Al-Risala · September 1995

ہندو برادریوں کا رواج

Al-Risala, September 1995, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

خود ہندوؤں میں شادی بیاہ کا کوئی ایک مقرر طریقہ نہیں۔ ہندوؤں میں سیکڑوں کی تعداد میں مختلف گر ہیں، اور ہر گروہ وہ اپنے اپنے خاندانی یا علاقائی رواج کے مطابق شادی کی رسوم ادا مثال کے طور پر کرکٹ کے مشہور کھلاڑی سچن ٹنڈولکر (Sachin Tendulkar) نے ۲۵ مئی ۱۹۹۵ کو ممبئی میں مسز انجلی مہتا سے شادی کی۔ تو اخباری رپورٹ کے مطابق، ان کے نکاح کی تقریب مہاراشٹر کے روایتی انداز (traditional Maharashtrian-style) میں ادا کی گئی (پائنیر ۲۶ مئی ۱۹۹۵)

آج بھی تقریباً تمام ہندو اپنی شادیاں اپنے مذہبی رواج کے مطابق کرتے ہیں، اگر چہ اسپیشل میرج ایکٹ ۱۹۵۴ کی صورت میں ان کے لیے ایک عمومی قانون موجود ہے : Almost all Hindus still solemnise their marriages through religious customs although there is a civil way out through the Special Marriages Act of 1954. (The Hindustan Times, May 22, 1995)

یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہ در اصل وہی ہے جو ہونا چاہیے۔ شادی بیاہ کا تعلق انتہائی نجی معاملات سے ہے۔ ایسے معاملات میں ہر فرقہ ہمیشہ اپنے خاندانی یا گروہی رسم و رواج کے مطابق ہی عمل کرتا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن نہیں۔ اصل ضرورت : نیشنل کیریکٹر انڈیا کو ایک متحد اور پر امن اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے اصل میں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ نیشنل کیریکٹر ہے۔ ملک میں جتنی بھی کمیاں ہیں، یا جو بگاڑ بھی یہاں نظر آتا ہے۔ ان سب کا اصل سبب صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آزادی کے بعد ملک کے لوگوں میں نیشنل کیریکٹر پیدا کیا جا سکا۔ نیشنل سوچ شخصی سوچ کی ضد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذاتی مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے قومی مفاد کو اہمیت دے۔ جہاں کہیں دونوں تقاضوں میں ٹکراؤ ہو تو وہ شخصی مفاد کو پس پشت ڈال دے اور قومی مفاد والے طریقہ کو اختیار کرلے۔

باہر کا کوئی ملک پیسہ دے کر آپ کو خریدنا چاہے تو اپنے ملک کی محبت آپ کو اس سے روک ٹیکس نہ دینے میں آپ کو ذاتی فائدہ ہو رہا ہو تب بھی آپ ٹیکس دیں کیوں کہ اس سے قوم کو فائدہ

ملاوٹی چیزیں سپلائی کرنے میں آپ کا ذاتی نفع بڑھتا ہو مگر آپ ایسا نہ کریں، کیوں کہ ایسا کرنے سے ملک کی ترقی رک جاتی ہے۔ ذاتی شکایت کے باوجود آپ قومی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں اور اقتصادی پہیہ کو روکنے کی کوشش نہ کریں، کیوں کہ اس میں ملک کی تباہی ہے۔ الیکشن میں اگر آپ ہار جائیں تو دل سے اپنی ہار کو مان لیں۔ کیوں کہ ہار نہ ماننے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کا پورا سیاسی نظام بگڑ اگر آپ ذمہ داری کے عہدہ پر ہیں تو اپنے مالی فائدہ کے لیے سکینڈل اور اسکیم میں ملوث نہ ہوں، کیوں کہ ایسا کرنے سے ملک کا اقتصادی ڈھانچہ تباہ ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو ایک بار حکومت مل جائے تو یہ نہ چاہیں کہ میں ہی ۴۵یشہ حکومت کی گدی پر بیٹھا رہاہوں۔ کیوں کہ اس قسم کی سیاسی خود غرضی ملک کے جمہوری ڈھانچہ کو تباہی اور بربادی کے آخری کنارہ سے پہنچادیتی ہے۔ اگر آپ لیڈر ہیں تو اپنے الکشنی مفاد کے لیے ایک گروہ کے اندر دوسرے گروہ کے خلاف نفرت اور خوف کے جذبات نہ پیدا کریں۔ کیوں کہ اس سے آپ کا ووٹ بنک تو بنے گا، لیکن ملک کا بینک دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا ۔ اسی کا نام سچی دیش بھگتی ہے۔ اور یہی ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔ مگر یہی چیز آج ہمارے ملک میں موجود نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے لوگ دیش بھگت کے بجائے خویش بھگت ہو گئے ہیں۔ ہر ایک اپنے فائدہ کی خاطر ملک کے فائدہ کو بھول گیا ہے۔ اسی خویش بھگتی نے ملک کا وہ برا حال کر دیا ہے جس کی آج ہر آدمی شکایت کر رہا ہے۔

دیش بھگتی کا من سولی کوڈ جیسی ظاہری کارروائیوں سے کبھی نہیں آئے گی ۔ بلکہ لوگوں کی سوچ کو تعمیری رخ دینے سے آئے گی۔ اس کے لیے ہمیں تمام ذرائع کو استعمال کر کے لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا ہمیں تعمیر شعور یا ذہنی بیداری کی ایک طویل اور ہمہ گیر مہم چلانی ہوگی۔ یہ بلاشبہ ایک مشکل کام ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی دوسری چیز اس کا بدل نہیں۔

Printed page