الفصل بین القضیتین
Al-Risala, November 1995, pp. 17–23
By Maulana Wahiduddin Khan
سعودی کنگ فیصل بن عبدالعزیز (۱۹۰۶ء - ۱۹۷۵ء) نہایت مدبر حکمراں تھے۔ عالم اسلام میں انھیں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میری تمنا ہے کہ میں یروشلم جاؤں اور مسجد اقصی میں داخل ہو کر نماز ادا کروں۔ مگر وہ اپنی یہ تمنا پوری نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ ان کا آخر وقت آ گیا اور وہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے چلے گئے۔
اس کی وجہ کیا تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فیصل مرحوم یہ سمجھتے تھے کہ جب تک ایسا نہ ہو کہ یروشلم (فلسطین) سے یہودیوں کی حکومت ختم ہو کر وہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے، اس وقت تک ایسا کرنا ممکن نہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ موجودہ حالات میں وہاں جانا یروشلم پر یہودیوں کے سیاسی قبضہ یا سیاسی غصب کو تسلیم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس ذہنی رکاوٹ کی وجہ سے وہ یروشلم نہیں گئے اور اپنے دل کی تمنا دل ہی میں لئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو۔
یہ شاہ فیصل کی کوئی انفرادی رائے نہ تھی۔ بلکہ یہی عام طور پر علماء اسلام کا موقف ہے جس کو انھوں نے اس وقت سے اختیار کر رکھا ہے جبکہ یروشلم پر یہودیوں کا سیاسی قبضہ ہوا۔ ۱۹۱۷ء میں یروشلم ترکوں کے ہاتھ سے نکل کر برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس کے بعد ۱۹۴۸ میں جزئی طور پر اور ۱۹۶۷ء میں کلی طور پر اس کے اوپر یہودیوں کا اقتدار قائم ہو گیا۔ اس سلسلہ میں مصر کے شیخ الازہر کا ایک فتوی اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ دوسرے علماء اسلام کی رائے بھی قولاً یا عملاً یہی ہے :
مصر کی قدیم دینی درس گاہ جامعۃ الازہر کے مفتی شیخ جاد الحق علی جاد الحق نے مصر اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ انھوں نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی سیاسی آزادی تک عام مسلمانوں کا وہاں جانا غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے۔ اس لئے فلسطین اور بیت المقدس کے باسیوں کے سوا دیگر تمام مسلمانوں کو اسرائیل سے (سیاسی) آزادی سے پہلے مسجد اقصیٰ میں نہیں جانا چاہئے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے تعلقات
19 ذی الحجه ۱۴۱۵ ھ ۔ ( ۱۹ مئی ۱۹۹۵ )
یہ ایک نہایت اہم شرعی مسئلہ ہے، جس کے بارے میں قرآن وسنت کی بنیاد پر کوئی عملی موقف اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ محض ذاتی احساس یا قومی غیرت وحمیت کی بنیاد پر۔ فلسطین اور بیت المقدس پر یقیناً اہل اسلام کا حق ہے۔ آزادی کے لیے ان کو پرامن ذرائع سے ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے۔ تاہم قرآن وسنت کے گہرے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے خالص عبادتی مقصد کے تحت ایسے وقت میں بھی اس مقدس مقام کی زیارت ممنوع نہیں جب کہ وہاں غیر مسلموں کا تسلط قائم ہو۔ دوسری طرف موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی کے بین الاقوامی اعتراف نے بھی علی الاطلاق طور پر اس کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ مگر مذکورہ قسم کے فتاویٰ کی بنا پر دنیا کے مسلمان نسل درنسل اس عظیم سعادت سے محروم ہورہے ہیں کہ وہ مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوں اور تیسرے سب سے افضل مقام پر اللہ کی عبادت کر سکیں۔ اگست ۱۹۹۵ میں یروشلم میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کا اہتمام اٹلی کے عیسائیوں کی ایک جماعت نے کیا تھا۔ اور اس کا موضوع یہی خاص مسئلہ تھا۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور اس موقع پر ایک مقالہ (انگریزی میں) پیش کیا۔ عنوان اسلام میں امن تھا:
Policy of peace in Islam اس مقالہ کو (اردو میں) ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
قر آن اپنے بتائے ہوئے طریقہ کو سبل السلام (المائدہ ۱۶) کہتا ہے۔ یعنی امن کے قرآن میں صلح کی پالیسی کو سب سے بہتر پالیسی بتایا گیا ہے (النساء ۱۲۸ ) نیز فرمایا کہ خدا بد امنی کو پسند نہیں کرتا ( البقره ۲۰۵) حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ المؤمن من أمنه الناس علی دمائهم و أمو الهم (الترنذى، كتاب الايمان)، یعنی مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور اپنے مال کے معاملہ میں محفوظ ہوں۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں ایک عملی سوال یہ ہے کہ
موجودہ دنیا میں ہمیشہ کسی نہ کسی سبب سے لوگوں کے درمیان سیاسی یا غیر سیاسی اختلافات پیدا افراد میں بھی اور قوموں میں بھی۔ مسلمانوں کے اپنے اندر بھی اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان بھی۔ اب اگر لوگ اختلافات کو برداشت نہ کریں، بلکہ اختلاف کے پیدا ہوتے ہی اس کے خاتمہ پر اصرار کریں تو لڑائی ہوگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی بھی دنیا میں امن قائم نہ ہو سکے گا۔ ایسی حالت میں سوال ہے کہ امن کا مقصد کس طرح حاصل کیا جائے۔
اس اختلاف کی ایک تازہ مثال یروشلم کا مسئلہ ہے۔ یروشلم ایک قدیم تاریخی شہر ہے۔ اس کے ساتھ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ بلینوں انسان اس کو اپنا مقدس مقام مانتے ہیں۔ امتیازی صفت یہ ہے کہ تین سامی مذاہب کی تاریخ اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ یروشلم تین بڑے مذاہب یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو ماننے والوں کے لئے ان کی تاریخی یادوں کی علامت ہے۔ وہ ان کے لئے ایک جذباتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہودیوں کے لئے اس کی اہمیت یہ ہے کہ ان کے نزدیک وہ ان کی قدیم عظمت کا ایک زندہ ثبوت ہے اور ان کی قومی تاریخ کا مرکز ہے۔ عیسائیوں کے لئے وہ ان کے نجات دہندہ حضرت مسیح کی جغرافی یادگار ہے۔ مسلمانوں کے لئے اس کی اہمیت یہ ہے کہ اسراء اور معراج کے سفر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ٹھہرے اور یہاں باجماعت نماز میں تمام نبیوں کی امامت فرمائی۔ اس طرح ان تینوں مذاہب کے لئے یروشلم ایک زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذاہب کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں آکر وہ روحانی تسکین حاصل کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تینوں مذہبوں کے لئے وہ مقدس زیارت گاہ ہے تو کس طرح وہ تینوں کے لئے کھلا رہے اور کس طرح تینوں مذہب کے ماننے والوں کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ بہ آسانی وہاں پہنچ کر اپنے جذبات عقیدت کی تسکین حاصل کریں۔
آجکل ہر طرف القدس لنا کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ یہ نعرہ سیاسی مفہوم میں ہے اور ہر فریق یہ نعرہ لگا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ قدس یا یروشلم پر صرف اس کا قبضہ رہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک جب تک اس مقدس شہر پر اس کا سیاسی غلبہ نہ ہو وہ صحیح طور پر اپنا عبادتی عمل وہاں انجام نہیں دے سکتا۔
اگر اس مقدس مقام کی زیارت کی شرط یہ ہو کہ جو شخص یا گروہ یروشلم میں جائے اس کی قوم کا سیاسی قبضہ بھی وہاں قائم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ شہر عملی طور پر عبادت کا مقام نہ رہے گا بلکہ جنگ کا میدان بن جائے گا۔ کیوں کہ کسی مقام پر سیاسی اقتدار بیک وقت کسی ایک مذہبی گروہ کا ہی ہو سکتا ہے ۔ پھر بقیہ دو مذہبی گروہ جن کا سیاسی قبضہ وہاں نہ ہوگا وہ قابض گروہ کے خلاف جنگ چھیڑ دیں گے۔ اس طرح یہ مقام ابدی طور پر جنگ و جدال کا مرکز بنارہے اس بنا پر کسی کے ، حتی کہ قابض گروہ کے لئے بھی یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ پر سکون طور پر وہاں اپنا عبادتی عمل انجام دے سکے۔ یروشلم کے معنیٰ ہی امن کا شہر (city of peace) کے ہیں۔ کیونکر ایسا ہو کہ یروشلم کا امن ہر حال میں برقرار رہے تاکہ ہر فریق ہمیشہ اور یکساں طور پر اس کی زیارت کر سکے۔ جہاں تک اسلام کا سوال ہے، قرآن وحدیث میں یروشلم کے دو بالواسطہ حوالے قرآن کی سورہ الاسراءء میں معراج رسول کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں (الاسراء۱) روایات بتاتی ہیں کہ ہجرت سے پہلے غالباً ۲۲ ہج کے آغاز میں پیغمبر اسلام کو ایک غیر معمولی سفر کا تجربہ ہوا جس کو اسلام کی تاریخ میں اسرا اور معراج کہا جاتا ہے۔ اس سفر میں خدا کے غیبی اہتمام کے تحت آپ مکہ سے یروشلم پہنچے۔ یہاں آپ نے مسجد اقصی میں باجماعت نماز ادا کی۔ واضح ہو کہ مکہ اور یروشلم کے درمیان ۸۰۰ میل کا فاصلہ ہے۔
یروشلم کا دوسرا بالواسطہ حوالہ وہ ہے جو حدیث میں آیا ہے۔ ابوداؤد، النسائی، الترمذی، الموطا وغیرہ میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ صرف تین مسجدیں ہیں جن کے لئے سفر کے لئے جانا جائز ہے۔ مسجد حرام، مسجد نبوی اور آخری مسجد کے لئے بعض روایات میں مسجد ایلیا کا لفظ ہے یعنی فلسطین کی مسجد۔ دوسری روایات میں بتایا گیا ہے کہ ان تین مسجدوں میں عبادت کرنے کا ثواب دنیا کی دوسری تمام مسجدوں سے بہت زیادہ ہے۔
ایک طرف یروشلم کی مسجد اقصی کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں عبادت کرنا مکہ اور مدینہ کی مسجد کے بعد
سب سے زیادہ افضل ہے۔ دوسری طرف قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے کسی خطہ پر سیاسی اقتدار کسی ایک ہی قوم کا قائم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر زمانہ میں بدلتارہے گا۔ کبھی ایک قوم کے پاس اور کبھی دوسری قوم کے پاس۔ اس بات کو قرآن (آل عمران ۱۴۰) میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (وتلک الایام ند اولہا
اب سوال یہ ہے کہ جب عام قانون فطرت کے تحت یہ وشلم کا سیاسی اقتدار ابدی طور پرکسی ایک قوم کے پاس نہیں رہ سکتا تو اہل اسلام کے لئے مسجد اقصی میں عبادت کرنے کی صورت ہر مسلمان فطری طور پر یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس مسجد میں داخل ہو کر سجدہ کرے جہاں پیغمبر اسلام نے اور دوسرے تمام نبیوں نے سجدہ کیا۔ اب اگر اس عبادت کو سیاسی اقتدار سے جوڑا جائے اور یہ کہا جائے کوئی مسلمان صرف اس وقت مسجد اقصی میں عبادت کرنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے جب کہ اس علاقہ پر مسلمانوں کی حکومت بھی قائم ہو تو ملینوں مسلمان ، سابق سعودی حکمراں فیصل بن عبد العزیز کی طرح اپنے سینہ میں یہ تمنا لئے ہوئے مرجائیں گے اور اس قیمتی احساس کا تجربہ نہ کرسکیں گے کہ آج میں اس مقام پر خدائے برتر کے لئے سجدہ کر رہا ہوں جہاں پیغمبر اسلام نے تمام نبیوں کے ساتھ سجدہ توحید ادا کیا۔
اس مسئلہ کا حل کیا ہو۔ اس کا حل خود پیغمبر اسلام کی سنت میں موجود ہے۔ اس سنت کا خلاصہ یہ ہے کہ معاملہ کے سیاسی پہلو کو الگ رکھتے ہوئے اس کے عبادتی پہلو کو لے لینا مسئلہ کو نظر انداز کر کے کے امکان کو استعمال کرنا۔ اس سنت کو ہم نے الفصل بین القضیتین کا نام دیا ہے۔ رسول اللہ کی یہ سنت حسب ذیل واقعات سے معلوم ہوتی ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جولائی ۶۲۲ میں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے۔ آپ تقریبا ڈیڑھ سال (۶۲۳ کے آخر تک) بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ آپ کے صحابہ بھی اسی طرح عمل کرتے رہے۔ ۶۲۴ کے آغاز میں قرآن (البقرہ ۱۴۴) میں یہ حکم اترا کہ اب تم لوگ کعبہ کو اپنا قبلہ عبادت بنالو اور اسی طرف رخ کر کے تمام لوگ پنج وقتہ نمازیں
جب قبلہ کی تبدیلی کا یہ حکم اتراتو اسی کے ساتھ قرآن میں یہ حکم بھی اتارا گیا کہ اے مسلمانو، تم لوگ نماز اور صبر سے مدد لو (البقرہ ۱۵۳) صبر کا ایک عام مفہوم ہے۔ مگر اس موقع پر صبر کا ایک خاص مفہوم بھی تھا۔ وہ یہ کہ جس وقت کعبہ کو قبلہ عبادت بنانے کا حکم اترا اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے، عملاً کعبہ اس وقت شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس طرح اہل ایمان کو ایک تنگدر ہو سکتا تھا کہ ہم کیوں کہ ایک موحدانہ عبادت کا قبلہ ایک ایسی عمارت کو بنائیں جو عملاً شرک اور بت پرستی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ حکم دیا گیا کہ اس پہلو کو صبر کے خانہ میں ڈال دو اور حکم کی تعمیل کرو۔
تاریخ کے مطابق ، یہ حالت پورے چوسال یعنی فتح مکہ تک قائم رہی۔ کے بعد سے چوسال تک مسلمان اس حال میں کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے کہ وہاں سیکڑوں بت موجود تھے اور وہ پوری طرح شرک کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ یہ صورتحال مکہ کی فتح کے بعد ختم ہوئی جب کہ بتوں کو کعبہ سے نکال دیا گیا۔
اس سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ اس اصول کو الفصل بین القضيتين یا عدم الخلط بين الشيئين کہا جا سکتا ہے۔ اس اصول کے تحت کعبہ اور اصنام کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ اصنام کی موجودگی پر صبر کرتے ہوئے کعبہ کو قبلہ عبادت بنا لیا گیا۔ اس سلسلہ میں دوسرا نمونہ اسراء اور معراج کے واقعہ میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام کا سفر معراج ہجرت سے پہلے غالباً ۶۲۲ء میں ہوا۔ اس وقت یروشلم پر مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی۔ وہاں مشرک ایرانیوں کا قبضہ تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ۶۱۴ء میں ایرانی حکمران خسرو پرویز نے یروشلم پر حملہ کیا اور اس کو رومیوں سے چھین لیا جو ۶۲۳ ق م سے اس پر قابض چلے آ رہے تھے۔ کا سیاسی قبضہ ۶۲۹ء میں ختم ہوا جب کہ رومی حکمراں (Heraclius) نے ایرانیوں کو شکست دے کر دوبارہ یروشلم پر اپنا قبضہ بحال کیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے قبل جس وقت اپنے سفر معراج میں یروشلم میں داخل ہوئے اور مسجد اقصی میں نماز ادا کی اس وقت یروشلم پر ایک غیر مسلم بادشاہ خسرو پرویز کی حکومت تھی۔ اس سے یہ اہم سنت رسول معلوم ہوتی ہے کہ عبادت اور سیاست
ہوئے اور وہاں عمرہ کیا اور کعبہ کا طواف کیا۔ ایسا صرف اس لئے ممکن ہوا کہ آپ نے عبادتی معاملہ کو سیاسی معاملہ کے ساتھ مختلط نہیں کیا۔ اگر آپ اس شرط کو ضروری سمجھتے کہ عمرہ کی عبادت اسی وقت کی جاسکتی ہے جب کہ ہم پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو چکا ہو تو آپ کبھی اپنے اصحاب کے ساتھ وہاں عمرہ کے لئے داخل نہ ہوتے۔
اس سنت رسول (الفصل بین القضیتین) کی روشنی میں یروشلم کے موجودہ مسئلہ کا حل یہ ہے کہ یروشلم پر سیاسی قبضہ کے مسئلہ کو مسجد اقصی میں عبادت کرنے کے سوال سے الگ کر دیا جائے ۔ مسلمان خواہ فلسطین کے ہوں یا بیرونی ملکوں کے، وہ آزادانہ طور پر یہاں آکر مسجد اقصی میں اللہ کے لئے عبادت کریں۔ عبادت کو سیاسی اقتدار کے ساتھ مشروط اور مخلوط نہ کیا جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یروشلم کے مسئلہ کا واحد عملی حل یہ ہے کہ اس معاملہ میں الفصل بین القضیتین کے مذکورہ بالا اصول کو اختیار کر لیا جائے ۔ یعنی کسی نزاعی معاملہ کے دو پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا۔ یہی یروشلم کے مسئلہ کا، (بالخصوص موجودہ حالات میں) واحد قابل عمل حل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ یروشلم کے سیاسی پہلو کو اس کے مذہبی پہلو سے الگ رکھیں۔ تاکہ لوگوں کے لیے ان کی عبادت کی راہ میں کوئی نظریاتی رکاوٹ حائل نہ رہے۔ اور وہ ہر حال میں یروشلم جاکر آزادانہ طور پر اپنے عبادتی جذبہ کی تسکین حاصل کر سکیں۔