It is totally unlslamic to use violence.
Al-Risala, October 1995, pp. 28–33
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک اور سوال سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتوئی کے بارے میں تھا۔ کہا کہ اس قسم کی بات سراسر جذباتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج انسانی حقوق کو فروغ دینا چاہئے۔ موت کی سزا صرف ان مجرمین کو دینا چاہئے جو لوگوں کو قتل کریں۔ بقیہ ہر شخص کو انسانی حقوق دیا جانا
Q. What is your opinion of the death penalty imposed on the British author A. Some people, in emotion, pass these resolutions. I think that today we must promote human rights. The death penalty should be only for criminals who commit the crime of killing people. But otherwise, human rights should be given to everybody. یہ باتیں اگر ہندوستان کا کوئی عالم کہے تو تمام مسلمان اس کی جان کے دشمن ہو جائینگے اور اس کے سر پر لاکھوں روپیہ کا انعام مقرر کریں گے۔ لیکن یہی بات جب سعودی عرب کا ایک عالم کہتا ہے تو اس پر کوئی شور برپا نہیں ہوتا اور نہ کوئی ہنگامہ کھڑا ہوتا۔ ہمارے خود ساختہ نمائندگانِ اسلام
اس کے خلاف احتجاج نہیں کرتے۔ جو لوگ سعودی عرب میں ایک رویہ اختیار کریں اور بقیہ ملکوں میں دوسرا رویہ ، ایسے لوگ حدیث کی زبان میں ذوالوجہین ہیں۔ اور ذوالوجہین ہونا انسانیت کے مطابق بھی نہیں ، کجا کہ وہ ایمان و اسلام کے مطابق ہو۔
روم سے میلانوسے لئے الیتالیا کی ڈومسٹک فلائٹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ وقت پر روم سے روانہ ہوا۔ اس کی کارکردگی اور اندرونی سروس، ہر چیز انٹرنیشنل معیار کے مطابق تھی۔
مجھے یاد آیا کہ اورنگ آباد میں جب انڈین ایئر لائنز کا ایک کمرشیل جہاز (377 Boeing) حادثہ کا شکار ہوا اور اس میں ۵۵ مسافر ہلاک ہوگئے تو اٹلی کی حکومت نے ایک ٹریول ایڈوائس اس میں اطالوی سیاحوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ انڈیا میں انڈین ایئر لائنز کے ذریعہ سفر کو واؤڈ کریں۔ کیوں کہ اس سے سفر کرنا غیر محفوظ (unsafe) ہے ۔ اس پر حکومت ہند نے ایک بیان (ٹائمس آف انڈیا ۳۰ جون) جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس قسم کا مشورہ سراسر احمقانہ اور بے بنیاد ہے :
Such an advice was absolutely silly and baseless. میں نے جب انڈین ایئر لائنز اور الیتالیا کا عملی تقابل کیا تو مجھے خود یہ تردید بے بنیاد نظر آئی۔ انسان کی عام کمزوری ہے کہ جب اس کی کسی کوتاہی کو بتایا جائے تو وہ اصلاح کے بجائے تردید کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ حالاں کہ اگر کوتاہی کی نشاندہی کے بعد اصلاح پر توجہ صرف کی جائے تو وہ زیادہ مؤثر تر دید کا کام کرے گی۔
اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ قابل ذکر ہے۔ یہ واقعہ ۴ جون کو دہلی ایئر پورٹ پر وزیر اعظم ہند مسٹر نرسمہا راؤ سرکاری وزٹ پر عمان (مسقط) جا رہے تھے۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ سرحد پار سے دہشت گردی کو روکنے کے لئے حکومت مسقط کا تعاون حاصل کیا جائے۔ اس تعاون کے جواب میں حکومت ہند نے مسقط کو جدید ٹکنالوجی کی تربیت دینے میں تعاون کی پیش کش کی۔
وزیر اعظم اپنے خصوصی ہوائی جہاز پر پوری ٹیم سمیت سوار ہو چکے۔ ہوائی جہاز کے دروازے
بند کر دئے گئے۔ قریب تھا کہ جہاز اپنے سفر پر روانہ ہو۔ اچانک معلوم ہوا کہ ایک صاحب مسٹر نریندر ) بھی جہاز کے اندر بند ہو گئے ہیں جو وزیر اعظم کے ساتھ جانے والے نہیں تھے اور صرف پہنچانے کے لئے جہاز کے اندر داخل ہو گئے تھے۔ اس علم کے فوراً بعد ہوائی جہاز کے اندر اور باہر تیزی سے حرکت شروع ہوگئی۔ مخصوص سیڑھی واپس لائی گئی۔ جہاز کا پچھلا دروازہ دوبارہ کھولا گیا۔ اور مذکورہ صاحب جہاز کے باہر تشریف لائے ملاحظہ ہو ذیل کی تصویر جو ہندوستان ٹائمس ۱۵ جون ۱۹۹۳ سے لی گئی ہے۔
جس ملک میں وزیر اعظم تک کے معاملہ میں کارکردگی کا یہ حال ہو، اس ملک میں عوام کو اگر سرکاری شعبوں میں ناقص کارکردگی کا تجربہ ہو تو اس پر نہ تعجب کرنے کی ضرورت ہے اور نہ افسوس کرنے کی ضرورت۔
اس سفر میں میرے ساتھ ڈاکٹر ثانی اثنین خاں بھی ہیں۔ روم سے میلان کے لئے روانگی
ہوئی روم سے میلان کی پرواز تقریبا ۴۵ منٹ کی ہے۔ ہم لوگ میلان پہنچے تو سپہر کا وقت تھا۔ جب کہ اس وقت دہلی میں رات ہو چکی تھی۔ ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں کچھ وقت گزارا یہاں کانفرنس کے منتظمین سے پہلی ملاقات ہوئی۔ ان سے دیر تک میلان کی شہری اور تاریخی معلومات پر گفت گو ہوئی۔ ایئر پورٹ سے روانہ ہوئے تو گاڑی سیدھے ہوٹل نہیں گئی بلکہ شہر کے مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی ہوٹل پہنچی۔ اس طرح پہلے ہی دن شہر کا بڑا حصہ دیکھ لیا۔
میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ان ملکوں میں ہر چیز کا ایک معیار مقرر ہو گیا ہے۔ سڑکوں پر کثرت سے گاڑیاں دوڑ رہی ہیں، مگر وہ نہ آواز نکالتیں اور نہ ہی ہارن بجاتیں۔ پر کہیں خرید و فروخت کا منظر دکھائی نہیں دیتا۔ مکانات کی ایک خوبصورت وضع ہر جگہ برقرار دہلی میں کہیں لال بتی پر گاڑی کھڑی ہوتی ہے تو مانگنے والے اس کو گھیر لیتے ہیں، یہاں اس قسم کا منظر بھی کہیں نہ تھا۔ بد نظمی اور بے ترتیبی کی مثالیں بھی دکھائی نہیں دیں۔ عام لوگ جب ان چیزوں کو دیکھتے ہیں تو ان کو پہلا خیال یہ آتا ہے کہ ان کو بھی یہاں بسنے کا موقع مل جائے۔ مگر میرے دل میں ہمیشہ یہ تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ ہمارا وطن بھی کاش ایسا ہی ترقی یافتہ ہو جائے۔ مگر سرگرمیوں کے طوفان میں ابھی تک ہمارے یہاں اس کی شروعات بھی نظر نہیں آتی۔ میلان میں میرا قیام ہوٹل (Hotel Palazzo Delle Stelline) کے کمرہ نمبر ۲۴ میں تھا۔ اگست کو عشاء کی نماز میں نے یہیں پڑھی۔ اس کے بعد سو گیا۔ جلد ہی گہری نیند آگئی۔ رات کو ایک عجیب اور نئے قسم کا خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ کوئی مجھ سے کہہ رہا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ تمہاری کتابیں بخاری کی کتاب کی طرح ہو جائیں گی۔
یہ خواب غالباً دونوں میں ایک ظاہری مشابہت کی بنا پر ہے۔ محمد بن اسماعیل البخاری (۲۵۶ - ۱۹۴ھ) صاحب صحیح کے بارہ میں امام مسلم نے کہا تھا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ دنیا میں آپ کے مثل کوئی نہیں۔ آپ سے صرف اسی کو بغض ہو سکتا ہے جو حاسد ہو (البدایہ والنہایہ ۱۱/ ۶۶)، اس عظمت کے باوجود حضرت امام کا یہ حال ہوا کہ وہ بخارا میں تھے کہ ایک گروہ کو ان سے تعصب ہو گیا۔ اس نے ان کے اوپر تہمتیں لگائیں۔ یہاں تک کہ امام بخاری اپنے وطن سے نکل کو خستہ تنگ چلے گئے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔
۱۴۳۱ء، مگر آخر کار صحیح بخاری دنیا کی مقبول ترین کتاب بن گئی۔ اسی طرح انشاء اللہ ابتدائی مخالفتوں کے بعد وہ وقت آئے گا جب کہ یہ غبار ہٹے اور میری تحریریں مقبول عام تحریریں بن جائیں۔ مسیحیوں میں ایک سینٹ ایجی ڈیو (Egidio) گزرے ہیں۔ ان کا ابتدائی نام البورنو (Gil Alvarez Carrillo de Albornoz) تھا وہ ۱۳۱۰ء میں اسپین میں پیدا ہوئے، ۱۳۶۷ء میں اٹلی میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے سپاہی کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ کے بعد وہ چرچ سے وابستہ ہو گئے اور کارڈینل کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ اس زمانہ میں بعض وجوہ سے پوپ یاز دہم (Pope Gregory X1) کو روم چھوڑ کر فرانس کے شہر اوگنوں (Avignon) چلا جانا پڑا تھا۔ سینٹ ایجی ڈیو اپنی خصوصی کوشش سے پوپ کو دوبارہ روم واپس لانے میں کامیاب ہوئے۔
انھیں سینٹ ایجی ڈیو کے نام سے ایک مسیحی تنظیم ہے جس کا صدر دفتر روم میں ہے۔ کا نام کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو (Community of S. Egidio) ہے۔ میلان کی انٹر نیشنل کانفرنس اسی کمیونٹی کی طرف سے کی گئی تھی۔
یہاں کی تاریخی شخصیتوں میں سے ایک گیان گالیزو وسکونتی (Gian Galeazzo Visconti) وہ ۱۳۵۱ء میں میلان میں پیدا ہوا۔ پچاس سال کی عمر کو پہنچ کر ۳ ستمبر ۱۴۰۲ء کو اچانک اس کی وفات ہو گئی۔
گیان گالیزو کا والد میلان کا نواب تھا۔ والد کی وفات کے بعد میلان کی سیاسی تقسیم ہوئی۔ نصف حصہ گیان گالیز و کو ملا اور بقیہ نصف اس کے بھائی بر نابو (Bernabo) کے پاس رہا۔ بر نابو نے فرانس سے تعلقات پیدا کر کے اپنی طاقت بڑھانا شروع کیا۔ اس کو گیان گالیزو نے اپنے لئے ایک سیاسی خطرہ سمجھا، اس نے گھات لگا کر بر نابو کو گرفتار کر لیا اور اس کو قید خانہ میں ڈال دیا۔ بر نابو ایک سال کے اندر ہی قید خانہ میں مر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ گیان گالیز و نے اس کو زہر دے کر
اب گیان گالیزو کے لئے میدان خالی تھا۔ اس نے اپنی حکومت کو مستحکم کرنا شروع کیا۔ تک کہ اس نے پورے شمالی اٹلی میں غالب حیثیت حاصل کرلی۔ اپنی غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر وہ
مسلسل اپنی حکومت کا رقبہ اور طاقت بڑھاتا رہا۔ کہا جانے لگا کہ وہ دن دور نہیں جب وہ پورے اٹلی کا حکمران بن جائے۔ مگر حکومت پر قبضہ کے ۴ سال گزرے تھے کہ وہ پلیگ میں مبتلا ہوا اور چند دن بیمار رہ کر مرگیا۔
یہی ہر شخص کی کہانی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو صرف "۴ سال" ملتے ہیں ، مگر ہر آدمی اس طرح عمل کرتا ہے گویا کہ وہ ۴ ہزار سال تک زندہ رہنے والا ہے۔ کسی بھی اگلے شخص نے اپنے پچھلے شخص سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
نویں صدی عیسوی میں اغالبہ اٹلی کے جنوبی حصہ میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ بڑھتے ہوئے ۸۴۶ میں روم تک پہنچ گئے۔ مگر روم کی مضبوط دیواروں کو عبور کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہو سکا۔ لئے وہ یہیں سے واپس ہو گئے ۔ ہوائی جہاز کے دور میں کوئی دیوار پیش قدمی میں رکاوٹ نہیں بنتی، مگر قدیم زمانہ میں تمام بڑے بڑے شہر دیواروں سے گھرے ہوئے تھے ، اور ان دیواروں کو عبور کرنا عام طور پر سخت دشوار ہوتا تھا۔
تاہم اٹلی کے ساحلی علاقہ باری (Bari) میں عربوں کی حکومت تقریباً ۳۰ سال ۸۷۱ء میں عیسائیوں نے دوبارہ باری کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ مسلمانوں کا زور اس حد تک بڑھا کہ پوپ جان ہشتم نے مسلم حکمرانوں کو خراج سسلی پر مسلمانوں کا قبضہ ۸۲۷ میں شروع ہوا تھا جو تقریباً ۲۰۰ سال تک جاری رہا۔ اٹلی میں ان کا نفوذ زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ مسلمانوں کے جن فوجی سرداروں نے باری پر قبضہ کیا تھا ، انھوں نے اپنے "سلطان" ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس طرح وہ سسلی کی مسلم حکومت سے کٹ گئے: