Al-Risala · September 1995

اضافہ آبادی کا ہوا

Al-Risala, September 1995, pp. 25–26

By Maulana Wahiduddin Khan

متعدد سینیر شہریوں نے یہ بات کہی ہے کہ شادی بیاہ کا معاملہ انتہائی نجی معاملہ ہے۔ اگر کوئی کمیونٹی چاہتی ہے کہ اس نجی معاملہ میں وہ اپنے روایتی طریقہ پر قائم رہے تو اس میں دوسری کمیونٹی والوں کو اعتراض کرنے کی کیا ضرورت ۔ اس واضح نامعقولیت کے باوجود کچھ انتہا پسند پولیٹیکل عناصر کیوں یونیفارم سول کوڈ لانے کے لیے اتنا زیادہ شور وغل کر رہے ہیں۔ حتی کہ انھوں نے اعلان کر دیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں ان کا اصل انتخابی اشو (main poll theme) یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ ہوگا دی ہندوستان ٹائمس ، ۱ جولائی ۱۹۹۵) جب کہ یقینی طور پر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یونیفارم سول کوڈ کی بنیاد پر قانون بنانے کا عملاً کوئی امکان نہیں۔ اس جوش وخروش کا سبب خود یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا معاملہ ہے۔ یہ عناصر انتہائی سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت یہ غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگلی صدی کے نصف اول میں یہ واقعہ ہونے والا ہے کہ مسلمان یہاں اکثریت میں ہو جائیں اور ہندو خود اپنے ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں۔

اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے لیے انھوں نے ایک پر فریب نظریہ وضع کیا ہے۔ وہ اکثریتی فرقہ کے عوام سے کہتے ہیں کہ دیکھو، آزادی کے بعد بننے والی گورنمنٹ نے ہندو میرج ایکٹ ۱۹۵۵ کے ذریعہ ہندوؤں کو قانونی طور پر پابند کر دیا کہ وہ صرف ایک بیوی رکھ سکتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا جو پرسنل لا ایکٹ (۱۸۶۰) ہے، اس کے تحت ہر مسلمان کو حق حاصل ہے کہ وہ چار بیویاں رکھے ۔ ہندو کے اوپر پابندی لگی ہوئی ہے، مگر مسلمان کے اوپر کوئی پابندی نہیں۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو کے مقابلہ میں مسلمان چار گنا زیادہ بچے پیدا کر سکتا ہے۔ اس ملک میں ہندوؤں کی آبادی اگر ۱-۲-۳-۴-۵ کی رفتار سے بڑھے گی تو مسلمانوں کی تعداد ۱ - ۴ - ۸ - ۱۶ - ۳۲ کی رفتار سے بڑھتی چلی جائے گی۔ اپنے سیاسی حریف کی اس طرح بھیانک تصویر دکھا کر یہ لوگ ہندوؤں میں اپنا ووٹ بینک بنا رہے ہیں۔ وہ ہندو عوام سے کہہ رہے ہیں کہ اس ہندو درودھی سرکار کے خلاف ووٹ دے کر اس کو باہر پھینک دو : Throw out this anit-Hindu government. یہ پروپیگنڈا بلاشبہ آخری حد تک بے بنیاد ہے۔ مسلمان عام طور پر ایک ہی شادی کرتے ہیں۔

عمر ۷۲ سال ہو چکی ہے۔ مگر اس پوری مدت میں میرے علم میں کوئی ایک بھی ہندوستانی مسلمان نہیں آیا جس نے چار شادیاں کر رکھی ہوں۔ حتیٰ کہ ایسا کرنا ممکن بھی نہیں۔ کیوں کہ تمام مسلمان چار شادیاں اس وقت کر سکتے ہیں جب کہ ان کے یہاں مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد چار گنا زیادہ ہو۔ یا ان کے پاس کوئی ایسا کارخانہ ہو، جہاں وہ زیادہ عورتیں پیدا کر سکیں۔ مگر موجودہ مسلم سماج میں نہ تو عورتیں زیادہ ہیں اور نہ مسلمانوں کے پاس کوئی عورت ساز فیکٹری موجود ہے۔ ایسی حالت میں ان کے لیے کیوں کر ممکن ہو گا کہ ان میں سے ہر شخص چار چار بیویاں رکھے۔ مسٹر بلراج پوری کا ایک پیراگراف اس سلسلہ میں نقل کرنے کے قابل ہے :

" اس خدشہ کا پہلا مقدمہ کہ تعدد ازدواج کے حق میں قانونی دفعہ اس پر عمل تک بھی پہنچائے گی، شماریاتی مطالعہ سے ثابت نہیں ہوتا۔ عورت کی حیثیت کے بارہ میں نیشنل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تعدد ازدواج فی الحقیقت دوسرے فرقوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے اندر کم ہے۔ اس کا دوسرا مقدمہ کہ تعدد ازدواج مسلمانوں کی آبادی کو زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھائے گا، منطقی طور پر مغالطہ آمیز ہے۔ بچہ پیدا کرنے کے قابل عورتوں کی تعداد چونکہ ہمیشہ یکساں رہتی ہے، اگر کچھ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو بہت سے مردوں کو بیویاں ہی نہیں ملیں گی۔ کسی فرد میں غیر شادی شدہ مردوں کی کثیر تعداد کسی بھی طرح اس فرقہ کی تولیدی صلاحیت میں اضافہ واضح طور پر، چار آدمی چار بیویوں کے ساتھ زیادہ بچے پیدا کریں گے، بمقابلہ اس کے کہ ایک ہی مرد کے ساتھ چار بیویاں ہوں۔ اس طرح تعدد ازدواج کا طریقہ آبادی میں اضافہ کی رفتار کو گھٹانے والا ہے نہ کہ اس کو بڑھانے والا ( انڈین ایکسپریس ۶ جولائی ۱۹۹۵)

تقریباً یقینی ہے کہ مذکورہ انتہا پسند سیاسی عناصر اگلے الیکشن میں ہندو ووٹروں سے کہیں گے کہ دیکھو، دستور کی دفعہ اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود مسلمان یکساں سول کوڈ بنانے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ وہ ایسا قانون بنانے کے مخالف اس لیے ہیں کہ اس کے بعد انھیں چار شادیوں کی اجازت نہیں رہے گی اور اس طرح وہ اپنی آبادی بڑھانے اور ہندوؤں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بارہ میں اپنے منصوبہ کی تکمیل نہ کر سکیں گے۔ ہمیں ووٹ دے کر ہم کو اقتدار تک پہنچاؤ تاکہ ہم اس خطرہ کا دفعہ کر سکیں۔ مگر اس پروپیگنڈے کا بے بنیاد ہونا ہی اس کے لیے کافی ہے کہ خدا کی دنیا میں وہ کامیاب نہ ہو۔ ملک کا سب سے بڑا اخبار ٹائمس آف انڈیا ہر روز اپنے پہلے صفحہ پر اس قانون فطرت کا اعلان کرتا ہے کہ سچائی غالب آتی ہے (Let Truth Prevail)

Printed page