Religious coexistence in India.
Al-Risala, October 1995, pp. 38–41
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے انگریزی میں اپنا مقالہ پڑھا۔ میرے علاوہ تین مقالے اور اس مجلس میں پڑھے گئے۔ ۲۱ ستمبر کی صبح کو اٹالین ٹی وی نے انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو کیتھولک یونیورسٹی کے ہال میں ریکارڈ
سوالات کا تعلق کچھ موجودہ کانفرنس سے تھا اور کچھ ہندوستان کے حالات سے۔ ۱۸ اگست کو شام کا کھانا اجتماعی تھا۔ سب چیزیں اطالوی انداز کی تھیں۔ میں اپنے سادہ کھانے کا اتنا زیادہ عادی ہو گیا ہوں کہ اب دوسرے انداز کی چیزیں کھانا میرے لئے سخت مشکل ہوتا ہے۔
میرے ساتھ کھانے کی بڑی میز پر دوسرے تمام مسیحی حضرات تھے۔ ایک فادر روانی کے ساتھ عربی بول رہے تھے۔ اگرچہ لہجہ خالص عربی نہ تھا۔ میرے پاس ایک کرسی خالی تھی۔ اس پر ایک خاتون آکر بیٹھ گئیں ۔ وہ مجھ سے عربی زبان میں سوالات کرنے لگیں۔ وہ بے تکلف عربی بول رہی میں نے پوچھا کہ کیا آپ کا تعلق لبنان سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، میں اطالوی ہوں، میں نے روم کی یونیورسٹی میں عربی زبان پڑھی۔ پھر میں کئی سال تک شام میں رہی ہوں۔ میں روم کی یونیورسٹی میں عربی کے شعبہ میں استاد ہوں۔
مسیحیت کے مذہبی حلقہ میں کثرت سے ایسے لوگ ہیں جو دوسری زبانوں میں مہارت جبکہ مسلمانوں کے مذہبی حلقہ میں ایسے لوگ شاذ و نادر پائے جاتے ہیں۔ شاذ کا کوئی اعتبار نہیں، کیوں کہ الشاذ کالعدوم۔
۱۹ ستمبر کو صبح کے ناشتہ پر الجزائر کے دو تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ الجزائر میں اس وقت امن وامان مفقود ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک صاحب الجزائر چھوڑ کر دوسرے ملک میں چلے گئے اور دوسرے صاحب وہیں ایک یونیورسٹی میں استاد ہیں۔
انھوں نے کہا کہ الجزائر کی حکومت ایک علمانی حکومت ہے۔ اور اس کے خلاف موجودہ تحریک ایک اسلامی تحریک ہے۔ اس کا مقصد عدل کی حکومت قائم کرنا ہے۔ حکومت کو امریکہ اور ڈول یورپ کی تائید حاصل ہے۔ مسلم ممالک بھی اس کے ساتھ ہیں۔ الجزائر کی فوج کے اعلی افسران بھی حکومت کے ساتھ ہیں۔ چنانچہ وہ اسلامی تحریک پر ظلم کرنے میں پوری طرح جری ہو گئے ہیں۔ انھوں نے الجزائر کی کئی مسجدیں یہ کہہ کر ڈھادیں کہ ان کے اندر حکومت کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں اور انقلاب کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ یہ مسجدیں اب
تک کھنڈر کی صورت میں پڑی ہوئی ہیں۔
مزید گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ یہ وہ خروج نہیں ہے جو شریعت میں کیوں کہ امام عادل کے خلاف خروج حرام ہے، جب کہ الجزائر کے حکمران ظالم اور مگر یہ شرط صحیح نہیں۔ خروج (سیاسی بغاوت) کا مسئلہ عادل اور غیر عادل کے فرق پر مبنی نہیں ہے بلکہ قائم شدہ اور غیر قائم شدہ کے فرق پر مبنی ہے۔ جو حکومت عملاً قائم ہو جائے خواہ وہ کسی کے نزدیک عادل ہو یا غیر عادل، اس کے خلاف خروج لازماً حرام ہو گا۔ سے الجزائر اور مصر وغیرہ ملکوں میں اسلام کے نام پر سیاسی بغاوت کی جو تحریکیں چل رہی ہیں وہ شرعی مسئلہ کے اعتبار سے سراسر نا جائز ہیں۔ کیوں کہ یہ تحریکیں قائم شدہ حکومتوں کے خلاف چلائی جا رہی ہیں۔
19 ستمبر کی شام کو میلان کے سب سے بڑے تھیٹر میں افتتاحی اجلاس ہوا۔ یہ ایک عالمی شہرت یافتہ تھیٹر ہے جو ۱۹۷۷ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ وہ غیر معمولی عظیم ہے۔ زیادہ بڑی بڑی تقریب ات اسی کے اندر انجام پاتی ہیں۔ افتتاحی اجلاس میں تین بڑی تقریریں ہوئیں۔ مقررین میں سابق سوویت یونین کے سابق جبر کاں گور با چیف بھی شامل تھے۔
میری سیٹ پہلی صف میں دائیں طرف تھی۔ اس لئے میں گور با چیف کو بہت صاف دیکھ سکتا مسی دنیا میں گور با چیف کا استقبال غالباً اس لئے ہوا ہے کہ اس کی پالیسی کی وجہ سے سابق سوویت یونین میں چرچ کو آزادی ملی اور قفل چرچ دوبارہ کھول دئے گئے۔
پہلے یہاں کی رسم کے مطابق بعض خاص تقریبات ہوئیں میری سیٹ کا نمبر اٹھا اور گور با چیف کا نمبر گور با چیف اپنی اہلیہ کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے۔ وہ پہلی صف میں میرے قریب پہنچے تو مجھ سے اور چند لوگوں سے مصافحہ کیا۔ ان کا چہرہ بظاہر سوکھا ہوا تھا، تاہم انھوں نے مصافحہ کرتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کی۔ جب میں نے گور با چیف کو قریب سے دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ایک دیکھے ہوئے شخص کو دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ اخباروں کی تصویر میں بار بار میں ان کو دیکھ چکا تھا۔ کی وہ آیت یاد آئی کہ و أوتوا به متشابهاً (بقرہ ۲۵)، میں نے اس سے پہلے گور با چیف کو نہیں دیکھا تھا مگر میں نے ان کی تصویر کو دیکھا تھا۔ اسی طرح اہل جنت نے اگرچہ اس سے پہلے 40. البلاغ، اکتوبر 1995
جنت کو نہیں دیکھا ہو گا مگر انہوں نے اس کی تصویر کو دیکھا ہو گا۔ موجودہ دنیا کی ہر نعمت دراصل نعمت جنت کی ایک تصویر ہے۔
آخر میں گورباچوف نے روسی زبان میں تقریر کی۔ میں نے اس کا انگریزی ترجمہ سنا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ آج کی دنیا کی طاقت ہتھیار نہیں ہے بلکہ ریزن ہے۔ یہ بات ایک ایسا شخص کہہ رہا تھا کہ جو تاریخ کے ہولناک ترین ہتھیاروں کا مالک رہ چکا ہے۔ کانفرنس میں ایک عرب شیخ سے ملاقات ہوئی۔ فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے اعتراف کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ تمام عرب ممالک اس پر چپ ہیں۔ کسی نے بھی اس کی مذمت نہیں کی۔ مطلب یہ ہے کہ وہ راضی ہیں۔ انہوں نے پرمسرت چہرہ کے ساتھ کہا: انا فرحان، واللہ انا فرحان (میں خوش ہوں، بخدا میں خوش ہوں) اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ پچاس سالہ ٹکراؤ کے نتیجے میں ان کا سب کچھ کھو گیا تھا۔ ان کے لئے نہ امن تھا، نہ رہنے کی جگہ اور نہ معاش کا انتظام۔ ایسی حالت میں ان کے لئے کوئی اور صورت باقی نہیں رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے نام کے ساتھ آپ کی اس رائے کو اپنے سفر نامہ میں لکھ سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں (لا لا)
مجھ میں اور دوسروں میں یہی فرق ہے۔ میں جو حالات سے موافقت کی بات کرتا ہوں وہ کسی بھی درجہ میں تنہا میری رائے نہیں ہے۔ وہی تمام باشعور مسلمانوں کے دل کی آواز ہے۔ یہ ہے کہ دوسرے لوگ صرف نجی ملاقاتوں میں اس کا ذکر کرتے ہیں، وہ اس کے لئے اعلان کی ہمت نہیں جب کہ میرا معاملہ یہ ہے کہ جو کچھ میرے دل میں ہوتا ہے وہی میری زبان پر بھی ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس دہرے معیار کا تحمل نہیں کر سکتا کہ میرے دل میں کچھ اور ہو اور میری زبان پر کچھ اور ۔
۲۸ ستمبر کو کانفرنس کے تمام شرکا کا چھ گروپ میں بانٹ دئے گئے۔ ہر گروپ کے لئے الگ الگ موضوع مقرر کر دیا گیا۔ یہ پروگرام یہاں کی مشہور کیتھولک یونیورسٹی میں تھا۔ یونیورسٹی کے طلبہ نیز شہر کے لوگ بڑی تعداد میں ان پروگراموں میں شریک ہوئے۔ ایک گروپ کا موضوع وسط ایشیا میں ان میں اس میں شریک ہوا۔