تبدیلی مذہب کا مسئلہ
Al-Risala, September 1995, pp. 21–24
By Maulana Wahiduddin Khan
سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ کے سامنے جو پٹیشن تھا اس کا براہ راست کوئی تعلق یونیفارم سول کوڈ سے نہیں تھا۔ یہ پٹیشن در اصل چار ہندو خواتین کی طرف سے عورتوں کی ایک تنظیم کلیانی (Kalyani) نے دائر کیا تھا۔ اس تنظیم کی پریذیڈنٹ شریوتی سرلا دگل ہیں۔ ان چار ہندو عورتوں نے کہا تھا کہ ہمارے شوہروں نے اسلام قبول کر کے دوسرا نکاح کر لیا ہے، جب کہ انھوں نے ہمیں طلاق نہیں دی، اُن کا قبولِ اسلام صرف اس لیے تھا کہ وہ اسلام کے قانون نکاح سے فائدہ اٹھا کر اپنے لیے دوسری بیوی حاصل کر سکیں۔ اس لیے عدالت اُن کے دوسرے نکاح کو کالعدم قرار دے کر ہماری مدد کرلے۔
عدالت نے مذکورہ پٹیشن کو منظور کرتے ہوئے چاروں ہندوؤں کے دوسرے نکاح کو کالعدم قرار دے دیا۔ اور ان کو ان کی پہلی بیوی کی طرف واپس لوٹا دیا۔ یہ فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس کلدیپ سنگھ لکھتے ہیں :
جب تک ہم اصل منزل تک نہ پہنچیں، یعنی ہندوستان کے تمام شہریوں کے لیے یونیفارم سول کوڈ، اس وقت تک یہاں ہندو شوہر کے لیے ایک کھلا محرک (inducement) باقی رہے گا جو کہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہو۔ جب کہ اس کی پہلی بیوی ابھی موجود ہو، ایسا ہندو اپنے مسلم ہونے کا اعلان کر کے دوسری شادی کرے گا۔ چونکہ ہندوؤں کے لیے یک زوجگی کا قانون ہے، اور مسلم قانون چار شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے، کوئی کچہرو ہندو شوہر ایسا کر سکتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لے تاکہ ہندو لا کے ضوابط سے بچ سکے اور دوسری شادی کے باوجود فوجداری قانون کی پکڑ میں نہ آئے۔ اسی نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہوئے دی ہندوستان ٹائمس ۲۱ جون ۱۹۹۵ میں لیٹرس کے کالم میں مسٹر چمن لال ورما نے لکھا تھا کہ یکساں سول کوڈ کی ضرورت اس لیے ہے کہ ان لوگوں کو مذہب کے غلط استعمال سے روکا جا سکے جو ایک قانون کی دفعات سے بچنے کے لیے دوسرے قانون کی دفعات کا سہارا لیتے ہیں :
A uniform civil code is required to prevent the misuse of religion to evade the provisions of one law to take advantage of those of another.
نیا قانون بنانا کسی بھی درجہ میں پچھلے قانون کے غلط استعمال کے خلاف چیک نہیں۔ غلط استعمال کا موقع ہر حال میں باقی رہتا ہے۔ ٹیکس ماری کوروکنے کے لیے بے شمار قوانین اور ضوابط بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ٹیکس ماری کا سلسلہ ہمایائی سطح پر جاری ہے۔ پھر جب کسی بھی قانون میں اس کے غلط استعمال کوروکنا ممکن نہ ہوسکا تو سول کوڈ میں کیونکر ایسا ممکن ہوجائے گا۔ دوسری بات یہ کہ یونیفارم سول قانون کے نفاذ کے بغیر اگر ایسے ہندوؤں کے لیے کوئی قانونی چیک نہیں ہے تو سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کے لیے کیوں کر ایسا ممکن ہوا کہ وہ ایسے غلط ہندوؤں کے لیے سزا کا فیصلہ سنائیں اور ان کے دوسرے نکاح کو باطل (invalid) قرار دے دیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے جج صاحبان نے اپنا مقصد انڈین پینل کوڈ کی دفعہ ۴۹۴ کے ذریعہ حاصل کیا۔ گویا عدالت کی خود اپنی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں بالفعل ایسے مانع قوانین موجود ہیں۔ اور کج رو ہندو کے لیے یہاں کوئی بے قید تحریک پایا نہیں جاتا، حتی کہ موجودہ قوانین کے تحت بھی نہیں۔ پھر ایسے کج رو لوگوں کو کج روی سے روکنے کے لیے کسی نئے سول قانون کی کیا ضرورت :
The Court’s own ruling shows that no such inducement is available to an “errant Hindu” even under existing law. You do not need a civil code to deter him. دفعہ ۴۹۴ قابل حذف اوپر میں نے جو تجزیہ کیا ہے اور جو دلائل جمع کیے ہیں، اس کے بعد دو اور دو چار کی طرح یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ دستور ہند کی دفعہ ۴۹۴ کی کوئی بھی قانونی یا اخلاقی یا سماجی معنویت نہیں۔ دماغوں کا ایک فرضی تخیل تھا۔ اب اس کا واحد انجام یہ ہونا چاہیے کہ اس کو دستور سے حذف کر دیا جائے، ٹھیک اسی طرح جس طرح جسم کی فاضل آنت (Appendix) کا آپریشن کرکے اسے نکال دیا جاتا ہے۔ اس قسم کا دستوری آپریشن کوئی نئی چیز نہیں۔ دستور ہند میں بار بار ایسے حذف واضافے کیے جا چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ابتدائی دستور میں انفرادی ملکیت کو مکمل طور پر محترم قرار دیا گیا تھا اور حکومت کو دستوری طور پر یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ کسی کی جائز ملکیت کو اس سے چھین سکے۔ مگر ۱۹۵۵ میں دستور میں چوتھا ترمیمی ایکٹ (The Constitution (Fourth Amendment) Act 1955)
منظور کیا گیا جس کی رو سے اسٹیٹ کو یہ حق حاصل ہو گیا کہ وہ کسی بھی شخص کی نجی ملکیت کو جبراً اپنے قبضہ میں لے لے۔ اس ایکٹ کی رو سے مالک جائیداد کو اس حق سے بھی محروم کر دیا گیا کہ سرکاری معاوضہ اگر اس کو مارکٹ کی شرح سے کم معلوم ہو تو وہ عدالت میں اس کے خلاف استغاثہ دائر کر سکے ۔ اسی طرح ابتدائی دستور میں سابق راجاؤں کو صرف خاص (privy purses) کا حق دیا گیا تھا۔ ۱۹۷۱ میں دستور میں 26 ویں ترمیم کی گئی جس کی رو سے اس دفعہ کا خاتمہ کر دیا گیا اور صرف خاص کے سلسلہ میں ان کو دیے ہوئے تمام دستوری حقوق کو یکسر ساقط کر دیا گیا ۔ ان نظائر کی روشنی میں یہ بات کسی بھی درجہ میں انوکھی نہیں ہے کہ ایک اور ترمیم کے ذریعہ دستور ہند کی دفعہ ہم کو کامل طور پر حذف کر دیا جائے ۔ اس کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوگا۔ البتہ ہمارا دستور ایک ایسے بوجھ سے ہلکا ہو جائے گا جو غیر ضروری طور پر اس کے اوپر لاد دیا گیا تھا۔ یونی کلچر نیشن یا ملٹی کلچر نیشن ہندوستان میں پچھلے سو سال سے دو مختلف سیاسی گروپ موجود رہے ہیں اور آج بھی وہ الگ الگ ناموں کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک وہ جو سیکولر آئیڈیالوجی پر ملک کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اور دوسرا وہ جو ہند و آئیڈیالوجی پر ہندوستانی سماج کو ڈھالنا چاہتا ہے۔ دونوں کے نظریات ایک دوسرے سے بالکل مگر عجیب بات ہے کہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان میں تمام لوگوں کے لیے یکساں سول کوڈ بنایا جانا چاہیے ۔
لیکن اگر غیر جانبدارانہ انداز سے دیکھا جائے تو یونیفارم سول کوڈ دونوں ہی کے نظریات کے اگر وہ اپنے نظریہ میں مخلص ہوں تو ہرگز انھیں اس قسم کے تصور کی حمایت نہیں کرنا چاہیے۔ سیکولرزم کا مطلب ہے __ مذہب کے معاملہ میں اسٹیٹ کا عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرنا۔ لوگوں کو اپنے عقیدہ و مذہب کی آزادی دیتے ہوئے صرف مشترک دنیوی امور کا انتظام و انصرام کرنا۔ یہی سیکولرزم کا عالمی سطح پر متفقہ مفہوم ہے اور اسی مفہوم کے مطابق دستور ہند کی تشکیل کی گئی ہے۔
کچھ لوگ سیکولرزم کی تشریح اس طرح کرتے ہیں گویا کہ وہ خود ایک مذہب ہے اور تمام مروجہ مذاہب کو ختم کر کے نجی دائرہ سے لے کر اجتماعی دائرہ تک زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے دائرہ میں لینا چاہتا ہے۔
مگر یہ انتہا پسندی ہے۔ اس قسم کے انتہا پسند لوگ ہر مذہب اور ہر نظام میں ہوتے ہیں، چنانچہ خود اسلام میں ایسے انتہا پسند لوگ موجود ہیں جو اسلام کی ایسی تشریح کرتے ہیں، جس میں اسلام سیاست اور جنگ کا مذہب بن جاتا ہے۔ مگر یہ غلو اور تشدد ہے، وہ اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سیکولرزم اور یونیفارم سول کوڈ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ہندوستان کا سیکولر گروپ اگر واقعہ سیکولر گروپ ہے تو اس کو یونیفارم سول کوڈ کی بات نہیں کہنا کیوں کہ انفرادی دائرہ میں مذہبی آزادی سیکولرزم کا بنیادی اصول ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ہندو آئیڈیالوجی کی بنیاد پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ اس گروہ کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ ہندو آئیڈیالوجی میں عقیدہ رکھتا ہے تو یہ خود اس کے اپنے عقیدہ کے خلاف ہوگا کہ وہ ہر طبقہ اور فرقہ کو ایک ہی سول کوڈ کے تحت لانے کی کوشش کرے۔
ہندو آئیڈیالوجی کا بنیادی اصول سرو دھرم سمبھاو ہے۔ یعنی سب دھرم سچے ہیں۔ کی بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ کثرت میں وحدت (unity in diversity) کو مانتا ہے۔ نزدیک حقیقت کے ظاہری فارم مختلف ہوتے ہیں مگر اندرونی حقیقت ایک ہوتی ہے۔ گویا ہندو ازم کا عقیدہ ہے ـــــــــــ انیکتا میں ایکتا کو دیکھنا۔
سول کوڈ یا کسی کوڈ کا تعلق ظاہری فارم سے ہے نہ کہ اندرونی اسپرٹ سے۔ میں یہ ہندو نقطہ نظر کے خلاف ہوگا کہ مختلف گروپوں کے پرسنل لا کو ختم کر کے سب کے لیے صرف ایک کوڈ جاری کرنے کی کوشش کی جائے۔
دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک (مثلاً برطانیہ، جرمنی، فرانس وغیرہ) میں ملٹی کلچر نیشن کا اصول رائج سنگاپور جیسے چھوٹے ملک سے لے کر امریکہ جیسے بڑے ملک تک ہر جگہ اسی اصول کو اختیار کر کے ترقی ہو رہی ہے۔ سوویت یونین غالباً واحد ملک ہے جہاں یونی کلچر نیشن بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے لیے ہر قسم کی ریاستی طاقت استعمال کی گئی۔ مگر یونی کلچر نیشن تو نہیں بنی، البتہ خود سوویت یونین ٹوٹ کر ختم ہوگیا۔ تاریخ عالم کے یہ تجربات ہماری آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں یکسانیت کا تعلق تاریخ سے ہے نہ کہ قانون سے۔ اگر کسی سماج میں تاریخی عمل کے ذریعہ یکساں کلچر آجائے تو وہاں یکساں کوڈ بھی بن جائے گا۔ اس سے پہلے ایسا ہونا ممکن نہیں۔