ایک سفر
Al-Risala, October 1995, pp. 23–28
By Maulana Wahiduddin Khan
اٹلی کی راجدھانی روم ہے۔ مگر وہاں کا سب سے بڑا شہر میلان (Milan) ہے۔ کو اطالوی زبان میں میلا نو کہا جاتا ہے۔ یہاں ستمبر ۱۹۹۳ میں انٹرنیشنل سطح کی ایک مذہبی کانفرنس اس سلسلہ میں اٹلی اور انگلینڈ کا سفر ہوا۔
اس کا دعوت نامہ ۱۰ ماہ پہلے نومبر ۱۹۹۲ میں مجھے مل گیا تھا۔ اس کے بعد کاغذات موصول سفر پر روانہ ہونے سے کافی پہلے کانفرنس کی پوری تفصیل مجھے دہلی میں مل چکی تھی۔ زمانہ میں مواصلات (communications) کے جدید ذرائع کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ مواصلات نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ آدمی ایک مقام پر بیٹھ کر سارے عالم میں اشاعت افکار کی مہم چلا سکے۔ قدیم نوآبادیاتی نظام کی علامت اگر ٹیل گراف ایک گراں تک پیغام رسانی تھی تو جدید نوآبادیاتی نظام کی علامت الیکٹرانک پیغام رسانی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ نہ قدیم مواصلاتی دور میں اس کو حقیقی طور پر دعوت کے مقاصد میں استعمال کیا جا سکا اور نہ جدید مواصلاتی دور میں اس کو دعوت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں دعوتی شعور سرے سے موجود ہی نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما خلافت ارضی اور قیادت عالمی کے حصول کو دعوت سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ یہ محض سیاسی ہنگامہ آرائی ہے نہ کہ دعوت الی اللہ ۔ ستمبر ۱۹۹۳ کی ۱۸ تاریخ شروع ہوئی تو گاڑی مجھ کو لئے ہوئے تیزی سے دہلی ایئر پورٹ کی طرف جارہی تھی۔ آج مجھے دہلی سے اٹلی جانا تھا۔ وہاں چند دن قیام کر کے ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کرنا تھا۔ اس کے بعد مزید سفر کر کے انگلینڈ جانا تھا۔ وہاں دوبارہ چند شہروں میں خطاب اور ملاقات کے پروگرام تھے ۔ ان سے فارغ ہو کر مجھے دہلی واپس آنا تھا۔ اس سفر کی روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
۱۸ ستمبر کو صبح تین بجے میں دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ مختلف قسم کے لوگ اپنے اپنے سامان کے ساتھ دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ چلتے ہوئے، کچھ بیٹھے ہوئے۔ ایک سوال میرے ذہن میں آیا " یہ مختلف قومیتوں کے اور مختلف مذہبوں کے لوگ یہاں لوٹتے کیوں
نہیں، یہ سوال عجیب بھی تھا اور غیر متعلق بھی۔ مگر اس سوال نے ایک اہم حقیقت مجھ پر واضح کر دی۔ اس پر غور کرتے ہوئے مجھے پر کھلا کہ اس کی وجہ ذاتی مشغولیت ہے۔ ہر شخص اپنے مسائل اور اپنے انٹرسٹ میں اتنا زیادہ گم ہے کہ کسی کو دوسرے سے الجھنے کا موقع نہیں۔
میں نے کہا کہ یہ باہمی لڑائی کے خلاف قدرت کا ایک طاقت ور چیک ہے، اس طرح قدرت نے ہر ایک کو اپنی ذات میں اتنا زیادہ گم کر دیا ہے کہ اگر اس کو چھیڑا نہ جائے تو کبھی دنگا اور فساد کی نوبت نہ آئے۔
میں ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے ساتھی ایئرپورٹ ٹیکس ادا کرنے کیوں کہ ایئر پورٹ ٹیکس کی ادائیگی کی رسید حاصل کئے بغیر بورڈنگ پاس نہیں مل سکتا تھا۔ دو آدمی کے لئے چھ سو روپیہ ایئر پورٹ ٹیکس ادا کیا گیا۔ یہ ایئر پورٹ ٹیکس سب کو دینا پڑتا ہے۔ صرف حاجیوں کے لئے یہ سفر ٹیکس معاف ہے۔ سیکولر ملک میں بھی کیسی کیسی غیر سیکولر نعمتیں مسلمانوں کو حاصل ہیں۔
بورڈنگ کارڈ اور دوسرے مراحل سے گزر کر چیکنگ کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں بیٹھے ہوئے آدمی نے میرا پاسپورٹ دیکھتے ہوئے پوچھا: آپ آتھر ہیں۔ کیا ناول لکھتے ہیں۔ نہیں، میرا موضوع نان فکشن ہے۔ اس طرح کے مختصر سوال و جواب کے بعد آگے بڑھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ عام انسان کے نزدیک کتاب سے مراد بس ناول یا افسانہ ہے۔ کیوں کہ لوگوں کے نزدیک زندگی کا اصل مقصد پیسہ کمانا ہے۔ کتاب وغیرہ کو وہ صرف تفریح کی چیز سمجھتے ہیں۔ اور تفریح ناول افسانے سے ہوتی ہے نہ کہ سنجیدہ کتابوں کے مطالعہ سے۔ کتاب یا مطالعہ کا مقصد شعور کا ارتقا تھا۔ مگر آج وہ بس وقتی تفریح کا سامان بن کر رہ گیا ہے۔
دہلی ایئر پورٹ پر انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایئر پورٹ کا ایک آدمی آیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں واکی ٹاکی تھی اور دوسرے ہاتھ میں چوڑا ٹیپ۔ اس نے بلند آواز سے پکارا: پنہر راجندر سنگھ مسافر اٹھا تو اس نے کہا کہ آپ کا ایک سامان ڈیمیج (damage) ہو گیا ہے۔ چل کر اس کو پہچان کر لیں۔ پہچان کرانے کے بعد اس نے اپنا ٹیپ کھولا اور اس کو چاروں طرف سے لگا کر ان کے بنڈل کو خوب مضبوط کر دیا۔
یہ منظر دیکھ کر میرا جی بھر آیا۔ با چشم گریہ میں نے کہا: خدایا، اس مسافر کا تو ایک سامان ڈی میج ہوا تھا اور تلاش کرنے والے نے تلاش کر کے اس کو درست کر دیا۔ میرا تو سب کچھ ڈی میج ہو چکا حتی کہ اس عمر کو پہنچ کر آپ کا دیا ہوا جسم بھی اب ڈی میج ہو گیا۔ خدایا، تو اپنے فرشتوں کو بھیج دے جو تیری قدرت کی ٹِیپ کے ذریعہ میرے تمام ڈی میجز کو درست کر دیں۔ دہلی سے روم کے لئے ایئر انڈیا کی فلائٹ اے کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ایئر انڈیا کی میگزین اکتوبر 1993ء) دیکھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا برٹش راج کا تاج : The Taj of the Raj یہ مضمون کلکتہ کی ۷۲ سالہ بلڈنگ وکٹوریہ میموریل کے بارہ میں تھا۔ بتایا گیا تھا کہ 1901ء میں جب کوئین وکٹوریہ کا انتقال ہوا اس وقت لارڈ کرزن انڈیا میں برٹش وائسرائے تھے۔ تجویز کی کہ کوئین کی ایک یادگار کلکتہ میں قائم کی جائے۔ اس وقت کلکتہ یہاں کی راجدھانی تھا۔ مطابق کلکتہ کا وکٹوریہ میموریل ہال تعمیر کیا گیا۔ مضمون میں اس کے مختلف پہلوؤں کا تعارف کراتے ہوئے آخر میں یہ جملہ درج تھا کہ اس سال جب کہ میموریل اپنی ۷۲ سالہ تقریب منا رہا ہے، وہ ماضی کی ایک شاندار یادگار کے طور پر اب بھی باقی ہے، ایک ماضی جو ناقابل انقطاع طور پر حال سے جڑا
it remains quintessentially a majestic testimony to the past -- a past that is inexorably linked to the present. (36)
یہ خوبصورت جملہ صرف آدھے معنی میں درست ہے۔ عمارت کے اعتبار سے وہ ماضی سے حال تک جڑا ہوا ہے۔ مگر جس راج کے نام پر یہ عمارت بنائی گئی تھی وہ راج 1947ء میں ختم ہو گیا۔ اس فرق کو نہ سمجھیں اور عمارت کے اوپر سیاست کو قیاس کر کے ماضی کے راج کو حال تک وسیع کرنا چاہیں وہ طے ہوئے حال کو بھی برباد کر دیں گے۔
یہ فلائٹ براہ راست دہلی سے روم کے لئے تھی۔ دونوں کے درمیان مسافت 4385 کلو یہ سفر پورے آٹھ گھنٹہ میں طے ہوا۔ کچھ وقت سونے میں گزرا اور کچھ وقت پڑھنے میں۔ تک کہ جہاز پر سکون طور پر روم کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔
روم کے بارہ میں ایک دلچسپ خبر نظر سے گزری۔ ایک اطالوی اخبار (PAESE SERA) کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ دار السلطنت کو پندرہ ملین چوہے کتر رہے ہیں : The capital of Italy is now being gnawed away by some 15 million rats. خبریں کہا گیا تھا کہ چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس ابدی شہر (Eternal city) کے لئے زبر دست خطرہ بن گئی ہے۔ کبھی ٹیلیفون کام نہیں کرتا اور تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ چوہے نے لائن کاٹ دی ہے۔ کبھی بجلی فیل ہو جاتی ہے اور اس کا سبب چوہے ہوتے ہیں۔ ابھی تک اس مسئلہ کا کوئی موثر حل دریافت نہیں کیا جا سکا ہے ـــــ مہلک گیس چھڑک کر تمام چوہوں کو مارا جا سکتا ہے۔ مگر چوہوں کا یہ خاتمہ اس قیمت پر ہو گا کہ اسی کے ساتھ انسان بھی ختم ہو چکے ہوں ــــــــ وہ روم جو انسانی فوجوں کے لئے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا، وہ چوہے کی فوج کا مقابلہ کرنے سے بھی عاجز ہے۔
مہاتما گاندھی ایک سفر کے دوران دسمبر ۱۹۳۱ میں روم آئے تھے۔ انہوں نے پوپ اور مسولینی دونوں سے ملاقات کی کوشش کی۔ ان کے سوانح نگار مسٹر لوئی فشر نے اپنی ۵۵۰ صفحہ کی کتاب (The Life of Mahatma Gandhi) میں لکھا ہے کہ پوپ نے کسی وجہ سے ملاقات کا وقت نہیں مسولینی سے ان کی ملاقات ہوئی جو صرف دس منٹ تک جاری رہ سکی۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ گاندھی عدم تشدد کی بات کرتے تھے اور مسولینی تشدد کے طریقے پر یقین رکھتا تھا۔ کا بیان ہے کہ عمارت کے جس راستہ سے گزار کر انھیں مسولینی کے کمرہ میں پہنچایا گیا، اس کی دیواروں پر ہر طرف تلواریں لگی ہوئی تھیں۔ خود دفتر کی دیواریں بھی تلواروں اور دوسرے ہتھیاروں سے مزین کی گئی تھیں (صفحہ ۲۹۵)
مسولینی نے دوسری عالمی جنگ میں یہ سمجھ کر شرکت کی کہ وہ دوبارہ عظیم اطالوی ایمپائر قائم کرنے جا رہا ہے۔ مگر اس کے جنگی اقدامات نے صرف اٹلی کو تباہ کیا۔ جولائی ۱۹۴۳ میں وہ خود اپنے ملک میں گرفتار کر کے قید کر دیا گیا۔ وہاں سے بھاگ کر وہ جرمنی پہنچا۔ مگر جرمنی میں بھی اس کو سکون کی جگہ نہ مل سکی۔ ۲۸ اپریل ۱۹۴۵ کو جرمن فوجیوں نے اس کو عین اس وقت گولی مار کر ہلاک
کر دیا جب کہ وہ بھیس بدل کر جرمنی سے فرار ہونا چاہتا تھا۔
جو لوگ موجودہ زمانہ میں "تلوار" کی بات کرتے ہیں، انہیں مسولینی اور اس کے جیسے دوسرے دیوانوں کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔
روم میں حال میں ایک شاندار مسجد تعمیر ہوئی ہے۔ اس کی تجویز سب سے پہلے ۱۹۳۰ء میں اٹلی کے حکمران مسولینی کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ اس کے مجوز ایرانی نسل کے اطالوی مسلمان عبدہ الباسم امینی تھے۔ مگر مسولینی نے اس کو منظور نہیں کیا۔ شاہ فیصل کی کوششوں سے ۱۹۷۳ء میں اٹلی کی حکومت نے اس کی اجازت دے دی۔ دو ہزار مربع میٹر کا ایک پلاٹ بھی حاصل ہو گیا۔ ۱۹۸۳ء میں اس کی تعمیر شروع ہوئی۔ دس سال میں ۵۰ ملین ڈالر کے خرچ سے یہ مسجد اور اسلامی مرکز تیار ہوا ۔ خرچ کی بیشتر رقم سعودی عرب نے ادا کی ہے۔
یہ ایک دو منزلہ عمارت ہے جس میں دو ہزار آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے اندر ایک کافی بڑی لائبریری ہے۔ پانچ سو نشستوں کا خوبصورت کانفرنس ہال ہے۔ میں نے جس وقت اس کو دیکھا اس وقت ڈاکٹر عبد القيوم خاں اس کے ڈائرکٹر تھے۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ روم میں ایک ہزار چرچ ہیں۔ مگر پر فضا ماحول کے اعتبار سے یہ واحد اسلامی سنٹر سب سے زیادہ خوب اٹلی میں تقریباً چار لاکھ مسلمان ہیں۔ ان میں سے ۱۰ ہزار نو مسلم ہیں۔ Rome's Islamic centre promotes Islamic activities The Islamic Centre based in the Italian capital, Rome, after gaining recognition by the Government has redoubled its efforts to propagate Islamic Faith and culture throughout the country. Besides providing necessary facilities, the Centre periodically holds seminars and lectures on various aspects of the Islamic culture and civilization. The Centre has also established special institutes for studies on the Holy Qur'an and the tradition of the Prophet (peace be on him). One of the outstanding achievements of the Centre is production of a television series in the Italian language on the condition of the Muslim immigrants in Italy focussing on the problems faced by the immigrants in, carrying out their religious and cultural obligations in the country. The Centre has also published copies of a book on Islamic worship and other subjects with Italian translation for the benefit of non-Arabs. The production of the book was financed by a prominent Italian Baron Bourna Nova who had embraced Islam a few years ago. The Islamic Centre in Rome has established an institution for teaching Arabic, English and Italian languages for the Muslims living in the various parts of the country and the centre also offers this facility to non-Muslims interested in acquiring the knowledge of Islamic Faith, culture and its civilization
مکہ کے ہفت روزہ العالم الاسلامی (The Muslim World) کے شمارہ 11 ۔ 17 اکتوبر 1993 کے انگریزی حصہ میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔ یہ روم کے اس اسلامک سنٹر کے بارہ میں تھی جو عربوں کے تعاون سے وہاں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف سعودی عرب کی مشہور دینی شخصیت ہیں۔ وہ رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے روم گئے۔ وہاں انہوں نے پوپ جان پال دوم سے ملاقات کی۔ میں انھوں نے ورلڈ نیوز لنک کو ایک مفصل انٹرویو دیا۔ یہ انٹرویو حیدر آباد کے انگریزی روز نامہ نیوز ٹائم Newstime) کے شمارہ ۷، فروری 1993 میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ فنڈمنٹلست تحریکیں جو مسلم دنیا میں پھیل رہی ہیں ان کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں ان کے متشد دانہ طریقوں کی تائید نہیں کرتا۔ تشدد کا طریقہ اختیار کرنا مکمل طور پر غیر اسلامی ہے: