اسلام مذہب امن
Al-Risala, November 1995, pp. 213–16
By Maulana Wahiduddin Khan
یورپ کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ وہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ اوہوں نے بتایا کہ وہ روزگار کی تلاش میں تھے۔ اس سلسلے میں وہ ایک غیر مسلم ادارہ میں انٹرویو کے لئے گئے۔ گفتگو کے دوران انٹرویو ر نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نوجوان نے کہا کہ ہاں۔ یہ سن کر انٹرویو ر نے فوراً کہا کہ پھر تو تم دہشت گرد ہو: Then you are a terrorist. موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ایک طبقہ کے کٹر پن اور اس کی جنگ جو یانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ اسلام دہشت گردی (terrorism) کا اسلام اپنا مقصد جنگ اور تشدد کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر یہ بات مکمل طور پر خلاف واقعہ ہے۔
اسلام مسلمانوں کے کسی رویہ کا نام نہیں ہے۔ اسلام ایک اصولی مسلک کا نام ہے، نہ کسی قوم کے قومی طرز عمل کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے عمل کو اسلام سے جانچا جائے گا نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے جانچا جانے لگے۔ اگر کچھ مسلمان دہشت گردی کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں نہ کہ اسلام۔ ان کے اسلامی نعرہ کی وجہ سے ان کا عمل اسلام کا عمل نہیں بن جائے گا۔
اسلام پیغمبر اسلام کی تعلیمات اور آپ کے نمونہ حیات کا نام ہے۔ اور پیغمبر اسلام امن کے پیغمبر تھے، وہ جنگ کے پیغمبر نہیں تھے۔ اسی لئے قرآن میں آپ کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے تم کو ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے (وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين)
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے۔ یہاں پہلا بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام حرب رکھا۔ عرب ایک جنگجو قوم تھے۔ چنانچہ وہ جنگی
ناموں کو پسند کرتے تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام کو معلوم ہوا تو آپ نے حرب نام کو پسند نہیں کیا۔ آپ نے کہا کہ اس کے بجائے تم بچہ کا نام حسن رکھو۔
اس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ آپ پورے معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ آپ کی امن پسندی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ آپ حرب جیسا لفظ سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ آپ تشدد میں نہیں بلکہ حسن اخلاق میں یقین رکھتے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم انقلاب لے آئے۔ مگر یہ انقلاب امن کی قوت سے برپا کیا گیا نہ کہ جنگ کی قوت سے۔ اگر کبھی آپ نے جنگ کی تو وہ مجبورانہ دفاع کے طور پر تھی نہ کہ آپ کی اپنی پسند اور آپ کے اپنے انتخاب کے تحت۔
امن آپ کی زندگی کا ایک عمومی اصول تھا اور جنگ صرف ایک اتفاقی استثناء ۔ ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ نے صرف تین لڑائی لڑی (بدر، احد، حنین)، یہ تینوں لڑائیاں دفاعی تھیں اور ان میں مجموعی طور پر صرف ڈیڑھ دن صرف ہوئے۔
زید بن مہلہل نجْد میں بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہ شاعر تھے۔ ساتھ انھوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی۔ چنانچہ وہ زید الخیل کے خیل عربی زبان میں گھوڑے نیز گھوڑے سے سوار کو کہتے ہیں۔ انھوں نے اسلام سے پہلے فارس (شہ سوار) اور شمشیر زن کی تعریف پر ایک پرجوش نظم اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارہ میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکا دیا ہو : و قومي رؤوس الناسِ والرأسُ قائدُ اذا العربُ شَبَّتْهَا الأَلُفُ المساعِرُ زيد الخيل ، ہجرت کے بعد مدینہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیل کا نام پسند نہیں کیا۔ آپ نے ان کا نام بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔ ۹ھ میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا۔
یہ واقعہ اسلام کی اسپرٹ کو بتاتا ہے۔ اسلام دین رحمت ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو زید شہ سوار بنانا نہیں ہے۔ بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی زید صاحب خیر بنے۔ ۱۲ الرسلہ - نومبر ۱۹۹۵
عرب میں گھوڑا دوڑانا اور تلوار کا کمال دکھانا، ہیرو آنہ کام سمجھا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام نے ان کے جذبات کو موڑا۔ اور ان کو یہ ذہن دیا کہ وہ خیر کے حامل بنیں، وہ خیر کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیں۔ وہ لوگوں کو موت کا تحفہ نہ دیں بلکہ وہ لوگوں کو زندگی کا تحفہ دینے کی کوشش
آجکل کی زبان میں اگر کہا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا مقصد تخلیقی (creative) انسان پیدا کرنا ہے۔ اللہ پر ایمان آدمی کے اندر تخلیقی اوصاف کو جگا دیتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ عام سوچ سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ اس کا کردار دوسرے لوگوں کے کردار سے بلند ہو جاتا ہے۔ وہ زمین میں رہتے ہوئے ایک آسمانی انسان بن جاتا وہ ظواہر میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔
دوسرے لوگ اگر اپنی ذات کو چاہنے والے ہوتے ہیں تو وہ خیر کو چاہنے والا ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ اگر استحصال کرنے والے ہوتے ہیں تو وہ نفع پہنچانے والا ہوتا ہے۔ کے مزاج میں اگر سرکشی ہوتی ہے تو اس کے مزاج میں تواضع ہوتی ہے۔ دوسرے لوگوں کی خصوصیت اگر جنگ پسند ہوتی ہے تو اس کی خصوصیت امن پسند ۔ دوسرے افراد اگر لوگوں کو مار کر خوش ہوتے ہیں تو وہ لوگوں کو زندگی دے کر خوشی حاصل کرتا ہے۔ دوسروں کے پاس اگر لوگوں کے لئے نفرت کا تحفہ ہوتا ہے تو اس کے پاس صرف محبت کا تحفہ، خواہ دوسرے لوگ اس سے نفرت کا معاملہ کیوں نہ کر رہے ہوں۔
صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے اجتماعی امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ امام البخاری نے یہ حدیث چار ابواب کے تحت نقل کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:
ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملوں بين امرين إلا أخذ أيسرهما میں سے ایک کو لینا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۶/ ) سے آسان کو لیتے تھے۔
یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں
کے درمیان آپ کو جو معاملات پیش آتے تھے، ان میں آپ ہمیشہ آسان پہلو کا انتخاب فرماتے تھے۔ جب ایک طریقہ امن کا ہو اور دوسرا طریقہ ٹکراؤ کا، ایک طرف نزاع ہو اور دوسری طرف موافقت ہو، ایک جنگ کار استہ ہو اور دوسرا صلح کا راستہ ہو، تو ان تمام صورتوں میں آپ اسی صورت کو اختیار کرتے تھے جو نسبتاً سہل اور آسان ہو۔ غور کیا جائے تو یہ اصول آپ کی پوری زندگی پر چھایا ہوا نظر آئے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت ایک معلوم اور مشہور سنت ہے۔ مگر عام طور پر اس کا انطباق صرف چھوٹے چھوٹے امور میں کیا جاتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھارہے ہوتے اور پیچھے سے کسی بچہ کے رونے کی آواز آجاتی جس کو اس کی ماں مسجد میں لائی تھی تو آپ نماز کو مختصر کر دیتے۔ ایسی حالت میں آپ لمبی سورہ پڑھنے کے بجائے چھوٹی سورہ پڑھ کر نماز کو جلد ختم کر دیتے تاکہ بچہ کی ماں کو پریشانی نہ ہو۔ بڑے بڑے امور میں اس سنت کا ذکر نہیں کیا جاتا اور نہ بڑے بڑے امور میں اس کو منطبق کیا
مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ کعبہ کی تطہیر سے اپنی مہم کا آغاز کرتے تو یہ آپ کے لئے مشکل انتخاب اس لئے آپ نے دلوں کی تطہیر سے اپنے کام کا آغاز فرمایا۔ چنانچہ قرآن میں پہلی آیت یہ اتاری گئی کہ اقرأ باسم ربک الذی خلق گویا کہ طهر الكعبة من الاصنام کے بجائے آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ طهر القلوب من الاصنام ۔
مکی زندگی کے آخر میں آپ کے مخالفین آپ کو قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اس وقت ایک صورت یہ تھی کہ آپ دفاعی ذہن کے تحت تمام مسلمانوں کو متحد کرکے جنگ کا طریقہ اختیار کرتے۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ مقابلہ کے بجائے ترک مقام کو اختیار کرنا تھا۔ حدیبیہ کے واقعہ میں آپ کے لئے جنگ اور واپسی میں انتخاب کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ نے یہاں بھی جنگ کے طریقہ کو چھوڑا اور میدان سے واپسی کے طریقہ کو لے لیا۔
جن لوگوں نے حج یا عمرہ کیا ہے۔ انھوں نے دیکھا ہے کہ کعبہ سے متصل ایک جگہ ہے جس کو حطیم کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ حضرت ابراہیم کی تعمیر کے مطابق ، کعبہ میں شامل تھی۔ بعد کو مشرکین نے نئی تعمیر کے وقت اس کو الگ کر دیا۔ فتح مکہ کے بعد آپ کو موقع تھا کہ کعبہ کو از سر نو بن کر حطیم کو اس میں شامل کر دیں۔ مگر اس وقت کے حالات میں یہ ایک نزاعی کام تھا۔ چنانچہ نزاع سے بچنے کی خاطر آپ نے کعبہ کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جیسا کہ مشرکین نے اسے بنایا تھا۔ غور کیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول اختیار اليسر کا مصداق نظر آئے گی۔ آپ نے ہمیشہ ہر معاملہ میں مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ کا انتخاب اسی اصول کو موجودہ زمانہ میں پر امن طریق عمل (peaceful method) کہا
جنگ اور تشدد کا طریقہ اسلام کے لئے مفید نہیں ہے۔ جنگ باز آدمی تشدد کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس قسم کا طریقہ اسلام کے لئے بالکل اجنبی کیوں کہ اسلام کا مقصد دل و دماغ کو بدلنا ہے اور دل و دماغ کو بدلنے کا کام تشدد کے ذریعہ کیا جانا ممکن نہیں۔ دل و دماغ کو بدلنے کا کام نصیحت (persuasion) کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ طاقت (force) کے ذریعہ۔
اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہو۔ لوگ آخرت کی جواب دہی کے احساس میں جینے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ اعلی روحانی اوصاف پیدا ہوں جن کو تقویٰ ، خشیت ، انابت، تضرع، ، اخبات ، وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ حق کو پہچاننے والے اور حق کا اعتراف کرنے والے بنیں۔ لوگوں کے اندر وہ ربانی شخصیت پرورش پائے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔
یہی اسلام کا اصل مطلوب ہے اور جنگ یا تشدد کے ذریعہ اس مطلوب کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے ، اور وہ پر امن دعوت و تبلیغ ہے۔ اسلام کے طریق کار کو ایک لفظ میں دعوتی طریقہ کہا جا سکتا ہے نہ کہ جنگ جویانہ طریقہ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام ایک دعوت ہے۔ اور دعوتی عمل صرف پر امن حالات
میں انجام دیا جا سکتا ہے۔ جہاں تناؤ اور ٹکراؤ کا ماحول ہو وہاں دعوت و تبلیغ کا کام کرنا ممکن اس لئے اسلام چاہتا ہے کہ ہر قیمت پر انسانوں کے درمیان امن قائم رہے۔ کہ امن کے قیام کے لئے اگر اہل اسلام کو یک طرفہ قربانی دینا پڑے تو یک طرفہ قربانی دے کر انہیں امن وامان کو قائم کرنا چاہئے۔
طریق کار ہمیشہ آدمی کے اپنے مشن کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے۔ اسی لئے دادا کا طریق کار ایک تاجر کے طریق کار سے مختلف ہوتا ہے۔ دادا کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لوگ جتنے زیادہ اس سے خوف میں رہیں گے اتنا ہی زیادہ اس کو اپنا مقصد حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس لئے دادا یہ کرتا ہے کہ وہ تشدد اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ لوگوں کو اپنی طاقت کا تجربہ کراتا ہے۔ کیوں کہ ڈر کی نفسیات اسی طریقہ کے ذریعہ پیدا کی جا سکتی ہے۔ مگر تاجر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تاجر کا مقصد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانا ہے۔ ہونے کے بعد ہی کوئی شخص ایک تاجر کے سامنے اپنی جیب خالی کرنے پر راضی ہو سکتا ہے۔ لئے تاجر محبت اور صلح کا طریقہ اختیار کرتا ہے کیوں کہ محبت اور صلح کے ذریعہ ہی وہ کسی کو اپنا گاہک بنا سکتا ہے۔
اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ اس لئے اسلام اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ دادا دالاطریقہ اسلام کے لئے صرف تاجر والا طریقہ ہی مفید اور کارگر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں یک طرفہ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جنگ کے بجائے صلح اور تشدد کے بجائے امن کی تاکید کی گئی ہے۔
اسلام کا مقصد لوگوں کا ذہن بدلنا اور ان کا دل جیتنا ہے۔ اور اس قسم کا سنجیدہ کام صرف پر امن طور پر ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔ تشدد کا طریقہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ معاون۔