مغربی یورپ میں پھیل گیا (صفحہ ۹۰
Al-Risala, August 1995, pp. 91–100
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک اور مستشرق نے لکھا ہے کہ لیان یا نواری یا بارسلونہ کے مسیحی حکمرانوں کو جب بھی ایک سرجن یا آرکیٹیکٹ یا ماسٹر سنگر یا ڈریس میکر کی ضرورت ہوتی تو وہ قرطبہ سے اس کی درخواست کرتے تھے۔ راجدھانی کی شہرت جرمنی تک پہنچ گئی تھی جہاں ایک جرمن نن نے اس کو دنیا کا ہیرا (Jewel of the World)
رلکے (Rainer Maria Rike) مشہور جرمن شاعر ہے۔ وہ ۱۸۷۵ء میں پیدا ہوا، اور ۱۹۲۶ء میں اس کی وفات ہوئی۔ جرمن مستشرقین نے جن عربی کتابوں کے ترجمے جرمن زبان میں کئے تھے اور اسلام پر جو کتابیں لکھی تھیں، ان میں سے کچھ کتابوں کو رلکے نے پڑھا۔ اس نے اگرچہ اسلام قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا مگر وہ اسلام سے متاثر تھا۔
ڈاکٹر عبد الرحمٰن بدوی نے رلکے پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ اس میں رلکے کے ایک خط کا عربی ترجمہ دیا گیا ہے۔ یہ ایک مفصل خط ہے۔ اس میں اس نے لکھا تھا کہ جب سے میں نے قرطبہ کا سفر کیا ہے، مجھ کو مسیحیت سے سخت بیزاری ہو گئی ہے۔ میں قرآن کو پڑھتا ہوں ۔ اس کے بہت سے مواقع پر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی چیز میرے دل کو چھورہی ہے۔ محمدؐ نے براہ راست خدائے واحد کی طرف راستہ کھولا ۔ یہاں انسان خدا سے بات کر سکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسیحیت کی مثال ایسی ہے کہ انسان ہلو، ہلو کرتا رہے اور دوسری طرف سے کوئی آواز نہ آئے۔
اس طویل خط کے آخر میں مصنف لکھتے ہیں : فی ھذا النص الثمین یقرر رلکہ بعدالله للمسيحية و اعجابه بالاسلام (صفحہ ۱۲۷)
جرمنی سے جدید مسلم تاریخ کے بہت سے واقعات وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۴-۱۸) کے وقت دو عالمی محاذ بن گئے تھے۔ ایک الائیڈ پاورس کا محاذ جس کی قیادت برطانیہ کر رہا کر رہا تھا۔ دوسرا ایکس پاورس کا محاذ جس کی قیادت جرمنی کر رہا تھا۔
اس وقت ترکی میں عثمانی خلافت قائم تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ ترکی دونوں محاذوں میں سے کس کا ساتھ دے۔ اس نازک موقع پر مولانا محمد علی جوہر نے رات دن جاگ کر ایک لمبا مضمون لکھا جو ان کے انگریزی ہفت روزہ کامریڈ میں چھپا۔ اس میں انھوں نے ترکوں کو مشورہ دیا تھا کہ اس
جنگ میں وہ برطانیہ کے مقابل میں جرمنی کا ساتھ دیں۔ اس کا عنوان تھا ترکوں کا انتخاب : The Choice of the Turks مولانا محمد علی کا یہ طویل مضمون الفاظ کا ایک جنگل تھا جو تدبیر اور دور اندیشی سے یکسر خالی تھا۔ تاہم اس مضمون کی بنا پر نہیں بلکہ ترکی کے جذباتی وزیر جنگ انور پاشا کے جلد بازانہ اندازہ (hasty calculation) کی وجہ سے ترکی جرمنوں کی حمایت میں جنگ میں کود پڑا۔ اگرچہ ترک کیبنٹ کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ ترکی کو اس معاملہ میں غیر جانب دار (neutral) رہنا چاہیے۔
حالات کے عین فطری تقاضے کے تحت اس جنگ میں برطانیہ اور اس کے ساتھیوں کو فتح حاصل ہوئی اور جرمنی اور اس کے ساتھیوں کو بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر بعد از جنگ سودا بازی (Postwar bargaining) شروع ہوئی۔ فاتح طاقتوں نے ترکی کی عثمانی خلافت کو تقسیم کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
مثلاً روس نے درہ دانیال پر قبضہ کر لیا۔ فرانس نے شام پر اپنی بالا دستی قائم کرلی۔ مصر کو اپنے سیاسی دائرہ میں شامل کر لیا۔ فلسطین کو ایک انٹر نیشنل علاقہ قرار دے دیا گیا ۔ ۲ نومبر ۱۹۱۷ء کو بالفور ڈکلریشن (Balfour Declaration) جاری ہوا جس میں یہودیوں کے لیے فلسطین میں ایک نیشنل ہوم بنانے کا وعدہ کیا گیا ۔ عثمانی خلافت کا خاتمہ اور فلسطین کے محاذ پر پسپائی جیسے حادثات جن کو نادان لوگ کمال اتاترک اور یاسر عرفات کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں ، وہ حقیقتہً انور پاشا اور محمد علی جیسے لیڈروں کے حصہ میں جاتا ہے جن کے پاس جذبات کا سرمایہ تو ضرورت سے زیادہ تھا مگر بصیرت کا سرمایہ ضرورت سے
دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی جذباتی قیادت کے نتیجہ میں دوبارہ جرمنی کو شکست ہوئی ۔ فاتح قوموں (برطانیہ ، امریکہ ، روس) نے جرمنی کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ ایک کو ایسٹ جرمنی کہا گیا اور دوسرے کو ویسٹ جرمنی ۔ یہ تقسیم یہاں تک پہنچی کہ دونوں حصوں کے درمیان ۱۹۶۱ میں عظیم برلن وال کھڑی کر دی گئی ۔ مگر جیسے ہی سوویت یونین کمزور پڑا خود جرمنوں نے نومبر ۱۹۸۹ میں اس دیوار کو توڑ کر گرا دیا اور دونوں حصے مل کر دوبارہ ایک ملک بن گئے۔
ایک بار میں انے پاکستان کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے کہا کہ اسی طرح انڈیا اور پاکستان کو بھی دوبارہ مل جانا چاہیے۔ موجودہ مصنوعی حد بندی کو اگر ختم کر دیا جائے تو اس میں دونوں کو فائدہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی میں تو دونوں حصوں کے لوگ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے ۔ اعتبار سے بھائی بھائی تھے ۔ مگر یہاں کا معاملہ یہ ہے کہ دونوں کا مذہب الگ الگ ہے ۔ مزید یہ کہ ہندو فرقہ اکثریت میں ہے ۔ اگر ایسا غیر مساوی اتحاد کیا گیا تو ہندو اپنی اکثریت کے زور پر ہم کو نگل جائے گا ۔ میں نے کہا کہ یہ ایک لغو بات ہے۔ یہ اسلام کی نظریاتی طاقت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ خود پاکستان کی تاریخ اس اندیشہ کی تردید کے لیے کافی ہے ۔ پاکستان کا علاقہ ہمیشہ سے مسلم علاقہ نہیں آج وہاں ایک سو ملین سے زیادہ مسلمان پائے جاتے ہیں ۔ جب کہ ہندوؤں کی تعداد مشکل صرف ۱۰ لاکھ ہے ۔ مگر شروع میں جب مسلمان اس علاقہ میں آئے تو وہاں آبادی کا تناسب اس کے بالکل پھر ماضی کے اس تجربہ کے باوجود مستقبل کے لیے آپ لوگ اس قدر خوف اور مایوسی میں کیوں مبتلا ہیں ۔ آپ لوگ کیسے مسلمان ہیں کہ آپ کی نگاہ ہندو کی عددی برتری پر تو ہے مگر آپ کی نگاہ اسلام کی نظریاتی برتری پر نہیں ۔
جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چار فی صد ہے۔ یہاں تقریباً چالیس اسلامی تنظیمیں ہیں۔ پہلی عالمی جنگ میں ترکی جرمنوں کے ساتھ تھا۔ اس طرح جنگ کے دوران فوجی خدمت کے تحت ترکی اور یوگوسلاویہ کے حامی مسلمان جرمنی پہنچے ۔ انھوں نے یہاں پہلی مسجد بنائی ۔ اب یہاں کے تقریباً ہر شہر میں بڑی تعداد میں مسجدیں اور اسلامی مراکز ہیں ۔ ان کے ساتھ تعلیمی ادارے بھی قائم ہیں۔ اداروں میں دس ہزار سے زیادہ مسلم بچے قرآن اور دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جرمنی کے ایک شہر ہائیڈل برگ میں ۱۹۹۱ میں ایک بڑی اسلامی مؤتمر ہوئی۔ اس کا شعار تھا: الا ن نصر الله قریب۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس شعار میں قومیت کی بو محسوس ہوتی ہے ۔ یہ گویا قومی مقصد کے لیے قرآن کا استعمال ہے ۔ کے بجائے زیادہ بہتر یہ تھا کہ کسی دعوتی آیت کو شعار بنایا جائے۔ راقم الحروف نے تقریباً چالیس سال پہلے اعظم گڑھ کی نمائش میں ایک اسلامی اسٹال لگایا تھا ۔ اس میں عمودی (vertical) انداز میں ایک بہت اونچا بورڈ نصب کیا تھا جس پر یہ آیت مع ترجمہ لکھی ہوئی تھی : واللہ يدعو الى دار السلام ۔
۲۲ اکتوبر سن ۱۹۴۱ کو بون (جرمنی) میں سبھاش چندر بوس پر ایک سیمینار ہوا۔ اس کو یہاں کے ہندوستانی سفارت خانہ نے اسپانسر کیا تھا۔ سبھاش چندر بوس ۳۴۔ ۱۹۳۹ میں جرمنی میں رہے تھے۔ کے جرمنی آنے کا مقصد یہ تھا کہ برٹش راج ختم کرنے کے لیے جرمنی سے مدد حاصل کی جائے۔ وقت جرمنی میں نازی پارٹی کی حکومت تھی۔
لوئی فشر نے اپنی کتاب لائف آف مہاتما گاندھی میں لکھا ہے کہ سبھاش چندر بوس ایک طوفانی آدمی تھے جن کا کہنا تھا کہ مجھ کو خون دو، اور میں تم سے آزادی کا وعدہ کرتا ہوں۔ اس نعرہ کی وجہ سے ان کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی (صفحہ ۲۵۶)
سبھاش چندر بوس (اور جواہر لال نہرو) اس زمانہ میں نوجوانوں کے مقبول رہنما بنے ہوئے تھے ۔ وہ دونوں فوراً آزادی چاہتے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ لڑائی چھیڑنے کے لیے تیار تھے۔ مہاتما گاندھی کے مصالحانہ رویہ پر نہایت سخت احتجاج کر رہے تھے (صفحہ ۲۶۱) ان کے اثر سے گاندھی جی کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ ۳۱ دسمبر ۱۹۲۹ تک انڈیا کو آزاد کر دیا جائے ، ورنہ میں یک طرفہ طور پر آزادی کا اعلان کر دوں گا اور اپنی تمام کشتیاں جلا ڈالوں گا (صفحہ ۲۵۷)
سبھاش چندر بوس مہاتما گاندھی کے سخت مخالف تھے (۲۶۹) گاندھی جی کا نظریہ پر امن جدوجہد کا تھا، جب کہ سبھاش چندر بوس کھلے طور پر تشدد کی بات کرتے تھے اور برطانیہ کے خلاف مسلح بغاو ت (armed revolt) کے وکیل تھے (۳۴۲) لوئی فشر نے ۲۵ جون ۱۹۴۲ کو نئی دہلی میں گاندھی جی سے گفتگو کے دوران انھوں نے گاندھی جی سے کہا تھا کہ سبھاش چندر بوس ۱۹۴۱ میں جرمنی اگر ان کا خیال تھا کہ وہ جرمنی سے مدد لے کر انڈیا کو بچا سکتے ہیں تو وہ ایک بیوقوف آدمی تھے اور سیاسی لیڈر بے وقوفی کا تحمل نہیں کر سکتا :
Bose went to Germany. If he believed that India would be saved by Germany, he was stupid, and statemen cannot afford to be stupid. (p. 442)
نیتاجی سبھاش چندر بوس نے انڈین نیشنل آرمی کے نام سے ایک آزاد فوج بنائی تھی ۔ کے ایک کیپٹن ڈاکٹر ر تن چند (سری گنگا نگر) تھے ۔ انھوں نے اپنی یادداشت شائع کی ہے جس کا عنوان ہے : ایک شام نیناجی کے ساتھ ۔ اس میں وہ ۲۰ دسمبر ۱۹۴۳ کی ایک میٹنگ کا حال بیان
کرتے ہیں جب کہ نیتا جی برما کے باتو پہاٹ آفیسرز ٹریننگ اسکول کی سالانہ تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ دوسرا سوال و جواب یہ تھا : سوال : آپ کہتے ہیں کہ ہتھیار بند انقلاب کے بغیر ہندوستان آزاد نہیں ہو سکتا۔ تو سوال یہ ہے کہ ہتھیاروں کا انتظام کیسے ہوگا ؟
جواب : ہندوستان میں بہت سے ہتھیار پہلے ہی سے موجود ہیں۔ آپ لوگوں کا کام ان کو چھیننا اور ان کو اپنے استعمال میں لانا ہے۔ مثال کے طور پر میں چٹا گانگ کے اسلحہ خانہ کی ڈکیتی کا ذکر کرتا ہوں ۔ جس طرح وہاں سے ہتھیار چھینے گئے تھے اسی طرح اگر ہندوستانی کوشش اور ہمت کریں تو باہر سے ہتھیار لانے کی ضرورت نہ رہے گی۔
سوال : جاپانیوں نے ہماری سرکار کو تسلیم کیا ہے۔ ہمیں ہر طرح کی مدد بھی دے رہے ہیں، مگر وہ ہماری عزت نہیں کرتے ۔ ان کے سپاہی ہمارے افسروں کو سلوٹ تک نہیں کرتے۔ ڈکسن میں جب ہم جاپانیوں سے ٹریننگ لینے گئے تھے تو ہم نے اپنے جاپانی انسٹرکٹر سے کہا کہ آپ ہمیں ایک آزاد حکومت کے افراد تسلیم کرتے ہوئے بھی ہمارے افسروں کی عزت نہیں کرتے ۔ جاپانی انسٹرکٹر نے جواب دیا کہ آپ کی آزاد حکومت آخر بنائی ہوئی کس کی ہے ؟ جواب : چند ایک افراد کے غلط رویہ اور بد دماغی کے کارن ہم سب جاپانیوں کو برا نہیں کہہ (ہند سماچار ، جالندھر ، ۲۳ جنوری ۱۹۹۵)
فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے لفتھانسا کی فلائٹ نمبر ۷۰ ، کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز چلنا شروع ہوا تو اعلان کرنے والی خاتون نے خالص ہندی لہجہ میں یہ الفاظ کہے : لفتھانسا کی اس اُڑان پر ہم آپ کا ہار دک سواگت کرتے ہیں۔ لفتھانسا ایک جرمن کمپنی ہے۔ مگر اس کی موجودہ پرواز میں زیادہ تر ہندوستانی مسافر ہیں۔ اس لیے مسافروں کی رعایت سے انھوں نے کلام کا یہ انداز اختیار کیا۔ تاجر کو جو تعلق اپنے گاہک سے ہوتا ہے ، داعی کو وہی تعلق اپنے مدعو سے ہوتا ہے۔ لوگوں میں اگر دعوتی جذبہ آ جائے تو وہ اپنے مدعو کے لیے اسی طرح سراپا ہمدردی بن جائیں گے۔ وہ یک طرفہ طور پر مدعو کی رعایت کریں گے۔ وہ اپنے جذبات سے زیادہ مدعو کے جذبات کا لحاظ کریں گے۔ تاجر اگر اپنے گاہک کی رعایت نہ کرے تو وہ اپنے گاہک کو کھو دے گا ، اسی
طرح داعی اگر اپنے مدعو کی رعایت نہ کرے تو وہ مدعو کو دور کرنے کا سبب بن جائے گا۔ ۳۰ نومبر کی رات کو لفتھانسا کی فلائٹ میں میرے لیے جو کھانا آیا، اس کی پیکنگ پر جرمن میں میرا نام چھپا اسی کے ساتھ جرمن اور انگریزی میں لکھا ہوا تھا کہ اپنی پسند کے کھانے کا لطف اٹھائیے : enjoy your meal دہلی میں رزرویشن کے وقت یہ لکھوا دیا گیا تھا کہ مجھے سفر میں انڈین ویجیٹیرین میل چاہیے۔ قاعدہ یہ ہدایت ہر جگہ کے کمپیوٹر پر ریکارڈ ہو گئی۔ چنانچہ اس سفر میں آتے اور جاتے ہوئے میں نے چار جہاز استعمال کیے جو تین مختلف کمپنیوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ہر ایک میں خود بخود " "اسپیشل میل " کے لیبل کے ساتھ میرا مطلوب کھانا میرے لیے آتا رہا۔ موجودہ جہاز جس میں میں نے فرینکفرٹ سے دہلی کا سفر کیا، اس میں تقریباً ساڑھے چار سو سیٹیں تھیں۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر اور انڈسٹریل تہذیب نے کیسا نظام بنایا ہے اور کس طرح وہ عالمی سطح پر نہایت صحت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ یہ فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ ساڑھے سات گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد رات کو ڈیڑھ بجے ہمارا جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ یہاں جہاز سے نکل کر باہر جانے کے لیے آدمی ایک لمبی گیلری سے گزرتا ہے۔ ایک طرف یہ گیلری ہے اور دوسری طرف وسیع انتظار گاہ ہے۔ کے درمیان شیشہ کی دیوار حائل ہے۔ اس طرح دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ جس وقت میں گیلری سے دوسرے ہم سفر لوگوں کے ساتھ باہر کی طرف جا رہا تھا۔ اس وقت بہت سے لوگ انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے دکھائی دیے ۔ وہ وہاں اس انتظار میں تھے کہ آگے جانے والے جہاز سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو سکیں ۔
اس دنیا میں ہر اسٹیشن اور ہر ایئرپورٹ پر یہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ ہر وقت کچھ لوگ آتے ہیں اور کچھ لوگ واپس چلے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر آخرت کے اعتبار سے ہے۔ کچھ لوگ پیدا ہو کر دنیا میں آ رہے ہیں۔ کچھ اور لوگ اپنی مدت قیام پوری کر کے آخرت کی طرف واپس چلے جاتے ہیں، یہ آنا اور جانا اسی طرح جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے اور دو دنیاؤں کے نظام کو ختم کرکے صرف ایک دنیا کا نظام ابدی طور پر قائم کر دیا جائے۔
عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر : مولانا وحید الدین خان ئے قلم سے ؛ Rs. تاریخ دعوت حق تذکیر القرآن جلد اول 200/- تذکیر القرآن جلد دوم 200/- ڈائری جلد اول الہ اکبر 45/- کتاب زندگی پیغمبر انقلاب اقوال حکمت مذہب اور جدید چیلنج 45/- اقوال حکمت عظمت قرآن 50/- تعمیر کی طرف عظمت اسلام تجدید دین 7/- عظمت صحابہ 7/- تجدید دین دین کامل 50/- خطباتِ اسلام الاسلام 40/- مذہب اور سائنس 40/- الاسلام قرآن کا مطلوب انسان 70/- ظہور اسلام دین کیا ہے 25/- اسلامی زندگی اسلام دین فطرت راز حیات 50/- تعمیر ملت صراط مستقیم 40/- تاریخ کا سبق 40/- صراط مستقیم فسادات کا مسئلہ کتاب ستمبر مولانا وحید الدین خاں کے قلم سے 5/- تاریخ جہنم 7/- 12/- خلیج ڈائری 10/- 100/- رہنما کے حیات 7/- 55/- مضامین اسلام 45/- - تعدد ازدواج 10/- 25/- ہندوستانی مسلمان 40/- 8/- روشن مستقبل 7/- 20/- صوم رمضان 12/- 35/- علم کلام 9/- 50/- اسلام کا تعارف 2/- - علماء اور دور جدید 8/- 8/- سیرت رسول 10/- 5/- ہندوستان آزادی کے بعد 1/- 7/- مارکسزم تاریخ جس کو 7/- 7/- رد کر چکی ہے 7/- سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ 4/- 5/- منزل کی طرف 2/- 8/- مذہب اور جدید سائنس 85/- سوتلزم اور اسلام اسلام اور عصر حاضر انسان، اپنے آپ کو پہچان اسلام، پندرہویں صدی میں کاروانِ ملت 45/- راہیں بند نہیں حقیقتِ حج 30/- ایمانی طاقت اسلامی تعلیمات 25/- اتحادِ ملت اسلام دورِ جدید کا خالق 25/- سبق آموز واقعات حدیثِ رسول 35/- زلزلہ قیامت سفرنامه (غیرملکی اسفار) 85/- حقیقت کی تلاش سفرنامه (ملکی اسفار) - پیغمبرِ اسلام میوات کا سفر 35/- آخری سفر قیادت نامه - اسلامی دعوت راهِ عمل 25/- خدا اور انسان تعبیر کی غلطی 95/- حل یہاں ہے دین کی سیاسی تعبیر 20/- سچا راستہ امهات المومنین 20/- دینی تعلیم عظمتِ مومن 71/- حیات طیبه اسلام ایک عظیم جدوجہد 3/- باغِ جنت 8/- سچائی کی تلاش 12/- Rs. آڈیور کیسٹ 4/- انسان اپنے آپ کو پہچان 7/- 25/- حقیقتِ ایمان 4/- پیغمبر اسلام 7/- 25/- حقیقتِ نماز 10/- سچائی کی کھوج 7/- 25/- حقیقتِ روزہ 8/- آخری سفر 20/- 25/- حقیقتِ زکوٰۃ 8/- اسلام کا پرچہ 12/- 25/- حقیقتِ حج 8/- پیغمبر اسلام کے جہانِ ساتھی 5/- 25/- سنتِ رسولؐ 7/- راستے بند نہیں 7/- 150/- میدانِ عمل 8/- جنت کا باغ 7/- 25/- رسول اللہ ﷺ کا طریقِ کار 10/- بہوپتی واد اور اسلام 12/- 25/- اسلامی دعوت کے 9/- اتہاس کا سبق 10/- 25/- جدید امکانات 8/- اسلام ایک سوا بھاوک مذہب 8/- 25/- اسلامی اخلاق 8/- اجول بھولیش 12/- 25/- اتحادِ ملت 8/- پوتری جیون 7/- 25/- تعمیرِ ملت 3/- منزل کی اور 7/- 25/- نصیحتِ لقمان AL-RISAL BOOK CENTRE
The Prophet of Revolution اسلامی شریعت میں عورت کا مقام اسلام کا جدید تعبیب و فاقات مولان او حید الدین خان وحید الدین خان العرسلة الرسالة الرسالة Evidence of God in Nature and in Science
The Ideal Character القرآن الكريم في رسول القدّوسة القرآن الكريم في MAULANA WAHIDUDDIN KHAN
یکساں سول کوڈ نمبر ۳۱ September 1995 • Issue 226 • Rs. 7 MAKTABA AL - RISALA 1439 OCEAN AVE. # 4C BROOKLYN, N.Y. 11230 TEL: (718) 258-3435 عقل کی طاقت سازش کی طاقت سے زیادہ ہے عقل کی طاقت کے ذریعہ آپ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنا سکتے ہیں۔
Maulana Wahiduddin Khan WOMAN BETWEEN ISLAM AND WESTERN SOCIETY By Maulana Wahiduddin Khan The status of woman in Islam is the same as that of man. Injunctions about honour and respect enjoined for one sex are enjoined equally for the other sex. So far as rights in this world and rewards in the Hereafter are concerned, there is no difference between the sexes. In the organization of daily living, both are equal participants and partners. Yet Islam sees man as man and woman as woman and, considering the natural differences, it advocates the principle of the division of labour between the two sexes rather than the equality of labour. Pages: 256. Price Rs. 95 1, Nizamuddin West Market, New Delhi 110 013 Tel. 4611128, 4697333 Fax: 91-11-4697333