Al-Risala · October 1995

Philip K. Hitti, 'History of Arabs, p. 605

Al-Risala, October 1995, pp. 33–38

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کمزوری آج بھی مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر پائی جاتی ہے۔ جس مسلمان کو بھی کہیں موقع ملتا ہے وہ مرکز سے بغاوت کر کے شاخ پر قبضہ کر لیتا ہے۔ یہی واحد سب سے بڑا سبب ہے جس کی بنا پر مسلمانوں میں کوئی بڑا کام نہیں ہو پاتا۔

اٹلی ہی کا ایک حصہ جزیرہ سسلی ہے۔ یہاں کے شہر پلرمو (Palermo) پر عربوں نے ۶۸۳۱

میں قبضہ کیا اور اس کے بعد پورے سسلی (صقلیہ) پر اپنی حکومت قائم کی۔ پلرمو اور سسلی کو اس نے ہر لحاظ سے ترقی دی۔ وہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ انھوں نے یہاں نئے زرعی طریقے رائج کئے، اور باغبانی کو غیر معمولی ترقی کے درجہ تک پہنچا دیا:

دور اول میں مسلمانوں کو عظمت کا جو مقام ملا اس کا راز شمشیر وسنان نہیں تھا۔ حقیقی راز صرف ایک تھا۔ اور وہ نفع بخشی تھا۔ دور اول کے مسلمان اہل عالم کے لئے نفع بخش بنے، اس لئے اہل عالم نے ان کو عزت اور سرداری کے مقام پر بٹھایا۔ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں نے نفع بخشی کی صلاحیت کھودی ہے، اس لئے موجودہ زمانہ میں انھیں عزت و سرداری بھی نہ مل سکی۔ اب کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ہمیں دوبارہ دوسروں کے لئے نفع بخش بننا لفظی شور و غل یا منفی ہنگاموں سے کبھی مسلمانوں کو کچھ ملنے والا نہیں ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے، اور قدرت کے قانون میں تبدیلی ممکن نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، مسلمانوں کی یلغار یورپ کی طرف جاری رہی۔ یہاں تک کہ وہ ویانا اور وینس (Venice) اور روم تک پہنچ گئے۔ ٹائم میگزین کا اسلام پر خصوصی ایشو ۱۵ جون ۱۹۹۲ میں نکلا تھا۔

اس میں اس نے لکھا تھا کہ موجودہ مسلمان یورپ کی زیادتیوں کی شکایت کرتے ہیں، حالاں کہ مسلمانوں کے پورے دور اقتدار میں کسی دنیا اپنے آپ کو محاصرہ کے اندر محسوس ۶۳۲ میں پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد ایک صدی کے اندر مسلمانوں نے اسپین کو فتح کر لیا تھا اور وہ فرانس کے دروازہ پر دستک دے رہے تھے۔ شارلیمن کے باپ چارلس مارٹل نے ٹورس کی جنگ میں ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔ تاہم ۱۴۵۳ میں عثمانی ترکوں نے قسطنطنیہ پر قبضہ کر لیا اور بلقان کے راستہ سے یورپ کی طرف بڑھنے لگے۔ ۱۶۸۳ میں ویانا کے ناکام محاصرہ نے ان کی مزید توسیع کو آخر کار روک دیا:

پچھلے ہزار برس کی تاریخ کا بیشتر پہلا حصہ مسلم یلغار کا دور تھا۔ اس کا دوسرا حصہ مغربی یلغار کا دور ہے۔ یہ انصاف کے خلاف ہوگا کہ ابتدائی حصہ کو بھلا دیا جائے اور صرف آخری حصہ کو یاد رکھا جائے ۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو قرآن کی اس آیت سے نصیحت لینا چاہئے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو ان کو بھی اسی طرح کا زخم پہنچا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (آل عمران ۱۴۰)

میلان کی قدیم تاریخ سے جو واقعات وابستہ ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جو الرازی (۸۶۵ - ۹۲۳ء) سے متعلق ہے جو اسلامی تاریخ کا مشہور فلسفی اور طبیب تھا: الرازی کی ایک مشہور طبی تصنیف کتاب الطب المنصوری ہے۔ یہ کتاب اس نے دس جلدوں میں تیار کی تھی۔ اس کتاب کا ترجمہ لاطینی زبان میں گیرارڈ (Gerard of Cremona) نے کیا۔ یہ لاطینی ترجمہ پہلی بار میلان سے پندرھویں صدی کی عثمانیات میں شائع ہوا۔

گیرارڈ اٹلی کے شہر کر یمونا میں ۱۱۱۴ء میں پیدا ہوا۔ یہ مقام میلان سے قریب ہے۔ گیرارڈ چاہتا تھا کہ وہ بطلیموس کی کتاب المجسطی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کرے۔ اس وقت یہ کتاب صرف عربی میں دستیاب تھی۔ چنانچہ گیرارڈ عربی زبان سیکھنے کے لئے طلیطلہ (Toledo) گیا۔ عربی سیکھ کر اس نے المجسطی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ اس کے بعد وہ طلیطلہ میں رہ گیا۔ مسلم اسپین کے اسی شہر میں ۱۱۸۷ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے تقریباً ۸۰ عربی کتابوں کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔

یہ آٹھ سو سال پہلے کی بات ہے جب کہ یورپ کو خود اپنے علوم سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے عربی زبان کی ضرورت ہوتی تھی۔ آج یہ حالت ہے کہ دنیا کی اکثر یونیورسٹیوں اور لائبریریوں اور تحقیقی اداروں میں عربی زبان موجود مگر زیادہ تر تاریخی اعتبار سے۔

اٹلی کی روشن خیالی (Enlightenment) کو عام طور پر بیساریا (Beccaria) طرف منسوب کیا جاتا ہے جس نے اپنی قوم کو یہ نعرہ دیا کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کے لئے زیادہ سے زیادہ خوشی :

"the greatest happiness for the greatest number."

مگر سوال یہ ہے کہ خود بیساریا کو یہ تصور کہاں سے ملا۔ کیوں کہ اس سے پہلے رومن ایمپائر کے طویل دور میں اہل اٹلی صرف یہ جانتے تھے کہ ہم اپنے بادشاہ کی رعایا ہیں۔ ہمارا اپنا کوئی حق ہمارے لئے بس وہی ہے جو تاجدار طبقہ ہمیں دیدے۔ اہل اسلام نے جب رومن ایمپائر کے مشرقی حصہ کو توڑا اور تمام انسانوں کی برابری کا انقلابی اعلان کیا، اس کے بعد ہی وہ وقت آیا جب کہ کوئی شخص یہ سوچ سکے کہ خوشی سب کے لئے ہے نہ کہ صرف کچھ لوگوں کے لئے۔ اٹلی کی تاریخ میں بہت سے سبق ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت مسیح کے ابتدائی شاگردوں کی تبلیغ سے اس علاقہ میں مسیحیت داخل ہوئی۔ مگر اس زمانہ کے رومی بادشاہوں ڈیسیس (Decius) اور ویلیرین (Valerian) نے اس کو اپنے قدیم شرکانہ مذہب کے خلاف سمجھا جس میں سورج کو سب سے بڑے خدا کا مقام حاصل تھا۔ چنانچہ ان کے زمانہ میں مسیحیوں کی سخت تعذیب (Persecution) شروع ہوئی جو چوتھی صدی عیسوی کے آغاز میں تقریباً ۲۰ سال تک جاری رہی۔

پو قسطنطین اول (Constantine I) مسیحیت سے متاثر ہو گیا۔ کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ اپنی ۳۱۲ء کی جنگ اس نے اس مسیحی مونو گرام کی وجہ سے جیتی ہے جو اس نے اپنی فوجوں کی ڈھال پر نقش کرائی تھی۔ اس کے بعد اس نے مسیحی مذہب قبول کر لیا۔ اور پوری مسیحی سلطنت میں مسیحیوں کے خلاف دار و گیر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سلسلہ میں اس نے اس معاہدہ پر دستخط کئے جو میلان میں لکھا گیا تھا۔ اس لئے وہ (Edict of Miload) کے نام سے مشہور ہے۔ اناس علی دین ملوکم کا تھا۔ چنانچہ اس کے جلد ہی بعد مسیحیت سارے رومن ایمپائر میں پھیل گئی۔ چوتھی صدی عیسوی کے شروع میں مسیحیت رومن ایمپائر میں ایک مظلوم مذہب کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر اس صدی کے آخر میں مسیحیت نے رومن ایمپائر میں فاتح مذہب کی

حیثیت حاصل کرلی۔ یہ دنیا انقلابات کی دنیا ہے۔ یہاں کوئی صورتحال پیش آنے پر نہ کسی کے لئے فخر کا موقع ہے اور نہ کسی کے لئے مایوسی کا۔ ہر فخر یہاں آخر کار ٹوٹ جاتا ہے ۔ اور ہر مایوسی آخر کار امید کے نئے واقعہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

یورپ میں جو ابتدائی میڈیکل کالج قائم ہوئے ان میں سے ایک میڈیکل کالج وہ ہے جو پندرہویں صدی عیسوی میں اٹلی کے شہر سلرنو (Salerno) میں قائم کیا گیا۔ اس میں ابوالقاسم (Abulcasis) کی کتاب بطور نصاب داخل کی گئی۔

ابوالقاسم الزہراوی (۱۰۶-۱۰۳۰) مشہور ترین عرب سرجن ہے۔ اس کا تعلق قرطبہ سے اس کی کتاب التصریف لمن عجز عن التالیف کا لاطینی ترجمہ گیرارڈ آف کریمونا نے کیا تھا۔ وہ ۱۵۷۹ میں وینس سے چھپا۔ اس کے بعد ۱۵۴۱ میں بیسل سے اور ۱۷۷۸ میں آکسفورڈ سے شائع یہ کتاب صدیوں تک یورپ کے طبی اداروں میں خصوصی اہمیت کے ساتھ پڑھائی جاتی

ایک مستشرق کے الفاظ میں، الزہراوی کی اس کتاب کو یورپ میں اتنی زیادہ اہمیت حاصل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس میں فن سرجری کے بارہ میں نئے خیالات (new ideas) موجود تھے۔ جو اس وقت کی کسی کتاب میں نہیں پائے جاتے تھے۔ اس دنیا میں نئے پن کی قیمت ہوتی جو شخص کوئی نیا تخلیقی آئیڈیا پیش کرے، وہ لازمی طور پر لوگوں کے درمیان قبولیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔

ایک مسلم میگزین میں میں نے پڑھا کہ "اسلام اٹلی کا دوسرا سب سے بڑا مذہب یہ بظاہر بہت بڑی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت میں وہ اتنی بڑی نہیں۔ ہے کہ اٹلی کی ۵۷ ملین آبادی میں کیتھولک عیسائیوں کا تناسب ۹۸ فیصد ہے۔ دو فیصد میں پروٹسٹنٹ عیسائی اور یہودی وغیرہ ہیں۔ اس دو فیصد آبادی میں مسلمانوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے، ان کی آبادی ملک میں تقریباً چار لاکھ ہے۔ اطالوی مسلمان زیادہ تر شمالی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو روزگار کی تلاش میں یہاں آئے تھے۔

دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں جرمنی، اٹلی اور جاپان نے ایک مشترک محاذ بنایا۔

جس کو محوری اتحاد (Axis coalition) کہا جاتا تھا۔ انہوں نے تمام طاقتوں کے خلاف مکمل جنگ (total war) کا اعلان کیا (19/564)۔ اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی نے اس سے پہلے ۲۵ اکتوبر ۱۹۳۲ کو میلان کی ایک خصوصی میٹنگ میں بتایا تھا کہ آج میں دل کے پورے اطمینان کے ساتھ آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ بیسویں صدی فاشزم کی صدی ہوگی۔ اطالوی طاقت کی صدی، ایک ایسی صدی جس کے دوران اٹلی تیسری بار عالم انسانیت کا قائد بن جائے گا: On October 25, 1932, Mussolini assured a Milan audience of the world leadership of fascist Italy. Today, with a fully tranquil conscience, I say to you, that the twentieth century will be a century of fascism, the century of Italian Power, the century during which Italy will become for the third time the leader of mankind. (7/185)

میلان اپنی جغرافی خصوصیت کی بنا پر مسلسل مختلف قوموں کے حملوں کا شکار رہا ہے۔ رومیوں نے اس کو ۲۲۲ ق م میں گال (Gauls) سے چھینا۔ اس کے بعد بار بار وہ مختلف حملہ آوروں کی زد میں آتا رہا۔ تاہم میلان کے باشندوں کے لئے یہ صورت حال ایک فائدہ کا سبب بن گئی۔ ایک مورخ کے الفاظ میں ، ذاتی تحفظ کی ضرورت نے اس کے باشندوں میں ہمت کی صفت پیدا کر دی۔ مزید یہ کہ وہ مال دار اور طاقت ور ہو گئے: The need of self-protection developed courage in the Milanese, and they also grew rich and powerful. اس دنیا میں ہر ناموافق کے ساتھ موافق موجود ہے۔ تاہم ناموافق واقعہ میں موافق پہلو کو پانے کی ایک لازمی شرط ہے، وہ یہ کہ ایسے مواقع پر آدمی کسی بھی حال میں اپنے اندر شکایتی ذہن پیدا نہ ہونے دے۔

۱۶ ستمبر کے شام کے پروگرام میں میرا مقالہ تھا۔ اس اجلاس کا موضوع تھا: مذہبی بقاء باہم ہندستان میں:

Printed page