Al-Risala · November 1995

Gestione Telecomunicazioni S. R. L.

Al-Risala, November 1995, pp. 32–34

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے مختلف سوالات کئے ۔ میں نے انگریزی میں جواب دیا جس کا ترجمہ ڈاکٹر اندریا دلو کار اوم اطالوی زبان میں کرتے رہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ پیس کانفرنس کے بارہ میں آپ کی رائے میں نے کہا کہ یہ عالمی پر امن اس کا ایک حصہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں ایک پر امن جاری ہوا ہے۔ ساری دنیا جنگ اور ٹکراؤ کے راستہ کو چھوڑ کر امن کے راستہ کی طرف جارہی ہے۔ یہ ایک عالمی پر امن ہے جو انسانی تاریخ میں جاری ہوا ہے۔ کانفرنس اسی کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح کا پر امن جب تاریخ میں جاری ہو جائے تو لازمی طور پر وہ اپنے نتیجہ تک پہنچ کر رہتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں مشکلات کو چیلنج کے روپ میں دیکھتا ہوں، اسی لئے مجھے مشکلات کو دیکھ کر پریشانی نہیں ہوتی۔ قدرت نے ہماری ترقی کے لئے یہی راستہ مقرر کیا ہے۔ چیلنج نہیں تو ترقی بھی نہیں۔

میلان میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں اور میں وینس (Venice) میں رہتا ہوں۔ انھوں نے اپنا نام________ایلی مینا ٹو دی الا (illuminatto de Alla) بتایا۔ یہ نام مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ یہ اصل نام کا اطالوی زبان میں ترجمہ ہے۔ میرا اصل نام ظہور احمد ہے۔

نام کے ترجمہ کا یہ طریقہ بہت عجیب ہے۔ یہ خطر ناک بھی ہے۔ کیوں کہ چند نسلوں کے بعد ایسے لوگوں کا تشخص ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ اسی کلچر میں ضم ہو جائیں گے جس کے زیر اثر انھوں نے اپنے نام کا یہ ترجمہ کیا تھا۔

۲۲ ستمبر کی شام کا کھانا "بشپ ہاؤس" میں تھا۔ یہ ایک محل نما عمارت ہے جو کئی سو سال پہلے بنائی گئی تھی۔ اس میں بشپ کی رہائش گاہ اور اس کے دفاتر واقع ہیں۔ ۲۳ ستمبر کو میلانوں سے واپسی تھی۔ فجر کی نماز یہاں کے ہوٹل میں پڑھی اور صبح سات بجے اپنے کمرہ اس وقت بے اختیارانہ طور پر زبان پر یہ دعا جاری ہو گئی اَللّٰھُمَّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَّصِیْرًا۔ میلانُو ائیر پورٹ پر پہنچنے میں بعض اتفاقی اسباب سے دیر ہو گئی۔ ہماری فلائٹ روانہ ہو گئی اور ہم اس پر سوار نہ ہو سکے۔ دوسری فلائٹ میں ہمارا نام ویٹنگ لسٹ میں تھا۔ نہ مل سکی۔ آخر تین گھنٹہ کی تاخیر سے تیسری فلائٹ لی گئی۔ اب یہ سوال تھا کہ لندن میں جو لوگ ہماری رہنمائی کے لئے آنے والے تھے ان سے ہم کیسے مل سکیں گے۔ اس احساس کو لئے ہوئے ہم برٹش ایئرویز کی فلائٹ ۲۳/ ۵۶۵ کے ذریعہ لندن ائیر پورٹ پر اترے تھے۔

میلان سے لندن کے راستہ میں لندن کا اخبار "ٹائمز" (The Times) کا شمارہ ۲۳ ستمبر اس شمارہ کے ساتھ ۱۶ صفحہ کا تین رنگ میں چھپا ہوا ضمیمہ شامل تھا جس کا نام سعودی عرب (Saudi Arabia) تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے چند برسوں کے حالات کے نتیجہ میں

سعودی عرب میں ” "ماڈرنائزیشن" “ کا عمل تیزی سے جاری ہو گیا ہے جو یہاں کے ہر شعبہ میں محسوس طور پر نظر آتا ہے۔ ایک مضمون کا عنوان تھا :

Printed page