غیر مسلم حکمران کا معاملہ
Al-Risala, October 1995, pp. 16–18
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاں تک مسلم حکمران کا معاملہ ہے، اس کے خلاف خروج کی حرمت صریح احادیث سے ثابت ہے۔ اسی لیے تمام علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے، جیسا کہ اوپر کے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ حکمران اگر غیر مسلم ہو تو اس کے بارہ میں شریعت اسلامی کا حکم کیا ہے۔ یہاں شریعت کا اصولِ قیاس ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اصولِ فقہ میں یہ بات مسلم ہے کہ شرعی احکام کے ماخذ چار ہیں ۔ قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔ زیر بحث معاملہ میں قیاس کے اصول میں ہمارے لیے واضح رہنمائی موجود ہے۔
فقہ کی تمام اہم کتابوں میں قیاس پر بحث کی گئی ہے بشرعی قیاس کیا ہے، اس کو اصولِ فقہ کی کسی بھی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔
فنی اصطلاحات سے قطع نظر، سادہ طور پر قیاس کی تعریف یہ ہوگی کہ وہ اشتراکِ علت کی بنیاد پر کسی چیز کے بارے میں دوسری چیز کے مماثل حکم ثابت کرنے کا نام ہے (اثبات مثل حکم معلوم فی معلوم آخر لاشتراکہما فی علة الحكم ، ناصر الدین البیضاوی، منہاج الوصول، ۲/۳)
بیضاوی کے مذکورہ الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر صلاح الدین زیدان نے لکھا ہے کہ : جب حکم کی علت میں مماثلت پائی جائے تو نتیجہ حکم میں بھی مماثلت ہوگی (التماثل فی علة الحكم يؤدي الى التماثل فی الحكم ، الدكتور صلاح الدين زيدان، حجية القياس، صفحه ۲۳)
مثال کے طور پر شراب کے بارے میں یہ حکم ثابت ہے کہ وہ حرام ہے لیکن کھجور سے تیار کی گئی نبیذ کا حکم صراحتاً قرآن یا حدیث میں موجود نہیں۔ مگر فقہاء نے اس کو حرام قرار دیا ہے کیوں کہ نبیذ اور شراب میں ایک قدر مشترک پائی جاتی ہے اور وہ ہے دونوں کا مسکر یعنی نشہ آور ہونا۔ اب چونکہ اس قدر مشترک کی بنا پر شریعت نے شراب کو حرام ٹھہرایا ہے لہٰذا نبیذ اور کھانے پینے کی وہ ساری چیزیں جو نشہ آور ہیں ان کا حکم بھی وہی ہوگا جو شراب کا حکم ہے۔
اس اصولِ قیاس کو سامنے رکھ کر مذکورہ معاملہ پر غور کیجیے تو جو بات سامنے آئے گی وہ یہ ہے کہ۔ پیغمبر اسلام نے صراحت کے ساتھ غیر عادل مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) سے منع فرمایا۔ سبب یہ ہے کہ اس قسم کا اقدام زیادہ بڑا نقصان (بدامنی اور جان و مال کی تباہی) پیدا کرے گا۔
معلوم ہوا کہ اس ممانعت کی اصل علت شدید تر برائی کا پیدا ہونا ہے۔ یہ شدید تر برائی اس وقت بھی پوری طرح ظہور میں آئے گی جب کہ حکمراں غیر مسلم ہو۔ گویا دونوں جگہ علت کا اشتراک پایا جا رہا اور جب علت مشترک ہے تو شرعی اصول کے مطابق حکم بھی مشترک ہوگا۔
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت میں جس طرح غیر عادل مسلم حکمراں کے خلاف بغاوت نا جائز ہے اسی طرح غیر مسلم حکمراں کے خلاف بھی بغاوت نا جائز ہے خواہ وہ لوگوں کو غیر عادل کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خاص مسئلہ میں مسلم حکمراں اور غیر مسلم حکمراں کا فرق محض اضافی ہے کیونکہ حکمراں کے خلاف خروج کی ممانعت اس لیے نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ یہ ممانعت صرف اس لیے ہے کہ اس قسم کا فعل زیادہ بڑا شر پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ ایسا اقدام عملی طور پر الٹے نتیجہ والا (counter-productive) اٹھنے والا اپنے خیال کے مطابق تو ظلم کو ختم کرنے کے لیے اٹھے گا۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے عظیم تر ظلم ظہور میں آئے گا۔
ایسا ہونا بالکل یقینی ہے۔ کیوں کہ حکمراں کسی معاشرہ کا وہ عنصر ہے جس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں جب اس کے وجود کو چیلنج کیا جائے گا تو لازماً وہ اپنے وجود کی حفاظت کے لیے اپنی ان طاقتوں کو استعمال کرے گا۔ اس کے بعد تشدد، خوں ریزی، اموال کی تباہی ، امن و امان کا غارت ہو جانا جیسے یقینی نتائج رونما ہوں گے۔ چھوٹی برائی کو دور کرنے کی کوشش میں زیادہ بڑی برائی پیدا ہو جائے گی۔
گویا یہاں حکم کی جو علت ہے وہ حکمراں کا مسلم ہونا نہیں ہے بلکہ حکمراں کا اس پوزیشن میں ہونا ہے ، وہ خروج کا عمل پیش آنے کے بعد پورے معاشرہ کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گا۔ خروج کی حرمت کا سبب حاکم کا مسلمان ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل سبب ترتب فتنہ ہے۔ شرعی کے مطابق، جب علت مشترک ہے تو حکم بھی مشترک ہو جائے گا۔ یعنی غیر مسلم حکمراں کے خلاف خروج بھی اسی طرح نا جائز قرار پائے گا جس طرح مسلم حکمراں کے خلاف خروج نا جائز ہے، کیوں کہ باعتبار جام دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ حکمراں کے خلاف خروج اس وقت تک جائز نہیں جب تک اقامت صلوٰۃ میں وہ کوئی رکاوٹ نہ ڈال رہے ہوں۔ اس حدیث میں صلاۃ کی اجازت کا ذکر در اصل
مذہبی آزادی کی علامت کے طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام کو جب تک عبادت اور قول و عمل کی آزادی حاصل ہے، ان کو اپنے حکمرانوں کے خلاف سیاسی معزولی کی تحریک چلانا جائز نہیں، خواہ وہ حکمراں مسلم ہو یا غیر مسلم۔
موجودہ زمانہ میں تمام غیر مسلم حکومتوں میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ سیاست کے سوا وہ ہر مذہبی سرگرمی کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ ایسی حالت میں ان ملکوں میں سیاسی حکمراں کے خلاف تحریکیں چلانا سراسر ناجائز فعل ہے۔ اس قسم کی سیاسی ہنگامہ آرائی، خواہ وہ اسلام کے نام پر کی جائے، یقینی طور پر وہ غیر اسلامی قرار پائے گی۔
مذکورہ احادیث اور شرعی حکم کے مطالعہ سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک حکمراں کے اندر اگر غلطی یا نا انصافی دکھائی دے تو اصلا جس چیز کا جواز ہو گا وہ قولی نکیر ہے۔ یعنی لفظی تنقید کی صورت میں اور وہ بھی عوامی تقریر کی صورت میں نہیں بلکہ تنہائی کی ملاقات میں، جیسا کہ بزرگ صحابی عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ اگر تم کو ضروری کچھ کہنا ہو تو ایسی مجلس میں ہو جس میں صرف تم ہو اور وہ (فان كنت لابد فاعلاً ففيما بينك وبيند)
موجودہ زمانہ میں کئی ایسے غیر مسلم ملک ہیں جن کے بارہ میں مسلم پریس روزانہ ظلم و زیادتی کی داستان سناتا رہتا ہے۔ یہ طریقہ شریعت کے مطابق تطفیف ہے، اور تطفیف کو قرآن میں نہایت برا فعل بتایا گیا ہے۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان غیر مسلم ملکوں میں ظلم و زیادتی کے واقعات کب شروع ہوئے۔ جب آپ اس اعتبار سے جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ مسلمانوں کے سیاسی جہاد کے بعد کے واقعات ہیں نہ کہ پہلے کے واقعات۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کو پوری طرح مذہبی آزادی حاصل تھی۔ امن کے ساتھ وہاں زندگی گزار رہے تھے۔ مگر جب وہاں جہاد کے نام پر ”گن کلچر کو فروغ دیا گیا تو اس کے بعد وہاں کے حکمرانوں نے بھی تشدد کا جواب تشدد سے دینا شروع کیا۔ ایسی حالت میں ان مظالم کی اصل ذمہ داری ان انتہا پسند مسلم لیڈروں پر عائد ہوتی ہے جو اپنی مخالفانہ کارروائیوں سے اس کا سبب بنے۔ حدیث میں ہے کہ ان الفتنة نائمۃ لعن الله من يقطها۔ کے مطابق، اصل مجرم موقظ فتنہ ہے نہ کہ صاحب فتنہ۔