Al-Risala · October 1995

ایک شرعی اصول

Al-Risala, October 1995, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا جن چیزوں کو لوگ پکورتے ہیں تم ان چیزوں کو برا نہ کہو، ورنہ وہ لوگ اللہ کو برا کہنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو مزین کر دیا ہے (الانعام ۱۰۸)

اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے عمل کا نتیجہ رخی (result-oriented) عمل ہونا چاہیے ۔ ہر اقدام سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اگر نتیجہ غیر مطلوب نکلنے والا ہو تو اقدام سے پر ہیز کیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو عمل الٹا نتیجہ والا (counter-productive) ثابت ہو، وہ عمل اسلام میں جائز نہیں۔

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیسے کوئی شخص اپنے باپ کو گالی دے گا، آپ نے فرمایا کہ تم کسی شخص کے باپ کو گالی دو گے پھر وہ تمہارے باپ کو گالی دے گا۔ تم کسی کی ماں کو گالی دو گے پھر وہ تمہاری ماں کو گالی دے گا۔ اسی بنا پر فقہ میں ایک مستقل مسئلہ بنا ہے جس کو ترک المصلحة للمفسدة کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک بظاہر مطلوب کام کو اس لیے چھوڑ دینا کہ اس کے کرنے سے زیادہ بڑا بگاڑ پیدا ہوگا۔ (تفسیر ابن کثیر ۲ / اس شرعی اصول کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے وہ تمام اقدامات غیر اسلامی قرار پاتے ہیں جن کو جہاد کے نام پر شروع کیا گیا ۔ کیونکہ ان اقدامات کا نتیجہ زبر دست تباہی کی صورت میں نکلا ۔ جہاد سے پہلے مسلمانوں کو جو کچھ حاصل تھا وہ بھی ان سے کھویا گیا اور مزید کوئی چیز انہیں حاصل نہ ہو سکی۔ مذکورہ بات کے سلسلہ میں اکثر مسلم دانشور یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بات جو آپ کہہ رہے ہیں، یہ تو مسیحی نقطہ نظر ہے جو انفعالیت پر قائم ہے ۔ اسلام تو ایک انقلابی دین ہے جو فعالیت میں یقین مگر یہ کچھ افراد کی محض ذاتی ریز نگ ہے۔ ہم نے جو بات کہی ہے وہ قرآن و حدیث کے حوالے سے کہی ہے ۔ وہ مکمل طور پر شرعی نصوص پر مبنی ہے ۔ جب کہ معترض حضرات کی بات تمام تر ذاتی ریز نگ پر مبنی ہے۔ اور کسی کی ذاتی ریز نگ شرعی نصوص کا بدل نہیں بن سکتی ۔

مسلم دانشوروں میں ایک بالکل بے بنیاد خیال یہ پھیلا ہوا ہے کہ اسلام ایک ارتقا یافتہ مذہب ہے، اور دوسرے مذاہب غیر ارتقا یافتہ مذاہب ہیں۔ حالانکہ یہ بات صریح اسلامی نصوص کے خلاف قرآن کے مطابق، ہر پیغمبر کو ایک ہی دین دیا گیا۔ اسلام اور دوسرے مذاہب میں غیر محرف اور محرف کا فرق ہے نہ کہ ارتقائی اور غیر ارتقائی کا۔

مثال کے طور پر مسلم خطباء اکثر حضرت مسیح کے اس قول کا استخفاف کرتے ہیں کہ پس جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو (متی ٢٢ : ٢١) حالانکہ یہ مخصوص حالات کے اعتبار سے ایک حکیمانہ ہدایت ہے اور وہ خود اسلام میں عین اسی طرح موجود ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے جس کو بخاری اور مسلم دونوں نے نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : انکم سترون بعدی اثَرَةً واموراً میرے بعد تم لوگ (حکمرانوں میں) خود غرضی اور منکر قالوا فما تأمرنا يا رسول اللہ ۔ چیزیں دیکھو گے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے خدا کے قال : ادُّوا اليهم حقهم و سلُوا الله رسول ، پھر اس وقت کے لیے آپ ہم کو کیا حکم دیتے آپ نے فرمایا ۔ ان کو ان کا حق ادا کرو اور اللہ سے اپنا حق مانگو ۔

(مشکاة المصابیح ٢ / ١٠٨٦)

Printed page