Where is the conscience of mankind.
Al-Risala, October 1995, pp. 43–45
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک پادری نے کہا کہ میں اپنے گھر میں عبادت اور دعا میں مشغول تھا کہ مسلح افراد کا ایک گروہ میرے گھر میں داخل ہوا۔ انھوں نے پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو۔ میں نے کہا کہ میں دعا کر رہا ہوں۔ انھوں نے پوچھا کہ کس کے لئے انھوں نے جواب دیا کہ اے میرے بچو، تمھارے لئے۔ باہر نکلے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کو چھوڑ دو۔ انھیں کچھ نہ کہو۔ ان کو یقین نہیں تھا کہ کوئی اپنے دشمن کے لئے نیک دعا کر سکتا ہے۔ وہ لوگ واپس چلے گئے۔
اس کانفرنس میں بوسنیا کے ایک عالم شیخ یعقوب سلیموسکی بھی شریک تھے۔ آجکل وہ مقدونیہ (Macedonia) میں مقیم ہیں۔ وہ ادھیڑ عمر کے ہیں اور روانی کے ساتھ عربی زبان بولتے ہیں۔ مقدونیہ کا ٹیلیفون نمبر یہ ہے : 255650-91-38 انھوں نے عربی میں تقریر کرتے ہوئے کہا: مارچ ۱۹۹۲ میں بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف ظلم شروع ہوا۔ بوسنیا کی حیثیت پہلے منطقہ عسکریہ کی تھی۔ چنانچہ وہاں نہایت طاقت ور یوگوسلاوی فوج موجود تھی جس میں بیشتر سرب سے تعلق یہ یورپ کی پانچویں سب سے بڑی فوج تھی۔ ہر یورپی ملک میں مسلمان موجود ہیں۔ بوسنیا و ہر سک میں یورپ کو مسلمانوں کا وجود برداشت نہیں۔ کیوں کہ ہم وہاں عالم اسلامی کا جزء
لائیجر یی بن کر رہنا چاہتے ہیں۔ آغاز جنگ سے پہلے یہاں دو ملین مسلمان تھے۔ یورپ یہاں کے مظلوم مسلمانوں کو مقامہ بلکہ اجازت بھی نہیں دے رہا ہے۔ غیر مذہب یوں کو ختم کرنا، یہ سب کا مقصد ہے۔ آرمی جو کمیونسٹ دور میں بنی تھی اس میں بیشتر افراد ملحد اور مذہب مخالف ہیں۔ شیخ یعقوب سلیموسکی کی جذباتی تقریر کو تمام حاضرین آلات کے ذریعہ انگریزی اور اطالوی زبان میں سن رہے تھے۔ انھوں نے تقریر ختم کی تو ہال میں دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ کسی اور کی تقریر پر اتنی تال نہیں بجی۔ انھوں نے کہا، مجھے یقین ہے کہ یہ تالیاں ہمارے نقطہ نظر کی پرجوش تائید کر رہی ہیں۔
۲۲ ستمبر کو آخری اجلاس تھا۔ صبح سے دوپہر تک کے اجلاس میں لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار اور آخر میں امن کے قیام کے موضوع پر تجویز پیش ہوئی اور منظور ہوئی۔ دوپہر بعد حسب روایت "پریئر" کی تقریب تھی ۔ یعنی امن کے قیام کے لئے اجتماعی دعا۔ مختلف مذہب کے لوگوں کے لئے الگ الگ جگہیں متعین کی گئی تھیں۔ ہمیں ایک چرچ تک یہاں چرچ کی عمارت کے وسیع حصہ کو خالی کر کے مسجد کے انداز میں بنایا گیا امن عالم کے لئے یہ ساتویں انٹرنیشنل میٹنگ تھی۔ اس سے پہلے اس قسم کی میٹنگ اسپین، روم، وارسا، باری، مالٹا، برو سیلز میں ہو چکی ہے۔ اب یہ ساتویں میٹنگ میلان (اٹلی) میں ہوئی ہے۔ ان عالمی اجتماعات میں مخصوص تقریب کے دوران اس کے شرکا امن کی اپیل پر دستخط کرتے ہیں۔
شیخ یعقوب سلیموسکی کا پتہ یہ ہے:
S. Selimoski Yakub, Rijpset Islamike Ajednice, Sarajeyo (B.H.)
۲۲ ستمبر ۱۹۹۳ کو میلان کے جس وسیع مکان میں مسلمانوں کے لئے اجتماعی عبادت کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ اس کے ایک کمرہ میں کانفرنس کے مسلم شرکا جمع ہوئے۔ سب کی فرمائش پر شیخ یعقوب سلیموسکی نے بوسنیا کے موجودہ حالات پر ایک تقریر کی۔ یہاں سامعین سب مسلمان تھے۔ ابتدائی تقریر میں انھوں نے صرف مسلمانوں پر ہونے والے مظالم بیان کئے۔ تقریر کے بعد لوگوں نے سوالات کئے۔ سوال و جواب کے دوران انھوں نے کئی نئی باتیں بتائیں۔
ایک شخص نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقابل ماضی کے حالات سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بوسنیا کے مسلمانوں نے بہتر حالت سے بری حالت کی طرف چھلانگ لگائی ہے۔ اقرار کیا اور کہا کہ ہاں، لوگوں نے غلطیاں بھی کیں (طبعا كانت هناك اخطاء)، انھوں نے کہا کہ جنگ چھڑنے سے پہلے وہاں جذباتی تحریک (حركة عاطفية) پائی جارہی تھی نہ کہ عقلی تحریک (حركة مسلمانوں کے پاس کوئی عسکری طاقت نہ تھی جب کہ بوسنیا میں نہایت طاقت ور سرب فوج اسی فوج نے اعلانِ آزادی کے بعد مسلمانوں کو مارنا شروع کیا۔ شیخ یعقوب کی تقریر سننے کے بعد میں نے ایک عرب عالم (شیخ سکوتہ) سے کہا کہ جب بوسنیا میں سرب کی طاقت ور فوج موجود تھی اور مسلمانوں کے پاس کوئی طاقت نہ تھی تو انھوں نے حالات کا لحاظ کئے بغیر آزادی کا اعلان کیوں کر دیا۔ شیخ نے کہا (غفلة كبيرة) میلان میں ایک بہت بڑا ادارہ ہے جس میں چرچ بھی ہے اور اس کے علاوہ مختلف قسم کی سماجی اور معاشی اور تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس میں اسی ہزار طلبہ کے قیام کا انتظام ہے، اس کی یہ ہے: