Al-Risala · September 1995

دانشوران قوم کا رد عمل

Al-Risala, September 1995, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

سپریم کورٹ آف انڈیا کی ڈویژن بنچ کا فیصلہ (۱۰ مئی ۱۹۹۵) اخباروں میں چھپا تو برادران وطن اور دانشوران قوم کا رد عمل کثرت سے سامنے آیا۔ ایک طبقہ نے اس کا خیر مقدم کیا اور اس کو اس طرح لیا گویا یہ ملک کے موجودہ سماجی مسائل کا کوئی حتمی حل ہے۔ تا ہم ان میں قابلِ لحاظ تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جنہوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اور کسی ایک یا دوسری وجہ سے اس کو رد کر دیا۔ اس دوسرے طبقہ کے چند حوالے حسب ذیل ہیں:۔

1. Politics of Uniform Civil Code by Partha S. Ghosh The Hindustan Times, New Delhi, May 22, 1995 2. Living with Religion by Kuldip Nayyar The Statesman, New Delhi, May 31, 1995 3. Uniform Civil Code: Judiciary Oversteps its Brief by H.M. Seervai The Times of India, New Delhi, July 5, 1995 4. Personal Laws: Uniformity no Essential by Balraj Puri Indian Express, New Delhi, July 6, 1995 5. Civil Code: The Constitutional Perspective by K.C. Markandan The Hindustan Times, New Delhi, June 19, 1995. نمونہ کے طور پر مسٹر بلراج پوری کے مذکورہ مضمون کے کچھ حصے یہاں اصل انگریزی میں نقل کیے جارہے ہیں۔ انھوں نے کامن سول کوڈ کے تصور کو پوری طرح رد کر دیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ: سپریم کورٹ کے معزز ججوں نے قومی اتحاد کا جو تصور پیش کیا ہے اور اس کی حمایت میں انھوں نے جو دلائل دیے ہیں، اس پر میرا اعتراض بہت بنیادی ہے۔ میرے نزدیک جج صاحبان، قومی تعمیر کے عمل میں برعکس طور پر اثر انداز ہوئے ہیں، ہندوستانی قوم کے مشترک کردار پر اور مسلمانوں کے درمیان نیز مسلمانوں اور دوسرے فرقوں، خاص کر ہندوؤں کے ساتھ ڈائیلاگ پر جو کہ اس کے پرسنل لاکی اصلاح کے سوال پر جاری تھا۔ یہ کہہ کر کہ مسلم پرسنل لاکی اصلاح اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک اس کو یکساں قانون کا حصہ نہ بنایا جائے، جج صاحبان نے مسلم خواتین کے معاملہ کو

یکسانیت اور اصلاح کے درمیان قطعی طور پر کوئی بھی منطقی ربط نہیں۔ اول الذکر کے خلاف کیس اتنا ہی ناقابل تردید ہے جتنا کہ وہ مؤخر الذکر کے معاملہ میں ہے۔ یکساں سول کوڈ، قومی اتحاد اور استحکام کے فروغ کے لیے کوئی قطعی چیز نہیں، جیسا کہ جج صاحبان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دستور ہند کی اسٹیٹ لسٹ میں ۶۶ اندراجات ہیں اور کانکرنٹ لسٹ میں ۴۶ اندراجات ہیں، جن کے معاملہ میں ریاستوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ الگ الگ قوانین بنا سکتی ہیں، اور ان میں یکسانیت ضروری نہیں اگر ریاستوں کی جغرافی اور ثقافتی عدم یکسانیت کی بنیاد پر بنائے جانے والے فزیکساں قوانین ملک کے اتحاد کے لیے خطرہ نہیں ہیں تو غیر جغرافی نوعیت کے مذہبی گروہوں میں عدم یکسانیت سے وہ کیوں خطرہ بن جائیں گے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوئی فرقہ مذہب کی بنیاد پر اپنے لیے علیحدہ وجود کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ مگر کیا ہم نے زبان کی بنیاد پر علیحدہ وجود کا اقرار نہیں کیا ہے اور زبان کی بنیاد پر از سر نو ملک کی تنظیم نہیں کی ہے۔ کیا منڈل اصول کے تحت ذات کی بنیاد پر تشخص کو سیاسی جواز نہیں دیا گیا پھر معزز جج کیوں استثنائی طور پر صرف مذہبی گروہ کو علیحدہ تشخص کا حق دینے سے انکار کر رہے یہ ایک غیر منطقی روش ہے، اور سماجی اور سیاسی اعتبار سے مسلمہ حقائق کے خلاف ہے۔ تشخص محض ایک جج کے اعلان سے ختم ہو جائے گا۔ (انڈین ایکسپریس ۶ جولائی ۱۹۹۵)

Printed page