Good morning. This is a wake-up call.
Al-Risala, August 1995, pp. 35–62
By Maulana Wahiduddin Khan
اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے حشر کا لمحہ آ گیا ہے اور موت کی نیند سونے والی روحوں کو پکارا جا رہا ہے کہ اب آخری فیصلہ کا وقت آگیا ۔ یہ وقت آج علامتی صورت میں آیا ہے، مگر کل وہ حقیقی صورت میں عقل مند وہ ہے جو کل ہونے والے اعلان کو آج کی آواز میں سن لے ۔
کھانے کی میز پر دو مصری نوجوان آ گئے ۔ ایک کا نام عبد المقصود تھا ۔ انھوں نے بتایا کہ ڈیوزبری
(انگلینڈ) میں تبلیغی جماعت کا اجتماع تھا۔ اس میں وہ بھی جزئی طور پر شریک ہوئے۔ اس اجتماع میں ہر ملک کے مسلمان آئے ہوئے تھے۔ ہر طرف السلام علیکم، السلام علیکم کی آواز سنائی دیتی تھی۔ تھا جس کو قرآن میں الاقیلاً سلاما سلاما (الواقعہ ۲۶) کہا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ میں نے آخری تقریر سنی، بہترین تقریر تھی۔ ایسی تقریر میں نے مصر میں کبھی نہیں سنی (کلام جمیل، لم اسمع مثله في مصر)
کھانے کی میز پر قاہرہ کے ڈاکٹر جمعہ بھی موجود تھے۔ وہ فقہ کے استاد ہیں۔ ایک مقامی مسلمان نے ان سے سوال کیا کہ اس ملک میں حلال گوشت کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پھر ہم لوگ کیا کریں ۔ ڈاکٹر جمعہ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو دیکھو ۔ یہ گوشت نہیں کھاتے۔ وہ غیر لحمی غذا پر گزارہ کرتے ہیں۔ کی صحت بہترین ہے۔ گوشت کے بغیر آدمی مر نہیں جاتا۔
گوشت کے بارہ میں میرا یہ ذوق اختیاری نہیں ہے۔ میری والدہ کہتی تھیں کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا اس وقت بھی میرا یہ حال تھا کہ اگر وہ انڈ ایا مچھلی یا گوشت میرے منہ میں ڈالتی تھیں تو میں نکال دیتا تھا، اور اس کو کھاتا نہیں تھا۔ گویا میں پیدائشی طور پر ” سبزی خور ہوں ۔ میں نے ڈاکٹر جمعہ کی بات کی تکمیل کرتے ہوئے کہا : میں بائی برتھ ویجیٹیریئن ہوں، آپ حالات کے تقاضے کے تحت بائی چوائس ویجیٹیریئن بن جائیے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ جو عرب خود اپنے وطن میں کوئی بڑا علمی کارنامہ نہیں کر سکے تھے انھوں نے اسپین میں کیسے اتنا بڑا علمی کارنامہ انجام دیا کہ وہ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کی بنیاد بن انھوں نے کہا کہ اس کا جواب ایک مستشرق نے یہ دیا ہے کہ عرب ایک ایسے ملک میں تھے جہاں دریاؤں کی روانی نہ تھی۔ وہاں سر سبز مناظر موجود نہ تھے۔ اس کے بجائے وہاں خشک پہاڑ اور تپتے ہوئے ریگستانوں کا ماحول تھا ۔ اس کے بعد یہ عرب اپنے وطن سے نکل کر جب اسپین میں پہنچے تو یہاں قدرتی مناظر تھے۔ فطرت کا حسن تھا، نشاط انگیز آب و ہوا تھی۔ اس نے عربوں کے اندر ولولہ کار اور جوش عمل ابھار دیا۔ ماحول کے اثر سے ان کی فطری صلاحیتیں جاگ اٹھیں۔
میں نے کہا کہ یہاں دوبارہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان نشاط انگیز مناظر نے خود اسپینیوں کے اندر یہی ولولہ کیوں نہیں ابھارا ۔ اس فرق پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ولولہ کار کو ابھارنے والی اصل چیز تبدیلی (change) ہے۔ عربوں کے لیے صحرا سے نکل کر چمنستان میں جانا، تبدیلی کا ایک
ہیجان خیز معاملہ تھا۔ اس تجربے نے ان کی شخصیت کو جگا دیا۔ مگر یہی عرب جب اسپین کے محل اور باغات کے عادی ہوگئے تو دوبارہ ان کی صلاحیتیں سو گئیں۔ علم کے قافلے کو مزید آگے لے جانے کا کام مغربی یورپ نے کیا جس کو دو سو سالہ کروسیڈ کی ہار نے تبدیلی کے زلزلہ خیز تجربے سے دوچار کر دیا تھا۔ ایک اسپینی اسکالر نے کہا کہ مسلمانوں نے جب ہمارے ملک پر حملہ کیا تو انھوں نے ہماری دولت کو لوٹا، یہاں کے باشندوں کو لونڈی اور غلام بنایا۔ کیا آپ کا اسلام اسی کی تعلیم دیتا ہے ۔ اسپین میں تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک طبقہ اسی انداز میں سوچتا ہے ۔
جہاں تک اسپین میں مسلمانوں کی فوجی کارروائی کا تعلق ہے، اس کا معقول جواز موجود ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں ویسی گوتھ کا آخری بادشاہ وٹیزا (Witiza) اسپین کا حکمراں تھا۔ زمانہ حکومت ۷۰۰ء سے ۷۱۰ء تک ہے۔ پادریوں نے وٹیزا کے خلاف سازش کر کے اس کو تخت سے ہٹا دیا اور اس کی جگہ ایک فوجی سردار لذریق (Roderick) کو اسپین کے تخت پر بٹھا دیا۔ لذریق کو غاصب سمجھتا تھا۔ اس نے اس سے انتقام لینے کے لیے مسلمانوں کو اسپین پر حملہ کی دعوت دی۔ اس حملہ میں سبتہ (Ceuta) کے ناراض اسپینی حاکم (Count of Ceuta) نے بھی مدد کی جس کا نام جولین کہا جاتا ہے کہ اسی جولین نے طارق کو چار بڑی کشتیاں دی تھیں جن کے ذریعہ طارق نے اپنے لشکر کو اسپین کے ساحل پر اتارا تھا۔
مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ اسپین پر مسلمانوں کا حملہ اپنی طرف سے شروع نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ وہ خود اسپین کے ویسی گوتھ کی دعوت پر تھا :
The Muslim invasion of Spain was the result of Visigoth invitation rather than Muslim initiative. (17/414)
مگر اسی کے ساتھ خود مسلم مؤرخین یہ بتاتے ہیں کہ طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر نے جب اسپین میں فتوحات کیں تو وہاں انھوں نے بے شمار مقدار میں سونا اور چاندی اور ہیرے اور جواہر اور دوسرے اموال کو لوٹا اور کثیر تعداد میں عورتوں اور لڑکوں کو لونڈی اور غلام بنایا (۸۳)۔ وہ ایک ایک شہر کو فتح کرتے رہے اور لونڈی اور غلام اور مال غنیمت اتنی زیادہ مقدار میں لے کر لوٹے جس کا شمار نہیں کیا جا سکتا (لا تُحصى ولا تُعَدُّ كثرة) البدایہ والنہایہ لابن کثیر ۸۷/۹
میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کے لیے اس طرح اسپین میں مال غنیمت لوٹنا اور لونڈی اور غلام بنانا صحیح نہ تھا۔ کیوں کہ مالِ غنیمت کا اسلامی قانون اس جنگ کے لیے ہے جو کسی قوم نے یک طرفہ جارحیت کرکے مسلمانوں کے خلاف چھیڑی ہو۔ مگر اسپین کے لوگ اس معنی میں جارح نہ تھے۔ اس لیے فتح کے بعد ان کے اموال کو لوٹنا اور ان کو لونڈی اور غلام بنانا صحیح نہیں ہوسکتا۔ مزید یہ کہ مالِ غنیمت کا قانون بھی صرف میدانِ جنگ کے لیے ہے نہ کہ عام آبادی کے لیے۔
ایک اور صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ طارق بن زیاد یا بابر کے معاملے کو عام طور پر اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ”طارق کا حملہ اسپین پر“ یا ”بابر کا حملہ ہندوستان پر“۔ مگر یہ درست یہ شاہی دور کے واقعہ کو جمہوری دور کی اصطلاح میں بیان کرنا ہے۔ آج قومی جمہوریت کا زمانہ آج ایک قوم یا ملک کا حملہ دوسری قوم یا ملک پر ہوتا ہے۔ مگر شاہی دور میں ایسا نہ تھا۔ میں جو سیاسی ٹکراؤ پیش آتا تھا وہ ایک بادشاہ کا دوسرے بادشاہ سے ہوتا تھا نہ کہ ایک قوم کا دوسری قوم سے۔
اسپین میں طارق بن زیاد کے داخلہ کو اسی زمانی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ مزید یہ کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ معروف معنوں میں کوئی جارحانہ داخلہ نہ تھا بلکہ اس کی نوعیت یہ تھی کہ سابق حکمران کے ظلم سے لوگ تنگ آگئے تھے، اس لیے انھوں نے اپنے سابق حکمران کے خلاف نئے حکمراں کو دعوت دی اور اس کا استقبال کیا۔
۲۹ نومبر کو میڈرڈ کے اخبار (Puerta de Madrid) کی خاتون نمايندہ لوئیلا (Leolla) نے ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات فطرت پر مبنی ہیں۔ اور فطرت ہمیشہ امن کو پسند کرتی ہے ۔ اس لیے اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے ۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے، اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں۔
اسی طرح ایک اور اسپینی اخبار (La Libre Belgique) کی خاتون نمايندہ پاسکل بورگا (Pascale Bourgaux) نے اپنے اخبار کے لیے انٹرویو لیا۔ ان کو میں نے اپنے پیپر ”پیس ان اسلام“ کی ایک کاپی دی۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ موجودہ قسم کی کانفرنس کو صرف اس کے تین روزہ اجلاس کی روشنی میں نہیں جانچنا چاہیے بلکہ اس کو ایک عمل (Process) کے روپ
میں دیکھنا چاہیے ۔ اسی وقت اس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان سے ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری آئے تھے۔ وہ اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اسلام آباد) کے ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پاکستان میں ایک بڑی تباہ کن سیاسی روایت جاری ہو گئی ہے ۔ اور وہ یہ کہ جو پارٹی الیکشن میں ہارتی ہے وہ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتی ۔ پولنگ بوتھ پر ناکامی کے بعد وہ دوبارہ سڑک کی سیاست پر آ جاتی ہے ۔ وہ جلسہ جلوس ، حتیٰ کہ توڑ پھوڑ کے ہنگامے جاری کر کے چاہتی ہے کہ جیتی ہوئی پارٹی کو میعاد سے پہلے اقتدار سے بے دخل کر دے ۔ یہ سیاست نہیں ہے بلکہ سیاست کے نام پر دادا گیری ہے۔
میں نے کہا کہ میرے مطالعہ کے مطابق ، اس غلط سیاسی روایت کو پاکستان میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے شروع کیا۔ ان کو محمد ایوب خاں کے مقابلہ میں واضح انتخابی شکست ہوئی ۔ مگر انھوں نے اپنی شکست کو تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ ایوب خاں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے دوبارہ نئے عنوان سے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی مہم شروع کر دی ۔ اس کے بعد پاکستان میں یہی سیاسی روایت طور پر چل پڑی ۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے بطور واقعہ اس کو مانتے ہوئے کہا کہ اس کی جڑ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں سیاست ہی سب کچھ بن گئی ہے۔ سیاست کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کی وجہ سے موجودہ زمانہ میں ہر جگہ اس قسم کی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں ۔
ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری الہ آباد میں ۱۹۳۲ میں پیدا ہوئے ۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے گئے ۔ پھر باہر جا کر انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ ان سے میں نے پوچھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک جملہ میں آپ کا مشورہ کیا ہے ۔ انھوں نے ایک لمحہ سوچا اور پھر جواب دیا : انھیں چاہیے کہ عقل سے کام لیں ۔ پاکستان کے جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے نومبر ۱۹۸۹ میں اسپین کا سفر کیا تھا۔ ان کے ساتھ ایک اور پاکستانی مسلمان جناب سعید احمد صاحب بھی تھے ۔ انھوں نے اپنا سفر نامہ " اندلس میں چند روز" کے نام سے شائع کیا ہے ۔ سفر کے آخری مرحلہ کا ایک واقعہ وہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : " میرے دوست اور رفیق سفر سعید صاحب اندلس کے ماضی و حال کے تصورات سے اس درجہ متاثر تھے کہ ایک مرحلہ پر بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا : کیا کبھی مسلمان اس خطہ کو دوبارہ ایمان سے منور کر سکیں گے ۔ میں نے عرض کیا : اس وقت تو مسلمان اپنے موجودہ خطوں کو ٹھیک سے سنبھال لیں اور
اس بات کا انتظام کر لیں تو بہت ہے کہ وہاں اندلس کی تاریخ نہ دہرائی جائے ۔ میں نے اس کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ ہندوستان میں کچھ مسلم رہنما یہ انکشاف کر رہے ہیں کہ یہاں اندلس کی تاریخ کو دہرانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے ۔ مگر میں اس وقت پاکستان کے رہ نما بھی یہی اندیشہ محسوس کر رہے ہیں کہ پاکستان کہیں دوسرا اندلس نہ بن جائے ۔ کیسا عجیب ہے یہ انجام جو سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت کی ہنگامہ خیز سیاست کے بعد برصغیر ہند کے مسلمانوں کے حصہ میں آیا ہے ۔ مسلم اسپین کے اثرات مختلف اعتبار سے ہندوستان تک بھی پہنچے تھے ۔ کینن ای سیل (Canon E. Sell) نے اپنی کتاب اسلام کے مذہبی سلسلے (The Religious Orders of Islam) میں لکھا ہے کہ قلندریہ سلسلہ کے بانی بو علی قلندر (علی ابو یوسف قلندر) اسپین سے ہندوستان آئے تھے۔ مسلم اسپین میں پیدا ہوئے ۔ وہاں سے وہ دمشق گئے۔ پھر وہ ایران پہنچے ۔ آخر میں وہ ہندوستان آئے اور آخر عمر تک یہیں رہے۔ ۱۳۲۳ میں پانی پت میں ان کا انتقال ہوا۔
یہ ایک خانہ بدوش صوفی سلسلہ تھا۔ وہ کماتے نہیں تھے بلکہ لوگوں کے عطیات پر زندگی گزارتے ان کی زندگی انتہائی حد تک سادہ ہوتی تھی ۔ اقبال نے اس شعر میں غالباً انھیں کی طرف اشارہ ہے : قلندر جز دو حرفِ لا الہ کچھ بھی نہیں رکھتا فقیہہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا میں ۲۷ نومبر ۱۹۹۰ء کو اسپین پہنچا تھا۔ ۲۹ نومبر کو وہاں تین مذاہب کی انٹر نیشنل کانفرنس تھی۔ اس کے بعد ۳۰ نومبر کا دن خالی تھا۔ یہ دن صرف ملاقاتوں اور معلومات اور مشاہدات کے لیے مخصوص تھا۔ نے اس موقع کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا۔ اس طرح جو باتیں دیکھیں یا جانیں ان کا مختصر تذکرہ اگلے صفحات میں کیا جاتا ہے ۔
۱۹۴۰ء کے لگ بھگ زمانہ میں میں نے الطاف حسین حالی کی منظوم کتاب مسدس پڑھی تھی جو مسدس حالی کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں حالی نے اسپین کی عظمتِ رفتہ کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ اشعار سادگی بیان اور تاثیر کی عجیب مثال ہیں۔ اس کا ایک شعر یہ ہے : کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے مساجد کے محراب و در جا کے دیکھے مجھے یقین نہیں تھا کہ اس کے ۵۵ سال بعد مجھے اسپین جانے کا موقع ملے گا اور وہاں میں براہِ راست طور پر قرطبہ کی سر زمین کو دیکھوں گا ۔
قرطبہ (Cordoba) اسپین کا ایک قدیم شہر ہے۔ مسلمانوں نے ۷۱۱ء میں اس کو فتح کیا اور ۷۵۶ء میں اس کو اپنی راجدھانی بنایا۔ اس کے بعد ہے گیارہویں صدی عیسوی تک وہ مسلم اسپین کی راجدھانی بنا رہا۔ دسویں صدی میں وہ یورپ کا سب سے بڑا شہر تھا اور اس کی حیثیت عالمی کلچرل سنٹر کی ہوگئی۔ وہ مسیحی اسپین کا حصہ بن گیا۔
قرطبہ میں بہت سی مسلم یادگاریں ہیں۔ ’’مسجد قرطبہ‘‘ کو اس کی پر عظمت تعمیر کی وجہ سے خصوصی اہمیت ابتداً اس کو خلیفہ عبد الرحمٰن نے بنوایا۔ بعد کے سلاطین مزید اس کی تکمیل کرتے رہے۔ بارہ ہزار مربع میٹر کے رقبہ میں ہے۔ یعنی اس کی لمبائی ۱۴۰٫۴ قدم ہے اور اس کی چوڑائی ۸۰٫۴ قدم۔ میں ۸۰۰ ستون ہیں اس کا ایک حصہ چرچ بنا دیا گیا ہے جس کو ملا کر بارہ سو ستون ہو جاتے ہیں۔ ستونوں کی کثرت کی بنا پر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے بے شمار کھجوروں کے درخت کے اوپر ایک وسیع اور منقش چھت کھڑی یہی وجہ ہے کہ مسجد قرطبہ کو دیکھ کر اقبال کی زبان پر یہ شعر آگیا تھا : تیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمار شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیل مسجد قرطبہ پر اقبال کی نظم صاحب ’’نقوش اقبال‘‘ کے الفاظ میں ’’ان کے واحد شاہکار کا حکم رکھتی سے (۱۸۱) اقبال نے اس تاریخی اور تاریخ ساز مسجد کی ساخت میں بیکراں جذبات اور حسن کی یکتائی کا معاینہ کیا۔ اس منظر نے مومن شاعر کے نازک جذبات کے تار چھیڑ دیے جس کے نتیجہ میں وہ لافانی نغمہ دنیا نے سنا جسے ہم مسجد قرطبہ والی نظم میں گونجتا ہوا پاتے ہیں‘‘ (۱۷۸)
یہ بڑی عجیب بات ہے کہ کائنات کی عظیم تر نشانیاں جن کو قرآن میں ’’آلاء اللہ‘‘ کہا گیا ہے ۔ اقبال کے نازک جذبات کے تار کو چھیڑنے میں ناکام رہیں۔ البتہ مسجد قرطبہ کے در و دیوار کو دیکھنا ان کے جذبات کے تاروں کو چھیڑنے کا سبب بن گیا۔ حالاں کہ حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ما امرت بتشیید المساجد (مجھ کو بلند و بالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا) اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد عبداللہ بن عباس نے کہا : لَتُزَخْرِفُنَّهَا کما زخرفت الیہود والنصاریٰ (تم بھی مسجدوں کو اسی طرح مزین کرو گے جس طرح یہود و نصاریٰ نے مزین کیا)
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لوگ (مسجدوں کی تعمیر پر) ایک دوسرے سے فخر کریں (لا تقوم الساعة حتی
یتباہی الناس فی المساجد) سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب فی بناء المساجد حقیقت یہ ہے کہ اگر آدمی کے اندر بصیرت و معرفت موجود ہو تو زمین پر کھڑا ہوا ایک حندانی درخت اس سے زیادہ وجد کی کیفیت پیدا کر دینے والا ہے جتنا کہ کوئی انسانی عمارت ۔ ابنائے جبرالٹر مشرق اور مغرب کا سب سے قریبی نقطہ اتصال ہے۔ چنانچہ اسلام اولاً یہیں سے مغربی دنیا میں داخل ہوا۔ اس راستہ سے مسلمانوں کا پہلا قافلہ ۲۷ھ میں اندلس (اسپین) پہنچا۔ یہ حضرت عثمان کی خلافت کا زمانہ تھا۔ اس پہلے مسلم دستہ کے سربراہ عبداللہ بن نافع الفہری تھے ۔ اس کے بعد دوسرا قابل ذکر مسلم دستہ ۹۱ ھ میں اسپین میں داخل ہوا۔ یہ موسیٰ بن نصیر کے ماتحت سردار طریف تھے جو پانچ سو آدمیوں کے ساتھ اسپین کے ساحل پر اترے۔ یہ کوئی فوجی مہم نہیں تھی بلکہ وہ صرف دریافت حال کے لیے اسپین کے علاقہ میں بھیجی گئی تھی ۔
اس کے اگلے سال ۹۲ھ میں طارق بن زیاد کی مہم روانہ ہوئی۔ ابتداء اس کے ساتھ سات ہزار آدمیوں کا لشکر تھا۔ انھوں نے اس وقت کے اسپینی حکمران لذریق (Roderick) کی فوجوں کو ۱۹ جولائی ۷۱۱ء کو شکست دے کر اسپین میں پہلی مسلم سلطنت قائم کی۔ یہ اسپین کی مسلم سلطنت کا ابتدائی دور تھا جس کو عرب امراء کا عہد ( ۷۱۱ تا ۷۵۶ء) کہا جاتا ہے ۔
اس کے بعد عباسیوں کی داروگیر سے بھاگ کر ایک اموی شہزادہ عبد الرحمن الداخل اسپین پہنچا۔ اس نے مقامی امراء کو شکست دے کر ۷۵۶ء میں امیر اندلس ہونے کا اعلان کیا اور اسپین (اندلس) میں باقاعدہ اموی خلافت قائم کی ۔
مسلسل باہمی اختلاف اور ٹکراؤ کے باوجود اس زمانہ میں مسلمانوں نے اسپین کو بہت ترقی دی۔ یہاں تک کہ ترقیاتی قوتوں پر اختلافی قوتیں غالب آگئیں۔ ۱۰۳۳ء کے بعد وہ دور شروع ہوا جس کو ملوک الطوائف کا دور کہا جاتا ہے۔ اب ہر علاقہ کے سرداروں نے خود مختاری کا اعلان کرکے اندلس میں چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم کر لیں۔ یہاں تک کہ ان کی ۲۰ مختلف حکومتیں قائم ہوگئیں ۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کے باہمی اختلاف سے عیسائیوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔
طارق بن زیاد کے اسپین میں داخلہ کے بعد مسیحی فوج سے اس کا فیصلہ کن مقابلہ وادی لکہ میں ہوا اس وقت طارق کے ساتھ (مزید کمک کو شامل کرتے ہوئے بارہ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا اور مسیحی
فوج کی تعداد ستر ہزار سے زیادہ تھی۔ اس موقع پر طارق نے پر جوش تقریر کی جو تاریخ کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ اس کی تقریر کا ایک جملہ یہ تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا تمہارے لیے ممکن ہے اگر تم اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دو (انتهان الفرصة فيه لممكن ان سمحتم لا نفسكم بالموت)
ایک عرب اسکالر نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں میں یہ اسپرٹ موجود نہیں، اسی لیے وہ ہر جگہ ذلیل ہو رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر آپ موت کے منہ میں کود پڑیں تو آپ غالب آجائیں گے۔ موجودہ زمانہ میں بار بار مسلمان موت کے منہ میں کو دے ہیں ۔ ۱۸۵۰ء میں ہندوستانی علماء، شالی کے میدان میں موت کے منہ میں کو دپڑے۔ سید احمد شہید بریلوی کا قافلہ بالا کوٹ میں موت کے منہ میں کو دپڑا۔ اسی طرح فلسطین، کشمیر، چیچنیا، بوسنیا وغیرہ میں مسلمان موت کے منہ میں کودے ہوئے ہیں۔ مگر ان تمام اقدامات میں تباہی کے سوا کچھ اور مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا۔ اس طرح کے مقابلوں میں کامیابی کے لیے موت کے منہ میں کو دنا صرف ایک جزئی عامل ہوتا ہے نہ کہ کلی عامل ۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں نے پورے ملک اسپین پر اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ ریاض کے مجلہ الفيصل شعبان ۱۴۱۵ھ (جنوری ۱۹۹۵) میں شائع شدہ ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں طارق بن زیاد المغرب کے راستے اسپین میں داخل ہوا۔ اس کے ساتھ عربوں اور بربروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی فوج تھی ۔ چار سال کی جنگی سرگرمیوں کے بعد اسلامی لشکر نے پورے اسپین پر غلبہ حاصل کر لیا ( - - الى ان سيطرت الجيوش الاسلامية على كل اسبانيا)، صفحہ ۵ ، مگر یہ بات صحیح نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسپین کے بڑے حصہ پر مسلمان غالب آگئے تھے تاہم ملک کا ایک حصہ پھر بھی عیسائیوں کے قبضہ میں رہا۔ ۶۱۰ء میں مسلمان اپنی آخری حد پر پہنچ چکے تھے ۔ مگر اس وقت بھی اسپین کے مغربی حصہ میں مسیحی ریاستیں قائم تھیں۔ مسیحیوں کا زیر قبضہ علاقہ پورے ملک کے رقبہ کا تقریباً چوتھائی حصہ تھا۔ مسلمانوں کے زیر قبضہ علاقہ کو اندلس کہا جاتا ہے (415 اسپین (اندلس) کے مسلم عہد کی آبادی کے بارہ میں حتمی اعداد و شمار حاصل نہیں ہیں۔ گیا ہے کہ مسلمانوں کے داخلہ کے وقت اسپین کے باشندوں کی تعداد تقریباً چالیس لاکھ (4,000,000) اس کے بعد جو عرب ہجرت کر کے وہاں گئے ان کی مجموعی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ نہ تھی۔
یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر جان جینز (Juan Vernet Gines) نے لکھا ہے کہ قبضہ کی ابتدائی صدیوں میں قبول اسلام کی لہر کی وجہ سے مسلم آبادی برابر بڑھتی رہی۔ اس نے اسپین کے عیسائیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کر دی :
توالد و تناسل یا قبول اسلام کے ذریعہ اسپین کی آبادی میں جو اضافہ ہوا، اس کی مجموعی تعداد قطعی طور پر معلوم نہیں۔ تاہم دسویں صدی کے آخر میں مسلم اسپین کے سات بڑے شہروں (قرطبہ، طلیطلہ، المیریا، غرناطہ، سرقسطہ، بلنسیہ، مالقہ) میں آبادی کا جو اندازہ کیا گیا ہے، وہ مجموعی طور پر تین لاکھ تراسی ہزار (387,000) ہوتا ہے۔
مسلم اسپین سیاسی اعتبار سے کسی ایک وحدت کا نام نہیں تھا۔ اس کے تین بڑے دور ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، طارق بن زیاد نے ۷۱۱ء میں جبرالٹر کے راستہ سے داخل ہو کر اسپین (اندلس) میں مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ پہلی اسپینی حکومت بغداد کی خلافت عباسی کے تحت تھی۔ اس حکومت کا پہلا امیر عبد العزیز بن موسیٰ تھا۔ اس نے اشبیلیہ کو اپنی راجدھانی بنایا تھا۔ دوسرے امیر ایوب بن حبیب نے قرطبہ کو راجدھانی بنایا۔
اس کے بعد اموی شہزادہ عبد الرحمن الداخل عباسیوں کی دار و گیر سے بھاگ کر اسپین پہنچا۔ نے یہاں اپنی ایک فوج بنائی۔ اس نے عباسیوں کی ماتحت حکومت کو ختم کر کے باقاعدہ طور پر آزاد اموی حکومت قائم کی جس کی راجدھانی قرطبہ تھی۔ یہ حکومت ۷۵۶ء سے لے کر ۱۰۳۱ء تک باقی رہی۔ اس کے بعد تیسرا دور آیا جب کہ اندلس میں طوائف الملوکی آگئی۔ ہر علاقہ کے امیر نے مرکز سے بغاوَت کر کے اپنی خود مختار حکومت قائم کر لی۔ اس طرح اندلس میں تقریباً بیس حکومتیں بن گئیں۔ ان چھوٹی چھوٹی حکومتوں کو عیسائی ایک ایک کر کے ختم کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آخر میں غرناطہ کی محدود حکومت اسی طرح باقی رہ گئی جس طرح انیسویں کے وسط میں دہلی میں مغل بادشاہ کی حکومت باقی رہی تھی۔ یہ آخری حکومت بھی ۱۴۹۲ء میں عیسائیوں کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔
مسلم اسپین میں جب سیاسی انتشار کی حالت پیدا ہوئی تو اس کو وقتی طور پر افریقہ کے حکمراں
یوسف بن تاشفین نے ختم کئیا تھا۔ وہ 1086ء میں اسپین میں داخل ہوا۔ اس نے عیسائی حکمراں الفانسوشتم (Alfonso VI) کوشکست دی۔ باغی مسلم امراء کو زیر کیا۔ اس طرح اسپین میں ایک نیا مسلم دور شروع ہوا جو ۱۲۶۹ء تک چلا۔
تاہم یہاں کے مسلمان باہمی اختلافات کے نتیجہ میں مسلسل اندرونی اور بیرونی زیادتیوں کا شکار آخری دور میں مسلم اسپین کی علامت سلطنت غرناطہ تھی ۔ اس کے حکمرانوں نے و لا غالب الا اللہ کو اپنا شعار بنایا۔ وہ اپنی عمارتوں وغیرہ پر کثرت سے اس لفظ کو تحریر کرتے تھے۔ اسلامی مزاج کا ایک اظہار ہے۔ مسلمان خواہ کسی بھی حالت میں ہوں، وہ ہمیشہ خدا ہی کو اپنا بڑا بنائے ہوئے وہ نہ صرف غیر حاکمانہ حیثیت میں بلکہ حاکمانہ حیثیت میں بھی خدا ہی کو غالب و قاہر سمجھتے ہیں۔ اور کسی حال میں یہ حقیقت ان کے ذہن سے محو نہیں ہوتی۔
میڈرڈ میں ایک عرب مسلمان سے اس موضوع گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگوں نے اسپین سے مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کے خاتمہ کو اسپین سے اسلام کے خاتمہ کے ہم معنی سمجھ لیا۔ حالاں کہ بطور واقعہ یہ درست نہ تھا۔ اگر لوگ تلك الايام نداولها بين الناس کے ذہن سے سوچتے تو وہ اسپین میں سیاسی اقتدار کے خاتمہ کے باوجود اسلام کے دینی وجود کو زندہ رکھ سکتے تھے مگر کئی صدیاں صرف فریاد و ماتم میں گزر گئیں۔ یہاں تک کہ خود تاریخ کی طاقتوں نے ظاہر ہو کر اسپین میں اسلام کے احیار نو کا کام شروع کر دیا۔
نئے تقاضوں کے تحت اسپین میں مستقل طور پر ایک عمل جاری ہو گیا ہے جس کو عرب دانش ور أسبنة التاريخ الاسلامى فى الاندلس کہتے ہیں۔ یعنی اندلس کی اسلامی تاریخ کو اسپینی بنانا۔ اس نئے رجحان کے تحت اسپین میں بہت سے کام کیے جا رہے ہیں مثلاً قرطبہ میں آپ دیکھیں گے کہ وہاں کی سڑکوں پر مسلم شخصیتوں کے بورڈ لگے ہوئے ہیں، مثلاً شارع ابن رشد، شارع ابن الولید، شارع المنصور، شارع الزهراوی، وغیرہ ۔ اسی طرح آپ قرطبہ جائیں تو وہاں کی سڑکوں کے کنارے آپ دیکھیں گے کہ عرب دور کے اہل علم کے مجسمے جگہ جگہ نصب کیے گئے ہیں۔ مثلاً ابن رشد جس کا مجسمہ ۱۹۶۰ء میں لگایا گیا۔ على بن حزم کا مجسمہ ۱۹۶۳ء میں، حکیم العیون محمد بن قسوم کا مجسمہ ۱۹۶۵ء میں ، اور اسی طرح دوسرے بہت سے مجسمے ۔ حتی کہ غرناطہ کے قریب ایک ساحلی مقام المونيكر (Almunecar) پر عبد الرحمن الداخل کا بہت بڑا مجسمہ لگایا گیا
یہ وہ مقام ہے جہاں سمندری سفر طے کر کے اموی شہزادہ عبد الرحمن اسپین کی سر زمین پر اترا تھا۔ مجسمہ پانچ میٹر بلند ایک چوٹی کے اوپر ہے ۔ وہ اپنی تلوار پر ٹیک لگائے ہوئے فاتحانہ انداز میں کھڑا ہوا ہے ۔ اس طرح کے بہت سے واقعات جدید اسپین میں ہو رہے ہیں جس کا ذکر اس مختصر سفر نامہ میں ممکن ۱۹۸۶ میں قرطبہ میں ایک بہت بڑی کانفرنس ہوئی۔ اس میں اسپین کے علاوہ بیرونی ملکوں کے ۱۵۰ علماء شریک ہوئے ۔ اس کانفرنس کا موضوع " اندلس میں اسلام “ تھا۔ اس میں نہایت کھل کر اس موضوع پر تقریریں اور مباحثے ہوئے۔ عام طور پر اسپینی پریس نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔ ایک انتہا پسند اسپینی مجلہ کا میونے اپنے شمارہ ۹ فروری ۱۹۸۶، میں ایک رپورٹ شائع کی۔ اس کا عنوان تھا ۔ ہمارے ملک میں داخل ہوتا ہے :
El Islam Nos Penetra (Cambio)
ایک عرب عالم نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسیحیوں کی دشمنی اور ظلم و زیادتی کے باوجود خدا کے فضل سے اسلام سر زمین اسپین میں بخیرو عافیت موجود ہے ( رغم كل ھذا الحقد الصليبي و رغم التنكيل فلا يزال الاسلام بخير فى ارض الاندلس )
ایک اسپینی مسلمان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تاریخ کے بارہ میں کسی ایک کتاب کو پڑھ کر رائے قائم کرنا صحیح نہیں۔ تاریخ بظاہر واقعات کا ریکارڈ ہے۔ مگر تقریباً تمام تاریخی کتابیں اپنے اپنے ذوق کے مطابق منتخب واقعات کا ریکارڈ کرتی ہیں۔
مثلاً اسپین کے بارہ میں مسلمانوں نے جو تاریخیں لکھی ہیں ان کا انداز یہ ہے کہ ان میں مسلمانوں کی صرف اچھی باتوں کو لیا گیا ہے ، اور مسیحیوں کی زیادہ تر بری باتوں کو۔ اسی طرح مسیحی حضرات نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں مسیحیوں کی اچھی باتوں کو نمایاں کیا گیا ہے اور مسلمانوں کی صرف بری باتوں کو۔ ہے کہ اسپین کی قدیم تاریخ کے بارہ میں مروجہ کتابوں کو پڑھ کر صحیح ذہن نہیں بنتا۔ مسلمان اور مسیحی دونوں زیادہ تر اپنے اپنے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھتے ہیں اس لیے قدیم اسپینی تاریخ کی صحیح تصویر نہ مسلمانوں کے ذہن میں ہے اور نہ مسیحیوں کے ذہن میں ۔ الا ماشاء اللہ عرب جنرل طارق بن زیاد سات ہزار کی فوج کے ساتھ ۷۱۱ء میں اسپین میں داخل ہوا تھا۔ خشکی کے راستہ سے مراکو کے ساحل پر پہنچا۔ پھر سمندری پٹی کو پار کر کے اس مقام پر اترا جس کو
جبرالٹر کہا جاتا ہے ۔ اس نے شاہ لذریق (شاہ اسپین) کو شکست دے کر قرطبہ اور دوسرے شہروں کو فتح کیا۔
طارق نے اپنا یہ سفر گھوڑوں اور کشتیوں کے ذریعہ طے کیا تھا اور اس کو اس سفر میں مہینوں لگ میں ، ۲۷ نومبر کی صبح کو دہلی سے روانہ ہوا اور اسی دن اسپین کی سرزمین پر پہنچ گیا ۔ یہ فرق ٹیکنکل ترقی کا کرشمہ ہے ۔ قدیم زمانہ کا انسان حیوانی حرکت کی رفتار سے سفر کرتا تھا۔ آج کا سفر اس رفتار کے ذریعہ طے ہوتا ہے جس کو مشینی حرکت (Powe ed motion) کہا جاتا ہے۔
مشینی حرکت پہلے دخانی انجن کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔ پھر پٹرول سے چلنے والی کاریں بنائی گئیں۔ اب انسان ہوائی جہاز کی تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کرتا ہے ۔ ہوائی جہاز بھی اچانک نہیں بن گیا۔ سی منزلیں طے کرنے کے بعد وہ موجودہ ترقی یافتہ صورت تک پہنچا ہے ۔
اسپین میں مسلمان صرف سیاسی فاتح کی حیثیت سے نہیں آئے بلکہ وہاں وہ تعمیر نو کے نقیب بن کر داخل اسپین کے شہروں (بلنسیہ، قرطبہ، طلیطلہ، غرناطہ) میں انھوں نے بڑے بڑے تعلیمی ادارے قائم کیے۔
اسپین کے علاوہ دوسرے یورپی ملکوں کے طلبہ آکر علم حاصل کرتے تھے۔ انھوں نے اسپین کی زرخیز زمین میں ہر قسم کی زراعت اور صنعت قائم کرکے اس کو قابل استعمال بنایا۔ انھوں نے اسپین کی آبادیوں کو زیادہ بہتر شہری انتظام دیا۔
مسلمانوں نے اپنے دورِ حکومت (۷۱۱(8/156) ۷۱۱ء تا ۹۲ھ ۶۱ ) میں یہاں کی زندگی پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ آج تک اس کے اثرات ختم نہ ہو سکے۔ مثلاً اسپینی اور پرتگالی زبان میں چار ہزار ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جن کی اصل عربی ہے ۔ اسپینی ڈکشنری اور پرتگالی ڈکشنری میں یہ الفاظ باقاعدہ طور پر داخل کر لیے گئے ہیں۔ یہاں کی سڑکوں پر دوڑتی ہوئی جدید کاروں کے پیچھے جگہ جگہ مسلم طرز تعمیر کے نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ طارق بن زیاد (فاتح اسپین) موسیٰ بن نصیر کا ماتحت اور ان کا آزاد کردہ غلام تھا۔ ابن کثیر نے الذہبی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ طارق بن زیاد طنجہ (افریقہ) کا امیر تھا۔ وہ وہاں موسیٰ بن نصیر کے نائب کے طور پھر جزیرہ خضراء کے مسیحی حاکم نے اس سے اپنے دشمن کے خلاف مدد مانگی۔ اس کے بعد طارق سبتہ کے راستہ سے اندلس میں داخل ہوا۔ اس نے فرنگیوں کی باہمی لڑائی سے فائدہ اٹھایا۔ اور اندلس میں داخل ہو کر قرطبہ کو فتح کیا اور اس کے بادشاہ کو قتل کر دیا۔ پھر اس نے موسی بن نصیر کو فتح کی خبر بھیجی : فحسدہ موسی علی الانفراد بھذا الفتح۔ طارق بن زیاد کے تنہا فاتح بننے پر موسیٰ بن نصیر نے وكتب الى الوليد يبشره بالفتح وينسبہ اس سے حسد کیا اور خلیفہ ولید کو فتح کی خوش خبری بھیجتے (البدایہ والنہایہ (۸۳/۹) ہوئے اس فتح کو اپنی طرف منسوب کیا۔
مگر اس طرح کے فیصلے تاریخ کرتی ہے نہ کہ کسی کے لکھے ہوئے یا بولے ہوئے الفاظ۔ موسیٰ بن نصیر کی اس تحریر کے باوجود تاریخ میں طارق بن زیاد ہی کو فاتح اسپین لکھا گیا اور اسپین کے ساحل پر وہ جس پہاڑی کے پاس اترا تھا وہ پہاڑی اسی کی طرف منسوب ہو کر جبل الطارق (جبرالٹر) کے نام سے مشہور ہوئی :
Its name is derived from the Arabic jabal Tariq (Mt. Tarik), honouring Tariq ibn ۷۱۱ ء میں اسپینی پہاڑی کا نام ایک مسلمان طارق بن زیاد کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس کے ہم سال بعد ہندوستان کے پہاڑ کا نام ایورسٹ انگریز کے نام پر رکھا گیا جس کا نام سرجان ایورسٹ تھا۔
میں تیرہ سال تک سرویر جنرل رہا۔ اسی نے پہلی بار ۱۸۵۲ء میں یہ دریافت کیا کہ ایورسٹ سطح زمین پر سب سے اونچی چوٹی ہے۔
اس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ دونوں واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ انیسویں صدی کے مسلمانوں کے مقابلہ میں آٹھویں صدی کے مسلمانوں میں کیا فرق تھا۔ پہلے زمانہ کے مسلمان اعلیٰ عزم و حوصلہ کے مالک تھے۔ اس لیے ان کا نام پہاڑوں کی چوٹیوں پر لکھا گیا۔ اس کے بعد انیسویں صدی میں دوسری قومیں عزم و حوصلہ میں آگے بڑھ گئیں، اس لیے اب ان کا نام پہاڑوں کی چوٹیوں پر لکھا جانے لگا۔ یہ انسانی اوصاف میں فرق کا معاملہ ہے نہ کہ کسی تعصب اور سازش کا معاملہ۔ کہا جاتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ (۱۹۳۹ء - ۱۹۴۵ء) تک یورپ کے چھوٹے بڑے آٹھ سامراجی ممالک دنیا پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بھو نچال نے ان سب کا خاتمہ کر دیا۔ یہ تھے برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، بیلجیم، اٹلی، پرتگال اور اسپین۔
امریکہ کو دریافت کرنے والا کرسٹو فر کولمبس اٹلی میں پیدا ہوا۔ مگر اس کی وفات اسپین میں ہوئی۔ کولمبس کو اپنی سمندری مہم میں اسپین کی کوئن ازابیلا (Isabella I) سے خصوصی مدد ملی جس نے اس مہم کی سرپرستی قبول کی تھی ۔ (10/691 ، 9/907)
واشنگٹن کی نیشنل گیلری آف آرٹ میں لکڑی کے تختہ پر پینٹنگ کے ذریعہ کولمبس کی مہم کا نقشہ آرٹسٹ کے تخیل کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس کی تصویر ذیل میں درج ہے۔
امریکہ کے جنوب مشرقی علاقہ میں ایک ریاست ٹینیسی (Tennessee) ہے، ۱۹۶۵ء میں سوہلویں
اسٹیٹ کی حیثیت سے یو ایس اے میں شامل کی گئی ۔ اس ریاست کے پہاڑی علاقہ میں ایک قوم بستی ہے جس کو میلنجین (Melungeon) کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ سیاہ فام ہوتے ہیں۔ ان کی موجودہ تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے۔ ان کا بھی ایک آدمی کانفرنس میں شریک تھا۔
شکاگو میں ۲ - ۵ ستمبر ۱۹۹۴ء کو چار مسلم تنظیموں کا ایک مشترک اجتماع ہوا۔ اس میں تقریبا سولہ ہزار ڈیلی گیٹ شریک ہوئے ۔ اس میں ایک ڈاکٹر کینیڈی (Dr. N. Brent Kennedy) تھے۔ اپنی تقریر میں بتایا کہ میں نے اپنے آبا و اجداد اور میلنجین لوگوں کے بارہ میں ریسرچ کی ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہمارے آبا و اجداد اسپینی مسلمان (Spanish Muslims) تھے۔ جو داروگیر (Persecution) کے زمانہ میں وہاں سے بھاگ کر امریکہ آگئے۔ انھوں نے بتایا کہ میں اپنی قوم کی اس تاریخ پر ایک فلم بنا رہا ہوں ۔
اسپین میں جو مسلمان داخل ہوئے وہ محض لینے والے بن کر وہاں نہیں گئے بلکہ دینے والے بن یہ عرب اس وقت ایک تازہ دم قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ انھوں نے صحرائی دنیا سے نکل کر ایک سرسبز و شاداب دنیا کو دریافت کیا تھا۔ اس دریافت نے ان کے اندر نیا ولولہ پیدا کیا۔ جیسے زرخیز ملک میں ان کو ہر قسم کے مواقع ملے۔ چنانچہ انھوں نے اس ملک کی امکانات کو استعمال کر کے اس کو وقت کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ اس کی تفصیل بہت سی کتابوں میں دیکھی جو لوگ صرف ایک کتاب پڑھنا چاہیں وہ درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں : Philip K. Hitti, History of the Arabs برٹرینڈ رسل نے اپنی کتاب (A History of Western Philosophy) میں لکھا ہے کہ اسپین میں عرب اقتصادیات کی ایک بہترین خصوصیت ان کی زراعت تھی۔ خاص طور پر آبپاشی کا ماہرانہ استعمال جس کو انھوں نے کم پانی کے علاقہ میں رہ کر سیکھا تھا۔ آج بھی اسپینی زراعت عربوں کے آبپاشی نظام سے فائدہ اٹھارہی ہے :
One of the best features of the Arab economy was agriculture, particularly the skilful use of irrigation, which they learnt from living where water is scarce. To this day Spanish agriculture profits by Arab irrigation works. (p. 416) یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ ان مسلمانوں نے عرب کے ریگستانوں میں آبپاشی کا نیا نظام سیکھا تھا۔
اصل یہ ہے کہ وہ زندگی کے عزائم سے بھرے ہوئے تھے۔ اور جو قوم زندگی کے عزائم سے بھری ہوئی ہو وہ اسی طرح بڑے بڑے کارنامے انجام دیتی ہے۔
جے ایم رابرٹس ایک منصف مزاج مورخ سمجھا جاتا ہے۔ اس نے تاریخ کے موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ انھیں میں سے ایک ۵۰ء صفحہ کی کتاب دنیا کی تاریخ ہے : J.M. Roberts, The Pelican History of the World اس کتاب میں مصنف نے کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے کہ عربی اسپین (Arab Spain) ہی یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا سبب تھا۔ حتیٰ کہ انڈیا، چین اور یونان کی علمی وراثت بھی اسپین مسلمانوں ہی کے ذریعہ یورپ اسطرلاب ابتدائی طور پر اگرچہ ایک یونانی ایجاد تھی۔ لیکن یہ عرب ہی تھے جو اس کو مغرب تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ جب چاسر (Chaucer) نے اسطرلاب کے استعمال پر اپنا رسالہ لکھا تو اس نے ایک عرب رسالہ کو بطور ماڈل اپنے سامنے رکھا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرون وسطی میں یورپ کسی بھی دوسری تہذیب کا اتنا احسان مند نہیں جتنا کہ اسلام کا :
To no other civilization did Europe owe so much in the Middle Ages as to Islam. (p. 511)
ایک صاحب کو عالمی نقشہ دکھاتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کو دیکھئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یورپ اسپین کے مقام پر آگے بڑھ کر افریقہ کی مسلم دنیا سے مل رہا ہے۔ یہ ملاقات عملاً پیش آئی۔ مگر وہ زیادہ تر سیاسی اور علمی سطح پر باقی رہی۔ دعوت کی سطح پر دونوں کے درمیان زیادہ تعلق قائم نہ ہوسکا۔
چودھویں اور پندرھویں صدی کے درمیان یورپ میں ترقی کا وہ واقعہ ہوا جس کو نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ مغربی مورخین عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ یہ یونانی اور رومی تہذیب کا جو پہلے اٹلی میں ہوا، اور پھر دوسرے یورپی ملکوں تک پہنچا۔ مگر یہاں ایک درمیانی کڑی کو حذف کر دیا گیا ہے، اور وہ اسپین ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسپین میں قدیم تہذیبی سرمایہ کو لے کر اس میں اضافے کیے ۔ اس طرح اسپین میں ایک اعلیٰ تہذیب وجود میں آئی ۔ پھر یہ تہذیب اٹلی میں داخل ہو کر بقیہ یورپی ملکوں تک پہنچی۔
ترقی کے اس عمل میں اسپین کی کڑی حذف ہونے کی ذمہ داری خود اسپین پر ہے۔ صدی میں اسپینیوں نے مسیحی چرچ کے زیر اثر یہ مجنونانہ کام کیا کہ علم و فن کے مسلم ماہرین کو ملک سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ چونکہ مسلمان ہی اس تہذیبی عمل کو اسپین میں جاری کیے ہوئے تھے۔ اس لیے اس جبری انخلاء کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین کی کڑی ٹوٹ گئی، اور اٹلی ہی کی کڑی علاء اہل یورپ کے لیے باقی رہی۔ اس مسئلہ پر ایک اسپینی اسکالر سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ واقعات کی فطری رفتار میں جب بھی تشدد کے ذریعہ تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے گی، ہمیشہ اسی قسم کا منفی نتیجہ نکلے گا۔ میں تدریجی تبدیلی ہی قابل عمل ہے۔ ریڈیکل تبدیلی صرف ایک لفظ ہے۔ اس کے نتیجہ میں عملاً جو چیز ظہور میں آتی ہے وہ صرف تخریب ہے نہ کہ تبدیلی۔
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی اور نویں صدی عیسوی کے درمیان یورپ میں بت اور مذہبی تصویروں کے خلاف جو مہم اٹھی اس کو بھی مسلم اسپین ہی سے تحریک ملی تھی (ان الدعوة الى نبذ الصور والتماثيل كانت متأثرة بالاسلام)
کلو دیس (Claudius) کو ۸۲۸ء میں تورین کا اسقف مقرر کیا گیا۔ وہ مذہبی تصویروں کو غیر مقدس قرار دینے میں اتنا شدید تھا کہ وہ اس قسم کی تصویروں اور صلیبوں کو جلا دیا کرتا تھا اور اپنے چرچ میں اس کی عبادت کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ یہ کلو دیس اندلس میں پیدا ہوا اور وہیں اس کی پرورش ہوئی (ولد وربي فى الاندلس الاسلامية) ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ٣٩ - ۱۳۸ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ۱۴۹۲ء میں غرناطہ کی مسلم سلطنت پر قبضہ کرنے کے بعد عیسائی حکمرانوں نے یک طرفہ طور پر مسلمانوں کو مارنا اور بھگانا شروع کر دیا۔ مگر بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس وقت مسلمان اسپینیوں کے لیے بہترین مزدور اور بہترین کاریگر کی حیثیت رکھتے تھے۔ انھوں نے ان کے صنعت و حرفت اور زراعت و باغبانی کے نظام کو ترقی دی تھی اور اس کو سنبھالے ہوئے تھے۔ اسپینیوں کو عام مسلمانوں سے وہ نفرت نہیں ہو سکتی تھی جو ان کو سیاسی حکمرانوں سے تھی۔ مگر مسلم حکومت کے خاتمہ کے بعد ان مسلمانوں نے عیسائی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ بار بار ان کے خلاف بغاوت کرتے رہے۔ اگر چہ ناکافی تیاری کی بنا پر وہ ہر بار کچلے جاتے تھے۔ یہ کہ اسپین کی مذہبی مخالفت کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں تھا بلکہ وہ تمام غیر عیسائی مذاہب سے تھا۔
چنانچہ مسلمانوں کے ساتھ اسپینی یہودی بھی یکساں عتاب کا نشانہ بنے۔
غرناطہ کی موجودہ آبادی ڈھائی لاکھ ہے ۔ اس میں تقریباً ایک ہزار اسپینی مسلمان ہیں۔ کو حکومت وقت کی طرف سے کسی قسم کی کو ٹی شکایت نہیں۔ وہ اپنی شخصیت کو چھپائے بغیر آزادی کے ساتھ شہر میں رہتے ہیں۔ ۱۹۹۳ میں غرناطہ کے مسلمانوں نے عید الفطر کی نماز الحمراء میں ادا کیا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ اسپین کے ٹی وی سسٹم نے اس نماز کی مکمل فلم بندی کی تھی۔ اس کوئی وی کے نیشنل پروگرام کے تحت براڈ کاسٹ کیا گیا جس کو پورے ملک میں نہایت شوق کے ساتھ دیکھا گیا۔ کچھ لوگ اسپین کی تصویر اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے کہ سارا اسپین مسلمانوں کا دشمن بن گیا تھا۔ واقعہ کے خلاف ہے اور فطرت کے خلاف بھی۔ اصل یہ ہے کہ وہاں تین طبقے تھے۔ ایک، مذہبی طبقہ، دوسرے، حکمراں طبقہ، تیسرے، عوام۔
یہ صحیح ہے کہ مذہبی طبقہ (مسیحی چرچ) مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کا دشمن بن گیا تھا۔ اور چونکہ اس زمانہ میں مذہبی طبقہ کا بہت اثر تھا اس لیے انھوں نے دونوں فرقوں پر کافی ظلم بھی کی۔ مگر حکمراں طبقہ کے دل میں مسلمانوں کے لیے وہ نفرت نہ تھی۔ کیوں کہ مسلمان ان کے ملک کی ترقی کا سبب بنے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر تاریخ بتاتی ہے کہ چرچ کے لوگوں نے جامع قرطبہ کے کچھ ستونوں کو گرایا اور اس کے ایک حصہ میں چرچ بنا دیا۔ اس کے بعد انھوں نے چارلس پنجم (۱۵۵۸ - ۱۵۰۰ء) کو اس چرچ کے افتتاح کے لیے بلایا۔ مگر شاہ اسپین جب وہاں آیا اور مسجد کے بقیہ حصہ کو دیکھا تو وہ بہت غضب ناک اس نے کہا، میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ مسجد اتنی خوب صورت اور اتنی عالی شان ہے۔ اگر میں جانتا تو تم کو ہرگز اسے توڑنے کی اجازت نہ دیتا۔ کیوں کہ اس کے ایک حصہ کو توڑ کر تم نے جو چرچ بنایا ہے وہ تم دوسری جگہ بھی بنا سکتے تھے۔ مگر یہ مسجد تو ایک ایسی نادر عمارت ہے جس کی دوسری مثال سارے عالم میں موجود نہیں۔
چارلس پنجم نے اہل کلیسا کے زیر اثر ۱۵۲۵ء میں بلنسیہ اور ار اغون کے مسلمانوں کے نام یہ حکم جاری کیا کہ وہ اپنی زبان، مذہب، لباس، عادات کو ترک کرکے مکمل طور پر عیسائی ہو جائیں، ورنہ ان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اس کے بعد ۱۵۲۸ء میں بلنسیہ کے بارہ افراد کا ایک وفد بادشاہ سے ملا اور اس سے درخواست کی کہ اس حکم کو واپس لے لیا جائے ۔ چنانچہ بادشاہ نے اس حکم کا نفاذ روک دیا۔
کی وجہ یہ تھی کہ یہ مسلمان اپنی محنت اور اپنی مہارت کی بنا پر وہاں کے زمینداروں اور جاگیرداروں کے لیے قیمتی سرمایہ تھے۔ وہ ڈرتے تھے کہ اگر مسلمانوں کو نکال دیا گیا تو ان کے کھیت اور باغ ویران ہو جائیں گے اور ان کی اقتصادیات پر اس کا نہایت مضر اثر پڑے گا۔
مسلم اقتدار کے خاتمہ کے بعد مسجد قرطبہ کے ایک حصہ کو عیسائیوں نے چرچ میں تبدیل کر دیا۔ مگر اس کا سبب عیسائیوں کے ظلم کے ساتھ خود مسلمانوں کی نادانی بھی تھی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسپین میں ایک مسیحی پیشوا سینٹ ونسنٹ (Saint Vincent Ferrer) گزرا ہے۔ مسیحیوں نے اس کے نام پر قرطبہ میں دریا کے کنارے ایک چرچ تعمیر کیا تھا۔ اس علاقہ پر سیاسی قبضہ کے بعد مسلمانوں نے عین اسی چرچ کی جگہ اپنی مسجد بنا دی۔ اس طرح اس مسجد کے ساتھ غیر ضروری طور پر نزاع کی حالت قائم ہو گئی۔ ہے کہ بعد کو ۷۸۶ میں سلطان عبد الرحمن الداخل نے عیسائیوں کو راضی کر کے اس جگہ کو خرید لیا اور وہاں مزید تو سیع کے ساتھ عظیم مسجد قرطبہ کی تعمیر کی۔ اس تعمیر پر دو سال میں ۸۰ ہزار دینار خرچ ہوئے۔ کو جب دوبارہ سیاسی غلبہ ملا تو انھوں نے مسجد کے تو سبعی حصہ کو تو چھوڑ دیا۔ مگر سینٹ ونسنٹ چرچ کی ابتدائی جگہ کو دوبارہ انھوں نے گرجامیں تبدیل کر دیا۔
اسپین میں مسلم سلطنت کے خاتمہ کے بعد مسیحیوں نے بہت سی مسجدوں کو چرچ بنایا تھا۔ اس کا دفاع کرتے ہوئے بعض مغربی مصنفین نے لکھا ہے کہ یہ مسیحیوں کی طرف سے جوابی کارروائی تھی۔ اپنے زمانہ حکومت میں کثیر تعداد میں چرچ کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ چنانچہ مسیحیوں کو جب غلبہ حاصل ہوا تو انھوں نے دوبارہ ان مسجدوں کی جگہ پر اپنے چرچ بنا دیے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں :
" اسلام میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کوئی علاقہ مسلمانوں نے صلح سے نہیں بلکہ بزور شمشیر جنگ کے ذریعہ فتح کیا ہو تو وہاں کی زمینوں اور عمارتوں پر انھیں شرعاً مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اختیار میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ غیرمسلموں کی کسی عبادت گاہ کو ضرورۃ ختم کر دیں ، یا مسجد میں تبدیل کر لیں ۔ اس کے باوجود مسلمان فاتحین نے اس شرعی اختیار کو بہت کم استعمال کیا۔ بعض مقامات پر کسی ضرورت یا مصلحت کے تحت کلیسا کو مسجد بنا دیا گیا ۔ " اندلس میں چند روز ، صفحہ ۲۱ یہ بات صحیح نہیں ۔ " بزور شمشیر فتح " کا مذکورہ حکم صرف اس وقت ہے جب کہ فریق ثانی خود جارحیت
کرے اور اس کے نتیجہ میں جنگ پیش آئے۔ جب کہ معلوم ہے کہ اسپین نے اس قسم کا کوئی جارحانہ اقدام نہیں کیا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جارحیت کی صورت میں بھی مذکورہ شرعی مسئلہ کا تعلق صرف زمینوں اور عمارتوں سے ہے۔ اس میں عبادت خانہ شامل نہیں ہے۔ کسی قوم کے عبادت خانہ کو توڑنا صرف اس وقت جائز ہے جب کہ اس کو بنانے والے سب کے سب اسلام قبول کرکے نمازی بن گئے ہوں۔ تیسری بات یہ ہے کہ جس طرح ایک انسان کو ناحق مارنا گویا تمام انسانوں کو مارنا ہے۔ اسی طرح کسی ایک عبادت گاہ کو ڈھانا گویا تمام عبادت گاہوں کو ڈھانا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں کمیت قابل لحاظ نہیں ہوتی۔
اسپین سے مسلمانوں کا کلی انخلاء نہ کبھی ہوا اور نہ ہوسکتا تھا۔ مسلم حکمرانوں نے اپنے زیر قبضہ اسپین میں غیرمسلموں سے انتہائی رواداری اور انصاف کا معاملہ کیا تھا۔ مسلمانوں کی علمی ترقیوں سے مقامی آبادی اتنا زیادہ متاثر تھی کہ لوگ اسی طرح عربی لکھنے اور بولنے کو فخر سمجھتے تھے جس طرح برٹش حکومت کے دور میں ہندوستان کے لوگ انگریزی لکھنے اور بولنے کو فخر سمجھنے لگے تھے۔ اسپینیوں کی ایک بڑی تعداد مستعرب (Mozarab) بن گئی تھی۔ یہ تقریباً اسی قسم کے لوگ تھے جیسے مغل دور میں ہندوستان کے کائستھ۔ اسپین کی زراعت اور صنعت کے لیے بہترین کاریگر اور ماہرین فراہم کر رہے تھے۔ اسپینیوں کی ایک قابل لحاظ تعداد نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ حتیٰ کہ خود اسپین کے مسیحی حکمرانوں میں کئی حکمراں ایسے تھے جو مسلمانوں کے حق میں اپنے دل کے اندر نرم گوشہ رکھتے تھے۔ اس طرح کے مختلف طاقت ور اسباب اس میں مانع تھے کہ مسلمانوں کو مکمل طور پر اسپین سے باہر نکال دیا جائے۔
تقریباً تین لاکھ (300,000) مور سکو (Moriscos) جو اسپین سے نکالے گئے وہ بھی قانون فطرت کے مطابق، عصریں یسر کی مثال بن گئے۔ یہ لوگ اسپین سے نکل کر زیادہ تر الجیریا، تیونس اور مراکو میں بسے تھے۔ ان کا یہ آنا ان ملکوں میں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن گیا۔ پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے تحقیق کرکے بتایا ہے کہ ان افریقی ملکوں میں تبلیغِ اسلام کے لیے یہاں قادریہ سلسلہ تصوف کی ایک خانقاہ ساقیہ (الحمراء) کے نام سے قائم تھی۔ مگر وہ نہ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ مسلم مذہب کو ان افریقیوں کے اندر داخل کرنے کا کارنامہ ان اسپینی مسلمانوں نے انجام دیا جو ۱۴۹۲ء میں غرناطہ کی حکومت کے خاتمہ کے بعد اسپین سے نکال دیے گئے تھے :
But the honour of winning an entrance among them for the Muslim faith was reserved for a number of Andalusian Moors who were driven out of Spain after the taking of Granada in 1492. (p. 129)
اقبال کو دوبارہ اسپین کے علاقہ میں جانے کا موقع ملا۔ پہلی بار ۱۹۰۸ء میں جب یورپ کے ایک سفر کے دوران وہ اسپین کے ساحل (سسلی) سے گزرے۔ اس پر انھوں نے ایک تاثراتی نظم بھی لکھی تھی جو ان کے مجموعہ کلام میں شامل ہے۔
اسپین کے لیے اقبال کا دوسرا سفر جنوری ۱۹۳۳ء میں ہوا۔ اس وقت تیسری گول کانفرنس لندن میں ہوئی اس میں شرکت کے لیے جو لوگ ہندوستان سے گئے ان میں سے ایک اقبال بھی تھے۔ فراغت کے بعد وہ پیرس ہوتے ہوئے غالباً ۵ جنوری کو اسپین میں داخل ہوئے اور اپنے تین ہفتہ کے قیام میں میڈرڈ اور غرناطہ اور قرطبہ کو دیکھا۔
اقبال کو اسپین کے علاوہ دوسرے کئی ملکوں کے سفر کا موقع ملا۔ چنانچہ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں : بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے (بال جبريل)۔ مگر صرف کسی ملک کا سفر کرنا یا اس کو دیکھنا اس ملک کو جاننے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ایک سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ تھے اور یورپ کی ایک شپنگ کمپنی میں ۲۰ سال سے ملازم تھے۔ انھوں نے دنیا کے اکثر ملکوں کا سفر کیا مگر جب میں نے گفتگو کی تو اندازہ ہوا کہ عالمی زندگی کے کسی بھی پہلو پر وہ کوئی گہری واقفیت نہیں رکھتے۔ اصل یہ ہے کہ ایک سائنس داں کے الفاظ میں ، آدمی کو پیشگی طور پر ایک تیار ذہن (Prepared mind) ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ہی وہ کسی چیز کو حقیقی طور پر سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح ضروری ہے کہ تاریخ اور دوسرے علوم کے گہرے مطالعہ سے آدمی ذہنی طور پر پوری طرح تیار ہو چکا ہو۔ کے بعد ہی وہ کسی ملک کو گہرائی کے ساتھ جان سکتا ہے یا وہاں کے سفر سے کوئی حقیقی بات دریافت کر سکتا ہے۔
۱۹۰۸ء میں اقبال نے اسپین کے ساحل کو دیکھ کر کہا تھا :
رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوں ناب بار وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار یہ محض ایک شاعرانہ تخیل ہے نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی تاریخی واقعہ ۔ کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ اسپین کبھی بھی "تہذیب حجازی" کا مزار نہیں بنا۔ وہاں سے بعض مسلم خاندانوں کا سیاسی اقتدار ضرور ختم ہوا۔
تک حجازی تہذیب یا اسلام کا معاملہ ہے اس کا وجود خاندانی اقتدار کے خاتمہ کے بعد بھی اسپین میں باقی تھا اور آج بھی وہ وہاں موجود ہے۔
اقبال نے فاتح اسپین طارق بن زیاد کے بارہ میں لکھا ہے کہ طارق نے جب اندلس کے ساحل پر اپنی کشتی کو جلا دیا تو لوگوں نے کہا کہ عقل کی نظر میں یہ تم نے غلط کام کیا : طارق چو بر کناره اندلس سفینه سوخت گفتند کار تو به نگاه خرد خطاست حالانکہ کشتیوں کو جلانے کا یہ افسانہ بالکل بے بنیاد ہے ۔ اور وہ کسی بھی قابل اعتماد تاریخی کتاب میں موجود اسی طرح اقبال اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں :
آسماں نے دولتِ غرناطہ جب برباد کی ابن بدروں کے دلِ ناشاد نے فریاد کی یہ بھی اقبال کی ایک تاریخی بھول ہے۔ کسی ابن بدرون نے کبھی غرناطہ کا مرثیہ نہیں لکھا۔ اصل یہ ہے کہ ابن عبدون الفهری (م ۵۲۹ھ) ایک اسپینی شاعر تھا۔ اس کا تعلق بطلیوس (Badajoz) کے مسلم حکمراں متوکل بن المظفر سے تھا جو ملوک الطوائف میں سے ایک تھا۔ ابن عبدون اسی متوکل کا وزیر تھا اور شاعر بھی تھا۔ متوکل بن المظفر کو یوسف بن تاشفین نے اس کے دو بیٹوں سمیت مروادیا تھا۔ اس المیہ پر ابن عبدون نے عربی میں ایک مرثیہ لکھا ۔ اس مرثیہ کا تعلق سقوط بطلیوس سے تھا نہ کہ سقوطِ غرناطہ سے۔ ابن عبدون کے اس مرثیہ کی شرح ایک صاحب نے کی جو شاعر نہیں تھے بلکہ صرف عالم تھے۔ ان کا نام ابن بدرون (عبد الملک بن عبد اللہ بن بدرون) تھا۔ انھوں نے ۶۰۸ ھ میں وفات پائی۔ مسجد قرطبہ پر اقبال کی طویل نظم کا ایک مصرعہ ہے : کا فرِ ہندی ہوں میں دیکھ میرا ذوق و شوق۔ اس طرح کے بہت سے اشعار اقبال کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً انھوں نے اپنے بارہ میں کہا : مرا بنگر در ہندوستان دیگر نمی بینی برہمن زاده داناے رمز روم و تبریز است اسی طرح وہ اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں " سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا" حتیٰ کہ ان کی ایک تعریفی نظم رام کے بارہ میں بھی ہے جس کا ایک شعر یہ ہے :
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز اہلِ وطن سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند اقبال کے اس قسم کے اشعار کو اُس زمانہ میں برا نہیں مانا گیا۔ لیکن اس طرح کی بات اگر آج کوئی لکھے
تو خود اقبال کے پرستار یہ کہیں گے کہ دیکھو اس شخص کو، یہ ہندو کا آلہ کار بن گیا ہے۔ یہ مسلمانوں کا تشخص مٹانا چاہتا ہے۔
عبد المجید بن عبد اللہ بن عبدون الفہری (م ۵۲۹ھ) اندلس کے ایک ممتاز عالم اور ادیب ہیں۔ بارے میں بہت سے قصے مشہور ہیں ۔ ابو مروان عبد الملک ایک وزیر تھے۔ ان کے لڑکے ابو بکر ایک کاتب سے ” کتاب الاغانی“ کی کتابت کروا رہے تھے۔ درمیان میں ایک روز انھیں کتابت شدہ حصہ کو اصل نسخہ سے ملا کر اس کی تصحیح کرنا تھا۔ اس وقت کتاب کا اصل نسخہ موجود نہ تھا۔ انھوں نے کسی آدمی کو اصل نسخہ لانے کے لیے باہر بھیجا تھا۔
اس درمیان میں ایک بوڑھا آدمی وہاں آگیا جو بظاہر غیر اہم تھا۔ بات چیت کے دوران اس کو معلوم ہوا کہ ابو بکر کے ہاتھ میں کتاب الاغانی ہے اور وہ مقابلہ کر کے اس کی تصحیح کرنے کے لیے اصل نسخہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ بوڑھے آدمی نے کہا کہ میں بولتا ہوں ، تم اپنی کتاب کھول کر ملا لو۔ ابو بکر نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کتاب ہے ۔ بوڑھے آدمی نے کہا کہ کتاب تو نہیں ہے، البتہ یہ کتاب مجھے کو یاد ہے۔ کے بعد بوڑھے آدمی نے اپنے حافظے سے کتاب پڑھنا شروع کیا اور ابو بکر اپنے کتابت شدہ نسخہ کو کھول کر اس سے ملانے لگے۔ ابو بکر کو سخت حیرت ہوئی جب انھوں نے دیکھا کہ ایک لفظ کے فرق کے بغیر بوڑھا آدمی کتاب کو دہرائے چلا جا رہا ہے ۔
ابو بکر حیرانی کے عالم میں گھر کے اندر گئے اور اپنے باپ کو پورا قصہ سنایا ۔ ان کے باپ ابومروان عبد الملک ننگے پاؤں بھاگ کر باہر آئے۔ انھوں نے اس بوڑھے آدمی کو گلے سے لگایا۔ ان کی ضیافت کی اور پھر اعزاز کے ساتھ سواری دے کر انھیں رخصت کیا۔ ان کے جانے کے بعد بیٹے نے پوچھا کہ یہ بوڑھا آدمی کون تھا۔ باپ نے جواب دیا کہ تمہارا برا ہو، یہ اندلس کے ادیب اور علم ادب میں اس کے سردار ابن عبدون ہیں (ويحك هذا اديب الاندلس وسيدها فى علم الادب ، هذا ابو محمد عبد المجيدبن عبدون) الاعلام ۳/ ۱۴۹ اسپین کے مسلم عہد میں جو بڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں ان میں سے ایک ابن حزم ہیں۔ وہ قرطبہ میں ان کا زمانہ ۳۸۴ھ اور ۴۵۶ھ کے درمیان ہے۔ یہ زمانہ مسلم اسپین کا انتہائی اختلاف کا اس زمانہ کے اندلس میں مالکی فقہاء کا غلبہ تھا جو قیاس سے کام لینے میں حد سے تجاوز کر گئے تھے۔
ابن حزم نے سمجھا کہ فقہ میں قیاس کو داخل کرنا بس یہی اختلاف اور بگاڑ کا اصل سبب ہے۔ چنانچہ وہ قیاس کے منکر ہوگئے اور صرف ظاہر پر زور دینا شروع کر دیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کئی کتابیں لکھیں۔ کتاب کا نام ہے : ابطال القیاس والرائے والاستحسان والتعلیل ۔
ابن حزم نے لکھا کہ ان اللہ تعالیٰ یقول : وما اختلفتم فیه من شیئ فحکمہ الی اللہ۔ یقل سبحانہ وتعالیٰ فحکمہ الی الرای والقیاس ( الاحکام فی اصول الاحکام ، ۵۳/۶) اس ظاہری مسلک کی بنا پر ابن حزم بہت زیادہ نزاعی شخصیت بن گئے۔ وہ کئی بار قید کیے گئے۔ ان کی تکفیر و تضلیل کی گئی۔ ان کی کتابیں جلا دی گئیں۔ حتیٰ کہ ان کی لکھی چار سو کتابوں میں سے اب مشکل سے چالیس کتابیں دنیا میں باقی ہیں۔
اس موضوع پر ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ابن حزم کا کیس در اصل انتہا پسندی کا کیس ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اُس زمانے کے فقہاءء کثرت سے قیاس کا غلط استعمال (سوء استخدام) کر رہے تھے۔ لیکن اگر تمام فقہی کتابیں جلا دی جائیں اور صرف قرآن و حدیث دنیا میں رہ جائے تب بھی غلط استعمال کی برائی باقی رہے گی۔ کیونکہ غلط استعمال کا سبب متن میں نہیں ہوتا بلکہ آدمی کے اپنے ذہن میں ہوتا ہے۔
میں نے مزید کہا کہ فقہا اسلام نے چار چیزوں کو مصادر شریعت قرار دیا ہے —— قرآن ، سنت ، اجماع ، قیاس ۔ میں سمجھتا ہوں کہ حدیث کے الفاظ کی اتباع کی جائے تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ مصادر شریعت تین ہیں : قرآن ، سنت اور اجتہاد ۔ اجتہاد سے مراد آزادانہ رائے نہیں ہے ، بلکہ وہ رائے ہے جو قرآن و سنت کی بنیاد پر مخلصانہ طور پر قائم کی گئی ہو۔ اجتہاد کے مختلف درجے ہیں۔ کا نام قیاس اور اجماع ہے۔
قاضی منذر بن سعید قرطبہ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ ۳۶۶ھ میں قرطبہ میں ان کی وفات ہوئی ۔ وہ علم اور زہد دونوں میں ممتاز درجہ رکھتے تھے ۔ اپنے زمانے کے اندلس میں وہ قاضی القضاۃ کے عہدہ پر مقرر ہوئے ۔ اور آخر تک اس عہدہ پر قائم رہے۔
ابن الاثیر نے اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں ۳۸۶ ھ کے حالات کے تحت لکھا ہے کہ سلطان عبد الرحمن الناصر نے جب الزہراء کا محل تعمیر کر لیا تو ایک دن وہ اپنے سونے کے تخت پر
دربار میں بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ سلطان نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم نے سنا ہے کہ کبھی کسی نے ایسا عالی شان محل بنایا ہو۔ حاضرین نے کہا کہ ہم نے نہ ایسا دیکھا اور نہ ایسا (لم نر ولم نسمع بمثلہ) لوگوں نے خوب تعریف کی مگر قاضی منذر سر جھکائے بیٹھے رہے ۔
آخر میں سلطان نے قاضی منذر سے بولنے کے لیے کہا۔ قاضی منذر رو پڑے اور ان کے آنسوان کی داڑھی تک آگئے۔ انھوں نے کہا : خدا کی قسم، میرا یہ گمان نہیں تھا کہ شیطان تمہارے اوپر اتنا زیادہ قابو پا جائے گا کہ وہ تم کو کافروں کے درجہ تک پہنچادے۔ سلطان نے کہا کہ دیکھئے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اور کیسے آپ مجھے کافروں کے درجہ تک پہنچارہے ہیں۔ اس کے بعد قاضی منذر نے قرآن سے سورہ الزخرف کی آیات ۳۳ - ۳۵ پڑھیں ۔ ان آیتوں کو سن کر سلطان عبد الرحمن سخت غمگین ہوا اور رونے لگا۔ اس نے کہا کہ اللہ آپ کو بہتر جز اعطا فرمائے۔ اور مسلمانوں میں آپ جیسے بہت لوگ پیدا کرے۔
اسی طرح ایک بار اندلس میں قحط پڑا۔ سلطان عبد الرحمن نے ایک آدمی کو قاضی منذر کے پاس بھیجا اور کہلا یا کہ قاضی صاحب بارش کے لیے دعا کریں۔ قاضی منذر نے قاصد سے پوچھا کہ سلطان خود کیا کر رہے ہیں۔ قاصد نے کہا کہ میں ان کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ انھوں نے شاہی لباس اتار کر معمولی کپڑے پہن لیے تھے اور زمین پر سر رکھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ خدا یا، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، کیا تو میری وجہ سے لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔
قاضی منذر نے شاہی قاصد سے کہا کہ تم بارش لے کر جاؤ۔ کیوں کہ جب زمین کا بادشاہ عاجزی اختیار کرتا ہے تو آسمان کا بادشاہ رحم فرماتا ہے۔ اس کے بعد قاضی منذر باہر نکلے اور استسقاء کی نماز پھر منبر پر کھڑے ہو کر تقریر کی ۔ لوگ تقریر سن کر رونے لگے۔ جب وہ گھر لوٹے تو بارش شروع ہو چکی تھی (المجلد الثامن ، صفحہ ۷۵ - ۷۶)
اس موضوع پر ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ بعد کے دور میں علماء کے درمیان یہ غلط روایت چل پڑی کہ لوگوں نے حکومت میں عہدہ لینے کو کمتر سمجھ کر اسے چھوڑ دیا۔ یہ عالم کے مناخر میں شمار ہونے لگا کہ اس کو حکومت نے عہدہ کی پیش کش کی اور اس نے اسے ٹھکرا دیا۔ حالاں کہ یہ پیغمبرا نہ سنت کے خلاف ہے۔ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے مشرک بادشاہ کے یہاں عہدہ قبول کیا۔
میں نے کہا کہ یہ روش اسلامی مزاج کے مطابق نہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علماء، صالحین اور حکمرانوں کے بیچ میں دوری قائم ہوگئی ۔ اس دوری کے نتیجہ میں بہت سے اعلیٰ مواقع استعمال ہونے سے رہ گئے ۔ اسلام کی بعد کی تاریخ کا یہ ایک افسوس ناک باب ہے کہ رجاء بن حیوہ اور قاضی ابو یوسف اور قاضی منذر اور شیخ احمد سرہندی جیسی مثالیں اس میں بہت کم پائی جاتی ہیں ۔ اسپین کے مسلم عہد میں جو بڑے بڑے دماغ اٹھے ان میں سے ایک ممتاز نام ابن طفیل کا ہے۔ وہ ۱۱۰۰ء میں اندلس میں وادی آش (Guadix) میں پیدا ہوا ۔ ۱۱۸۵ء میں مراکش میں اس کی وفات الموحدین کا سلطان ، ابو یوسف المنصور اس کے جنازہ میں شریک ہوا ۔ ابن طفیل ایک فلسفی اور طبیب تھا۔ اس کی تعلیم غرناطہ میں ہوئی ۔ وہ ایک اور کینل فکر رکھنے والا فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ حالات پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں ۔ ان میں سے فرانسیسی مصنف لیون غوشیہ (Leon Gauthier) کی کتاب بہت اہم سمجھی جاتی ہے ۔
اس کی ایک نسبتاً مختصر کتاب حی بن یقظان کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ اس کا مطلب ہے زندہ ابن بیدار (The living one, son of the vigilant) یہ ایک فلسفیانہ کہانی ہے۔ ایک انسان بچپن سے لے کر بڑی عمر تک خالص فطرت کے ماحول میں رہتا ہے ۔ اس کا کسی انسان سے سابقہ پیش نہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی فطرت اور کائنات کے بے آمیز مطالعہ کے ذریعہ خدا کو پا لیتا ہے ۔ ابن طفیل اس دل چسپ کہانی کے ذریعہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خدا ایک حقیقت ہے اور عین عقل انسانی کا تقاضا ہے ۔
حی بن یقظان ہی کے نمونہ پر بعد کو رابن سن کروسو (Robinson Crusoe) لکھی گئی۔ کی اس کتاب کا ترجمہ تقریباً ستر زبانوں میں ہو چکا ہے ۔ ڈچ زبان میں اس کا ترجمہ ۱۶۷۲ء میں ہوا۔ روسی زبان میں ۱۹۲۰ میں ، اسپینی زبان میں ۱۹۳۴ میں ۔ اس عربی کتاب کا پہلا ترجمہ لاطینی زبان میں ۱۶۷۱ء یہ ترجمہ ایڈورڈ پوکوک (Edward Pococke) نے کیا تھا ۔
مسلم اسپین میں ادب و شاعری کو بہت فروغ ہوا ۔ چنانچہ کثیر تعداد میں شعراء پیدا ہوئے ۔ خود اسپین کا پہلا اموی حکمراں عبد الرحمن الداخل بھی شاعر تھا۔ خلیفہ عبد الرحمن الناصر (الثالث) کے دربار کا ایک شاعر اس کے دور کی تعریف میں کہتا ہے کہ اللہ نے اسلام کا راستہ واضح کر دیا ۔ اور لوگ دین میں جوق در جوق داخل ہو گئے ۔
قد أوضح الله للاسلام منهاجا والناس قد دخلوا فى الدين افواجا دوسرا شاعر مسلم سلطنت کے خاتمہ کے بعد کہتا ہے کہ کیا یہ شہر دین اسلام کا محفوظ قلعہ نہ تھا۔ مگر خدا نے اس کو ذلیل کر دیا :