دستور : غیر ضروری طوالت
Al-Risala, September 1995, pp. 2–4
By Maulana Wahiduddin Khan
دستور ایک اعلیٰ قانونی دستاویز ہے۔ دستور کا مقصد ان بنیادی اصولوں کا تعین ہے جس کی روشنی میں قومی حکومت (یا کسی اجتماعی ادارہ) کو چلایا جا سکے۔ خود اپنی نوعیت کے اعتبار سے دستور کو مختصر ہونا چاہیے ۔ کیوں کہ دستور جتنا لمبا ہو گا اتنا ہی زیادہ اس میں اختلافات پیدا ہوں گے اور بار بار اس میں ترمیم کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس طرح دستور کا احترام ختم ہو جائے گا۔ طوالت اور پیچیدگی کی بنا پر آخر کار ایسا ہو گا کہ صرف کچھ ماہرین دستور ہی اس کو جانیں گے۔ شہریوں کو اس سے کوئی واقفیت یا دلچسپی باقی نہ رہے گی۔
یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی شہرت کے ماہر دستوریا ت (constitutionalism) وسکانسن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ فلمین (David Fellman) سے لے کر انڈیا کے سب سے بڑے ماہر دستور مسٹر نانی پالکی والا تک نے مختصر دستور کی حمایت کی ہے۔
موجودہ زمانہ میں تمام ترقی یافتہ قوموں کے دستور نہایت مختصر ہیں۔ مثلاً غیر ترقی یافتہ ریاست جارجیا (Georgia) کا نظرثانی شدہ دستور پانچ لاکھ (500,000) الفاظ پر مشتمل ہے۔ جب کہ ترقی یافتہ امریکہ (United States) کا دستور صرف سات ہزار الفاظ پر مبنی ہے۔ اسی طرح جاپان کا دستور انتہائی مختصر ہے جس کو موجودہ زمانہ میں ترقی یافتہ قوموں کے درمیان نمبر ایک قوم کی حیثیت حاصل ہے
انڈیا کا دستور غالباً تمام قومی دستوروں میں سب سے زیادہ لمبا ہے۔ بارہ تفصیلی شیڈول (schedules) کے علاوہ اصل دستور ۳۹۵ دفعات پر مشتمل ہے۔ جب کہ اکثر دفعات کی ذیلی دفعات
اس لمبی دستور سازی کا نادرست ہونا اسی سے ثابت ہے کہ نومبر ۱۹۴۹ء کے بعد سے اب تک اس میں تقریباً ۸۰ ترمیمات ہو چکی ہیں اور مزید ترمیم کا مطالبہ جاری ہے۔ ان سب کے باوجود یہ ”جامع“ دستور ملک کو ترقی کے راستہ پر آگے لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد انڈیا کی دستور ساز اسمبلی کے صدر (۴۹-۱۹۴۷ء) تھے۔ یہ دستور اگرچہ انھیں کی زیر صدارت بنا اور اس کی تکمیل کے بعد انھوں نے ۲۶ نومبر ۱۹۴۹ء کو اس پر اپنا دستخط کیا۔ تاہم وہ لمبی دستور سازی کے خلاف تھے :
In his valedictory address to the constituent Assembly Dr Rajendra Prasad said that everything cannot be written in the Constitution and hoped for the development of healthy conventions. But these have not been developed and everything has to be written. in the Constitution. ڈاکٹر راجندر پرشاد نے دستور ساز اسمبلی میں اپنا الوداعی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ دستور میں ہر چیز لکھی نہیں جا سکتی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ صحت مند روایات قائم کی جائیں گی۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس یہ ذہن بن گیا کہ ہر چیز کو دستور میں لکھ دیا جائے (ہندوستان ٹائمس ۲۴ مئی ۱۹۹۵) کسی دستور کی غیر ضروری طوالت اس میں غیر ضروری دفعات کو شامل کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہندوستانی دستور میں اس قسم کی کثیر غیر ضروری دفعات شامل ہیں انھیں میں سے ایک ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں (directive principles) کی دفعہ ۴۴ ہے جو مشترک سول کوڈ سے متعلق ہے۔ میں کہا گیا ہے کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے گی کہ انڈیا کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ حاصل ہو جائے :
The State shall endeavour to secure for the citizens a uniform civil code throughout the territory of India. دستور کی یہ دفعہ اتنا ہی غیر دستوری ہے جتنا یہ کہنا کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے کہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں فہرست طعام (uniform menu) وجود میں آجائے۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ ملک کے تمام مرد و عورت اور بوڑھے اور بچے ایک ہی قسم کا کھانا کھائیں اور ایک ہی قسم کا لباس پہنیں۔ اسی طرح یہ بھی یقینی طور پر ممکن نہیں ہے کہ ایک بڑے ملک کے تمام مرد و عورت
ایک ہی ڈھنگ پر شادی کی رسوم ادا کریں ، خواہ اس کے لیے باقاعدہ قانون کیوں نہ بنا دیا جائے۔ دستور کا کام قومی پالیسی کے بنیادی اصولوں کو متعین کرنا ہے نہ کہ نجی معاملات میں لوگوں کے انفرادی ذوق کو مٹا کر غیر ضروری طور پر یکسانیت لانے کی کوشش کرنا۔
تاہم جب کوئی چیز لکھ کر چھاپ دی جائے تو بہت سے لوگ اس کو واقعہ سمجھ لیتے ہیں، یہی حال دستور کی اس دفعہ کا بھی ہوا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس کا حوالہ دے کر مانگ کرتے رہتے ہیں کہ یکساں سول کوڈ کا دور لانے کے لیے پارلیمنٹ ایک قانون بنائے اور اس کو پورے ملک میں رائج کیا جائے۔