ایک شبہ کا ازالہ
Al-Risala, October 1995, pp. 20–22
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ شرعی اصول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شریعت اہل اسلام کو قانع حال (statusquoist) بنا دینا چاہتی ہے۔ شریعت کے اس حکم کا مقصد دراصل نازک صورت حال میں اپنے عمل کے لیے نقطہ آغاز (starting point) حاصل کرنا ہے۔ نزاعی صورت حال میں اگر رد عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ البتہ عملی طور پر ٹھہراؤ (statusquoism) کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں اہل اسلام سامنے کی چٹان سے ٹکراتے رہیں گے۔ وہ آگے بڑھنے کے لیے اپنا راستہ نہ پاسکیں گے۔
اس لیے شریعت نے اہل اسلام کو مذکورہ حکم دیا۔ یعنی وہ حالات کے ناموافق پہلو پر صبر کریں تاکہ وہ حالات کے موافق پہلو کو استعمال (avail) کر سکیں۔ یہ قانون قدرت ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کے لیے کچھ موافق پہلو اور کچھ ناموافق پہلو دونوں بیک وقت موجود ہوں ۔ موافق پہلو کو استعمال کرنے کی واحد قیمت ناموافق پہلو کو برداشت کرنا ہے۔ مذکورہ شرعی حکم دراصل اسی قیمت کو ادا کرنے کی ایک صورت ہے۔
زندگی کا سفر کبھی نقطہ اختتام سے شروع نہیں ہو سکتا۔ زندگی کا سفر جب بھی شروع ہوگا، ابتدائی نقطہ سے شروع ہوگا۔ زندگی میں کامیاب سفر کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کو نقطہ آغاز مل جائے۔ صحیح نقطہ آغاز مل جانے کے بعد منزل پر پہنچنا اتناہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا تاریک شام کے بعد روشن صبح کا نکلنا۔ تعبیر کا مسئلہ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام میں یہ جائز نہیں کہ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ان کے خلاف جنگ برپا کی جائے تو ایسا کیوں ہے کہ آج ساری دنیا میں مسلمان اسی قسم کے سیاسی ہنگامے برپا کیے ہوئے ہیں۔ اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ زمانہ کے ان مسلم مفکرین پر ہے جنہوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ نشانہ دیا کہ وہ تمام مخالف طاقتوں سے لڑاکر ساری دنیا میں اسلام کا اقتدار قائم کریں۔
حدیث کے الفاظ میں، اسلامی دعوت کا نشانہ یہ تھا کہ قلب انسانی کو بدلا جائے۔ مگر اس تعبیر نے انتہائی غلط طور پر نظام سیاسی کی تبدیلی کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنا دیا۔ اور اس غلط تعبیر نے ایک ناجائز کام اسلام کا اعلیٰ و ارفع مطلوب قرار دے دیا۔ چنانچہ اب تمام لوگ ارباب اقتدار سے اپنا سر ٹکرارہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔
قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ فکر انسانی میں کبھی ایسا بگاڑ بھی آسکتا ہے کہ لوگ سراسر ایک عبث کام کریں اور بطور خود یہ سمجھیں کہ وہ بہت بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں (الکہف) یہی موجودہ زمانہ میں ان نام نہاد انقلابی مسلمانوں کا حال ہے۔ نا اہل رہنماؤں کی تزئین کے نتیجہ میں ان کا فکر اس طرح بگڑ گیا ہے کہ اب انہیں اسلام کا اصل دعوتی کام کمتر دکھائی دیتا ہے، اور وہ کام انہیں بڑا دکھائی دیتا ہے جس کو بطور خود انہوں نے اسلامی انقلاب کا نام دے رکھا ہے۔
اس کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ موجودہ مسلم نسلوں کے ذہن کو درست کیا جائے۔ ان کے اندر انقلابی فکر کے بجائے اصلاحی فکر پیدا کیا جائے۔ ان کے اندر سیاست رخی سوچ کی جگہ آخرت رخی سوچ لائی جائے ۔ ان کو نام نہاد انقلابی فکر کے بجائے سچے ربانی فکر پر کھڑا کیا جائے۔ اسلام کی تعبیر موجودہ زمانہ میں تین طریقوں سے کی گئی ہے۔ یہ تینوں تعبیرات مختصر انداز میں حسب ذیل ہیں :
1- پیغمبر دنیا میں خلیفۃ اللہ بن کر آئے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ خدا باغیوں کو زیر کر کے خدا کی دنیا میں خدا کے قانون کی حکومت قائم کریں۔
خدا نے پیغمبروں کو اس لیے بھیجا تا کہ وہ حیات انسانی کے بارے میں خدا کے منصوبے سے لوگوں کو آگاہ کر دیں۔ یعنی یہ منصوبہ کہ موجودہ دنیا آزمائش گاہ ہے۔ کوئی شخص اس دنیا میں جیسا عمل کرے گا اس کے کے مطابق وہ آئندہ آنے والی ابدی دنیا میں سزا یا انعام پائے گا۔
تیسرا نقطہ نظر تطبیقی نقطہ نظر ہے۔ اس کے مطابق، مذکورہ دونوں تعبیر میں صرف ترتیب کا دوسرا نظریہ اسلامی دعوت کے آغاز کو بتاتا ہے اور پہلا نظریہ اسلامی دعوت کے اختتام کو بتا رہا ہے۔
مگر قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان میں سے صرف دوسرا نقطہ نظر صحیح ہے۔ نصوص سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ پہلے اور تیسرے نقطہ نظر کے لیے قرآن و سنت میں کوئی براہ راست نص موجود نہیں۔ ان حضرات کا استدلال صرف استنباط پر قائم ہے، اور اسلامی دعوت کا نشانہ متعین کرنے کے لیے استنباطی دلیل ہرگز کافی نہیں ہو سکتی۔
اسلامی دعوت اصلاً یہی ہے کہ تخلیق کے خدائی منصوبے سے لوگوں کو باخبر کیا جائے ۔ اور اس کی بنیاد پر افراد کے اندر ذہنی انقلاب لانے کی کوشش کی جائے۔ اصل دعوتی عمل یہی ہے۔ ہر اجتماعی عمل کے بہت سے ضمنی نتائج ہوتے ہیں، اسی طرح دعوتی عمل کے بھی ضمنی اور اضافی نتائج ہیں۔ انھیں اضافی نتائج میں سے ایک اہل ایمان کی حکومت قائم ہونا ہے۔ تاہم حکومت اسلامی کا قیام اسلامی دعوت کا براہ راست نشانہ نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر منحصر ہے۔ اللہ اپنے مصالح کے تحت کبھی ایک کے حق میں اور کبھی دوسرے کے حق میں استخلاف فی الارض کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس موضوع کی مزید تفصیل راقم الحروف کی حسب ذیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ تعبیر کی غلطی، الاسلام، دین کامل ، راہ عمل، احیاء اسلام، وغیرہ۔