Al-Risala · October 1995

41 الرسلہ | اکتوبر 1995

Al-Risala, October 1995, pp. 42–43

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں مختلف ملکوں کے یہودی علماء بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ایک یہودی ربی نے کہا کہ واشنگٹن میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کا جو عمل شروع ہوا وہ بہت مشکل ہے تاہم امید ہے کہ خدا کی مدد سے امن کی کوشش کرنے والے اپنی کوشش میں کامیاب ہوں گے: By the help of God, peace makers will make it. ۲۰ ستمبر کو شام کا کھانا میلان کے پرانے قلعہ میں تھا۔ یہ قلعہ چودھویں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا مگر ابھی تک وہ نہایت اچھی حالت میں ہے۔ اس میں ایک میوزیم قائم ہے۔ یہاں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر کمال الشریف تھے جو اردن سے وہ فرانسیسی زبان جانتے تھے۔ انہوں نے فرانس کے مشہور مصنف اینڈرے بالرکس (Andre Malraux) کے بارہ میں بتایا کہ اس نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی یا تو مذہبی صدی ہوگی یا سرے سے اس کا وجود ہی نہ ہوگا:

القرن الواحد والعشرون اما ان يكون قرن الدين او لا يكون یہ بات نہایت درست معلوم ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ حالات بظاہر پہلے امکان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ کیوں کہ ساری دنیا میں بہت بڑے پیمانہ پر مذہب کا احیاء جاری ہے۔ انسان کو تیزی سے مذہب کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ پہلے مرحلہ میں بظاہر ہر مذہب ابھرے گا۔ اس کے بعد انسان صحیح تر مذہب کی تلاش کرنا چاہے گا۔ اور یہ دوسری کوشش اس کو ” دین محفوظ“ تک پہنچانے کا سبب بن جائے گی۔

۲۱ ستمبر کی صبح کو دوبارہ مجھے چھ پینل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ میں نے اس پینل کا انتخاب کیا جو بوسنیا کے مسئلہ پر تھا۔ ہال میں پہنچا تو وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ سب سے زیادہ لوگ اس کو سننے کے لئے آئے تھے۔ حاضرین میں سے کثیر تعداد شہر کے لوگوں

مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ زیادہ تر تقریریں انگریزی میں ہوئیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ بوسنیا کا مسئلہ یورپ کی اسٹیج کے لئے فٹ بال انٹری کے ہم معنی ہے۔ یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں

برصنیا کی ٹریجڈی کا کچھ بھی تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ اسلام سولھویں صدی میں بوسنیا میں پھیلا۔ ایک صاحب نے کہا کہ:

It is nothing to do with the gospel. It is not a religious conflict; but a political one.. ایک صاحب نے کہا کہ مارشل ٹیٹو نے ساری دنیا کو دھوکہ دیا۔ اس نے پورے یوگوسلاویہ کو ایک نیشن بتایا۔ حالاں کہ وہاں مختلف گروہ تھے ، کوئی ایک نیشن نہیں تھی۔ ایک صاحب نے کہا کہ بوسنیا میں آرمی پوری طرح سرب کے ہاتھ میں تھی۔ یہ مسئلہ اس لئے اتنا بڑھا کہ آرمی سب کی سب سرب پر مشتمل ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ کیتھولک چرچ مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے ۔ صرف زیادتی (atrocity) کے خلاف ہے۔ ایک پادری نے کہا کہ بوسنیا میں صرف مسلمان ہلاک نہیں ہو رہے ہیں بلکہ کرسچن بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ انھوں نے جذباتی انداز

Printed page