Al-Risala · August 1995

Peace is not very near.

Al-Risala, August 1995, pp. 30–35

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک یہودی جن کا نام موریس رومانی بتایا گیا تھا۔ انھوں نے صبح کے اجلاس میں بولتے ہوئے کہا کہ اسپین کی قدیم تاریخ مسلم۔ یہودی کے کو آرڈی نیشن کی شاندار مثال ہے۔ اسی کو آرڈی نیشن نے اسپین کا گولڈن ایج پیدا کیا تھا۔ اس زمانہ میں عربی زبان کا عام رواج تھا۔ اس زمانہ میں کرسچین، یہودی اور مسلمان آزا دانہ طور پر آپس میں عربی میں بات کرتے تھے۔ اب ہم کو دوباره اسی کو آرڈی نیشن کی ضرورت ہے۔

۲۹ نومبر کی شام کو آخری اجلاس تھا۔ اس میں اسپین کے کنگ اور کوئن دونوں شریک ہوئے۔ ہال کے اندر دونوں بالکل سادہ انداز میں داخل ہوئے۔ دونوں معمولی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ پر ان کے لیے کوئی خصوصی کرسی بھی نہیں رکھی گئی۔ میری نشست ان کے بہت قریب تھی، اس لیے

میں دونوں کو صاف طور پر دیکھ سکتا تھا۔ دونوں اتنے زیادہ سادہ اور متواضع معلوم ہو رہے تھے کہ یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس ملک کے بادشاہ ہیں۔

کنگ نے اپنی اسپینی تقریر میں خصوصیت کے ساتھ ٹالرنس کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں یہودی آئے ۔ سب مل جل کر ٹالرنس کے ساتھ یہاں رہے، سب نے ملک کی ترقی میں حصہ لیا۔ یہی ماحول ہم کو نئے اسپین میں بنانا ہے۔ یہی ہمارے لیے ترقی کا واحد راستہ انھوں نے اعلان کیا کہ ہمارے ملک میں ہر مذہب کو یکساں درجہ دیا گیا ہے۔ ہر مذہب کو اپنے اپنے دائرہ میں پوری آزادی حاصل ہے۔

شاہ اسپین کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس ملک کی جدید تاریخ میں افغانستان جیسے مسلم ملکوں کے لیے ایک بڑی سبق آموز مثال ہے۔ جنرل فرینکو (Francisco Franco) نے فوجی بغاوت کر کے یہاں کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ۱۹۳۶ء میں اسپین کے مطلق حکمران بن گئے۔ لیکن بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر ۱۹۷۳ء میں انھوں نے وزیر اعظم کے عہدہ سے استعفا دے دیا۔

جنرل فرینکو کا ایک بیٹا تھا۔ مگر انھوں نے اپنے بیٹے کے بجائے جان کارلوز (Juan Carlos) کو ۱۹۶۹ میں اپنا جانشین مقرر کر دیا جو قدیم شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے مطابق، ۲۰ نومبر ۱۹۷۵ء کو جب جنرل فرینکو کی موت ہوئی تو فوراً ہی جان کارلوز اسپین کے کنگ بن گئے افغانستان میں روسی فوج کی واپسی (۱۹۸۶ء) یا ڈاکٹر نجیب اللہ خاں کے خاتمہ (۱۹۹۲) کے بعد اگر ایسا ہوتا کہ افغانی لیڈر ظاہر شاہ کو روم سے واپس بلا کر انھیں دوبارہ علامتی بادشاہ کے طور پر کابل کے شاہی محل میں رکھ دیتے اور ان کے رسمی اقتدار کے تحت الیکشن کرا کے حکومت بناتے تو یہ افغانستان کے حق میں بے حد مفید ہوتا۔ اس کے بعد فورا افغانستان کو اتحاد اور سیاسی استحکام حاصل ہو جاتا اور افغانیوں کی طاقت جو برسوں سے باہمی جنگ میں برباد ہو رہی ہے وہ محفوظ رہ کر ملک کی تعمیر و ترقی میں استعمال ہونے لگتی ، جیسا کہ آج اسپین میں ہے۔

جنرل فرینکو اگرچہ ایک ڈکٹیٹر آدمی تھا۔ مگر آخر عمر میں وہ معتدل ہو گیا تھا۔ اس نے حکومت کی پوری پالیسی میں سختی کے بجائے نرمی کا انداز اختیار کیا۔ استعماری دور کی باقیات کے طور پر افریقہ کے کئی علاقے اسپین کے قبضہ میں تھے۔ اسپین کی نئی حکومتی پالیسی کے تحت ان کو آزاد کر دیا گیا۔ افریقہ کے اسپینی صحارا

کو مراکو اور موریتانیہ کے حوالے کر دیا۔ مراکو کے بعض ساحلی علاقے اسپین کے قبضہ میں تھے - مثلاً افنی (Ifni) اور سبتہ (Ceuta) ۔ ۱۹۶۰ میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ کے تحت افنی مراکو کو مل گیا اور سبتہ بدستور اسپین کے پاس باقی رہا (12/444) یہاں جنرل فرانکو (۱۹۶۵-۱۸۹۲) کی پانچ تصویریں دی جا رہی ہیں۔ یہ نوجوانی کی عمر سے لے کر بڑھاپے کی عمر تک کی ہیں۔ یہ تصویریں بڑی عبرت ناک ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ کس طرح آدمی طاقت سے آغاز کر کے آخر کار ضعف کی حالت میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ تصویریں گویا قرآن کی اس آیت کی زندہ تفسیر ہیں کہ اللہ ہی ہے جس نے تم کو ناتوانی سے پیدا کیا ۔ پھر ناتوانی کے بعد قوت دی۔ پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کر دیا ۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ علیم و قدیر ہے (الروم ۵۴) میڈرڈ کی کانفرنس میں میری ملاقات سبتہ کے ایک مسلمان سے ہوئی ۔ ان کا نام محمد علی البهلوی (اہل سال) انھوں نے بتایا کہ اسپین اور مراکو کے درمیان مذکورہ معاہدہ کے بعد اسپین میں مسلمانوں کے حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ اب یہاں تعصب کے بجائے رواداری آگئی ہے۔ ممکن ہے کہ اندر اندر کچھ تعصب موجود ہو، مگر ظاہری طور پر ہم لوگوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے کسی مشکل کا سامنا پیش نہیں آ رہا ہے۔ Generalissimo Francisco Franco in uniforms he wore as a cadet at infantry school at Toledo, Spain, around 1910, as a general in 1937 during the Spanish civil war, as head of Falange Party in 1945 and in 1962 when he celebrated his 70th birthday. He died in 1975.

گویا سبتہ پر جبزی مفاہمت کرنے کی بنا پر پورے ملک اسپین میں مسلمانوں کو کلی مواقع حاصل ہو گئے۔ محمد علی البھلوی نے ۲۹ نومبر کی ملاقات میں بتایا کہ وہ سبتہ میں پیدا ہوئے ۔ وہ یہاں تجارت کرتے انھوں نے عربی میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ۱۹۹۲ میں اسپین کی مسلم تنظیموں اور حکومت اسپین کے درمیان معاہدہ ہوا۔ اس کے تحت اسپینی حکومت نے دین اسلام کو ملک کا ایک مذہب تسلیم کر لیا (تم الاعتراف بالدين الاسلامى من طرف الحكومة الاسبانية بعد توقيع اتفاقية بين اللجنة الاسلامية الاسبانية والحكومة)

انھوں نے بتایا کہ اس وقت اسپین میں پانچ لاکھ (500,000) مسلمان موجود ہیں۔ سبتہ میں مسلمانوں کی تعداد پچیس ہزار ہے اور ملیلہ میں ۳۵ ہزار ۔ سبتہ میں سولہ مسجدیں ہیں۔ اسپینی زبان پر ابھی تک عربی کے عربی کے بہت سے الفاظ اسپینی زبان میں پائے جاتے ہیں مثلاً القنطره (Alcantara) القلعه (Alcala) وغیرہ۔

سبتہ اور جبل الطارق کے درمیان صرف ۲۳ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ پرتگالیوں نے سبتہ پر ۱۵۱۵ء میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے کئی بار سبتہ کو حاصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ یہاں تک کہ ۱۶۸۰ء میں اسپین نے پرتگالیوں کو شکست دے کر سبتہ اور بعض دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت سے سبتہ اور ملیلہ اسپین کے قبضہ میں ہے ۔

ایک مجلس میں ایک صاحب نے سبتہ اور ملیلہ کا ذکر کیا۔ دوسرے نے کہا کہ ہمارا ان سے کیا تعلق ، وہ دونوں تو اسپین کے شہر ہیں (ما شأننا بهما، انهما مدينتان اسبانيتان) پہلے نے کہا کہ یہ کیسی عجیب بے خبری ہے کہ عرب یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ دونوں مراکو کے ساحلی شہر ہیں۔ انھوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ صرف مراکو کی نہیں بلکہ تمام دول عربیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں واپس لے۔ مگر یہ نہایت عجیب بات ہے کہ عربوں کی تمام چوٹی کا نفرنسوں نے سبتہ اور ملیلہ پر کبھی سرے سے بحث ہی نہ کی (من الغريب ان كافة مؤتمرات القمة العربية لم تتحدث مطلقاً عن سبتة ومليلة)

میں نے کہا کہ اگر عرب سلطنتوں نے اس مسئلہ پر کوئی اقدام نہیں کیا تو آپ نے خود ہی ان کی آزادی کے لیے اقدام کر دیا ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ ایک شخص ایک ملک سے کیوں کر رہ سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہی سوال عرب سلطنتوں کی راہ میں بھی حائل ہے کیوں کہ اگر انھوں نے اس موضوع پر کوئی اقدام کیا تو پورا

یورپ اور اقوام متحدہ ان کے مقابل میں آجائیں گے ، اس معاملہ میں جو عذر آپ کے لیے ہے وہی عذر ان کے لیے بھی ہے۔

جس طرح اسپین کے مقابلہ میں مراکو کے لیے سبتہ کا مسئلہ ہے ، اسی طرح خود اسپین کے لیے برطانیہ کے مقابلہ میں جبرالٹر کا مسئلہ ہے۔ جبرالٹر جغرافی طور پر اسپین کا حصہ ہے ، مگر ابھی تک اس کے اوپر برطانیہ کا قبضہ باقی ہے۔

المجلة (جدہ) کے شمارہ ۱۳ - ۱۹ نومبر ۱۹۹۴ء (۱۰ - ۱۶ جمادی الآخرة ۱۴۱۵ھ) میں مراکو کے الملک الحسن الثانی کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ اس سلسلہ میں مجلہ کے رئیس التحریر عبدالرحمن حمد الراشد نے ان سے ملاقات کی تھی۔ شاہ حسن نے عرب لیگ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا :

کیا ، ہم عرب لیگ کو قبر میں دفن کر دیں۔ اور اس کا جنازہ کس طرح نکلے گا۔ شاہ نے اپنے آپ سے سوال کیا اور پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف میثاق کی تبدیلی پر اکتفا نہ کریں۔ بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم نئی عرب لیگ کے بارہ میں سوچیں۔ کہ عرب لیگ اب تک عرب - اسرائیل اختلاف کی بنا پر قائم تھی۔ یہی اختلاف اس کو غذا پہنچاتا تھا اور اس کو آکسیجن دیتا تھا۔ اور جب بھی وہ کمزور ہوتا تھا تو وہ اس کو طاقت کا انجکشن دیتا تھا۔ آج یہ عرب - اسرائیلی اختلاف کمزور ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ خدا نے چاہا تو وہ ختم ہونے والا ہے۔ اب ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اس گھر سے وابستہ رہیں جس کو ہم عرب لیگ کہتے ہیں۔ تاکہ ہماری اجتماعیت قائم ہو سکے۔ شاہ نے اختصار کے ساتھ اس کو اس طرح کہا : ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم عرب لیگ کے لیے ایک نئے فکر کو ظہور میں لائیں : هل سنقر الجامعة العربية و كيف ستكون جنازتها؟ سأل الملك نفسه وأجاب بنفسه قائلاً: "اقول يجب ان لا نكتفي بتغيير الميثاق، يجب ان نفكر في جامعة عربية لان الجامعة العربية الى حد الآن كانت موجودة بسبب الخلاف العربي - الاسرائيلي، وكان ذلك الخلاف يغذيها ويعطيها الاوكسجين ويعطيها حقناً كلما ضعفت. اليوم هذا الخلاف اصبح يضعف ريثما ينتهي ان شاء الله ... علينا اذن ان نبقى متشبثين بهذا البيت الذي نسميه الجامعة العربية ليجمع شملنا". قالها باختصار، "علينا ان نبلور فكرة جديدة للجامعة"

ایک صاحب سے اس کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ عرب لیگ کی حیثیت صرف ایک رسمی مجلس کی تھی، نہ حقیقی معنوں میں کسی موثر اتحاد کی۔ پھر جن عرب ملکوں کا حال یہ ہو کہ عرب لیگ جیسا رسمی اتحاد قائم کرنے کی لیے بھی انھیں ایک بیرونی قومی خطرے کی ضرورت ہو، ان سے کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اسپین کے مقابلہ میں کوئی بڑا اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

میرے کمرہ میں ایک اچھا ٹی وی سیٹ رکھا ہوا تھا۔ مگر اپنے مزاج کے مطابق، میں نے کبھی اس کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی ۔ ۲۹ نومبر کی صبح کو وقت جاننے کے لیے اس کو کھولا تو اسپینی زبان میں خبریں آ رہی تھیں ۔ خبریں تو سمجھ میں نہ آئیں ۔ البتہ یہ سنا کہ اناونسر بار بار مسلمان کا لفظ بول رہا ہے ۔ نے بوسنیا کے بارہ میں کوئی خبر بتائی ۔ اسی کے دوران اس نے غالباً بوسنیا کے کسی مسلم لیڈر کا ایک قول انگریزی میں نقل کیا ۔ کہنے والے نے کہا تھا کہ بوسنیا کی صورت حال کے لیے میں اقوام متحدہ کو ذمہ دار ٹھہراتا وہ ضروری کارروائی کرنے میں ناکام رہی :

I blame the U.N. for the Bosnian situation. It failed to act. یہ یقینی طور پر نادانی کا ایک جملہ تھا ۔ اقوام متحدہ نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ قومی نزاعات پر ہتھیار نہ اٹھایا جائے، بلکہ صرف پر امن دائرہ میں رہتے ہوئے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کا حال یہ ہے کہ پہلے وہ اقوام متحدہ کے اصول کے خلاف ورزی کر کے گن اٹھائیں گے اور جب اس کا الٹا انجام سامنے آئے گا تو اقوام متحدہ سے امید کریں گے کہ وہ آئے اور ان کی مرضی کے مطابق ان کے مسئلہ کو حل کر دے ۔

۲۹ نومبر کو صبح ، بجے میرے کمرہ کے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ رسیور اٹھایا تو تکرار کے ساتھ یہ آواز آنے لگی کہ صباح الخیر، یہ بیدار کرنے کی کال ہے :

Printed page