ۔ اسلام میں جنگ صرف ناگزیر دفاع کے لیے جائز ہے ، کسی اور مقصد کے لیے اسلام میں جنگ کی اجازت نہیں ۔
اس پیپر کے علاوہ مختلف مواقع پر میں نے اسلام کے امن اور رحمت اور انسانیت کے تصور کی وضاحت کی ۔ اس کو لوگوں نے بہت پسند کیا ۔ میڈرڈ کے ہسپنی اخبار الکلا (Diario De Alcala) کا شمارہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۹ کانفرنس نمبر کے طور پر شائع کیا گیا تھا ۔ اس نے نمایاں انداز میں صفحہ اول پر میری تنہا تصویر شائع کی ۔ اخبار کا یہ شمارہ مجھے یروشلم کے آوی شاکیت (Avi Shoket) نے لاکر دیا تھا ۔ اور اس سلسلہ کے بعض دوسرے ہسپنی اخبار اسلامی مرکز کے دفتر میں بطور ریکارڈ موجود ہیں ۔ ۲۹ نومبر کو میں نے اپنا جو پیپر پیش کیا تھا ۔ اس کے ساتھ لوگوں نے نہایت دل چسپی کا اظہار کیا ۔ کچھ لوگوں نے مجھ سے اس کی کاپیاں مانگیں ۔ ایک خاتون ورکر نے مجھ سے میرا نسخہ لیا اور یونی ورسٹی کے دفتر میں جاکر اس کی کئی فوٹو کاپی نکلوائی ، اور لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی ۔ ۲۸ نومبر کی شام کو اجلاس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد تمام شرکاء یونی ورسٹی سے واپس ہو کر اپنے ہوٹل کے کمروں میں آگئے ۔ اس کے بعد و بجے رات کو دوبارہ کھانے کے لیے روانگی ہوئی ۔ کا انتظام اسپین کے ایک وزیر کی طرف سے ایک خصوصی گارڈن میں کیا گیا تھا ۔ یہاں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔
کھانے سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو گاڑی میں ایک صاحب کا ساتھ ہو گیا ۔ اپنا نام خواکین لومبا بتایا ۔ وہ سرقسطہہ (اسپین) کی یونی ورسٹی میں مسلم فلاسفی کے پروفیسر ہیں ۔ بتایا کہ وہ مشہور مسلم فلسفی ابن باجہ کے ہم وطن ہیں اور انھوں نے ابن باجہ پر ریسرچ کر کے ایک کتاب شائع کی ہے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے شعبہ میں کتنے طالب علم ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ تقریباً دو سو طلبہ انھوں نے اپنا نام عربی میں لکھ کر مجھے دیا ۔ ان کا پورا نام اور پتہ یہ ہے : Joaqvin Lomba, Professor of Muslim Philosophy University of Zaragoza خواکین لومبا ابن باجہ کی بہت تعریف کرتے رہے ۔ ابن باجہ (Avempace) اسپین کے شہر سرقسط (Zaragoza) میں ۱۰۹۵ء میں پیدا ہوا ، اور مراکو کے شہر فاس میں ۱۱۳۹ء میں اس کی وفات
ہوئی ، وہ ابن طفیل اور ابن رشد کی طرح ایک عظیم فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ اس کو محدث رائے پروفیسر خواکین لومبا اسی شہر سرقسطہ میں پیدا ہوئے۔
پروفیسر خواکین لومبا عربی بھی جانتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اقبال نے لکھا ہے کہ بارھویں صدی کے بعد اسلامی فلسفہ کی ترقی رک گئی۔ اس کے بعد کوئی بڑا مسلم فلسفی پیدا نہیں ہوا۔ اس کا سبب آخر کیا ہے۔
میں نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے ، یہ دور میں تبدیلی کا معاملہ ہے۔ قدیم معنی میں جس چیز کو اسلامی فلسفہ کہا جاتا ہے ، اس کی تشکیل اس زمانہ میں ہوئی جب کہ دنیا میں یونان کی قیاسی منطق کا غلبہ تھا۔ مسلم فلسفیوں نے اس میں مہارت پیدا کی اور اس کی بنیاد پر اپنا فلسفہ مرتب کیا۔ مگر سائنسی انقلاب کے بعد یہ منطق ختم ہو گئی۔ اب سائنسی منطق کا دور آ گیا۔ مگر مسلم ذہن سائنسی منطق میں مہارت نہ پیدا کر سکے، اس لیے وہ جدید علم کی بنیاد پر اسلامی فلسفہ (جدید علم کلام) بھی تشکیل نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ دور اول میں جب مسلمانوں کا مقابلہ یونانی منطق سے پیش آیا تو وہ فاتح کی نفسیات میں جی رہے تھے۔ انھوں نے بڑھ کر یونانی منطق کو سیکھا اور اس میں مہارت حاصل کی۔ اس طرح وہ اس قابل ہو گئے کہ یونانی منطق کو اسلامائز کریں اور اس کی بنیاد پر ایک طاقت ور علم کلام پیدا کر سکیں۔
مگر موجودہ دور میں جب سائنسی منطق کا زمانہ آیا تو مسلمان دوسری قوموں کے مقابلہ میں مفتوح اور مغلوب بن چکے تھے۔ چنانچہ ان میں اقدام کے بجائے تحفظ کا مزاج پیدا ہو گیا تھا۔ شکست خوردہ نفسیات کی بنا پر مسلم دانشور نے علوم کو شک کی نظر سے دیکھتے رہے ، وہ آگے بڑھ کر ان سے واقف ہونے اور ان کو استعمال کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے ۔
ایک مسلم اسکالر نے کہا کہ مسلم دور میں قرطبہ کی لائبریری میں چار لاکھ (400،000) کتابیں تھیں۔ جب کہ اس وقت سارے یورپ کی تمام لائبریریوں میں بھی اتنی کتابیں موجود نہیں تھیں ۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ باتیں صرف جھوٹا فخر پیدا کرتی ہے۔ آج ضرورت یہ ہے کہ مسلمان وقت کو سمجھیں اور اپنے بچھڑے پن کو دور کرنے کے لیے محنت کریں۔ ہمیں ماضی کے علمی کارناموں پر فخر کرنے کے بجائے یہ کرنا چاہیے کہ ہم محنت کر کے آج کے علم انسانی
میں اضافہ کریں۔
اسرائیل سے بہت سے یہودی تیز عیسائی افراد یہاں آئے تھے۔ ان لوگوں سے میں معلوماتی انداز کی گفتگو کرتا رہا۔ ان میں ایک آوی شاکیت (Avi Shoket) تھے۔ ان کا تعلق فارین افیرس سے ہے۔ ان سے فلسطین کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ جب میں ان سے فلسطینیوں کے حق میں اپنے دلائل دے رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ہر دلیل کے جواب میں ایک متوازی دلیل ان کے پاس موجود ہے۔ میں نے سوچا کہ جب دونوں فریق یکساں طور پر اپنے آپ کو بر حق سمجھ رہے ہوں تو آخر یہ مسئلہ کیوں حل ہو سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یاسر عرفات اور حکومت اسرائیل کے درمیان حال میں جو معاہدہ امن ہوا ہے اس کے بارہ میں اسرائیل کی اکثریت کی سوچ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں کی اکثریت خوف (fear) میں مبتلا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کو خاموش مدد پہنچارہے ہیں۔ ہم نے مختلف حکومتوں کو ابھارا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو مالی مدد دیں۔ حتیٰ کہ ہم بالواسطہ ذرائع سے کام لے کر خود بھی فلسطینیوں کو مالی مدد دے انھوں نے بتایا کہ ایسا ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ فلسطینی جب تک معاشی اعتبار سے مطمئن نہ ہوں ، اس علاقہ میں امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔
نادان آدمی اپنے حریف کو مار کر اسے ختم کرنا چاہتا ہے۔ دانش مند آدمی اپنے حریف کو خاموش کر کے اس کے اوپر فتح حاصل کر لیتا ہے۔
آوی شاکیت اسرائیلی حکومت میں اعلیٰ افسر ہیں۔ وہ شستہ انگریزی بول رہے تھے۔ نے کہا کہ اسرائیل عالمی برادری میں تنہائی (isolation) میں پڑ گیا تھا۔ اس تنہائی کا پہلا فائدہ ہم نے یہ اٹھایا کہ ہم یکسو ہو کر اپنی داخلی ترقی میں لگ گئے۔ مثلاً، ہم نے اپنی بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے پر اپنی توجہ لگا دی۔ اس خاموش جد و جہد کے نتیجہ میں ہم نے جو ترقی کی اس نے اب ہم کو اس پوزیشن تک پہنچا دیا ہے کہ ہم دنیا کی قوموں سے تعاون کر کے انھیں بہت کچھ دے سکیں۔
بنجر زمین کو کار آمد بنانے کے لیے ہمارے جو تجربات ہیں ان کی بنیاد پر ہمارے یہاں ایک مستقل شعبہ (Arid Zone Institute) قائم ہے۔ اس شعبہ کے تحت ہم مختلف ملکوں کو اپنا تعاون دے رہے انھیں ملکوں میں سے ایک آپ کا ملک انڈیا بھی ہے۔ انڈیا میں گجرات اور راجستھان میں ہمارے
تعاون کے تحت کئی پروجیکٹ چل رہے ہیں۔
یہاں یہودی اہل علم بڑی تعداد میں آئے ہیں۔ ان سے گفتگو کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ ان کی فکری سطح عام لوگوں سے اونچی ہے۔ یہی احساس مجھے ان کے بارے میں پہلے بھی کئی بار ہوا ہے۔ شیخ ادریس سکوتہ سے میں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودی زیادہ ذکی ہوتے ہیں۔ بھی اپنے تجربہ میں ایسا ہی پایا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایک امت کی مانند رہتے ہیں۔ ان کا ایک آدمی دوسرے کے لیے اضافہ علم کا سبب بنتا ہے (لا نهم امة واحدة ، يعلم بعضهم بعضا)
یہ ایک فطری حقیقت ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے : المومن کثير باخيه۔ یعنی مومن اپنے بھائی کے ساتھ مل کر کثیر ہو جاتا ہے۔ جس انسانی گروہ میں اجتماعی اوصاف نہ پائے جائیں، ان میں کا ہر شخص تنہا ہو جائے گا۔ اور جس انسانی گروہ میں اجتماعی اوصاف موجود ہوں ، اس کا ہر فرد دوسروں کے لیے طاقت بنے گا اور خود دوسروں سے طاقت لیتا رہے گا۔
اسرائیل سے آئے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت کئی مسلم ملکوں میں عورت حکمران ہے ترکی ، بنگلہ دیش اور پاکستان۔ روایتی اسلام میں تو عورت کی حکمرانی جائز نہیں۔ پھر یہ نیا ظاہر ہ کیا اسلام میں ریفارمیشن کی علامت ہے۔
میں نے کہا کہ اس کا جواب دینے سے پہلے میں آپ سے ایک سوال کروں گا۔ آپ کے یہاں مسز گولڈ امیر حکومت کے اعلیٰ عہدہ تک پہنچیں۔ ان کے دور حکومت کے بارہ میں آپ کا تجربہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ بہت جذباتی تھیں۔ اگر وہ حقیقت پسند ہوتیں تو فلسطینیوں سے آج امن کا جو معاہدہ ہوا ہے وہ گولڈ امیر کے زمانہ میں ہی ہو گیا ہوتا، جب کہ انور سادات زندہ تھے۔ اس طرح ہم بہت سے جانی اور مالی نقصان سے بچ جاتے۔
میں نے کہا کہ خود آپ کے تجربہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو سیاسی حکمران بنانا مفید نہیں۔ گویا کہ صحیح فطری اصول یہی ہے کہ عورت کو اقتدار اعلیٰ کے مقام پر نہ بٹھایا جائے۔ پھر جب یہ ایک صحیح فطری اصول ہے تو اس میں تبدیلی یا ریفارم کی کیا ضرورت ہے۔ اور جہاں تک بعض ملکوں میں عورت کو حکمران بنانے کا سوال ہے تو یہ اتفاقی نوعیت کے بعض سیاسی اسباب کی وجہ سے
ہے نہ کہ اسلام میں کسی ریفارمیشن کی تحریک کی وجہ سے۔
اسپین کی کانفرنس میں جو ودی علماء آئے تھے ان میں سے بعض کو میں نے دیکھا کہ وہ پرجوش طور پر اسپین کی ماضی کی ترقیوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ اس کا راز مجھے کسی قدر بعد کو سمجھ میں آیا۔ اصل یہ ہے کہ یہ لوگ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ماضی میں اسپین کی ترقیوں کو یہودی تاریخ کے خانے میں درج کر دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اُس زمانے میں سیاسی اقتدار اگرچہ مسلمانوں کے پاس تھا۔ مگر یہ ترقیاتی کام زیادہ تر یہودی افراد نے انجام دیا۔ یہ یہودی اس زمانے میں ایڈوائزر، ایکسپرٹ اور ماہرین فن کی صورت میں کام کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر ابن میمون (Maimonide) اور ابن جبیرول (Gabriel) وغیرہ۔ لیے یہ تاریخ اگر سیاسی اعتبار سے عرب تاریخ کا حصہ ہے تو عین اسی وقت وہ علمی اعتبار سے یہودی تاریخ کا حصہ ہے ۔
اس معاملہ میں وہ اس حد تک گئے ہیں کہ ابن رشد کو بھی وہ یہودی عالم بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم سلطان منصور اسی لیے ابن رشد سے ناراض ہو گیا تھا اور اس کو قرطبہ سے نکال دیا تھا۔ کے بعد ابن رشد جاکر اسپین کے ایک گاؤں الیسانہ میں رہنے لگا۔ جہاں کی آبادی میں بیشتر تعداد یہودیوں اس لیے ابن رشد یہودی تھا (فہو اذن یهودی) چنانچہ یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی میں مطالعاتِ رشدی کے نام سے ایک مستقل مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز کے تحت ابن رشد کی کتابیں عبرانی اور انگریزی زبان میں شائع کی جارہی ہیں۔
میں نے کہا کہ اسپین کے ترقیاتی عمل میں خواہ کچھ یہودی افراد شریک ہوں۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ترقیاتی عمل اسلام کے فکری انقلاب کے تحت وجود میں آیا۔ اس دور کے توہماتی ذہن کو اگر نہ توڑا ہوتا تو سرے سے کوئی ترقیاتی عمل ہی ظہور میں نہ آتا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اسپین میں بہت سے اہلِ علم اٹھے جنہوں نے زور و شور کے ساتھ یہ بات کہی کہ مسلم عہد کے اسپین کو نظر انداز کرکے ہم نے خود اپنا بہت بڑا نقصان کیا ہے۔ یہ عہد پوری اسپینی تاریخ کا سب سے زیادہ شاندار عہد تھا۔ مزید یہ کہ اسپین کی یہی وہ علمی ترقیاں تھیں جنہوں نے یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے لیے بنیاد فراہم کی۔ اس تاریخ کو لینے کی صورت میں ہم جدید تہذیب کے معمار قرار پاتے ہیں۔ اور اس تاریخ کو چھوڑ دینے کی صورت میں ہمارے پاس کوئی چیز نہیں رہتی جس کو ہم
فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں ۔ اس قسم کے اسپینی اہل علم کی فہرست بہت لمبی ہے ۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر گائینگوس ، ڈاکٹر ام ریکو کاسترو ، ڈاکٹر بدر و مار تینیز مونتا بت وغیرہ ۔ اسپین کے لوگوں کی اس کوشش کو عرب دانش وروں نے اسبنة التاريخ الاسلامی فی الاندلس کا نام دیا ہے ۔ یعنی اندلس کی اسلامی تاریخ کو اسپینی بنانا ۔ مگر خود اسپینی اس کو اپنے بھولے ہوئے ماضی کی طرف واپسی قرار دیتے ہیں ۔
۲۸ نومبر کی صبح کو میں ہوٹل میں ناشتہ کی میز پر تھا۔ اچانک کسی نے میرے اوپر اپنا ہاتھ رکھا۔ مڑ کر دیکھا تو شیخ اسحاق ادریس سکوتہ ( ۷۵ سال) تھے ۔ وہ ایک سوڈانی عالم ہیں اور آج کل رابطہ عالم اسلامی کے تحت مکہ میں مقیم ہیں۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں ۔
میں نے پوچھا کہ شیخ حسن البنا تو ابتدا میں ایک مذہبی واعظ تھے اور اس اعتبار سے وہ ایک اچھا کام کر رہے تھے ۔ پھر وہ غیر ضروری طور پر سیاست اور انتخابات میں کیوں کود پڑے ۔ نے اس بات کو کیوں نہیں جانا کہ سیاست میں داخل ہو کر وہ صرف بگاڑ میں اضافہ کریں گے ، حالات کے اعتبار سے یہ ناممکن ہے کہ اس طرح وہ ملک میں کوئی مثبت سیاسی نتیجہ پیدا کر سکیں ۔ شیخ سکوتہ نے جواب دیا کہ وہ ایک صوفی آدمی تھے ۔ وہ سیاست نہیں جانتے تھے ۔ مگر ان کے وعظوں اور تقریروں سے جب مسلمانوں کی بھیڑ ان کے گرد اکٹھا ہونے لگی تو کچھ لوگوں نے انھیں استعمال کیا (کان الشيخ حسن البنا رحمه الله ليس عارفاً للسياسة بل كان رجلاً صوفياً، استعمله الذين أرادوا الحكم من خلاله)
انھوں نے مزید کہا کہ سلفی رجحان رکھنے والے نوجوان یہ چاہتے تھے کہ اپنے انتہا پسندانہ خیالات کی تائید کے لیے وقت کی کسی مشہور و مقبول شخصیت کو اپنے نمائندہ یا ترجمان کے طور پر پیش کریں ۔ کے لیے وہ محمد عبدہ اور رشید رضا وغیرہ کو استعمال کرنے میں ناکام رہے ۔ یہاں تک کہ حسن البنا ظاہر ہوئے جو بیک وقت اہل سنت والجماعت سے بھی تعلق رکھتے تھے اور اسی کے ساتھ متصوفانہ حلقوں سے بھی ان کے گہرے روابط تھے۔ چنانچہ انتہا پسند نوجوانوں کے مذکورہ طبقہ نے ان کی طرف توجہ کی اور وہ ان کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔
کچھ عرب حضرات کی ایک مجلس میں یہ ذکر تھا کہ مسلمان ساری دنیا میں غیر مسلموں کے عدوان کا شکار کیوں
ان لوگوں کی رائے یہ تھی کہ اسپین میں مسلم اقتدار کے خاتمہ سے لے کر اب تک جتنے مصائب پیش آ رہے ہیں وہ سب اعداء اسلام کی عالمی سازشوں (مؤامرات) کا نتیجہ ہیں۔ اعداء اسلام متحد ہوکر اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ کر دینا چاہتے ہیں ، صدیوں سے پیش آنے والے تمام الم ناک واقعات اسی سازش کے مختلف مظاہر ہیں ۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کے پاس ان مخالفانہ واقعات کی توجیہہ کے لیے ایک ہی لفظ ہے ، اور وہ مؤامراتِ اعداء ہے۔ مگر یہ توجیہہ کتاب اللہ کی نفی کے ہم معنی ہے۔ قرآن میں باربار مختلف الفاظ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ اہل اسلام کا ولی و کارساز ہے۔ دنیا میں ان کے معاملہ کو خدا نے اتنا زیادہ مستحکم کر دیا ہے کہ اب انھیں انسانوں سے نہیں ڈرنا ہے بلکہ صرف خدا سے ڈرنا ہے۔ مگر آپ لوگ اور مسلم دنیا کے دوسرے علماء جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاملاتِ دنیا کی باگ ڈور تمام تر صرف اعداء اسلام کے ہاتھ میں ہے ، اور خدا کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ تاریخ کا یہ تصور سراسر اسلام کے خلاف ہے ۔
میں نے کہا کہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں انسان ایک دوسرے کے عدو (دشمن) رہیں گے ۔ یہاں عداوت سے مراد تحدی ہے۔ یعنی انسان ایک دوسرے کے لیے چیلنج بنیں گے۔ تحدیات (چیلنج) کے زینوں کو طے کرتی ہوئی انسانی تاریخ اپنا ترقی کا سفر کرے گی ۔ دنیا میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو آپ فطرت کے اسی قانون کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں ۔
میں نے کہا کہ مخالفانہ واقعات کے وجود سے مجھے انکار نہیں۔ مگر آپ کو چاہیے کہ ان واقعات کی توجیہہ آپ مؤامرات کے تصور سے نہ کریں بلکہ تحدیات کے تصور سے کریں۔ یہ تحدیات کسی مفروضہ دشمنِ اسلام کی گھڑی ہوئی نہیں، بلکہ خود خالقِ کائنات کا مقرر کردہ نظام ہی ہے ۔ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ ہم ان تحدیات کا سامنا کریں ۔ فریاد اور احتجاج سے ہمیں کوئی فائدہ ملنے والا نہیں۔ ۲۸ نومبر کی شام کو کھانے کی میز پر ایک اسپینی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ برشلوز کے رہنے والے تھے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے :
Migule De Quadras Sans Ronda General Thitre, 165-6 08022 Barcelona, Spain. (Tel. 34-3-4174160)
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ہندوستان کے مختلف شہروں کا سفر کیا ہے ۔ انھوں نے ہندو سادھوؤں اور سنتوں اور ہندوؤں کی مذہبی تنظیموں کا ذکر اتنی تفصیل کے ساتھ کیا کہ میں سمجھا کہ شاید وہ ہندو یا بدھسٹ ہیں۔ مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک مسیحی ہیں۔ البتہ ہند و فلسفہ سے انھیں دل چسپی ہے۔ اسی سلسلہ میں وہ ہندوستان بھی گئے۔
اسی میز پر ایک اور شخص بالکل عربوں کی طرح عربی زبان بول رہے تھے۔ میں سمجھا کہ وہ کوئی مسلمان ہیں۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ وہ عیسائی تھے۔ اس طرح کے ہزاروں عیسائی مختلف مذاہب کے قریبی مطالعہ کے لیے ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ہر مذہب کی زبان سیکھتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے مذہبی پیشواؤں کے ساتھ رہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ان میں ایسے بھی ہیں جو کلچرل طور پر ان سے مماثلت اختیار کر لیتے ہیں ۔ مسلمانوں میں ایسی لگن والے لوگ نظر نہیں آتے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان کا مذہب ان کے لیے دنیوی انٹرسٹ بن چکا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہی چیز آخرت کے انٹرسٹ کی خاطر ہو سکتی تھی۔ کے انٹرسٹ میں لوگوں کے لیے اتنی کشش نہیں کہ وہ اس درجہ لگن کے ساتھ اس کے لیے کام کر سکیں۔ ایک عرب عالم نے اپنی تقریر میں شام و فلسطین کے تاریخی مقامات کا ذکر کیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا : هذه الاماكن مليئة بالرموز المقدسة - عام اردوداں اس جملہ کو سنے تو شاید وہ سمجھے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مقدس مقامات اسرار سے بھرے ہوئے ہیں ۔ حالاں کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ مقامات مقدس نشانیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ رمز (جمع رموز) کا لفظ عربی میں علامت یا نشانی کے لیے ہے مگر اُردو میں اس کو راز کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ ایک ہی لفظ عربی میں کچھ معنی میں ہے اور اُردو میں کچھ معنی میں۔ زبانوں میں اس طرح کی تو سیع عام ہے ۔ ایک زبان کا لفظ دوسری زبان میں کبھی سابق مفہوم ہی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی بدلے ہوئے مفہوم میں۔
ایک مسیحی مقرر نے کہا کہ ہمارے اندر سلف کرٹسم کی جرأت ہونی چاہیے ۔ لوگ سلف کر ٹسزم سے اس لیے گھبراتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم اپنی نفی کرنے لگیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے ہم کو غیر یہودی اور غیر اسلامی اور غیر عیسائی بننا پڑے گا۔ تب صحیح ڈائیلاگ ہوگا : If you want to start real dialogue, first you have to dejudise yourself, de Islamise yourself, de Chrischianise yourself.
میں نے کہا کہ کریٹزم تو ٹھیک ہے۔ مگر ریئل ڈائیلاگ کی یہ شرط صحیح نہیں کہ ہر آدمی پہلے اپنی حیثیت کا خاتمہ کرے۔ اس کی صحیح شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر سائنٹفک ذوق ہو۔ وہ کھلے ذہن کے ساتھ ایک دوسرے کی بات کو سننے اور تعصب کے بجائے دلائل کی بنیاد پر اپنے رویہ کا فیصلہ کرے۔ اس کانفرنس میں بہت سے عرب شریک ہوئے ۔ ان میں سے ایک ، نومولود حکومتِ فلسطین کے سفیر نبیل معروف بھی تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ کا مسئلہ پوری امت کا مسئلہ ہے ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم امت کی طرف سے مدد کے منتظر ہیں (نحن منتظر والغيث من الامۃ) میں نے ان کا پتہ لکھتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ اپنی حکومت کو دولتِ فلسطینیہ کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ، ہم اس وقت اسی کے راستہ میں ہیں (نحن علىٰ الطریق)
وہ یہاں کی تقریروں سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ اس یہودی عالم کی تقریر سے بھی خوش نہیں تھے جس نے کہا تھا کہ عرب اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی تعاون (economic cooperation) کا بہت وسیع میدان ہے اور دونوں کو سیاسی ٹکراؤ کو چھوڑ کر اقتصادی ترقی کے مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ۔
اجلاس کے ختم پر ہم لوگ باہر نکلے تو ایک آدمی شیخ ادریس سکوت سے بہت تپاک کے ساتھ ملا۔ بہت زیادہ بے تکلفی سے عربی میں بات کرنے لگے۔ میں سمجھا کہ وہ کوئی عرب مسلمان ہیں۔ اتنے میں ایک اخبار کا رپورٹر آگیا۔ اس نے ہم تینوں کا تعارف جاننا چاہا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ وہ صاحب اسرائیل کے ایک یہودی تھے ۔
یہاں یہودی بڑی تعداد میں آئے تھے۔ یہودی آج کل بڑے پیمانہ پر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ یہودیوں اور مسلمانوں کا جھگڑا ختم ہو جائے ۔ دونوں اپنے اپنے ملے ہوئے ہو کر باہم اچھے تعلقات قائم کرلیں ۔ مگر مجھ کو یہاں آئے ہوئے مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہیں ملا جو دل سے اس نظریہ کا حامی ہو۔ دکتورہ بنت الشاطئ مصر کی مشہور خاتون ادیب ہیں ۔ وہ بھی اس کانفرنس میں آئی تھیں میں نے دیکھا کہ وہ سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔ ایک موقع پر انھوں نے پرجوش انداز میں کہا کہ یہ ڈائیلاگ نہیں ہے، یہ سب کلنٹن کے اشارہ پر ہورہا ہے۔ امریکہ نے ہم لوگوں کو مفلس بنا دیا ہے ۔ انھوں نے اس پر بھی احتجاج کیا کہ تقریریں زیادہ ہورہی ہیں مگر مناقشہ کا وقت کم دیا جارہا ہے (تمرحلسة بعد جلسة بدون مناقشة، ما هذا)
وہ کبھی عربی میں بولتی تھیں اور کبھی انگریزی میں ۔ ایک بار انہوں نے امریکہ کے خلاف جذباتی انداز میں بولتے ہوئے کہا کہ ہم غلام ہیں ، ہم امریکہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے :