الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
Al-Risala, August 1995, pp. 62–90
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک اور شاعر کے مرثیہ کا ایک شعر یہ ہے کہ ہر چیز جب مکمل ہو جاتی ہے تو اس میں نقص کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس لیے کسی آدمی کو خوش گوار زندگی سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے : لكل شيئ اذا ما تمّ نقصان فلا يغرّ بطيب العيش انسانُ یہ تین اشعار نہ صرف اسپین کے مسلم دور کی تصویریں ہیں۔ بلکہ اس میں پوری دنیا میں مسلمانوں کے عروج و زوال کا نقشہ دیکھا جا سکتا ہے۔
اندلس میں دوسری ترقیوں کے ساتھ فنِ موسیقی اور آلاتِ موسیقی کی بھی کافی ترقی ہوئی۔ پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ میں نے عبدالعزیز بن عبدالجلیل کی کتاب الموسيقا الاندلسية المغربية یہ کتاب ۱۹۸۸ میں کویت سے چھپی ہے۔ وہ ۲۷۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ تاہم اس موضوع سے نا آشنا ہونے کی بنا پر وہ میری سمجھ میں زیادہ نہ آ سکی۔
اسپین کی مسلم سلطنت کے زوال کے بعد جب ان حکمرانوں کی بنائی ہوئی عمارتیں کھنڈریا غیر آباد ہو چکی ان کے محلوں اور باغوں میں انسانوں کے بجائے جانور رہنے لگے تھے۔ اس زمانہ میں ۴۴۵ھ میں ابو الحرم بن محمد بن جہور کا گزر مدینۃ الزهراء سے ہوا۔ اس نے جب شاہی دور کی ان برباد عمارتوں کو دیکھا تو اس پر ایک عجیب حیرت طاری ہو گئی۔ اس نے اپنے تاثر کا اظہار ان اشعار میں کیا ہے : قلتُ يوماً لدارِ قومٍ تفانوا اين سكّانُك العِزاز علينا فاجابت هنا ا قاموا قليلا ثم ساروا ولستُ اعلم اينا یعنی وہ قوم جو فنا ہو گئی ، میں نے ایک دن اس کے مسکن سے پوچھا۔ تمہارے وہ مکین کہاں گئے جو ہم کو بہت عزیز تھے۔ اس نے جواب دیا کہ تھوڑے دن وہ یہاں ٹھہرے تھے۔ پھر وہ چلے گئے اور مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کدھر گئے ( نفح الطيب )
یہ صرف مدینۃ الزهراء کے مکینوں کی کہانی نہیں ، یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔
دنیا میں جو بھی آتا ہے، تھوڑی مدت کے بعد وہ اس طرح یہاں سے چلا جاتا ہے کہ اس کے چھوڑے ہوئے کھنڈروں کے سوا کوئی اور نشان اس کا یہاں باقی نہیں رہتا۔
اسپینی زبان میں ابھی تک ایک مثل ہے جس کا ترجمہ عربی میں ایک شخص نے اس طرح کیا : کل مَنْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَنَقَلَهُ مِنْزِلاً فِي اِشْبِيْلِيَهِ (جس آدمی سے خدا مجبت کرتا ہے، اس کو اشبیلیہ میں ایک مکان دے دیتا ہے)
یہ مثل اس وقت بنی جب اشبیلیہ (اور دوسرے اندلسی شہروں میں) مسلم تمدن کا غلبہ تھا۔ یہ شہر عمدہ مکانات، سڑکیں، باغات اور صاف ستھری زندگی کے لیے ایک عالمی نمونہ بنے ہوئے تھے۔ المعتمد بن عباد اسی اشبیلیہ کا حکمراں تھا۔ یہاں ابھی تک ایک قدیم عمارت الکازار کے نام سے ہے۔ جو القصر کی اسپینی صورت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے فخر کے ساتھ اس واقعہ کو دہرایا کہ ملوک الطوائف کے زمانہ میں جب عیسائیوں کے حوصلے بڑھ گئے اور المعتمد بن عباد نے افریقہ کے حکمراں یوسف بن تاشفین کو مدد کے لیے بلایا۔ اس وقت ایک مسلمان نے اس کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ جب یوسف بن تاشفین یہاں اپنی فوجوں کو لے کر آئے گا تو وہ تم کو بے دخل کر کے خود تمہاری سلطنت پر قبضہ کر لے گا۔ المعتمد نے جواب دیا: رعى الجمال ولا رعى الخنازير - یعنی اگر میں ایک عرب بادشاہ کا قیدی بن کر اس کا اونٹ چراؤں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ میں ایک فرنگی بادشاہ کا قیدی بن کر اس کی خنزیر پروں کو چراؤں۔ ایک صاحب نے فخر کے ساتھ اس قول کو دہرایا۔ میں نے کہا کہ انسانوں کو "اونٹ" اور "خنزیر" میں بانٹنا یہ خالص قومی مزاج ہے۔ مومن کا مزاج داعیانہ مزاج ہوتا ہے۔ وہ تمام انسانوں کو اللہ کے بندوں کے روپ میں دیکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی غیر داعیانہ مزاج اندلسی مسلمانوں کی تباہی کا سبب بنا۔ عیسائیوں کو "خنزیر" سمجھنے کے بجائے اگر وہ ان کو "مدعو" سمجھتے تو شاید اسپین کی تاریخ دوسری ہوتی۔ ایک عرب سیاح نے اپنے اسپینی سفر کے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ حب میں نے قرطبہ کی تاریخی یادگاریں دیکھیں جو ابھی تک اپنی عظمت کی داستان سنا رہی ہیں تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو انھوں نے کہا کہ اس وقت حالت یہ تھی کہ سیاحوں کے قافلے میرے پاس سے گزر رہے تھے اور وہ میری حالت کو دیکھ کر سمجھ جاتے تھے کہ یہ ایک عربی ہے جو اپنے اسلاف کی عظمت پر رو رہا ہے ( تمرّ بي قوافل السياح فيعرفون اني عربي ابكي مجدا اجدادي)
میں نے کہا کہ اس قسم کئی عمارتوں کو دیکھ کر مجھے بھی رونا آتا ہے۔ مگر میرا رونا اسلاف کی عظمت کے لیے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس پر ہوتا ہے کہ انسان کتنا زیادہ نادان ہے کہ ایسی چیزوں کے اوپر اپنی عظمت کا محل کھڑا کرتا ہے جو آخر کار کھنڈر ہو جانے والی ہیں۔
غرناطہ کے قصر الحمراء میں ایک جگہ ایک بورڈ لگا ہوا ہے جس میں بڑی عبرت ہے۔ کتبہ میں اسپینی زبان میں لکھا ہوا ہے کہ میکسیکو کا ایک سیاح آرمی ایک سا المحمراء کو دیکھنے کے لیے آیا۔ کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی۔ جب وہ دونوں محو حیرت ہو کر اس تاریخی محل کو دیکھ رہے تھے تو عین اسی وقت ایک سائل وہاں آگیا جو کہ اندھا تھا۔ سیاح نے سائل کو دیکھ کر اپنی بیوی سے کہا : اے خاتون، اس کو زیادہ صدقہ دے دو کیوں کہ کسی آدمی کی اس سے بڑی بدبختی نہیں ہو سکتی کہ وہ غرناطہ کے قصر کے سامنے کھڑا ہو مگر وہ اس کو دیکھنے کے لیے اندھا ہو۔
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس سے بھی زیادہ بد قسمت وہ آنکھوں والا انسان ہے جو فطرت کی حسین تر دنیا کے سامنے ہو مگر وہ اس میں خدا کا جلوہ دیکھنے سے محروم رہے۔ قصر الحمراء کے ایک کمرہ کے سامنے ایک تختی لگی ہوئی ہے۔ اس پر لکھا ہوا ہے کہ یہاں واشنگٹن ارونگ نے قیام کیا تھا۔
ارونگ (Washington Irving) ایک امریکی ادیب تھا۔ ایک امریکی ادارہ نے ۱۸۲۶ء میں اس کو اسپین بھیجا۔ یہاں آکر جب اس نے غرناطہ کو دیکھا تو اس کی خوب صورتی پر وہ اتنا گرویدہ ہوا کہ وہ یہیں مقیم ہوگیا، اور غرناطہ اور الحمراء کے بارہ میں اپنی دو کتابیں لکھیں : Irving had become absorbed in the legends of the Moorish past, and wrote his Conquest of Granada and Tales of the Alhambra (V/435)
واشنگٹن ارونگ ۱۷۸۳ء میں نیویارک میں پیدا ہوا اور وہیں ۱۸۵۹ء میں اس کا انتقال ہوا۔ الحمراء قلعہ اور محل دونوں تھا جس طرح دہلی کا لال قلعہ دونوں ہے۔ یہ اندلس کے مسلم حکمرانوں نے غرناطہ میں بنایا تھا۔ یہ قصر بنیادی طور پر ۱۲۳۰ء اور ۱۳۵۶ء کے درمیان بنایا گیا ۔ ۱۴۹۲ء میں جب اندلس میں مسلمانوں کی حکومت آخری طور پر ختم ہوئی تو یہ قصر بھی زد میں آیا۔ اس کے بعد کی بار اس عمارت کو نقصان تاہم ۱۸۷۶ء میں اس کی مرمت کر کے اس کو دوبارہ دل کش بنانے کی کوشش کی گئی۔
موجودہ الحمراء میں کچھ حصہ مسلمانوں کا بنایا ہوا ہے اور کچھ حصہ بعد کے عیسائی حکمرانوں کا۔ الحمراء کے ایک خاص حصے میں سفید سنگِ مرمر سے بنے ہوئے بارہ شیر ہیں۔ یہ گویا طاقت اور ہمت کی علامت ہیں۔ قصر کے اس حصہ کے مختلف نام ہیں __ فناء السباع ، دیوان الاسد ، مأسدة ، بيت الاسود ۔
الحمراء صرف ایک محل نہیں ، وہ نہایت وسیع باغات کے درمیان بیرونِ شہر گویا ایک شاہی اقامت گاہ اس کی تعمیر پر بہت زیادہ دولت خرچ کی گئی۔ تا ہم اس کا تعمیراتی سامان زیادہ مضبوط نہ تھا ۔ حسن کے باوجود وہ غیر مستحکم تعمیری سامان کے ذریعہ بنی ہوئی ایک عمارت کہی جائے گی ۔ الحمراء کے محلات اس وقت بنائے گئے جب کہ یہاں کی مسلم حکومت سمٹ کر صرف غرناطہ تک محدود ہو گئی تھی ۔ اس کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ لال قلعہ کے حکمرانوں کی طرح وہ باہر سے مضبوط پتھر بڑی مقدار میں منگا سکے ۔ وہ زیادہ مستحکم عمارت کھڑی نہیں کر سکتے تھے ، اس لیے شاید اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے انھوں نے زیادہ خوب صورت عمارتیں کھڑی کر دیں ۔
قصر الحمراء ۲۲۰۰ مربع میٹر کے رقبہ میں واقع ہے ۔ اس کے ہر حصہ میں آیتیں ، حدیثیں ، دعائیں ، اشعار اور دوسری عربی عبارتیں لکھی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔ خاص طور پر بنو الاحمر کا خاندانی شعار ولا غالبَ إلا اللہ اس کے ہر حصہ میں نقش کیا ہوا نظر آتا ہے ۔
آخری دور کی سلطنتِ غرناطہ (۱۳۳۲ء۔ ۱۳۹۲ء) کا بانی محمد بن یوسف الاحمر تھا۔ وہ ارجونہ کا قلعہ دار اس نے بغاوت کر کے غرناطہ پر قبضہ کر لیا ، اور اپنا لقب الغالب باللہ اختیار کیا ۔ اسی سلطنت کے زمانہ میں غرناطہ کا مشہور قصر الحمراء تعمیر ہوا ۔ اس خاندان ( بنو احمر ) کے حکمراں نے اسی لفظ کو اپنا شعار بنا لیا ۔ وہ عمارتوں وغیرہ پر کثرت سے ولا غالبَ إلا اللہ لکھا کرتے تھے ۔
اقبال ۱۹۳۳ء میں اندلس گئے تھے ۔ واپسی کے بعد انھوں نے مختلف مواقع پر اپنے سفر کے تاثرات بتائے ۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا : میں الحمراء کے ایوانوں میں جا بجا گھومتا پھرا ۔ سے خالی اس قصر میں ( جدھر نظر اٹھتی ، دیوار پر ھو الغالب لکھا ہوا نظر آتا تھا ۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہاں تو ہر طرف خدا غالب ہے۔ کہیں انسان نظر آئے تو بات بھی ہو ۔ ( اقبال یورپ میں ، از سعید اختر درانی )
یہ احساس بڑا عجیب ہے۔ میرا اپنا حال تو یہ ہے کہ مجھے انسانوں کی بھیڑ میں بھی خدا ہی دکھائی دیتا ہے اور وہاں بھی میرے اندریناجی رتبہ کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ مگر اقبال خدا کے ذکر کے ہجوم میں کسی انسان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ اس سے وہ ہم کلام ہو سکیں۔ پچھلے چودہ سو سال میں مسلم دنیا میں جو اہل دماغ پیدا ہوئے اس کی فہرست میں ابن خلدون کا نام ممتاز طور پر شامل ہے۔ اس کا اسلوب تحریر اور اس کا طرز فکر دونوں انتہائی حد تک اوریجنل وہ ان چند مسلم اہل علم میں سے ہے جنہوں نے اپنے افکار کی آفاقیت کی بنا پر عالمی سطح پر اپنا اعتراف حاصل کیا، اگر چہ یہ عالمی اعتراف اس کو پانچ سو سال بعد مل سکا۔ ابن خلدون تیونس میں ۱۳۳۲ء میں پیدا ہوا۔ اور ۱۴۰۶ء میں قاہرہ میں اس کی وفات تاہم اس کی زندگی کا ایک قابل لحاظ حصہ اندلس میں گزرا ۔ اور اگر اس کے حاسدین اور مخالفین نے اس کو اندلس چھوڑنے پر مجبور نہ کیا ہوتا تو اس کی قبر شاید قاہرہ کے بجائے قرطبہ یا غرناطہ میں ہوتی۔ پروفیسر چارلس اساوی (Charles Issawi) نے لکھا ہے کہ ۱۸۶۰ء میں مقدمہ کا مکمل ترجمہ فرانسیسی زبان میں شائع ہوا، اس کے بعد ہی ایسا ہوا کہ ابن خلدون کو اپنی عظیم حیثیت کے مطابق عالمی مقام ملے :
But it was only after the 1860s, when a complete French translation of The Muqaddima appeared, that Ibn Khaldun found the worldwide audience his incomparable genius deserved. (9/149)
ایک مستشرق نے اپنا ایک مقالہ دکھایا۔ اس کا ایک حصہ ابن خلدون کے بارہ میں تھا۔ نے لکھا تھا کہ عباسی خلافت کے بعد اسلامی حکومت کا آرتھوڈاکس پولیٹیکل نظریہ ایک بحران کا شکار ہو گیا۔ ابن خلدون نے سیاسی ڈھانچہ کے مقابلہ میں سماجی اور طبعیاتی طاقتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ نے عباسی خلافت کے تحت کلاسیکل سیاسی اتحاد کے تصور کو رد کر دیا۔ البتہ اس نے تمام مسلمانوں کے روحانی اتحاد کا اقرار کیا :
He rejected the classical political unity under the Abbasid Caliph but admitted the spiritual unity of all Muslims. مذکورہ فرانسیسی مستشرق نے پوچھا کہ ابن خلدون کے اس نظریہ کے بارہ میں آپ کی رائے کیا
میں نے کہا کہ میں مزید اضافے کے ساتھ اس کو صحیح مانتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح یورپی نو آباد یات کے زمانہ میں سفید فام کی ذمہ داری (White man's burden) کا نظریہ اس کی تربیت کے لیے گھڑا گیا، اسی طرح عباسی دور میں عالمی خلافت کا نظریہ اس کی مذہبی حمایت کے لیے وضع کیا گیا۔ قرآن و سنت میں وہ سراسر اجنبی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق ، روحانی ترقی اور روحانی اتحاد مسلمانوں کی مستقل ذمہ داری ہے اور سیاسی اقتدار صرف ایک عارضی خدائی انعام۔
میں نے کہا کہ اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آج مسلم دنیا قتل و خوں ریزی کا کارخانہ بنی مصر اور الجزائر سے لے کر بوسنیا اور کشمیر تک اسی بے بنیاد سیاسی نظریہ کے تحت بے فائدہ جنگ جوئی کا عمل جاری ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو ہر جگہ مذہبی ، روحانی اور دعوتی مواقع حاصل ہیں مگر وہ ان کو استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ وہ بس سیاست کی چٹان پر اپنا سر پٹک رہے ہیں، کیونکہ اپنی غلط سوچ کی بنا پر انھیں اس کے سوا کوئی اور کام دکھائی نہیں دیتا۔
میری پسندیدہ تفسیروں میں سے ایک خاص تفسیر الجامع لاحکام القرآن ہے ۔ یہ تفسیر اسپین (قرطبہ) میں لکھی گئی۔ اس کے مولف ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابی بکر بن فرح الانصاری ہیں۔ وہ قرطبہ کے ایک بڑے عالم تھے۔ اسی لیے وہ القرطبی کے نام سے مشہور ہیں۔ انھوں نے ۶۷۱ھ میں وفات پائی۔ القرطبی کا فقہی مسلک مالکی تھا۔ مگر اپنی تعصب کی بنا پر انھوں نے کئی جگہ امام مالک کے مسلک سے اختلاف کیا ہے ۔ مثال کے طور پر امام مالک نماز میں بچہ کی امامت کو نا جائز بتاتے ہیں۔ مگر القرطبی اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بچہ کا نماز میں امام بننا جائز ہے جب کہ وہ قرآن کی قرأت کرنا جانتا ہو (امامة الصغير جائزة إذا كان قارئًا) تفسير القرطبي ۴۵۳/۱ اسی طرح امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ رمضان میں روزہ رکھنے والا ایک شخص اگر بھول کر کھا لے تو اس کو قضا کا روزہ رکھنا ہوگا۔ مگر القرطبی اس رائے کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام مالک کے سوا دوسرے فقہاء کے نزدیک بھول کر کھانے والے کے اوپر روزہ کی قضا نہیں ہے ، اور میں کہتا ہوں کہ یہی مسلک صحیح ہے (قلت و هو الصحيح) تفسير القرطبی ۳۲۲/۲ موجودہ زمانہ میں علمی ذوق اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ آدمی یا تو کلی موافق ہو سکتا ہے یا کلی مخالف ۔ اگر کوئی شخص ، مثال کے طور پر ، ایک جماعت کو مفید جماعت بتائے مگر اس کے
بعض طریقوں سے وہ اختلاف کرے تو کہا جائے گا کہ یہ شخص مصلحت پرست ہے۔ اصل میں تو وہ اس جماعت کا مخالف ہے ، مگر مفاد کی بنا پر وہ اس کی تعریف کر رہا ہے ۔
مسلم اسپین میں پیدا ہونے والی علمی شخصیتوں میں سے ایک ممتاز شخصیت ابوالقاسم الزہراوی (Abulcasis) کی ہے۔ اس کی کتاب التصریف لاطینی زبان میں ، ۱۹۰۷ء میں شائع ہوئی اور اس کے بعد یورپ کی تمام اہم زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا ۔ یہ کتاب تقریباً ۵۰۰ سال تک اہل یورپ کے لیے طب اور سرجری میں مرجع بنی رہی ۔ ہٹی کے الفاظ میں ، اس نے یورپ میں جراحی کی بنیاد قائم کرنے میں مدد دی :
It helped lay the foundations of surgery in Europe. (p. 577)
زہراوی سے پہلے سرجری (جراحی) کا کام پچھنے لگانے والے کیا کرتے تھے وہ اصول طب اور علم تشریح الاعضاء کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض اپنے خاندانی رواج کے تحت جراحی کا کام کرتے تھے اور اکثر مریضوں کو سخت نقصان پہنچاتے تھے ۔ زہراوی نے جراحی (آپریشن) کو علم تشریح الاعضاء کی بنیاد پر قائم کیا ، اس نے انسانی جسم کا گہرا مطالعہ کر کے اس کے اصول مقرر کیے ۔ وہ اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ پہلے تم انسانی جسم کا تشریحی مطالعہ کرو اور یہ جانو کہ وریدیں اور شریانیں اور اعصاب کہاں واقع ہیں ، اس کے بعد جراحی کا کام کرو ۔ اس نے مشاہدہ اور تجربہ کو جراحی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ فن جراحت میں بہت سی نئی نئی باتیں دریافت کیں ۔
مسلم اسپین کی تاریخ میں ہر قسم کی سبق آموز مثالیں موجود ہیں یہاں کے مسلم حکمرانوں میں سے ایک نامور حکمران سلطان عبد الرحمن الثالث ہے ۔ وہ ۳۰۰ھ میں قرطبہ کے تخت پر بیٹھا ۔ سال تک حکومت کی۔ اس کا زمانہ سلطنت ہر اعتبار سے نہایت ممتاز سمجھا جاتا ہے۔ یہی سلطان ہے جس نے مشہور قصر الزہراء تعمیر کرایا تھا جو اپنے زمانہ میں دنیا کا سب سے زیادہ عالی شان محل سمجھا جاتا تھا۔ زمانہ نے اس محل کو اس طرح مٹایا کہ آج آپ قرطبہ جائیں تو وہاں آپ کو اس کے صرف کھنڈر دکھائی دیں گے ۔
قصر الزہراء میں آرام و عیش اور شان وشوکت کی تمام ممکن چیزیں اکٹھا کی گئی تھیں۔ ۳۵۰ ھ میں اسی قصر شاہی میں عبد الرحمن الثالث کا انتقال ہوا۔ اس کی وفات کے بعد اس کی چھوڑی ہوئی چیزوں میں
ایک کاغذ ملا۔ اس میں سلطان نے اپنے ان دنوں کا حال خود اپنے قلم سے لکھا تھا جو غم سے خالی تھے۔ مگر پچاس سالہ دور حکومت میں ایسے بے فکری کے ایام کی تعداد صرف چودہ دن تھی۔ سلطان کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا الحکم بن عبدالرحمن قرطبہ کے تخت پر بیٹھا۔ قصر الزھراء جو اس کے باپ نے بے پناہ محنت اور لاتعداد دولت کے ذریعہ بنایا تھا اس کو وراثت میں مل گیا۔ اس نے اپنا شاہی لقب المستنصر باللہ اختیار کیا۔
الحکم نے پندرہ سال تک نہایت شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی۔ مگر اس کے بھی آخری ایام مایوسی کے ایام تھے۔ کیوں کہ آخری زمانہ میں وہ مفلوج ہو گیا اور فالج کی حالت ہی میں ۳۶۶ھ میں قرطبہ میں اس کا انتقال ہو گیا (توفی بقرطبة مفلوجاً)
قصر الزھراء نہایت خوب صورت ہونے کے ساتھ بہت بڑا تھا۔ اسی لیے اس کو مدینۃ الزھراء کہا جاتا تھا۔ اس میں تفریح اور عیش کے تمام اسباب اکٹھا کیے گئے تھے۔ وہ چالیس سال میں بن کر تیار ہوا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس کے جلد ہی بعد زوال شروع ہوا، اور تعمیر کے بعد چالیس سال سے بھی کم مدت میں وہ کھنڈر ہو کر رہ گیا۔ کہا جاتا ہے کہ قاضی منذر نے اس کی بابت یہ شعر کہے تھے کہ اسے زھرا کو بنانے والے جو اپنے وقت کو اس میں غرق کیے ہوئے ہے، کیا تم ٹھہر کر غور نہیں کرتے۔ وہ کتنا زیادہ خوب صورت ہے، بشرطیکہ اس کی رونق پژمردہ نہ ہوتی :
يا باني الزهراء مستغرقا اوقاته فيها أما تمهل لله ما احسنها رونتا لو لم تكن زهرتها تذبل اندلس میں عربوں نے جو سیاسی نظام قائم کیا وہ اس طرح تھا کہ ایک ان کا مرکزی سلطان یا خلیفہ ہوتا تھا اور مختلف علاقائی حصوں میں ماتحت امیر ہوا کرتے تھے جن کو آج کل کی زبان میں گورنر کہا جا سکتا ہے۔ ابتداً کئی سو سال تک عربوں میں سے امراء مقرر کیے جاتے تھے۔ کیوں کہ یہ خیال تھا کہ وہ ہم نسل ہونے کی بنا پر زیادہ قابل اعتماد ثابت ہوں گے۔
مگر اس دنیا میں ہمیشہ ہر دوسری چیز پر انٹرسٹ فائق ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ سیاسی انٹرسٹ نے ان امراء کے اندر بغاوت کا رجحان پیدا کیا۔ ہر عرب اپنے علاقہ کو مرکز سے الگ، کر کے خودمختاری کا خواب اس کے نتیجہ میں مرکزی سلطان اور امراء کے درمیان لڑائیاں جاری ہو گئیں۔
عبدالرحمن الثالث نے اس پالیسی کو بدلا۔ اس نے عرب امراء کا زور توڑنے کے لیے۔ قبائل میں امیر اور وزیر مقرر کرنا شروع کیا۔ ابتداء میں یہ لوگ بہت وفادار رہے ۔ کیوں کہ امیر اور وزیر کے عہدے سے ان کی توقعات سے بہت زیادہ تھے۔ مگر دھیرے دھیرے جب وہ دولت اور اقتدار سے آشنا ہو گئے تو ان کے ذہن میں بھی بغاوت کے خیالات پرورش پانے لگے۔ عبدالرحمن الثالث کی زندگی تک تو یہ لوگ دبے رہے۔ مگر اس کی موت کے بعد وہ سب کے سب سرکش بن کر کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے راجدھانی قرطبہ پر حملے کئے ۔ قصر الزہراء کو تباہ کر ڈالا ۔
ہر شہر اور ہر علاقہ کا امیر مرکز کا باغی ہو گیا ۔ حتی کہ اندلس میں تقریباً دو درجن چھوٹی چھوٹی سلطنتیں قائم ہو گئیں۔ جن کو الگ الگ فتح کرنا عیسائیوں کے لیے آسان ہو گیا ۔
سرکشی اور بغاوت کا تعلق عرب اور غیر عرب سے نہیں ہے، اس کا تمام تر تعلق انٹرسٹ سے اس دنیا میں ہر آدمی اپنے انٹرسٹ کی طرف دوڑتا ہے۔ اسی سے انتشار اور بغاوت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس سے رو کنے والی چیز صرف تقویٰ ہے، اور ایسا تقویٰ کسی بہت خوش نصیب آدمی ہی کو ملتا ہے جو انٹرسٹ کے خلاف اس کے لیے چیک بن جائے۔
روایت کو توڑنے سے کتنی بڑی خرابی آتی ہے ، اس کی بہت سی مثالیں اسپین کی مسلم تاریخ میں موجود ہیں ۔ مثلاً سلطنت غرناطہ کا تیسرا حکمراں محمد مخلوع تھا۔ اس کو اس کے بھائی نصر بن محمد نے ۷۱۰ ھ میں قتل کرا دیا تاکہ اس کا کوئی سیاسی رقیب باقی نہ رہے۔ مگر یہ جان کے احترام کی روایت کو توڑنا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد حکمرانوں کے قتل کا لمبا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس کے بعد سلطان ابو الولید کو اس کے بھتیجے نے ۷۲۵ھ میں قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد سلطان محمد غرناطہ کے تخت پر بیٹھا۔ اس کو بھی اس کے رشتہ داروں نے ۷۳۳ھ میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد سلطان یوسف کو حاکم بنایا گیا ۔ مگر وہ بھی ۷۵۵ھ میں نیزہ مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پھر سلطان اسماعیل تخت مگر ۷۶۱ھ میں خود اس کے بھائی نے اس کو قتل کر ڈالا ۔ کسی سماج میں یہ روایت قائم کرنا ہو کہ انسانی جان کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اور اس کو کسی حال میں قتل نہیں کرنا چاہیے ، تو یہ روایت ایک لمبی تاریخ کے بعد بنے گی۔ مگر اس روایت کو توڑنے کے لیے کسی مدت کی ضرورت نہیں۔ اور جب کوئی روایت ایک بار توڑ دی جائے تو پھر اس کو از سر نو
قائم کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ روایت شکنی کے اسی خطرہ سے حدیث میں اس طرح آگاہ کیا گیا تھا کہ : اذا وضع السيف في امتي لم يرفع عنها الى يوم القيامة ( ابوداؤد ، كتاب الفتن) سقوط اندلس پر بہت سے شاعروں نے مرثیے لکھے ہیں۔ ان میں زیادہ تر فریاد و ماتم کا انداز تاہم مجھے ابو علی الحسن بن رشیق کے دو شعر بہت پسند ہیں۔ اس نے کہا کہ اندلس کی سرزمین میں جو چیز مجھے بے لطف کرتی ہے ان میں سے معتمد (جس پر اعتماد کیا جائے) اور معتضد (نهایت مضبوط) جیسے یہ شاہانہ القاب اسی طرح غیر واقعی ہیں جیسے کوئی بلی نتھنے پھلا کر شیر کی صورت کی نقل کرنے لگے :
مما يُزَهِّدُني في ارض اندلُسٍ اسماءُ مُعْتَمَدٍ فيها ومُعْتَضِدِ القابُ مملكةٍ في غير موضعِها كَالْهِرِّ يَحكي انتفاخاً صورةَ الاسدِ یہ دونوں شعر ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں خلافت کی بحث کے تحت نقل کیے ہیں (صفحه ۲۲۹) ایک حاکم کو جب سادہ طور پر امیر المومنین کہا جائے تو اس کے نہ رہنے سے لوگوں میں صرف یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہمارا سیاسی حاکم نہ رہا۔ لیکن اگر اس کو جہاں پناہ اور محافظ اسلام جیسے القاب سے یاد کیا جانے لگے تو اس کے ہٹنے کے بعد لوگوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ وہ آخری طور پر لٹ گئے۔ کے پاس قیام حیات کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔
مسلم اسپین صرف تمدنی ترقی ہی کی مثال نہیں تھا۔ اسی کے ساتھ وہ رواداری کی بھی نہایت اعلیٰ عرب اپنے مزاج کے اعتبار سے نہایت فیاض اور روادار واقع ہوئے تھے۔ ساتھ وہاں کے کام کی نوعیت یہ تھی کہ مسلم اہل علم کے ساتھ یہودی اور عیسائی اہل علم اور فن کار بھی مساوی طور پر شریک رہتے تھے۔ اس طرح اشتراک عمل کے ماحول نے باہمی رواداری کا ماحول بھی اپنے آپ پیدا کر دیا تھا۔
فرانسیسی مستشرق رینان (Renan) نے ابن رشد پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سائنس اور لٹریچر کے ذوق نے دسویں صدی میں دنیا کے اس خصوصی گوشہ میں رواداری کا ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جس کا نمونہ موجودہ زمانہ میں مشکل سے کہیں مل سکتا ہے۔ مسیحی ، یہودی اور مسلمان ایک ہی زبان (عربی) ایک ہی گیت گاتے تھے۔ ایک ہی طرح ادبی اور علمی مطالعہ میں حصہ لیتے تھے۔
رکاوٹیں جو لوگوں کو الگ کرنے والی ہیں، وہ سب ختم کر دی گئی تھیں۔ تمام کے تمام لوگ ایک مشترک تہذیب کے لیے مل کر کام کرتے تھے :
The taste for science and literature had, by the tenth century, established, in this privileged corner of the world, a toleration of which modern times hardly offer us an example. اب سوال یہ ہے کہ جب مسلم اسپین میں اتنا زیادہ رواداری کا ماحول تھا، پھر کیوں ایسا ہوا کہ وہاں کے مسیحی باشندے مسلمانوں کے دشمن ہو گئے اور ان کو وحشیانہ طور پر اپنے ملک سے نکالنا شروع کر دیا۔ اس کا سبب جو اس سفر کے بعد میرے علم میں آیا وہ یہاں کے مذہبی طبقہ کا جنون تھا۔ اصل یہ ہے کہ مسلم اسپین کے روادارانہ ماحول کا یہ نتیجہ ہوا کہ اسپین کے مسیحی باشندے خود بخود کثرت سے مسلمان ہونے لگے۔ بہت سے لوگ جنھوں نے اپنا مذہب نہیں بدلا، انھوں نے مسلمانوں کی تہذیب اختیار کرلی۔ چنانچہ ان کو مستعرب (Mozarab) کہا جانے لگا۔
مسیحی چرچ کے لیے یہ ناقابل برداشت تھا۔ مسلمانوں کے ذریعہ اسپین میں علوم کے دروازے کھلنا، زراعت، صنعت، تعمیرات اور دوسرے شعبوں میں غیر معمولی ترقی، سماجی زندگی میں انصاف اور رواداری کا آنا، اس قسم کی تمام مثبت چیزیں ان کے لیے غیر اہم بن گئیں۔ ان کو صرف یہ یاد رہا کہ ان کے ہم مذہب تیزی سے غیر مسیحی تہذیب کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
چنانچہ انھوں نے اسپین کے مسیحیوں کو مسلمانوں سے روکنا شروع کیا۔ انھوں نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں اور مسیحیوں میں دوری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ انھوں نے وہ مجنونانہ تدبیر اختیار کی جس کو عام طور پر رضا کارانہ شہادت (voluntary martyrdom) کہا جاتا ہے (ہسٹری آف دی عربس، ایڈیشن ۱۹۷۰، صفحہ ۵۱۶)
انھوں نے مسلمانوں کی نفسیات کا مطالعہ کر کے یہ نکالا کہ مسلمان اپنے پیغمبر کے خلاف باتوں کو سن کر بگڑ جاتے ہیں اور ایسے آدمی کو قتل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے سڑکوں پر نکل کر علی الاعلان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی اور بدگوئی شروع کر دی مقصد یہ تھا کہ مسلمان مشتعل ہو کر انھیں قتل کر ڈالیں اور اس طرح مسلمانوں کو بدنام کر کے مسیحیوں کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کر دیا جائے ۔
اس انوکھی تدبیر کا چیمپین اسپین کا بشپ ایولو جیس (Eulogius) تھا۔ اس نے قرطبہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بار بار علی الاعلان سب وشتم کیا۔ اس کے بعد علماء کے فیصلے کے مطابق، سلطان عبد الرحمن دوم نے ۱۱ مارچ ۸۵۹ء کو اسے بر سر عام قتل کرا دیا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک مسیحی چرچ کے افراد عوامی مواقع پر آکر شتم رسول کا فعل کرتے رہے، اور اس کے نتیجہ میں مسلم تلوار سے قتل کیے جاتے رہے۔ یہ واقعہ نویں صدی عیسوی میں قرطبہ میں پیش آیا جو اس وقت مسلم اسپین کا مرکز تھا۔ یہ عقوبت جس کے اسباب خود مسیحی لوگوں نے پیدا کیے تھے، آخر کار ۵۳ مسیحیوں کے قتل تک جا پہنچی :
اس قسم کے مجنونانہ واقعات نے اسپین کے مسیحیوں، خاص طور پر وہاں کے مذہبی طبقہ کے دل میں مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پیدا کر دی۔ یہاں تک کہ چرچ کے لیے آسان ہو گیا کہ وہ اسپین سے مسلمانوں کے اخراج عام کا فتوٰی جاری کر سکے۔
حکیم احمد شجاع صاحب کا خیال تھا کہ مدارس اسلامیہ کے نصاب میں علوم عصریہ کو بھی شامل کرنا اس سلسلہ میں انھوں نے علامہ اقبال کو خط لکھا۔ اقبال نے انھیں جواب دیا کہ ان مدرسوں کو اسی حالت میں رہنے دو۔ اگر یہ ملانہ رہے تو ہندوستانی مسلمانوں کا وہی حال ہو گا جو اندلس میں آٹھ سو برس کی حکومت کے با وجود وہاں کے مسلمانوں کا ہوا (الفرقان، لکھنؤ، نومبر - دسمبر ۴۱۹۹، صفحہ ۲۳) میں سمجھتا ہوں کہ اقبال نے یہ بالکل الٹی بات کہی ۔ اندلس جیسا حال کسی مسلم قوم کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے علماء اجتہاد کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں ۔ اور اجتہاد کی صلاحیت سے محرومی اس وقت آتی ہے جب کہ وہ وقت کے تقاضوں سے بے خبر ہو گئے ہوں۔
اندلس کے اصحاب چرچ نے جب "رضاکارانہ شہادت" کا فتنہ کھڑا کیا، اس وقت وہاں کے علماء اگر اجتہادی صلاحیت کے حامل ہوتے اور مسیحی دنیا کے حالات سے پوری طرح باخبر ہوتے تو وہ فتویٰ دیتے کہ یہ چرچ کی ایک نہایت گہری سازش ہے۔ اگر ہم ان کو قتل کریں تو ہم خود ان کے مقصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بن جائیں گے۔ اس لیے ہم کو انہیں قتل نہیں کرنا ہے بلکہ حکمت کے
ساتھ ان کو نا کام بنا دینا ہے۔ اور پھر وہ چرچ کی سازش کا توڑ اس طرح کرتے کہ اس کے جواب میں وہ تعارف اسلام کی پر امن مہم زور و شور کے ساتھ چلا دیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مسیحی عوام چرچ سے متنفر ہو کر تعلیمات محمدی کی طرف مائل ہو جاتے اور اتنی تیزی سے اسلام قبول کرتے کہ چرچ کی سازش بر عکس طور پر اندلس میں مسلمانوں کی مزید تقویت اور استحکام کا سبب بن جاتی۔ علماء کی حکیمانہ تدبیر چرچ کے پادریوں کو عوام کی نظر میں دیوانہ کا درجہ دے دیتی۔ مگر ان کی ناقص رہ نمائی نے ان پادریوں کو اندلس کے مسیحیوں کی نظر میں شہید اور ہیرو کا مقام عطا کر دیا۔ وہ کچھ پیش آیا جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
ایک یورپی اسکالر (مستشرق) نے اسپین میں مسلم سلطنت کے زوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان میں داخل ہوئے تو ابتدائی مرحلہ میں طارق اور نصیر نے بغداد کی مدد سے یہاں کی مسیحی فوجوں پر فتح حاصل کی تھی۔ مگر آخری مرحلہ میں مسیحی قوتوں کے مقابلہ میں وہ اپنے مرکز کی مدد سے اس کی وجہ یہ ہے کہ اندلس میں قائم ہونے والی مسلم خلافت بغداد کی خلافت کی حریف بن گئی تھی۔ اس نے کبھی بھی بغداد کی مرکزی خلافت سے مصالحت کی کوشش نہیں کی : Rival caliphate of Cordova never reconciled itself to the central caliphate of Baghdad. یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ عبدالرحمن بن معاویہ اموی جب عباسیوں کی دار و گیر سے بھاگ کر اندلس پہنچا تو اس وقت کے امیران اندلس خطبہ جمعہ میں بغداد کے خلیفہ کا نام لیتے تھے۔ عبد الرحمن نے ابتداءً ایسا ہی کیا۔ مگر بعد کو اس نے خطبہ میں بغداد کے عباسی خلیفہ کا نام لینا بند کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایسا اس نے خاندان بنو امیہ کے ایک شخص عبد الملک بن نے اندلس میں اپنی حکومت قائم کرنے کے سلسلہ میں عبد الرحمن کی مدد کی تھی : و هذا عبد الملك هو الذى ألزم عبد الملک ہی نے عبدالرحمن کو مجبور کیا کہ وہ خلیفہ عبد الرحمن بقطع خطبة المنصور منصور کا نام خطبہ میں لینا بند کر دے۔ و قال له ، تقطعها و إلا قتلتُ نے کہا کہ تم اس کو بند کرو ورنہ میں اپنے آپ کو و كان قد خطب له ہلاک کر لوں گا۔ چنانچہ عبدالرحمن نے اس کا خطبہ
عشرہ (شہر، فقطعها - پڑھنا بند کر دیا حالاں کہ دس مہینے تک اس نے الكامل في التاريخ لابن اثیر (۱۰/۶) خليفة بغداد ہی کا خطبہ پڑھا تھا۔ خلیفہ المنصور کو یہ خبر پہنچی تو وہ سخت غضب ناک ہوا۔ اس نے اندلس پر حملہ کرنے کا حکم دے اس کے بعد سے آخر تک بغداد کی خلافت اور اندلس کی مسلم ریاست کے درمیان معاونت کے بجائے رقابت کا رشتہ قائم ہوگیا۔ یہ رقابت صرف اس وقت ختم ہوئی جب کہ خود اندلس کی مسلم سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔
ڈاکٹر حسین مونس کا سفرنامہ رحلة الاندلس، حديث الفردوس الموعود کے نام سے ۱۹۶۳ میں جدہ سے چھپا تھا۔ وہ ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ادبی اور جذباتی انداز چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں : لان موضوعه يمس عاطفة المسلم و وجدان العربي (صفحه ۹) مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اہل اسپین ہم سے ایک بالشت زمین بھی سخت معرکہ اور دو طرفہ اموات کے بغیر حاصل نہیں کر سکے۔ پھر کیسے یہ کہا جاتا ہے کہ عرب اس زمانہ میں کمزور ہو گئے تھے۔ ان پر عیش پسندی چھا گئی تھی۔ پھر جواب دیتے ہیں کہ جو ہوا وہ یہ تھا کہ قسمت نے اندلس میں ہمارا ساتھ ڈھائی صدیوں میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں اٹھا جو قیادت اور سیاست اور تدبیر کا جامع ہو ( الذي حدث هوان الحظ خافنا في الاندلس ۔ خلال هذين المترنين ونصف القرن لم يظهر رجل واحد جامع لصفات الزعامة والقيادة والسياسة والتدبير) صفحه ١٦٦ اس جواب کے بعد دوبارہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخری ڈھائی سو سال میں کیوں متاذانہ اوصاف کے لوگ پیدا نہیں ہوئے، جب کہ اس سے پہلے بار بار ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق دور زوال سے تھا نہ کہ افراد کی عدم پیدائش سے۔ یہ زوال ہر سلطنت اور ہر قوم پر آتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی اس قانون فطرت سے مستثنیٰ نہیں۔ لکھنو کے عربی جریدہ الرائد (۱۰ - ۲۶ رمضان ۱۴۱۲ھ) میں الاستاذ انور الجندی کا ایک مضمون نقل کیا گیا تھا جس کا عنوان تھا : هذا واجبنا - اس میں کہا گیا تھا کہ ہم مسلمانوں کی آج شدید ترین ضرورت ہے کہ ہم اندلس کے المیہ کا مطالعہ کریں، کیوں کہ ہم پچھلے چالیس سال سے پھر اندلس کے
مشابہ بحران میں مبتلا ہو گئے ہیں (ونحن المسلمین الیوم فی اشد الحاجة الی دراسة مأساة الأندلس لاننا منذ اربعین سنة قد وقعنا فی ازمة قریبة (الشبه بها) اس کے بعد مضمون میں کہا گیا تھا کہ آج دوبارہ ایسے حالات درپیش ہیں جو ہم کو اندلس جیسے المیہ میں مبتلا کر دیں۔ کیوں کہ عالمی صهیونیت ہم کو وہیں دھکیل دینے کے لیے سرگرم ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو مقدس جہاد کے لیے تیار کریں (لابد ان يقف المسلمون موقف الاستعداد وأن يدربوا الاجیال علی الجهاد المقدس)
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے معاملہ کو جہاد و قتال کا مسئلہ بتانا سراسر نادانی کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فقدانِ جہاد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ فقدانِ تقویٰ کا مسئلہ ہے۔ قرآن میں بار بار بتایا گیا ہے کہ خدا متقیوں کے ساتھ ہے (التوبہ ۳۶) اگر تمہارے اندر تقویٰ ہو تو مخالفین کی سازشیں تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائیں گی (آل عمران ۱۲۰) گویا کہ تقویٰ دفاع کے لیے ایک موثر مددگار ہے۔ تقویٰ کا دفاعی قوت ہونا کوئی پر اسرار بات نہیں، یہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تقویٰ آدمی کے اندر یہ صفت پیدا کرتا ہے کہ کسی کے ساتھ دشمنی ہو تب بھی وہ اس کے بارہ میں منصفانہ انداز میں سوچے، تب بھی وہ انصاف ہی کی بات کہے (المائدہ ۸) حریف کے بارہ میں درست رائے قائم کرنا ہی اس کے مقابلہ میں درست اور کارگر منصوبہ بندی کی واحد ضمانت ہے۔ اس طرح تقویٰ کا تعلق براہ راست طور پر دفاعی تدابیر سے جڑ جاتا ہے۔
اس سلسلہ میں انڈیا کے ہندؤوں کی مثال لیجیے۔ ذاتی طور پر میں ہندؤوں کو مسلمانوں کا حریف نہیں سمجھتا بلکہ ہندؤوں کو مسلمانوں کا ہم قوم سمجھتا ہوں۔ تاہم بہت سے مسلم رہ نما اور مسلم دانش ور ہندؤوں کو اپنا حریف سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف دفاعی کوشش میں مصروف ہیں۔ مگر ان کی کوششیں نہ صرف ناکام ہیں بلکہ الٹا نتیجہ پیدا کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقدانِ تقویٰ کی وجہ سے وہ ہند ومسئلہ کا صحیح اندازہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
موجودہ زمانہ میں تمام مسلم پریس تقریباً بغیر استثناء ہندؤوں کو ظالم اور متعصب کے روپ میں دکھانے میں مصروف ہے۔ مثال کے طور پر مکہ کے ہفت روزہ اخبار العالم الاسلامی کے شمارہ ۱۷ رجب ۱۴۱۵ھ (۱۹ دسمبر ۱۹۹۴) میں ہندوستانی مسلمانوں کی فراہم کردہ ایک رپورٹ چھپی ہے۔
اس کا عنوان ہے کہ انڈیا کے ہندوؤں کا یہ منصوبہ ہے کہ وہ دہلی کی مسجدوں کو کھیل کود کے میدان میں تبدیل کردیں (مخطط هندوسى لتحويل مساجد دلهى إلى ملاعب) اس رپورٹ میں دوسری مذموم کوششوں کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی ہندو حکومت یہ ارادہ رکھتی ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر روک لگانے کے لیے مردوں کو جبری طور پر بانجھ بنادے (إن حكومة الهند - الهندوكية - تعمد من أجل الحد من زيادة عدد المسلمين فى الهند الى التعقيم الاجبارى للرجال)
یہ بات سراسر لغو اور بے بنیاد ہے، مگر آج تمام مسلم دانشور اور رہنما ہندوؤں کے بارہ میں اسی قسم کے غیر واقعی اندازہ کا شکار ہیں۔ اور جو لوگ اپنے حریف کے بارے میں غیر واقعی اندازہ کا شکار ہو جائیں وہ ان کے مقابلہ میں کامیاب منصوبہ بھی کبھی نہیں کر سکتے۔
اس کانفرنس میں مسلمان بھی قابلِ لحاظ تعداد میں تھے۔ انڈیا اور پاکستان سے ایک ایک آدمی تھے۔ اس کے علاوہ مراکو، تیونس، مصر، سوڈان، سعودی عرب، فلسطین، ترکی، وغیرہ سے کافی لوگ آئے تھے۔ بہت سے پہلوؤں سے ان میں کافی فرق تھا۔ مگر ایک بات میں تقریباً سب کی سوچ ایک تھی۔ کے نزدیک موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس مظلومیت کا کیس تھا۔ ہر ایک کے نزدیک وہ غیر مسلم قوموں کی سازش اور زیادتی کا شکار ہو رہے تھے۔
ایک صاحب سے میں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ آپ لوگ کیوں کر اس انداز میں سوچتے ہیں۔ یہ تو خود دینِ اسلام کی تردید ہے ۔ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ اس دین کی اور اس کے حاملوں کی حفاظت فرمائے گا۔ پھر یہ تو ہمارے عقیدہ کے خلاف ہوگا کہ ہم یہ خیال کریں کہ خدا نے کسی صلیبی یا صہیونی یا استعماری طاقت کو اس بات کا کھلا موقع دے دیا ہے کہ وہ ہم کو تباہ کر ڈالیں۔ آپ لوگوں کو اس کے بجائے یہ کہنا چاہیے کہ کچھ متعصبین نے اندلس میں مسلمانوں کا خاتمہ کرنا چاہا تھا مگر وہ ان کا خاتمہ نہ کر سکے۔ اسلام دوبارہ یہاں نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہو گیا۔ اسی طرح ساری دنیا میں مخالفین کی سازشیں ناکام ہو کر رہ جائیں گی۔
میں نے کہا کہ اندلس کے تجربہ کے ذریعہ خدا ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اے پیروانِ محمد، تم لوگ عزم اور ہمت کے ساتھ توحید کے مشن کو دنیا میں پھیلاؤ۔ میں لوگوں کے مقابلہ میں
تمہاری یقینی حفاظت کا ذمہ لیتا ہوں (واللہ يعصمك من الناس)
غرناطہ اسلام کی توسیع کی تاریخ میں ایک علامتی لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹامس کارلائل نے اپنے لیکچر (۸ مئی ۱۸۳۰) میں پیغمبر اسلام کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ گویا ایک چنگاری اوپر سے گری، ایک ایسے ملک میں جو بظاہر تاریک اور ناقابلِ لحاظ تھا، مگر دیکھو، یہ ریت اس طرح جل اٹھی کہ دہلی سے غرناطہ تک سب روشن ہوگیا : It is not as if a spark had fallen, one spark, on a world of what seemed black unnoticeable sand; but lo, the sand proves explosive powder, blazes heaven-high from Delhi to Grenada. (p. 71)
اس "روشنی" کو جو لوگ سیاسی اقتدار کے معنی میں لیتے ہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ روشنی ایک مدت تک جلنے کے بعد بجھ گئی اور صدیوں سے وہ جزئی یا کلی طور پر بجھی ہوئی ہے، مگر یہ معیار میں اس روشنی کو فکری اور روحانی معنی میں لیتا ہوں۔ اس لیے مجھ کو آج بھی یہ روشنی جلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، نہ صرف دہلی سے غرناطہ تک، بلکہ زمین کے اس سرے سے اُس سرے تک۔ جو لوگ جدید حالات کے پس منظر میں اندلس کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس موضوع پر ۱۹۹۱ میں عربی میں ایک معلوماتی کتاب چھپی ہے ۔ ۱۶۰ صفحو کی اس کتاب کا نام و پتہ یہ ہے :
الصحوة الاسلامية في الاندلس اليوم ، تاليف د ـ على المنتصر الكتاني مركز البحوث والمعلومات ، ص ب ۸۹۳ ، الدوحة ، قطر مصنف جو اسپین کے پڑوسی ملک المغرب سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے کافی تلاش و تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ ہر قسم کے ناموافق حالات کے باوجود اسپین سے مسلمان کبھی ختم نہیں ہوئے۔ میں انھوں نے بڑے عجیب واقعات لکھے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ الغرناطی نام کے ایک شخص سے میری ملاقات کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں ۵ نومبر ۱۹۷۳ء کو ہوئی۔ اس کی پیدائش برشلونه میں ہوئی تھی۔ اس نے پاکستان میں ۱۹۴۹ میں اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا تو میری دادی نے اپنی موت کے وقت مجھے اپنے قریب بلایا اور سرگوشی کے انداز میں میرے کان میں کہا کہ عیسائی دین ہمارا دین نہیں ہے ۔ اور وہ سچا دین بھی نہیں۔ جب تم بڑے ہو جاؤ تو
اپنے دین کو جاننے کی کوشش کرنا ان الدین النصرانی ليس ديننا و ليس هوالدين الحق - عندما تكبر حاول ان تعرف دينك) صفحہ ۸۸ الغرناطی نے بڑے ہونے کے بعد اسپین کی تاریخ کا مطالعہ کیا۔ اور پھر وہ اپنی دادی کی بات کو سمجھ گیا اب اس نے دین اسلام کو جان لیا اور اس پر مطمئن ہو گیا اور پاکستان جا کر اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اسپین کے بہت سے لوگوں نے اس طرح دوبارہ اپنے اسلام کا اعلان کیا ہے۔
مسلم دانشوروں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ بلا تحقیق بڑی بڑی باتیں لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے اس مزاج کا اظہار اسپین کے معاملے میں بھی بار بار ہوتا رہا ہے۔ مثلاً بمبئی کے ماہنامہ البلاغ (فروری ۱۹۹۵) میں ایک صاحب اسپین کے تذکرہ کے تحت لکھتے ہیں کہ ” یہ بھی تاریخ کا ایک المیہ ہے کہ جس اسپین پر مسلمانوں نے باضابطہ طور پر ۹۲ ھ ء تک حکومت کی، وہاں آج ایک مسلمان نہیں “ (صفحہ ۵۳) مگر جیسا کہ اوپر معلوم ہوا، یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔
اس قسم کی خلاف حقیقت باتیں مختلف عنوانات کے تحت اتنی زیادہ چھپی ہیں کہ اس نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو غیر ضروری طور پر بے ہمتی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ اس قسم کی منفی باتوں کی مسلسل تکرار نے موجودہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بٹھا دیا ہے کہ ساری دنیا ان کی دشمن ہے۔ ہر طرف ان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہر قوم ان کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ قوموں کی اس وہمی تصویر نے مسلمانوں سے ان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ان سے چھین اور وہ دنیا کی قوموں کے حق میں خیر خواہی کا جذبہ ہے۔ دعوت مسلمان کی سب سے بڑی مگر دعوت کا عمل انجام دینے کے لیے مدعو کے حق میں خیر خواہی درکار ہے، مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی نہیں، اس لیے ان کے یہاں اسلام کی داعیانہ طاقت کا استعمال بھی نہیں۔
عجیب بات ہے کہ اسپین کے سفر سے کچھ پہلے ہندوستان کے ایک مشہور عالم اور بزرگ کا خط (۴ اکتوبر ۱۹۹۴) مجھ کو ملا۔ موصوف نے اس میں مجھ کو کچھ مشورے دیے تھے۔ اور آخر میں اپنے مشورہ کی اہمیت وضرورت کو بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ ۔ اس لیے کہ اس ملک کو اندلس ثانی
بنانے کی بڑی منظم کوشش کی جارہی ہے“۔
ہندوستان اور اندلس دونوں سے تفصیلی واقفیت کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات دہرانا غلط فہمی پر مبنی ہے۔ جہاں تک اندلس کا تعلق ہے، وہاں ہر قسم کی جارحیت کے باوجود کبھی بھی اسلام یا مسلمانوں کا وجود ختم نہیں کیا جا سکا تھا۔ اور اب تو وہاں دوبارہ اسلام اس شان کے ساتھ آرہا ہے کہ الصحوۃ الاسلامیۃ فی الاندلس الیوم جیسے ٹائٹل کے ساتھ کتاب میں چھپ رہی ہیں۔ پھر جب خود اندلس اول نہیں بن سکا تو اندلس ثانی آخر کیوں کر بن جائے گا۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو یہاں مسلمانوں کو یقیناً کچھ مسائل کا سامنا ہے مگر یہ مسائل کسی نہ کسی صورت میں ہر جگہ ہیں، حتیٰ کہ مسلم ممالک میں بھی۔ اصل یہ ہے کہ مسائل زندگی کا جز ہیں، جو کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسائل کو چیلنج کے روپ میں لیں۔ نہ یہ کہ "اندلس ثانی" کا فرضی خطرہ بتا کر مسلمانوں کو پست حوصلہ کریں۔
دور اول میں مسلمانوں کو پہلے غزوہ بدر میں فتح حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد غزوہ احد میں ان کو شکست ہو گئی ۔ اس پر لوگوں کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ عسکری یا سیاسی فتح کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں ہے ۔ وہ مختلف مصالح کے تحت مختلف قوموں کو باری باری دی جاتی ہے : ان يمسسكم قرح فقد مس القوم اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا ہی قرح مثله و تلك الايام نداولها زخم پہنچ چکا ہے۔ اور (فتح و شکست کے) (آل عمران (۱۴۰) دن ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔
اسپین کی سیاسی شکست کے معاملہ میں اور موجودہ زمانہ میں اس قسم کی دوسری شکستوں کے معاملہ میں ہمارے علماء اور دانشور جس طرح تبصرہ کرتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امت کے اہل علم کا پورا طبقہ اس آیت کو بھول گیا ہے۔ ہمارے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے اس طرح کی سیاسی شکستوں کو اعداء اسلام کی سازش کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق، ایسے تمام واقعات خود خدا کے فیصلہ کے تحت پیش آتے ہیں۔ وہ ایام الاعداء نہیں ہیں بلکہ وہ ایام اللہ ہیں۔
طرزِ فکر کا یہ فرق بے حد فیصلہ کن ہے۔ سیاسی فتح و شکست کے واقعات کو اگر ایام الاعداء سمجھا جائے تو اس سے فریاد اور احتجاج کا ذہن بنتا ہے۔ جو صرف مزید نقصان کا باعث ہے۔ برعکس اگر ان واقعات کو ایام اللہ سمجھا جائے تو قوانینِ فطرت پر غور کرنے کا مزاج بنے گا، پیش آنے والے مسئلے کو ظلم کے بجائے چیلنج کے روپ میں لیا جائے گا۔ لوگوں کی ساری توجہ اپنی کمیوں کو دور کرنے اور از سرِ نو زیادہ موثر منصوبہ بندی میں لگ جائے گی۔ یہاں تک کہ ہاری ہوئی بازی دوبارہ نئی شان کے ساتھ جیت لی جائے گی۔ یہی مطلب ہے وانتُم الاعلون ان کنتم مومنین کا۔ اُردن کے عربی میگزین الاجنحة (مارچ ۱۹۹۰) میں ایک بار میں نے ایک مصری خاتون لیما نبیل کا مضمون پڑھا۔ انھوں نے اسپین کا سفر کیا تھا اور وہاں عرب دور کے پر عظمت آثار دیکھے تھے ، انھوں نے لکھا تھا کہ یہاں میں نے تاریخ النصر العربی کو بھی دیکھا اور تاریخ الذل العربی کو بھی مضمون کے مطابق، انھوں نے رو کر اپنے آپ سے کہا کہ عرب کی یہ تاریک رات آخر کب تک باقی رہے گی (إلى متى سيستمر هذا الليل العربى)
اس کے برعکس راقم الحروف نے جب اسپین کا سفر کیا تو میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اسپین میں مسلم رات ختم ہوگئی اور وہاں صبح کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہر واقعہ میں تاریک رخ بھی ہوتا ہے اور روشن آپ کے اندر منفی طرزِ فکر ہو تو آپ تاریک رخ کو دیکھیں گے اور مثبت طرزِ فکر ہو تو روشن
۱۹۷۶ کے موسمِ خریف میں حکومتِ اسپین کے زیرِ انتظام ایک پانچ روزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ کا عنوان تھا : المؤتمر الاولی لتاريخ إسبانيا ۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسپین کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی اس پہلی عالمی کانفرنس کے ایجنڈا میں جن شہروں کو خصوصی بحث و تحقیق کا موضوع بنایا گیا ، ان میں ز میڈ رڈ کا نام تھا ، جو موجودہ اسپین کا سیاسی مرکز ہے ، ازبرشلونه شامل تھا جو اسپین کے ثقافتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بلکہ صرف ان شہروں کے تاریخی و تہذیبی پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا جن کا تعلق مسلم اسپین سے ہے یعنی اشبیلیہ ، قرطبہ ، غرناطہ اور مالقہ وغیرہ ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود حکومت اسپین کی نظر میں اپنے ملک کی تاریخ بے معنی اور بے وقعت ہو جاتی ہے اگر اس سے اسلامی دور کو حذف کر دیا جائے ۔
مذکورہ کانفرنس میں ایک بڑا عبرت انگیز واقعہ پیش آیا ، اس کو ایک عرب ڈاکٹر مصطفیٰ الشکہ نے بیان کیا ہے ، جو اس میں شریک تھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ شکاگو یونیورسٹی کے نمائندہ ڈاکٹر اسمتھ (Dr Smith) نے کانفرنس میں جو مقالہ پیش کیا وہ اول سے لے کر آخر تک اسلام اور مسلمانوں کے اوپر جارحانہ حملہ تھا۔ حتیٰ کہ اپنی بات ختم کرتے ہوئے انھوں نے پرجوش طور پر کہا کہ اسپین کے باشندوں نے جو سب سے عظیم کارنامہ انجام دیا ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے یہاں سے عربوں اور مسلمانوں کو باہر نکال دیا (اعظم عمل قام به الإسبان هوطرد العرب والمسلمين من إسبانيا) مناهج المستشرقين ، الرياض اس کے بعد میڈرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مونتابت کھڑے ہوئے اور نہایت پُر زور الفاظ میں امریکی مستشرق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نہ تاریخ کو پڑھا ہے اور نہ اس کو سمجھا ہے۔ وہ آٹھ سو سال نہ ہوتے جو اسپین نے اسلام اور اسلامی تہذیب کے سایہ میں گزارے ہیں ، تو ہمارا ملک کبھی تہذیبی تاریخ کے دور میں نہ داخل ہوتا۔ انھیں آٹھ صدیوں کی بدولت اسپین اس قابل ہوا کہ اپنے پڑوس کے یورپی ملکوں میں علم وثقافت کی روشنی پھیلائے جو اُس وقت جہالت ، ناخواندگی اور پس ماندگی کے اندھیرے میں بھٹک رہے تھے :
إنه لم يقرأ التاريخ ولم يفهمه .. إسبانيا ما كان لها أن تدخل التاريخ الحضاري لولا القرون الثمانية التي عاشتها في ظل الاسلام وحضارته ، وكانت بذلك باعثة النور والثقافة إلى الاقطار الأوروبية المجاورة المتخبطة آنذاك في ظلمات الجهل والأمية والتخلف (كتاب مذکور صفحه ۲۷۷)
ڈاکٹر مونتابت مشہور اسپینی مستشرق فرانسیسکو کوڈیران زیدین (Francisco Codera Zaydin) کے شاگرد ہیں۔ کوڈیررا کا سال پیدائش ۱۸۳۶ اور سال وفات ۱۹۱۷ء ہے۔ وہ قدیم اسلامی تہذیب و روایات اور عربوں کی محبت سے سرشار تھا (لقد أشرب كوديرا حب العرب) کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق ایسے خانوادہ سے تھا جو اصلا عرب تھا۔ جیسا کہ اسپین کے اکثر گھرانوں کا حال ہے ۔ سے اس کو اتنا شغف تھا کہ وہ اپنے نام کا تلفظ عربی لہجہ میں اس طرح کرتا تھا : الشیخ فرنسیشکو قدارة زيدين - امیر شکیب ارسلان اس کو کوڈ میرا کے بجائے قدیرہ کہتے تھے ۔
کوڈیرا نے اپنی عمر کا بڑا حصہ میڈرڈ یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے گزارا۔ ذی علم، اعلیٰ ادبی ذوق اور انصاف پسند طبیعت کا مالک تھا۔ اس نے اپنے زیر تربیت نوجوانوں میں اسپین کی مسلم تاریخ کے مطالعہ کا شوق پیدا کیا۔ خود اس نے اس موضوع پر درجنوں ضخیم کتابیں اسپینی اور انگریزی زبانوں میں لکھی۔ اور اپنے بعض طلبہ کے تعاون سے بہت سے قیمتی عربی مخطوطات کی تحقیق کرکے ان کو جدید معیار کے مطابق (Bibliofica Arabico Hispana) کے نام سے شائع کیا۔ ذہنی وسعت اور انصاف پسندی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بار اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلط ہوگا کہ اسپین کو یورپی بنانے کی کوشش کی جائے، ضرورت اس بات کی ہے کہ یورپ کو عربی بنایا جائے (إن من الخطأ العمل على " أوُرَبَّة " ، إسبانيا، بل الواجب هو" تعريب "، أوروبـا)
کوڈیرا کے زیر اثر اسپین میں اسکالروں کا ایک بڑا گروہ تیار ہوا، عربوں اور مسلمانوں کے بارہ میں ان کا نقطہ نظر حد درجہ انصاف پسندی اور قدر دانی پر مبنی ہے۔ یہ لوگ اپنے استاد کی طرف منسوب کرتے ہوئے اپنے آپ کو بنی کو ڈیرا“ کہتے ہیں۔ جس سے عربی زبان کے ساتھ ان کے شغف کا اندازہ ہوتا ہے۔
میڈرڈ کے شمال مغرب میں ایک شہر ال اسکوریال (El Escorial) ہے۔ یہاں سولہویں صدی کا ایک پرانا چرچ اور ایک تاریخی محل ہے۔ تاہم اس کی عالمی شہرت کا زیادہ بڑا سبب اس کی وہ عظیم شاہی لائبریری (مكتبة الإسكوريال الملكية) ہے، جس کا شمار دنیا کے قدیم اور مال دار ترین کتب خانوں میں ہوتا ہے۔ اس لائبریری میں نادر عربی مخطوطات کا بھی ایک بڑا ذخیرہ ہے حتیٰ کہ یہاں پر بعض ایسے عربی مخطوطات محفوظ ہیں جو دنیا کے کسی بھی اسلامی یا غیر اسلامی کتب خانے میں موجود مثال کے طور پر اسپینی فقیہہ اور شاعر ابو اسحاق الالبیری کا دیوان صرف اسکور یال میں ہے۔ جس کا کیٹلاگ نمبر ہم رہ ہے۔ یہاں کے عربی مخطوطات کی گئی بسلوگرافیاں تیار کی گئی ہیں۔ ان میں سے مندرجہ ذیل دو زیادہ معروف ہیں :
Bibliotheca Arabic-Hespana Escurialens by Miguel Casiri (Spanish)
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب عربوں اور مسلمانوں کو اسپین سے نکالا گیا تو ان کی تمام کتابوں کو یا جلا دیا گیا یا دریا میں بہا دیا گیا۔ مگر اسکور یال کے کتب خانہ میں قدیم عربی مخطوطات کی موجودگی اس کی کھلی ہوئی تردید ہے۔
اسکور یال سے اسپینی زبان میں ایک مجلہ نکلتا ہے ۔ اس کا نام الا سکوریال میگزین ہے۔ اکثر کسی نادر عربی مخطوطہ کی تحقیق ہوتی ہے۔ یا اندلس کے عرب سلاطین، وزراء، اطبا، شعراء، ادباء، فلاسفہ اور سائنس دانوں کے بارہ میں اسپینی اہل علم اور ریسرچ اسکالرس کے تحقیقی مقالات شائع کیے جاتے ہیں۔ مسجد قرطبہ ایک دریا کے کنارے واقعہ ہے جس کو وادی الکبیر (Guadalquivir) کہا اقبال نے اپنی نظم ”مسجد قرطبہ “ میں اس کے حوالے سے دو شعر کہے تھے جو یہاں قابل نقل ہیں :
آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا اقبال کا یہ خواب موجودہ زمانہ میں واقع بن رہا ہے۔ اب اسپین میں نئی اسلامی تاریخ بننا شروع اور تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں جس عمل کا آغاز ہو جائے وہ آخر کار اپنی انتہاتک پہنچ کر
اسپین کے سفر پر روانگی سے چند دن پہلے ڈاک سے مجھے ایک کتاب ملی ۔ ۸۵۴ صفحہ کی یہ انگریزی کتاب بمبئی (ہندو دیویک کیندر) سے چھپی ہے۔ اس کا نام ہے اسلام کا خطرہ : B.N. Jog, Threat of Islam: Indian Dimensions, 1, Purvanchal, Navghar Marg, Bombay 400081 اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام ساری دنیا کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ کیونکہ وہ دوسرے مذہب اور کلچر کے ساتھ پر امن طور پر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے اسلام کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، یعنی اسلام کا مکمل خاتمہ ۔ اس معاملہ میں ساری دنیا کو اسپین کے نمونہ کو اختیار کرنا ہے۔ اسپین نے اسلام اور
مسلمانوں کو مکمل طور پر اپنے یہاں سے خارج کر دیا۔ اسی طرح ہندوستان اور دوسرے ملکوں کو چاہیے کہ وہ ان کو اپنے یہاں سے خارج کر دیں۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ۔ یہ بات اس مفروضہ پر کہی گئی ہے کہ اسپین سے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے خارج کر دیا گیا ہے۔ حالاں کہ یہ بات واقعہ کے مطابق نہیں۔ پھر جو اسپین خود اسپین میں نہیں بنا وہ دوسرے کسی مقام پر کیسے بن جائے گا۔
مصنف نے بالواسطہ انداز میں اعتراف کیا ہے کہ ۱۹۲۵ میں آر ایس ایس کی تنظیم اسی خاص مقصد کے لیے بنائی گئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ ۷۰ سال کی لمبی مدت میں آر ایس ایس نے کیا کیا۔ حال یہ ہے کہ ۱۹۲۵ میں سارے برصغیر ہند میں مسلمانوں کی جو مجموعی تعداد تھی اس سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی آج صرف منقسم انڈیا میں ہے۔ گویا آر ایس ایس کی ساری کوششوں کے باوجود اسلام کا قافلہ برعکس سمت میں سفر کر رہا ہے۔
اب بیسویں صدی کے آخر میں جو لوگ اس قسم کی کتابیں چھاپ رہے ہیں وہ صرف نادانی کر رہے ہیں۔ کیوں کہ اب زمانہ مزید سفر کر کے ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے کہ انسان کو صرف دو قسم کی کتابیں پڑھنے سے دل چسپی ہے کیریر بنانے والی کتابیں یا تفریحی کتابیں۔ بالا کتاب یقینی طور پر ان دونوں میں سے کسی قسم میں نہیں آتی۔
یکم دسمبر کو یہاں سے واپسی کا دن تھا۔ صبح کو فجر کی نماز میڈ رڈ کے ہوٹل میں پڑھی۔ مسلم عہد میں میڈ رڈ کا علاقہ بھی مسلم سلطنت میں شامل تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر چہ ہوٹل کے اس کمرہ میں نہیں، مگر جہاں یہ ہوٹل کھڑا ہے، عین ممکن ہے کہ اس زمین پر اللہ کے کسی بندہ نے سجدہ کیا ہو۔ عین ممکن ہے کہ یہاں کی فضائیں کسی مومن کی آہوں اور آنسوؤں کی امین ہوں۔
مسلم دور حکومت میں میڈ رڈ کا نام مجریت (majrit) تھا۔ یہی لفظ بدل کر اب میڈ رڈ بن گیا مسلم عہد کے ایک عالم فلکیات ابو القاسم مسلمہ (وفات ۱۰۰۷ء) میڈرڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ اسی لیے ان کو المجریتی کہا جاتا ہے۔
دور قدیم میں یہاں مسلمانوں کا ایک چھوٹا قلعہ تھا۔ یہ قلعہ اب میڈ رڈ میں موجود نہیں مگر آج وہاں اس سے زیادہ شاندار ایک اسلامک سنٹر کھڑا ہوا ہے جو سعودی عرب کے مالی تعاون سے
بنایا گیا ہے۔ یہ موجودہ یورپ کا سب سے بڑا اسلامک سنٹر ہے۔ اس کی تعمیر پر ۲۰ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ وہ ۲۰ ہزار اسکوائر میٹر رقبہ میں واقع ہے ۔
قدرتی طور پر میری خواہش تھی کہ میں میڈرڈ کے اس اسلامی مرکز میں جاؤں اور اس کی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھوں۔ مگر چاہنے کے باوجود میں وہاں جا نہ سکا ۔ یکم دسمبر کو میڈرڈ سے روانگی کا دن تھا۔ مجھ کو اور کئی دوسرے لوگوں کو صبح کے وقت ائیرپورٹ جانا تھا۔ منتظمین کانفرنس نے ہمارے لیے مشترک سواری کا انتظام کیا تھا۔ مگر میں مشترک سواری میں نہیں بیٹھا۔ اس کے بجائے میں نے یہ کیا کہ کچھ سویرے میں نے ہوٹل چھوڑ دیا اور ایک ٹیکسی لے کر روانہ ہوا۔ ٹیکسی والے سے میں نے کہا کہ تم مجھ کو سیدھے ائیرپورٹ نہ لے جاؤ۔ بلکہ اسلامک سنٹر کی طرف سے گزارتے ہوئے ائیرپورٹ لے چلو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ میڈرڈ کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے آخر کار میں وہاں پہنچا۔ جہاں خوب صورت اور عالی شان اسلامی مرکز اسپین کی سر زمین پر کھڑا ہوا اس کو دیکھ کر میرا عجیب احساس ہوا۔ میں نے سوچا کہ ہندوستان میں کچھ مسلم دانشور مسلمانوں کو ڈرا رہے ہیں کہ تمہارے دشمن ہندوستان کو تمہارے لیے دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے بجائے ان مسلم دانشوروں کو یہ کہنا چاہیے کہ اے مسلمانو! جس دنیا میں پہلا اسپین بھی نہ بن سکا وہاں دوسرا اسپین آخر کیسے بنے گا۔
میڈرڈ کے اسلامی مرکز کے ڈائرکٹر اس وقت ڈاکٹر عبدالعزیز السرحان ہیں ۔ انھوں نے رابطہ عالم اسلامی کے تعاون سے ۹۶-۱۹۹۵ کے لیے ایک دو سالہ منصوبہ بنایا ہے ۔ اس دوران اساتذہ کی تربیت، عربی زبان کی تعلیم، اسلامی مسیحی ڈائیلاگ وغیرہ پر پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ علاوہ اکتوبر ۱۹۹۹ میں امام ابن حزم کی یاد میں ایک بڑی کانفرنس کی جائے گی۔ میڈرڈ کے اس اسلامک سنٹر کا افتتاح ۲۴ ربیع الاول ۱۳۱۴ھ (ستمبر ۱۹۹۱ء) میں ہوا۔ کے بادشاہ جان کارلوز (King Juan Carlos) نے اس کا افتتاح کیا۔ اس افتتاحی تقریب کی تصویر رپورٹ المجلة (۱۳ اکتوبر ۱۹۹۲ء) میں چھپی تھی ۔ المجلہ نے اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا تھا کہ اسلام کا منارہ اذان پانچ سو سال کے بعد پھر اسپین میں واپس آتا ہے (المئذنة الاسلامية تعود الي اسبانيا بعد ٥٠٠ عام)
ریاض کے اخبار العالم الاسلامی (۴ اکتوبر ۱۹۹۲) نے یہ خبر اس عنوان کے ساتھ شائع کی تھی کہ میڈرڈ میں اسلامی ثقافتی مرکز کا افتتاح اسپین اور مسلمانوں کے لیے فخر کی بات ہے ( افتتاح المركز الثقافى الاسلامى فى مدريد مَفخَرة لاسبانيا والمسلمين) اس سنٹر میں مسجد، ہال، کالج، لائبریری قائم کیے گئے ہیں۔ نیز یہاں سے اسپینی زبان میں لٹریچر اور میگزین شائع کیا جاتا ہے۔ کے ہال میں بیک وقت عربی، اسپینی، انگریزی زبانوں میں فوری ترجمہ کا انتظام ہے ۔ شاہ اسپین نے (المجلہ کی رپورٹ کے مطابق ) اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ اسپین اپنے مسلم ماضی پر فخر محسوس کرتا ہے ( اسبانيا تشعر با لفخر بما ضيها )
ہندوستان میں کچھ لکھنے اور بولنے والے مسلمان یہ انکشاف کرنے میں مشغول ہیں کہ ۱۹۴۷ سے پہلے کچھ ہندو لیڈر اسپین گئے ۔ اس سفر کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اسپین سے کس طرح مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا گیا۔ آزادی ملنے کے بعد اسی عمل کو دہر اکر ہندوستان کو دوسرا اسپین بنایا جا سکے ۔ اسپین کی سڑکوں پر چلتے ہوئے مجھے یہ بات مضحکہ خیز حد تک بے معنی نظر آئی ۔ ظاہر ہے کہ اسپین سے مسلمانوں کا استیصال کوئی جاری عمل نہیں ہے جس کو کوئی شخص وہاں جا کر دیکھے۔ مسلمانوں کے خلاف جو کچھ بھی ہوا، وہ ماضی کا واقعہ ہے نہ کہ حال کا واقعہ ۔ آج کے اسپین میں کہیں بھی کوئی شخص یہ نہیں دیکھ سکتا کہ مسلمانوں کے مفروضہ خاتمہ کے لیے وہاں کیا کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ آج صرف لائبریریوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ اس کو اسپین کے محلوں اور شہروں میں ہوتا ہوا نہیں دیکھا جا سکتا۔
مزید یہ کہ آج کے اسپین میں جو شخص گھومے گا وہ بالکل برعکس تاثر لے کر واپس ہوگا۔ کیوں کہ آج وہ وہاں دیکھے گا کہ عبد الرحمن الاہل کو خود داخل اسپین نے دوبارہ تلوار بدست اپنی سر زمین پر کھڑا کر دیا وہ پائے گا کہ آج خود اسپین کی راجدھانی میں نہایت شاندار طور پر نئی مسجد اور نیا اسلامی مرکز بنایا گیا ہے ۔ اس طرح آج وہاں جانے والا آدمی جگہ جگہ ایسے واقعات سے دوچار ہو گا جو اس کو بتائیں گے کہ اسپین کی پچھلی نسل نے اگر مسلمانوں کے خلاف زیادتی کی تھی تو اسپین کی موجودہ نسل اس قدیم پالیسی کو چھوڑ کر آج مسلمانوں کا استقبال کر رہی ہے ۔ چنانچہ آج اسپین میں مسلمان قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں اور آزادانہ طور پر وہاں پر امن زندگی گزار رہے ہیں ۔
صبح ۹ بجے ہوٹل سے نکلا۔ میڈرڈ کے مختلف حصوں سے گزرتی ہوئی آخر کار ہماری گاڑی
ایئر پورٹ پہنچ گئی۔ میڈرڈ کا ایئر پورٹ دوسرے ترقی یافتہ شہروں کے ایئر پورٹ کے مقابلے میں کم منظم دکھائی دیا۔ مثلاً یہاں جو بورڈنگ کارڈ دیا گیا اس پر گیٹ کا نمبر لکھا ہوا نہیں تھا۔ کی وجہ تھی کہ گیٹ نمبر عین بورڈنگ کے وقت مائک پر اناؤنس کیا جاتا ہے یا مخصوص بورڈ پر لکھ دیا جاتا ہے۔
میڈرڈ سے فرینکفرٹ کے لیے ایبیریا کی فلائٹ نمبر ۳۵۰۸ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ میں مطالعہ کے لیے صرف اسپینی زبان کے اخبارات تھے۔ اس لیے میں خلاف معمول دوران پرواز کسی اخبار کو نہ پڑھ سکا۔ جہاز مسافروں کو لیے ہوئے تیزی سے فضا میں اڑ رہا ہے اور مجھ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں نے ایک خواب دیکھا تھا جو اب اپنی تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ کا شوق تو یقیناً مجھے تھا مگر مجھ کو یقین نہیں تھا کہ میں کبھی اسپین کا سفر کر سکوں گا۔ بظاہر یہ ایک نہ ہونے والی بات نظر آتی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ میرے اسفار کا یہ حصہ بھی پورا ہو جائے۔ چنانچہ اچانک ایک روز ڈاک سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ اس کے بعد لمبا وقفہ پڑا اور وہاں سے مزید کوئی اطلاع نہیں ملی۔ دوبارہ اچانک آغاز سفر کے صرف دو دن پہلے ٹیلی فون پر وہاں سے سے بتایا گیا کہ میرے سفری کاغذات بھیج دیے گئے ہیں۔ اس کو ایئر فرانس سے حاصل کر لیں۔ جہاز فرینکفرٹ کے قریب پہنچا تو پائلٹ نے مائک پر اعلان کیا کہ فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر ٹریفک کی وجہ سے، ہم تقریباً پندرہ منٹ تاخیر کے ساتھ لینڈ کر سکیں گے۔ ریلوے میں اگر اگلے اسٹیشن کی پٹری خالی نہ ہو تو ٹرین پچھلے اسٹیشن پر ٹھہرا دی جاتی ہے۔ ہوائی جہاز کے لیے فضا میں ٹھہرنا ممکن نہیں۔ اس لیے ہمارا جہاز فرینکفرٹ کے اوپر اس طرح منڈلانے لگا جس طرح چیل بعض اوقات فضا میں منڈلاتی ہے۔ کچھ دیر تک اس طرح منڈلانے کے بعد کسی قدر تاخیر کے ساتھ جہاز ہوائی اڈہ پر اترا۔
یہ ”فرق“ زندگی کا ایک اصول ہے۔ ہوائی جہاز کا پائلٹ اگر اس فرق کو نہ جانے اور اگلے ایئرپورٹ کی طرف سے میسج ملنے کے بعد وہ جہاز کو فضا میں ٹھہرا دے۔ یا ٹرین کے ڈرائیور کو جب اگلے اسٹیشن کی طرف سے سگنل نہ ملے تو وہ گول دائرہ میں ٹرین کو گھمانے کا فیصلہ کرے تو یہ دونوں کے لیے تباہ کن ہوگا۔ ایسے جہاز کا پائلٹ بھی اپنے جہاز کو تباہ کردے گا اور ایسی ٹرین کا ڈرائیور بھی اپنی ٹرین کو۔
فرینکفرٹ دنیا کے چند اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر نہایت مہنگا ہے۔ ہر قسم کی اعلیٰ سہولتیں موجود ہیں۔ فرینکفرٹ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ عالمی نمائشوں کے لیے یہاں بہت بڑا نمائشی میدان ہے اور اس میں سال بھر مختلف قسم کی نمائش لگتی رہتی ہے۔ ۵ اکتوبر سے ۱۰ اکتوبر سنہ ۱۹۹ تک یہاں عالمی بک فیئر لگی تھی۔ اس میں عالمی اداروں نے اپنی مطبوعات برائے نمائش رکھی تھیں۔ یہ نمائش عام شہریوں کے لیے نہیں تھی ۔ بلکہ ان لوگوں کے لیے تھی جو بک ٹریڈ میں ہیں۔ چنانچہ دنیا بھر سے پبلشر، ڈسٹری بیوٹر اور بک سیلر یہاں آئے تھے۔ ایک صاحب کے تعاون سے فرینکفرٹ کی اس نمائش میں الرسالہ بک سنٹر کا بھی ایک اسٹال رکھا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر ثانی اثنین نے دہلی سے فرینکفرٹ کا سفر کیا تھا۔ الرسالہ کے اسٹال پر مختلف ملکوں کے بہت سے لوگ آئے اور لٹریچر کو پسند کیا۔ خاص طور پر انہیں اس بات پر حیرت تھی کہ ہندوستان میں ایسی معیاری کتابیں چھپ رہی ہیں۔ کافی لوگوں نے لٹریچر طلب کیا۔ آف قرآن کے لیے خاص طور پر بڑی بڑی فرمائش نوٹ کرائیں۔
فرینکفرٹ جرمنی کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔ جرمنی کی ایک اہمیت یہ ہے کہ یہاں بہت سے بڑے بڑے مستشرق پیدا ہوئے۔ استشراق دراصل نوآبادیاتی دور کے ایک مظہر کے طور پر پیدا ہوا۔ چنانچہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یورپ میں بڑے بڑے مستشرق پیدا ہوئے ۔ مگر بیسویں صدی میں اس قسم کے مستشرق نظر نہیں آتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب زیادہ اعلیٰ ذہن دوسرے علمی میدانوں میں چلے جاتے ہیں، جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کی زیادہ قیمت مل سکتی ہے ، وہ استشراق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔
انیسویں صدی عیسوی میں جرمنی میں بھی بہت سے بڑے بڑے مستشرق پیدا ہوئے۔ طبری کے متعلق عام خیال یہ تھا کہ وہ ضائع ہو چکی ہے۔ لیکن جرمن مستشرق گڈ فریڈ سکارٹن نے اس کا مخطوطہ حاصل کیا اور برسوں کی محنت کے بعد اس کو درست کر کے شائع کیا۔ اسی طرح ایک اور جرمن مستشرق پروفیسر ساخو جس نے طبقات ابن سعد پر غیر معمولی محنت کر کے اس کو مکمل شائع کیا۔ مستشرقین نے قدیم عربی کتابوں کو ایڈٹ کر کے شائع کرنے میں انتہائی دیانت داری سے کام لیا ہے۔ تاہم جہاں تک خود ان کی اپنی تحریروں کا تعلق ہے ، اپنے علم کی وسعت کے باوجود انھوں
نے سخت غلطیاں کی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ذہنی پس منظر اسلام کے مطابق نہیں۔ مثلاً پروفیسر ہیملٹن گب (1901ء - 1895ء) جو نسبتاً جدید مستشرق ہیں، وہ اچھی عربی جانتے تھے۔ انھوں نے حدیث میں پڑھا کہ بعثت بالحنیفیۃ السمحة - اس کے بعد انھوں نے اپنی کتاب محمدن ازم میں لکھ دیا کہ محمد نے اپنے مذہب کو پہلے حنیفیہ کہا تھا۔ بعد کو انھوں نے اس کا نام اس غلطی کی وجہ یہ ہے کہ پروفیسر گب کا ذہنی سانچہ ارتقائی تصور کے تحت بناتھا نہ کہ اسلام کے تصور وحی کے تحت۔
اسپین میں مسلمانوں نے جس زمانہ میں شاندار تہذیب بنائی، اس زمانہ میں مواصلاتی ذرائع بہت تاہم اس کی امتیازی خصوصیت کی بنا پر اس کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔ جرمنی کی ایک خاتون شاعر راز و تھا (Hrosvitha) جو نن بھی تھی۔ وہ گینڈرشیم (Gandershsheim) میں ۹۲۵ء میں پیدا ہوئی، ۱۰۰۰ء میں اس نے انتقال کیا۔ اس جرمن شاعرہ نے غالباً اسپین کا سفر نہیں کیا تھا مگر قرطبہ کے بارہ میں اس نے بہت کچھ سُنا تھا۔ اس کی ایک لاطینی نظم میں قرطبہ کے بارہ میں یہ الفاظ تھے کہ دنیا کا سب سے زیادہ شان و شوکت والا شہر :