مومن کی تطہیر
Al-Risala, November 1995, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی بیماری یا تکلیف جو مسلم کو پہنچتی ہے وہ اس کے گناہ کا کفارہ ہو جاتی ہے (ما من مرض او وجع يصيب المسلم الا كان كفارة لذنبہ)۔
اس طرح کی روایتیں مختلف الفاظ میں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جسمانی یا ذہنی تکلیف عام انسان کے لئے تو صرف تکلیف ہے۔ مگر صاحب ایمان کے لئے وہ گناہوں کو دور کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو آدمی ایمان و اسلام کے دائرہ میں داخل ہو جائے، اس کے لئے خود بخود ایسا ہوتا رہے گا کہ جب بھی کوئی تکلیف پڑی تو اپنے آپ ہی اس کی کوتاہیاں اور اس کے گناہ دھلتے چلے جائیں گے۔ اس کا تعلق تکلیف کے بعد ظاہر ہونے والی نفسیاتی کیفیت سے ہے نہ کہ کسی پر اسرار قسم کے خود کار نظام سے۔ یہ دراصل مومن اور غیر مومن کی نفسیات کے فرق کا معاملہ ہے۔ غیر مومن کو کوئی تکلیف پیش آتی ہے تو اس کو وہ کسی کا ظلم سمجھ کر شکایت اور احتجاج کرتا ہے۔ وہ فریاد و ماتم میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اس طرح تکلیف ایک غیر مومن کو منفی رد عمل کے سوا کچھ اور نہیں دیتی۔ اس کے برعکس تکلیف کا معاملہ جب ایک ایسے انسان کے ساتھ پیش آتا ہے جس کو ایمان کی معرفت مل چکی ہو، اسلام نے جس کے ذہنی سانچہ کو بدل ڈالا ہو تو وہ تکلیف کا استقبال خدائی آزمائش کے طور پر کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تکلیف اس کے اندر خود احتسابی پیدا کرتی ہے۔ وہ تواضع اور اعتراف میں ڈوب جاتا ہے۔ حالت اس کو خدا کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ دعا کرنے لگتا ہے۔ گناہوں اور اپنی کوتاہیوں سے معافی مانگنے لگتا ہے۔
اس طرح تکلیف مومن کے لئے پاکی کا سبب بن جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر، تکلیف میں غیر مومن کے لئے منفی نتیجہ ہے اور مومن کے لئے مثبت نتیجہ۔