کامن کوڈ اور قومی ایکتا
Al-Risala, September 1995, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
کامن سول کوڈ کا مقصد کیا ہے۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہے گا کہ کامن کوڈ برائے کامن کوڈ (common code for the sake of common code) ہمارا مقصد ہے۔ پھر اس کا اصل مقصد کیا ہے، اس کے تمام وکیل متفقہ طور پر اس کا ایک ہی فائدہ بتاتے ہیں۔ وہ یہ کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں میں باہمی قربت پیدا ہوگی۔ اور مشترک قومیت کو وجود میں لانے میں مدد ملے گی۔ کامن کوڈ لوگوں کے اندر کامن فیلنگ پیدا کرے گا۔ اس طرح وہ مضبوط انڈین نیشن وجود میں آجائے گی جس کا پچاس سال سے ہم کو انتظار ہے۔
مگر یہ محض قافیہ بندی کی بات ہے۔ صرف لفظی اشتراک کی بنا پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کامن کوڈ سے کامن فیلنگ کا ظہور ہوگا۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی لازمی رشتہ نہیں۔ تمام متعلق حقائق اس نظریہ کی تردید کرتے ہیں۔
جسٹس کلدیپ سنگھ اپنے فیصلہ میں لکھتے ہیں کہ حکومت نے ہندوؤں کے روایتی قانون کو کوڈ کی صورت دینے کی کوشش کی ہے۔ ہندو میرج ایکٹ ۱۹۵۵، ہندو سکشن ایکٹ ۱۹۵۶، ہندومائنارٹی اینڈ گار جن شپ ایکٹ ۱۹۵۶، ہندو اڈاپشن اینڈ مینٹننس ایکٹ ۱۹۵۶ بنایا جا چکا ہے۔ ان قوانین نے روایتی ہندو قانون کی جگہ لے لی ہے جو کہ مختلف مکاتب فکر اور مذہبی کتابوں پر مبنی تھا۔ ان جدید قوانین نے ان سب کو ایک یونیفارم کوڈ کی حیثیت دے دی ہے۔ جب ۸۰ فی صد سے زیادہ شہری پہلے ہی سے مشترک پرسنل قانون کے تحت لائے جا چکے ہیں تو اب اس کا کوئی بھی جواز نہیں ہے کہ ہندوستان کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو مزید التوا میں ڈالا جائے (صفحہ ۲) جسٹس کلدیپ سنگھ مزید لکھتے ہیں کہ آخر حکومت کو کتنا زیادہ وقت چاہیے کہ وہ دستور ہند کی
دفعہ ۴۴ کے تحت دی ہوئی ہدایت کی تعمیل کرے ۔ ہندوؤں کا روایتی قانون ، ہندوؤں کا پرسنل لا جس کا تعلق وراثت، جانشینی اور شادی بیاہ سے ہے، بہت پہلے ۵۶ - ۱۹۵۵ میں قانونی کوڈ کی صورت اختیار کر چکا۔ اب کسی بھی قسم کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے کہ ملک میں یونیفارم پرسنل لا کے نفاذ میں غیر متعین تاخیر کی جائے ۔ ہندوؤں کا پرسنل لا ، جس کا تعلق شادی، جانشینی وغیرہ سے ہے ، وہ سب اسی طرح مقدس سمجھے جاتے ہیں جیسا کہ مسلمانوں یا عیسائیوں کے قانون۔ مگر ہندو اور ان کے ساتھ سکھ، بدھسٹ اور جینی فرقہ نے قومی اتحاد اور استحکام کی خاطر اپنے جذبات کو بھلا دیا۔ تاہم کچھ اور فرقوں نے ابھی ایسا نہیں کیا ہے ، اگر چہ دستور پورے ہندوستان میں ایک ہی کامن سول کوڈ نافذ کرنے کی تاکید کرتا ہے
جسٹس کلدیپ سنگھ کے فیصلے کا جو اقتباس ہم نے اوپر نقل کیا ہے، اس موضوع کے نزدیک ملک کی بہت بڑی اکثریت (۸۰ فی صد سے زیادہ) اس مشترک عائلی قانون کے تحت بالفعل لائی جا چکی ہے جس کے لیے وہ مکمل قسم کا یکساں پرسنل وت قانون بنانے کی پر زور وکالت کر رہے ہیں۔ پھر جب آبادی کی اتنی بڑی اکثریت میں مطلوب قانون عملاً آ چکا ہے تو اس کے وہ مثبت نتائج کہاں ہیں جو اس کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج بھی ہر سطح پر قومی یک جہتی کا فقدان ہے۔ لوگوں میں کوئی نیشنل کیریکٹر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں اجلاس کے دوران ایسے ہنگامے ہوتے ہیں کہ کارروائی کو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گاؤں پنچایتوں میں پہلے سے بھی زیادہ جھگڑے ہو رہے ہیں۔ نزاعی مقدمات کی بھر مار ہے۔ دو مختلف فرقوں سے بھی زیادہ ایک ہی فرقہ کے مختلف طبقات میں ٹکراؤ ہورہا ہے۔ اکثر ریاستوں میں علاقائی ہنگامے جاری ہیں۔ حتیٰ کہ کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تشددانہ تحریکیں چلائی جارہی ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کا سول قانون ایک ہی ہے۔ مگر ان جماعتوں نے اتنے بڑے پیمانہ پر باہمی لڑائی جاری کر رکھی ہے کہ ملک کا استحکام شدید طور پر خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ خود سپریم کورٹ کے مذکورہ جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق ، اصل مسئلہ کامن کوڈ کے نفاذ کا نہیں ہے، بلکہ کامن کوڈ کے نفاذ کے باوجود نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں چاہیے کہ ہم دوسری تدبیر تلاش کریں نہ کہ ناکام ہو جانے والی تدبیر کے مزید بے سود اعادہ پر اپنا وقت ضائع کریں۔