Al-Risala · August 1995

We are slave, we can't live without America.

Al-Risala, August 1995, pp. 29–30

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ خاتون محترم ، اگر صورت حال بالفرض وہی ہے جو آپ بتاتی ہیں تب بھی یہاں لفظی احتجاج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں اپنی کمیوں کو دور کرنا ہے ، اس کے بعد ہی ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم دوسری قوموں کی زیادتی سے محفوظ رہ سکیں۔

مسلمانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اسلام میں جن باتوں کی تعلیم دی گئی ہے ان میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو تو بہ کہا جاتا ہے۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد دوبارہ درست طریقہ کی طرف واپس آنا۔ یہ تو بہ اسلامی زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ جس آدمی کے اندر تو بہ کا مزاج نہ ہو وہ کبھی ایمان و اسلام میں ترقی نہیں کر سکتا۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاح کا معاملہ تو بہ کے ساتھ بندھا ہوا ہے (القصص ، ۶۷) تو بہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ جو آدمی غلطی کرنے کے بعد سچی تو بہ کرے اور اس کی شرطوں کو پورا کرے تو اس نے تو بہ سے پہلے جو برائی کی تھی اس کو بھی بھلائی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے (الفرقان ، ۷۰) میں نے کہا کہ مسلمان تو بہ کے اس حکم کو چھوٹے چھوٹے معاملات میں تو جانتے ہیں مگر وہ بڑے بڑے معاملات میں اس کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ساری دنیا میں جس سب سے بڑی غلطی میں مبتلا ہیں وہ دوسری قوموں سے ٹکراؤ کی پالیسی ہے۔ یہ ٹکراؤ اللہ کی نظر میں جرم ہے۔ ہے کہ اس ٹکراؤ سے یک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ اس ٹکراؤ سے مسلمانوں کو نہیں ملا۔

غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے لیے مدعو قوم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان قوموں کے سلسلہ میں مسلمانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ انھیں خدا کی تعلیمات سے باخبر کیا جائے۔ ہر قسم کے بہترین ذرائع کو استعمال کر کے ان لوگوں تک دین حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ پیغام رسانی کے اس عمل کو معتدل انداز میں جاری رکھنے کے لیے یہ بھی مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ ان قوموں کی زیادتی کو برداشت کریں ، وہ ان کی اشتعال انگیزی کے باوجو د ان کے خیر خواہ بنے رہیں۔

مگر مسلم لیڈروں نے غیر مسلم قوموں کی بعض زیادتیوں پر بے برد اشت ہو کر ان کے خلاف ٹکراؤ شروع کر رکھا ہے۔ اس ٹکراؤ کو وہ بطور خود جہاد سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جہاد نہیں ہے بلکہ سرکشی مسلم لیڈروں کو اس سرکشی سے توبہ کرنا ہے۔ انھیں ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر نرمی اور محبت کا طریقہ اختیار یہ تو بہ ہے اور وہ مسلم لیڈروں کے اوپر فرض کے درجہ میں ضروری ہے۔ اگر انھوں نے یہ توبه نہ کی اور مدعو قوموں سے موجودہ ٹکراؤ کی پالیسی کو انھوں نے جاری رکھا تو یقینی طور پر وہ خسر الدنیا و الآخرة کا مصداق بن کر رہ جائیں گے ۔ اور ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ بھی انھیں حاصل نہ ہوگا۔ حسب معمول ۲۹ نومبر کی صبح کو تمام لوگ گاڑیوں کے ذریعہ ہوٹل سے یونی ورسٹی لے جائے گئے۔ میں مختلف قسم کے اسپینی مناظر سامنے آتے رہے۔ یہ علاقہ پہلے مسلم اسپین میں شامل تھا جس کو اب ایبیر یا (Iberia) کہا جاتا ہے۔

یونی ورسٹی میں ایک صاحب پر تپاک طور پر ملے۔ انھوں نے کہا السلام علیکم۔ وہ عربی زبان میں بول انھوں نے اپنا نام فادر چیری بیکر بتایا۔ ان کے چہرہ پر مسلمانوں جیسی سفید داڑھی تھی۔ میں پیدا ہوئے۔ عرصہ سے وہ الجیریا میں مشنری کے طور پر کام کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ الجزائر کے مستقبل کے بارہ میں آپ کا اندازہ کیا ہے۔ انھوں نے انگریزی میں جواب دیا کہ امن ابھی قریب نظر نہیں آتا :

Printed page