ایک شرعی مسئلہ
Al-Risala, October 1995, pp. 11–12
By Maulana Wahiduddin Khan
یورپ کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک غیر مسلم اسکالر سے ہوئی۔ گفت گو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس وقت ساری دنیا میں پناہ گزینوں کی جو تعداد ہے اس میں تقریباً ۹۵ فی صد پناہ گزیں مسلمان انھوں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک جنگ جو (militant) مذہب ہے جو اپنے پیروؤں کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ بناتا ہے۔ وہ ہر جگہ اپنے حکمرانوں کے باغی بن جاتے اس کے بعد حکمرانوں کی طرف سے ان پر تشدد (persecution) ہوتا ہے تو وہ بھاگ بھاگ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لیتے ہیں۔ اسلام کی اس تعلیم نے خود مسلمانوں کو بھی مصیبت میں ڈال دیا ہے اور وہ دنیا والوں کے لیے بھی مصیبت بن گئے ہیں۔
یہ بات جو مغربی پروفیسر نے کہی وہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے بارہ میں عام تاثر ہے۔ یہ مسلمانوں کے اوپر کوئی فرضی الزام بھی نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عملی طور پر موجودہ مسلمان یہی کام کر رہے ہیں۔ ہر جگہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ وہ اپنے ملک کی حکومتوں سے ٹکراؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ ایک طرفہ طور پر مسلمانوں کی تباہی کی صورت میں نکل رہا ہے جس کا صرف ایک جز ء عالمی پناہ گزینوں میں مسلمانوں کی مذکورہ کثرت ہے۔
عام حالت میں یہ صرف مسلمانوں کا یا ان کے کچھ لیڈروں کا ایک گروہی واقعہ ہوتا۔ جو کچھ غلط فہمی ہوتی وہ صرف کچھ مسلمانوں کے بارہ میں ہوتی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ مسلم عاملین (activists) اپنی یہ جنگ جویا نہ مہم اسلام یا اسلامی جہاد کے نام پر چلا رہے ہیں۔ اس لیے قدرتی طور پر مسلمانوں کا یہ عمل اسلام کے ساتھ منسوب کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے اس عمل سے اسلام بد نام ہو رہا ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ اس قسم کی تشدد دانہ سیاسی سرگرمیوں میں سارے مسلمان شامل نہیں ہیں۔ ایک طبقہ ہی عملی طور پر ان میں ملوث ہے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ موجودہ مسلم دنیا کے علماء اور دانشور ان افعال کی مذمت نہیں کرتے۔ اس طرح خود شرعی اصول کے مطابق ، تمام مسلمان براہ راست یا بالواسطہ طور پر مسلم جنگ جوئی کے موید بنے ہوئے ہیں۔ کیونکہ برائی پر چپ رہنا برائی کی تائید کرنا ہے۔ ان حالات میں یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ مذکورہ قسم کی تشدد دانہ تحریکیں لوگوں کی نظر میں اسلام کی
نمائندہ تحریکیں قرار پائیں ۔ لوگ یہ رائے قائم کریں کہ یہی اسلام کا اصل مطلوب عمل ہے ۔ کا مذہب ہے ۔ وہ دوسرے مذاہب یا نظاموں کے ساتھ موافقت کر کے رہنے کی صلاحیت نہیں اس مقالہ میں مجھے اسی مسئلہ کا علمی جائزہ لینا ہے ۔
اسلام بنیادی طور پر ایک امن پسند مذہب ہے ۔ اسی لیے پیغمبر اسلام کو رحمۃ للعالمین (الانبیاء ، ١٠٧) کہا گیا ہے ۔ یعنی سارے عالم کے لیے رحمت ۔ گویا کہ پیغمبر اسلام پیغمبر رحمت ہیں نہ کہ پیغمبر حرب ۔ آپ کا طریقہ عدم تشدد (non-violence) ہے نہ کہ تشدد (violence)
تاہم موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں اختلاف اور نزاع کا پیش آنا لازمی ہے ۔ اور دوسرے فرد ، اسی طرح ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے ۔ میں کیا کیا جائے ۔ اس کا جواب صبر ہے ۔ قرآن میں بہت زیادہ صبر کی تلقین کی گئی ہے ۔ حتیٰ کہ اگر براہ راست احکام کے ساتھ بالواسطہ احکام کو شامل کر لیا جائے تو پورا قرآن کتاب صبر نظر آئے گا ۔ صبر و اعراض کا مطلب یہ ہے کہ ناخوش گوار باتیں پیش آنے کی صورت میں رد عمل کا انداز اختیار نہ کیا جائے بلکہ ایک طرفہ طور پر برداشت کر لیا جائے تاکہ جو شکایتی بات پیدا ہوئی ہے وہ اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جائے ۔
اس کے باوجود ایسی حالتیں پیش آسکتی ہیں جب کہ بات بڑھ جائے ۔ باقاعدہ نزاع کی صورت اختیار کرنے لگے ۔ اس وقت اہل اسلام کو کیا کرنا چاہیے ۔ اس سلسلہ میں ایک اصولی ہدایت دی گئی کہ (الصلح خیر (النساء ، ۱۲۸) یعنی صلح کر لینا بہتر ہے ۔ قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا ہے کہ الحرب خیر (جنگ بہتر ہے) مگر یہ فرمایا کہ الصلح خیر (صلح بہتر ہے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزاعی امور میں اسلام کی اسپرٹ صلح ہے نہ کہ حرب ۔
اس طرح عدم نزاع کو اسلام نے ایک بنیادی اجتماعی اصول کی حیثیت دے دی ہے ۔ خواہ فرد اور فرد کے درمیان کا معاملہ ہو یا گروہ اور گروہ کے درمیان کا معاملہ ، ہر موقع پر اصلاً اس اصولی ہدایت کو ملحوظ رکھنا ہے کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے ۔ اور اگر بالفرض ٹکراؤ پیش آجائے تو پہلی فرصت میں صلح کا طریقہ اختیار کر کے نزاع کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ کیوں کہ ٹکراؤ ہمیشہ مسئلہ کو بڑھاتا ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں مسئلہ کا حل نہیں ۔