سفرنامہ یورپ ۲
Al-Risala, November 1995, pp. 29–32
By Maulana Wahiduddin Khan
در جن سے زیادہ سوال کئے ۔ اس کی صورت یہ تھی کہ میں ہر سوال کا جواب انگریزی میں دیتا تھا اور ڈاکٹر اندریا دلوکا اس کو اطالوی زبان میں کہتے تھے۔ لوگوں نے اس پروگرام سے بے حد خوشی کا
مندوبین میں میرے اور ثانی اثنین کے سوا سب کے سب عیسائی تھے۔ ان کے سوالات سب کے سب وہ تھے جو غیر مسلم کے ذہن میں اسلام کے بارہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ تاثر سے انداز ہوا کہ اللہ کی توفیق سے ہر سوال کا اطمینان بخش جواب ان کو ملا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ اسلام میں روزانہ کی عبادت کیا ہوتی ہے۔ میں نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ میں سے کسی نے کبھی کسی مسلمان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ سب نے کہا کہ پھر میں نے نماز کا مختصر تعارف کرایا اور اس کے بعد اسٹیج پر کھڑے ہو کر ایک رکعت مکمل طور پر عملی صورت میں ادا کی۔
ایک خاتون نے کہا کہ اسلام نے عورت کو کیا درجہ دیا ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک عزت اور احترام اور حقوق کا تعلق ہے تو اسلام میں عورت اور مرد کا درجہ یکساں ہے۔ البتہ دونوں میں حیاتیاتی فرق کی بنا پر دونوں کا ورک پلیس الگ الگ رکھا گیا ہے۔ مزید سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے حج کی مثال دی۔ میں نے کہا کہ حج کا ایک رکن صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا ہے۔ ایک عورت کے طریقہ کی پیروی ہے۔ تمام حاجی خواہ وہ امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا رعایا، سب کے سب یہاں عورت کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت پہلے" کے اصول کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شاندار اندازہ میں اسلام میں قائم کیا گیا ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ انڈیا میں مسلمانوں کا حال کیا ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمان آزاد ہیں اور وہاں ہر قسم کی اسلامی سرگرمیاں آزادانہ طور پر جاری ہیں کسی بھی اسلامی معاملہ میں کوئی پابندی نہیں۔
مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ نے شاید بابری مسجد کو ڈھائے جانے کا قصہ اخبار کیوں کہ میڈیا نے اس کا بہت زیادہ پرچار کیا۔ مگر یہ ہی کل بات نہیں۔ کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ عسر کے ساتھ یسر بھی موجود رہتا ہے یعنی
ڈس ایڈوانٹیج کے ساتھ یہاں ایڈوانٹیج بھی ضرور پایا جائے گا۔ اور انڈیا یقینی طور پر کوئی مستثنیٰ ملک چنانچہ انڈیا میں اگر ایک بابری مسجد ڈھائی گئی ہے تو اس کے بعد بھی انڈیا میں ساڑھے تین لاکھ مسجدیں باقی ہیں۔ اور وہاں پوری آزادی کے ساتھ عبادت کا عمل کیا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انڈیا میں اگر ایک عرصے تو عین اسی وقت وہاں یسر کی تعداد ساڑھے تین لاکھ ہے۔ اس لئے ہمارے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔
مرکز کے اس اجتماع میں ایک اطالوی نوجوان بھی موجود تھا۔ ان سے پہلی ملاقات یہیں ہوئی وہ سائنس کے مضمون میں پوسٹ گریجویٹ کا کورس کر رہے ہیں۔ وہ ایک سادہ فطرت نوجوان اسلام سے کچھ واقفیت ہوئی۔ اس سے وہ متاثر ہو گئے۔ اب وہ اسلام کے برحق ہونے پر پوری طرح مطمئن ہیں۔ ان کے کمرہ میں اسلامی کتابیں سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔ وہ ابھی تک اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی ماں کٹر مسیحی ہیں۔ ان کے اندر تڑپ ہے کہ وہ باقاعدہ نماز ادا کریں۔ انھیں اندیشہ ہے کہ اگر انھوں نے نماز پڑھنا شروع کیا تو ان کی ماں سخت ناراض ہوگی اور پھر اس کے بعد انھیں غیر معمولی مشکلات پیش
کسی مسلمان سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس نے ان کا کیس سننے کے بعد کہا کہ جب آپ اسلام کو اپنا مذہب مان چکے ہیں تو اب تمہارے لئے نماز پڑھنا ضروری ہے ورنہ تم جہنم میں جاؤ گے۔ وہ نوجوان اس سے بہت گھبرایا ہوا تھا۔ مجھ سے گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ مذکورہ مسلمان نے آپ کو غلط بتایا۔ قرآن میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ انسان کے اوپر بقدر استطاعت ذمہ آپ کو جب موقع ہو پردہ میں نماز پڑھ لیں ۔ مگر اعلان کے ساتھ آپ نماز نہ پڑھیں۔ فی الحال سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ کی تعلیم مکمل ہو جائے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ کہیں بھی رہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کے لئے اس قسم کا مسئلہ نہیں رہے گا۔
مذکورہ قسم کے مسلمانوں کے بارہ میں کم سے کم جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ وہ مسائل فقہ کو جانتے ہیں۔ مگر وہ مسائل دعوت کو نہیں جانتے۔
مغرب کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان بود ساموت الحسین (۱۹۶۴ء) سے ملاقات ہوئی۔ ان کا اصل
نام الحسین ہے اور بود ساموت خاندانی لقب ہے۔ دوسرے ملکوں میں خاندانی نام آخر میں ہوا ہے اور مغرب میں فرانس کے اثر سے پہلے لکھا جاتا ہے۔ جیسے کہ میرا نام وحید الدین خان لکھا جاتا تا ہے۔ مغرب کے اصول پر لکھنا ہو تو اس کو خان وحید الدین لکھا جائے گا۔
بود ساموت الحسین بولونیا میں رہتے ہیں جو میلان سے تین سو کلو میٹر دور اٹلی کا ایک شہر پچھلی شام کو انھوں نے ٹی وی پر مجھ کو گور با چیف سے ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا۔ انھیں معلوم ہو کہ اس وقت میں میلان میں ہوں۔ وہ رات کو سفر کر کے صبح سویرے میلان پہنچے اور ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کی۔
انھوں نے بتایا کہ میں اطالویوں میں دعوت کا کام کر رہا ہوں۔ مگر اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مسلمان ہیں۔ نام نہاد مسلم جماعتوں کے لوگ یہاں ہر شہر میں موجود ہیں۔ صرف ایک کام میں مشغول ہیں۔ مسلم حکمرا نوں کے خلاف لوگوں کے جذبات ابھار کر مال جمع کرنا اور لیڈری حاصل کرنا۔ خالص دعوت کے کام کو وہ پسند نہیں کرتے کیوں کہ اس میں انھیں اپنی جڑ کٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں بہت سے لوگ حق کے متلاشی ہیں۔ ان کے لئے ہدایت کا دروازہ بند کر رہے ہیں (و بهذا المنهج المنحرف يتم اغلاق أبواب الهداية عوض فتحها امام الباحثين عن الحق، وما أكثرهم)
میں نے کہا کہ آپ نے صحیح کہا۔ اسلامی تحریکات کے نام پر آجکل جو جماعتیں ہر جگہ کام کر رہی ہیں وہ اپنے منحرف فکر کی بنا پر صحیح اسلام کی راہ میں سخت رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔ مگر آپ جیسے لوگوں کے لئے مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ دشواریوں کے اضافے سے اجر میں اضافہ ہوتا ہے (مع كثرة العراقيل يزداد الأجر)
ایک پروگرام میں شنتو مذہب کے عبادتی پروگرام کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک شخص سیدھا پھر اس نے دونوں ہاتھ باندھے۔ اس کے بعد وہ چند بار رکوع کے انداز میں جھکا۔ کے بعد چھوٹی سی کتاب لے کر اس سے پڑھنا شروع کیا۔ غالباً یہ دعا کی کتاب تھی۔ دوسرے مذاہب کی عبادت میں جھکنا ہے مگر سجدہ نہیں ہے۔ جھکنا اطاعت کی علامت ہے اور سجدہ قربت کی علامت۔ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب کی عبادتیں اطاعت کا سبق دیتی ہیں مگر
وہ آدمی کو قربتِ خداوندی کا تجربہ نہیں کراتیں۔ یہ اسلام کی خاص صفت ہے، جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے واسجد و اقترب۔
۲۲ ستمبر کی صبح کو اطالین ٹی وی نے انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق انڈیا میں اسلام اور مسلمانوں ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کے مواقع موجود اخباروں میں جو باتیں آتی ہیں وہ حقیقت سے زیادہ مبالغہ ہیں۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اجودھیا کی مسجد مسلمانوں نے کھودی۔ مگر عین اسی زمانہ میں دہلی میں دو درجن مسجدیں غیر مسلموں کے قبضہ میں تھیں اور ان مسجدوں کو مسلمان دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس فرق کا سبب طریق کار کا فرق ہے۔ اجودھیا میں مسلم لیڈروں نے اپنی تحریک ٹکراؤ کے انداز میں چلائی اور دہلی کی مسجدوں کو واگزار کرانے کی تحریک پر امن انداز میں چلائی گئی۔ طریق عمل کے اسی فرق کی وجہ سے مسلمانوں نے اجودھیا کی مسجد کھودی۔ اور دہلی کی مسجدوں کو حاصل کر لیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن جدید دنیا کے لئے ایک خدا اور ایک انسان کا نظریہ ہے۔ یہ نظریہ ایک طرف آدمی کو صحیح ڈائرکشن دیتا ہے، اور دوسری طرف تمام انسانوں کو یکساں بنیاد پر متحد کرتا ہے۔
میلان میں ایک اور پرائیویٹ ٹیلیویژن (Tele Chiara) نے انٹرویو لیا۔ یہ کیتھولک ٹی وی کہا جاتا ہے۔ اس کا پورا نام یہ ہے: