عمومی انطباق
Al-Risala, November 1995, pp. 24–28
By Maulana Wahiduddin Khan
اوپر شریعت کا جو اصول (الفصل بین القضيتين) بیان کیا گیا، اس کا تعلق صرف یروشلم یا بیت المقدس سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام شرعی اصول ہے اور وہ زندگی کے ہر نزاعی مسئلہ پر چسپاں ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس طرح اس شرعی اصول سے ناواقفیت کی بنا پر مسلمان مسلسل طور پر ایک عظیم نعمت (مسجد اقصی میں داخل ہو کر وہاں نماز ادا کرنا) سے محروم ہو رہے ہیں، اسی طرح وسیع تر اجتماعی زندگی میں اس اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں زبردست نقصان سے دوچار ہو رہے ہیں۔ جدید حالات نے مسلمانوں کے لئے ہر جگہ دینی اور دعوتی سرگرمیوں کے مواقع کھول دئے ہیں۔ مگر مسلمان ان قیمتی مواقع کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ کا واحد سب سے بڑا سبب الفصل بين القضيتين کے شرعی اصول کو ملحوظ نہ رکھنا ہے۔ اس اصول کا تقاضا تھا کہ مسلمان دینی پہلو اور سیاسی پہلو کو الگ الگ رکھتے۔ اس کے مخصوص دائرہ میں رکھتے ہوئے دینی اور دعوتی امکانات کو بھر پور طور پر استعمال کرتے
مگر وہ ہر جگہ ممکن اسلامی انقلاب کے نام پر سیاسی حکمرانوں سے ٹکرا گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دورِ جدید کے بہترین امکانات استعمال ہونے سے رہ گئے و مسلمانوں کے حصہ میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ آیا۔
مسلمانوں کے ایک طبقہ میں آجکل ایک جملہ بہت دہرایا جار ہا ہے : الاسلام دین و دولة یعنی اسلام مذہب بھی ہے اور حکومت بھی۔ اسی پس منظر میں ایک بیرونی سفر میں کچھ عرب نوجوانوں نے مجھ سے سوال کیا کہ مذہب اور حکومت کی علیحدگی کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے (مار ایک عن الفصل بين الدين والدولة )
میں نے کہا : اما كعقيدة فلا، واما كضرورة عملية فنعم۔ یعنی عقیدہ کے طور پر تو دونوں میں کوئی فصل نہیں ، مگر عملی ضرورت کے طور پر یقیناً دونوں میں فصل ہوتا ہے ۔ عقیدہ یا نظریہ ہمیشہ آئیڈیلیزم کے اصول پر بنایا جاتا ہے۔ مگر جہاں تک عملی کورس کا تعلق ہے وہ ہمیشہ وقت کے حالات اور ضروریات کے تابع ہوتا ہے۔ یہ ایک عام اصول ہے جو کسی استثناء کے بغیر زندگی کے تمام معاملات سے متعلق ہے ۔ اور اسی طرح اس کا تعلق اسلام سے بھی ہے ۔ اعتقادی طور پر بلاشبہ اسلام میں مذہب اور سیاست دونوں شامل ہیں۔ مگر جب عمل کا منصوبہ بنانا ہو تو وقت کے حقیقی حالات کو ملحوظ رکھنا لازمی طور پر ضروری ہوگا۔ عقیدہ اور عمل کے اسی فرق کی بنا پر اسلام میں کسی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کو حرام قرار دیا گیا ہے ، خواہ وہ حکومت بظاہر غیر اسلامی ہو ، اور خواہ اس کے خلاف سیاسی اقدام کرنے والے بظاہر اسلام کے دعاوی کو لے کر اٹھے ہوں۔ کیوں کہ عملی نتیجہ کے اعتبار سے اس قسم کا اقدام فتنہ اور ظلم میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ وہ اس کو ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ یہ ناموافق عملی حالات مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے کہ حکومت اتنی طاقت ور اور مستحکم ہو کہ دکھائی دیتا ہو کہ وہ اسلام کے علَمبر داروں کو کچل ڈالے گی ۔ حتی کہ وہ ایسے انقلابوں کی پیدائش کو روکنے کے لئے مسجد ، مدرسہ ، صحافت، تعلیمی نظام اور دوسرے تمام اداروں پر اپنا سخت کنٹرول قائم کرکے ہونے والے مواقع کا بھی خاتمہ کر دے گی۔ اس کا جو ظلم پہلے مخصوص دائرہ تک محدود تھا ، وہ عمومی طور پر پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
اس نوعیت کے تباہ کن اقدامات کی مثالیں کشمیر، چیچنیا، بوسنیا، برما، فلپائن، مصر، الجزائر وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ان علاقوں میں اسلام کے نام پر جو عملی اقدام کیا گیا وہ صرف تباہی میں اضافے کا سبب بنا۔ وہ کسی بھی اسلامی نتیجہ تک پہنچانے والا ثابت نہیں ہوا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ معاشرہ میں قبولیت کا مادہ نہ پایا جاتا ہو۔ اس لئے بظاہر عملی کامیابی کے باوجود تمام قربانیاں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں۔ اس معاملہ کی مثالیں پاکستان اور افغانستان اور ایران میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان ملکوں میں ہنگامہ خیز اقدامات کے ذریعہ سیاسی تبدیلی لائی گئی، تاکہ مذہب اور حکومت کو ایک کیا جاسکے۔
مگر حقیقی نتیجہ کیا ہوا۔ جب سیاسی تبدیلی وقوع میں آچکی تو معلوم ہوا کہ مذہب اور سیاست کی یکجائی والامطلوب نظام بنانا ممکن ہی نہیں۔ کیوں کہ معاشرہ اس کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسی قسم کے نعرہ پر بنایا گیا تھا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو وہاں خود غرضی، مادہ پرستی اور باہمی جھگڑوں کا راج قائم ہوگیا نہ کہ اسلام کا راج۔ اسی طرح افغانستان میں بے پناہ قربانیوں کے ذریعہ سیاسی حکمرانوں کو بدلا گیا۔ مگر جب سیاسی نشانہ حاصل ہو چکا تو اس کے بعد جو ہوا وہ یہ تھا کہ افغانستان کے مختلف قبائلی لیڈر آپس میں لڑ کر پورے ملک کو تباہ کرنے کا ذریعہ بن گئے۔ اسی طرح ایران میں عالمی شور و غل کے تحت سیاسی تبدیلی لائی گئی۔ اس تبدیلی کو ایک عرصہ تک پروپیگنڈے کے زور پر اسلامی ثابت کیا جاتا رہا۔ مگر جب پروپیگنڈے کا زور گھٹا تو معلوم ہوا کہ ایران میں چونکہ مطلوب انداز کا معاشرہ تیار نہ تھا اس لئے نام نہاد انقلاب نے ملک کی تباہی میں اضافہ کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔
یہ مثالیں خلیفہ چہارم حضرت علی کے ایک قول کو یاد دلاتی ہیں۔ ان کے زمانہ خلافت میں اسلامی دنیا میں زبر دست خلفشار بر پا ہو گیا۔ ان سے کسی نے کہا کہ ابو بکر و عمر کے زمانہ میں مسلم دنیا کے حالات درست تھے، آپ کے زمانہ میں حالات بگڑ گئے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ علی نے جواب دیا: ان ابا بکر و عمر كانا والـيـيـن عـلى مثلـي و انا وال علی مثلكم (ابو بکر و عمر میرے جیسے لوگوں کے اوپر حاکم تھے، میں تمہارے جیسے لوگوں کے اوپر حاکم ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ جیسے حکمران ہوں تب بھی ضروری ہے کہ معاشرہ میں امثال علی بڑی
تعداد میں موجود ہوں ۔ اگر معاشرہ میں علیٰ جیسے افراد نہ ہوں تو صحابی کی حکومت کے باوجود حقیقی معنوں میں کوئی بہتر نظام قائم کرنا ممکن نہیں ۔
اس سے معلوم ہوا کہ دین اور حکومت دونوں اگرچہ اعتقادی طور پر ایک ہیں مگر عملی تقاضے کے تحت دونوں کو الگ الگ دیکھنا ہوتا ہے ۔ ایک حصہ دین کا وہ ہے جس کی تعمیل فرد کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتی ہے ۔ ایسے احکام ہر وقت ہر فرد پر فرض رہیں گے ۔ افراد کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ہر حال میں اس کی تعمیل کریں ۔
دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو عمل میں لانے کا انحصار اجتماعی حالات اور اجتماعی مرضی پر ہوتا ہے ۔ احکام دین کے اس دوسرے حصہ میں پہلے اس کے موافق اجتماعی ارادہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
” اسلام میں دین اور سیاست ایک ہیں “ کا نعرہ لگا کر اگر کوئی شخص پہلے ہی مرحلہ میں اجتماعی قوانین کے نفاذ کی مہم چلائے ، یا حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تاکہ وہ با اقتدار ہو کر اجتماعی قوانین کو نافذ کر سکے ، تو ایسے اقدامات سراسر غیر اسلامی اور غیر مطلوب ہوں گے ۔ ایسا ہر اقدام اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فساد پیدا کرنا ہے نہ کہ احکام اسلامی کا نفاذ کرنا ۔ عقیدہ اور عمل میں برائے ضرورت تفریق کا یہ معاملہ کسی نہ کسی اعتبار سے سارے اسلامی احکام میں پایا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ زکوٰۃ اور حج کو عقیدہ کے اعتبار سے فرض سمجھے ۔ مگر ان کی عملی ادائیگی کی ذمہ داری صرف اس شخص کے اوپر ہے جو اس کی عملی شرطوں پر پورا اترتا ہو ۔ اس لئے الفصل بین القضیتین کی حکمت سارے ہی دینی معاملات میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔
موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر جگہ مصائب اور مشکلات کا شکار ہیں ۔ وہ اس کی ذمہ داری دشمنان اسلام کے اوپر ڈال رہے ہیں جنہوں نے اپنی سازشوں کے ذریعہ انہیں اس حالت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے ۔ حتیٰ کہ وہ خود اسلام کی تردید ہے ۔ کیوں کہ قرآن وحدیث کے مطابق ، خدا اہل ایمان کا مددگار ہوتا ہے ۔ پھر کیوں کر ایسا ممکن ہے کہ اہل کفر اہل اسلام کو اپنی سازشوں کا نشانہ بنائیں اور خدا اہل اسلام کی حمایت نہ کرے ۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان آج جن مشکل حالات میں گھر گئے ہیں وہ یقینی طور پر مصنوعی یہ الفصل بین القضیَتین کی سنت رسول کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے بطور خود یہ نظریہ بنایا کہ جب تک سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو اس وقت تک دین پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔ اس غلط مفروضہ کی بنا پر ہر جگہ انھوں نے غیر ضروری طور پر سیاسی حکمرانوں سے لڑائی چھیڑ دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہترین دینی امکانات استعمال ہونے سے رہ گئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ مسلمانوں کا ترقی کا سفر رک گیا ہے۔ مسلمان آج یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا راستہ ہر طرف سے بند ہے۔ مگر اس دنیا میں کبھی کسی گروہ کے لئے راستہ بند البتہ بعض اوقات وہ گروہ خود اپنی نادانی سے اپنا راستہ بند کر لیتا ہے۔ یہی آج مسلمانوں کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ مسلمان مذکورہ سنت رسول پر عمل نہ کر سکے ۔ انھوں نے دین کے معاملہ کو سیاسی اقتدار کے معاملے سے الگ نہیں کیا۔ وہ ہر جگہ حکمراں طبقہ سے ٹکرا گئے ۔ کیوں کہ انھوں نے غلط طور پر یہ سمجھ لیا کہ جب تک اقتدار پر قبضہ نہ ہو، دین کے اوپر مکمل طور پر عمل نہیں ہو سکتا۔
یہ بلاشبہ ایک وسوسہ ہے نہ کہ کوئی دینی حقیقت ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی معاملہ کو سیاسی اقتدار کے سوال سے الگ کر دیں۔ اور اقتدار کی تبدیلی سے پہلے جو مواقع انھیں حاصل ہیں، ان کو بھر پور طور پر استعمال کریں۔ اس حکمت نبوی پر عمل کرتے ہی وہ دیکھیں گے کہ ان کے لئے تمام دروازے کھل گئے ہیں، زندگی کا کوئی بھی در وازہ ان کے اوپر بند نہیں۔ انگلینڈ میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابیں ملنے کا پتہ:
Assalam International Ltd. 481, Coventry Road, Birmingham B10 0JS Tel. 0121-773 7117, Fax: 0121-773 7771