مذہبی استدلال
Al-Risala, November 1995, pp. 211–212
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر خوشونت سنگھ کا ایک ریگولر کالم ہندوستان ٹائمز میں شائع ہوتا ہے۔ اس کا عنوان ہوتا ہے: ہر کس و ناکس کے لئے عداوت کے ساتھ (with malice towards one and all) اخبار کے شمارہ ۲۵ مارچ ۱۹۹۵ میں اس کالم کا ایک عنوان تھا سائنس بمقابلہ خدا (Science versus God) اس میں انھوں نے بتایا کہ ایک اطالوی خاتون (Cedra Osborne) کے خط کے جواب میں انھوں نے لکھا کہ میں نے تمام مذہبی عقائد کو اور پیغمبروں کو چھوڑ دیا ہے جنہوں نے خدائی علم کا دعویٰ کیا۔ اور یہ کہ جب تک کوئی شخص مجھے ان سوالوں کا جواب نہ دے اس وقت تک میں لاادریہ (agnostic) رہوں گا۔ یعنی یہ ماننا کہ خدا یا دوسری غیر مادی اشیاء کی ہستی کے متعلق ہمیں کچھ علم نہیں۔
وہ تین سوالات یہ ہیں (1) ہم کہاں سے آئے ہیں (۲) ہم یہاں کیوں ہیں (۳) موت کے بعد ہم کہاں جاتے ہیں :
I wrote to her that I had discarded all religious faith and world’s prophets who claimed knowledge of Him. And that till somebody gave me answers to three questions I would remain an agnostic. My questions are: Where have we come from? Why are we here? Where do we go when we die? The Hindustan Times, New Delhi, March 25, 1995 میں کہوں گا کہ ان سوالات کا جواب بے حد آسان ہے۔ وہ یہ کہ دوسری حقیقتوں کو ماننے کے لئے انھوں نے جو اصول بالفعل اختیار کر رکھا ہے، اسی کو وہ مذہب اور خدا کے معاملہ میں بھی اختیار کر لیں۔ اور اس کے بعد انھیں اپنے تمام سوالات کا جواب مل جائے گا۔ جو لوگ اپنے کو لا ادریہ (agnostic) کہتے ہیں وہ ایک زبردست غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جس فکری مشکل کی وجہ سے وہ خدا اور مذہب کے معاملہ میں متشلک بن گئے ہیں، وہ فکری مشکل صرف مذہبی سوالات کے بارہ میں ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ فکری مشکل ہر مسئلہ کے ساتھ لگی ہوئی ہے، خواہ وہ کوئی بھی مسئلہ ہو۔
مذہبی عقائد کے بارہ میں متشلک بننے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ محسوس عقلی دلائل کے
ذریعہ ثابت نہیں ہوتے۔ مگر ٹھیک یہی بات دوسرے تمام امور کے بارہ میں ہے۔ مثال کے طور پر مسٹر خوشونت سنگھ نے جس میز پر بیٹھ کر یہ الفاظ لکھے ہیں، اس کا معاملہ بھی اتناہی مشتبہ ہے جتنا کہ ان کے نزدیک مذہبی عقائد کا معاملہ۔ کیوں کہ یہ میز بظاہر ایک محسوس صورت میں دکھائی دے رہی مگر سائنسی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ کوئی دکھائی دینے والی چیز نہیں۔ اس دنیا میں آدمی جس چیز کو بھی مانتا ہے، قرائن کی بنیاد پر مانتا ہے نہ کہ محسوس دلائل کی بنیاد پر۔ کیوں کہ محسوس دلائل قائم کرنا کسی بھی چیز پر ممکن نہیں۔ ہر آدمی، حتیٰ کہ تشکک بھی اس اصول کو مانتا ہے۔ اگر وہ نہ مانے تو وہ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اس اصول کو نہ ماننے کی صورت میں وہ ہر چیز، حتیٰ کہ کھانے اور پانی پر بھی شک کرے گا۔ پھر وہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔
اس اصولی وضاحت کے بعد اب اصل سوال پر آیئے ۔ مسٹر خوشونت سنگھ ریان کی طرح کے دوسرے لوگوں کے، ان سوالات کا جواب یہ ہے :
ہم عدم سے وجود میں آئے ہیں۔ اور ہم کو خدا نے پیدا کیا ہے۔
دنیا میں ہماری زندگی کا مقصد آزمائش ہے، یہاں ہم خدا کی طرف سے حالت امتحان
موت کے بعد ہم عالم آخرت کی طرف چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے موجودہ ریکارڈ کے مطابق اس کا انجام پائیں۔
یہ جوابات کیوں صحیح ہیں۔ وہ اس لئے صحیح ہیں کہ تمام قابل حصول قرائن اس کی صحت کی تائید کرتے ہیں۔ میں فطرت انسانی کے مطالبات کی تکمیل ہورہی ہے۔ اور اس معاملہ کی اس سے بہتر کوئی اور توجیہ ابھی تک سامنے نہ آسکی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج۔ زندگی اور کائنات سے متعلق کوئی بھی چیز جس کو ہم مانتے ہیں اس کو اسی طرح قرائن کی بنیاد پر مانتے تمام چیزوں کو ہم علم ظنی ہی کی بنیاد پر مانتے ہیں نہ کہ علم قطعی کی بنیاد پر۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ایک دیانت دار آدمی کے لئے صرف دو میں سے ایک کا چوائس ہے۔ وہ تمام چیزوں کو یا تو قرائن کی بنیاد پر مانے یا کسی بھی چیز کو نہ مانے۔ مسٹر خوشونت سنگھ جیسے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ تھرڈ آپشن لے رہے ہیں۔ تھرڈ آپشن ممکن ہی نہیں۔