Divide and rule
Al-Risala, September 1995, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
اس غیر مطلوب صورت حال کا ابتدائی آغاز لارڈ ایلگن (James Bruce Elgin) کے زمانہ میں ہوا جو ۶۳-۱۸۶۲ میں ہندوستان کا وائسرائے تھا۔ برٹش گورنمنٹ کے سکریٹری آف اسٹیٹ مسٹر وڈ (Wood) نے لندن سے نئی دہلی میں مقیم وائسرائے کو خط لکھا کہ :
We have maintained our power in India by playing off one part against the other and we must continue to do so. Do all you can, therefore, to prevent all having a common feeling. ہم نے ہندوستان میں اپنا اقتدار وہاں کے ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ کے خلاف لڑا کر باقی رکھا ہے۔ ہمیں ایسا کرتے رہنا چاہیے۔ اس لیے لوگوں کو مشترک احساس سے روکنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہو کرو (دی ہندوستان ٹائمس ۳۰ مارچ ۱۹۹۵)
برٹش حکمرانوں کی یہی سوچی سمجھی پالیسی تھی جس نے ہندوستان کی بنی بنائی مشترک قومیت کو بکھیر دیا۔ انھوں نے ہر موقع کو استعمال کر کے لوگوں کے درمیان نفرت کو بھڑکایا۔ انھوں نے حکومت کے تمام ذرائع سے کام لے کر باہمی نفرت کا ایک مصنوعی جنگل اگا دیا۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی یہ آگ بجھائی نہ جاسکی۔ اور اس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ یہی اس کی اصل وجہ ہے۔ اس کے علاوہ یونیفارم سول کوڈ کے ہونے یا نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔