Al-Risala · October 1995

It all depends on me.

Al-Risala, October 1995, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک بہترین ماٹو ہے۔ یہ جنگ اور امن دونوں حالتوں میں یکساں طور پر مفید ہے۔ بھائی عبدالحفیظ خاں انجینئر، نے بتایا کہ ایک بار وہ چندی گڑھ کے ایک ٹریننگ کیمپ میں یہ کیمپ پانی تکنیک کے پرنسپلوں کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ اور اس میں لکچر دینے کے لئے ایک انجینیر پروفیسر کو بلایا گیا تھا۔ اس کا افتتاح ایک ہندوستانی منسٹر کو کرنا تھا۔ منسٹر جب مائک پر کھڑے ہوئے تو اچانک بجلی چلی گئی اور لاؤڈ اسپیکر نے کام کرنا بند کر دیا۔ وہاں متبادل انتظام طور پر بیٹری نہ تھی۔ البتہ کالج کے ورکشاپ میں بیٹری موجود تھی۔

اس وقت زیر تربیت پرنسپل صاحبان کالج کے کسی چپراسی یا ورکر کو تلاش کرنے لگے تاکہ اس کو ورکشاپ بھیج کر وہاں سے بیٹری منگوائیں اور اس سے لاؤڈ اسپیکر کو چلائیں۔ مگر انگریز پروفیسر کو جیسے ہی صورتحال کا علم ہوا وہ خود بھاگ کر ورکشاپ میں پہنچا اور بھاری بیٹری کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر دوڑتا ہوا آیا اور لاؤڈ اسپیکر کے نظام سے جوڑ کر اس کو چلا دیا۔ کسی قوم کے افراد میں یہی مزاج اس قوم کی اجتماعی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ کے اندر یہ اسپرٹ جتنا زیادہ پائی جائے گی، اتنا ہی زیادہ وہ قوم ترقی کر سکے گی۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ سماج میں کوئی خرابی دیکھتے ہیں تو ایک قانون بنانے کی تجویز پیش کرتے ہیں یا نظام میں تبدیلی لا کر اس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ مگر قانون اور نظام کی ایک اپنی حد پر پہنچ کر قانون اور نظام غیر موثر ہو جاتے ہیں۔ اصلاح کا اصل طریقہ یہ ہے کہ افراد کے اندر اصلاح کا جذبہ پیدا کر دیا جائے۔

Printed page